Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

درد آشوب

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Re: درد آشوب

    94

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    ڈھونڈ اُجڑےہوئےلوگوں میں وفاکےموتی
    یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں

    غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کر لو
    نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں


    تُو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
    دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں

    آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
    کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں

    اب نہ وہ میں،نہ وہ تُوہے،نہ وہ ماضی ہے فرازؔ
    جیسے دو شخص تمنّا کے سرابوں میں ملیں

    Comment


    • Re: درد آشوب

      95

      اچھا تھا اگر زخم نہ بھرتے کوئی دن اور
      اُس کوئے ملامت میں گزرتے کوئی دن اور

      راتوں کوتری یادوں کے خورشید اُبھرتے
      آنکھوں میں ستارے سے اترتے کوئی دن اور

      ہم نے تجھے دیکھا تو کسی کو بھی نہ دیکھا
      اے کاش ترے بعد گزرتے کوئی دن اور

      راحت تھی بہت رنج میں ہم غم طلبوں کو
      تم اور بگڑتے تو سنورتے کوئی دن اور

      گو ترکِ تعلق تھا مگر جاں پہ بنی تھی
      مرتے جو تجھے یاد نہ کرتے کوئی دن اور

      اس شہرِ تمنا سے فرازؔ آئے ہی کیوں تھے
      یہ حال اگر تھا تو ٹھہرتے کوئی دن اور

      Comment


      • Re: درد آشوب

        96
        ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو
        کہ خودجدا ہے تومجھ سے نہ کرجدا مجھ کو

        وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے شانے پر
        وہ خواب سانپ کی مانند ڈس گیا مجھ کو
        چٹخ اٹھا ہوں سلگتی چٹان کی صورت
        پکار اب تو مرے دیر آشنا مجھ کو

        تجھے تراش کے میں سخت منفعل ہوں کہ لوگ
        تجھے صنم ، تو سمجھنے لگے خدا مجھ کو

        یہ قربتیں ہی تو وجہِ فراق ٹھہری ہیں
        بہت عزیز ہیں یارانِ بے وفا مجھ کو

        ستم تو یہ ہے کہ ظالم سخن شناس نہیں
        وہ ایک شخص کہ شاعر بنا گیا مجھ کو

        اُسے فراز ؔ اگر دکھ نہ تھا بچھڑنے کا
        تو کیوں وہ دور تلک دیکھتا رہا مجھ کو

        Comment


        • Re: درد آشوب

          97


          کسی طرح تو بیاں حرفِ آرزو کرتے
          جو لب سِلے تھے تو آنکھوں سے گفتگو کرتے

          بس اک نعرہٴ مستاں دریدہ پیرہنو
          کہاں کے طوق و سلاسل بس ایک ہُو کرتے

          کبھی تو ہم سے بھی اے ساکنانِ شہرِ خیال
          تھکے تھکے ہوئے لہجے میں گفتگو کرتے

          گُلوں سے جسم تھے شاخِ صلیب پر لرزاں
          تو کس نظر سے تماشائے رنگ و بُو کرتے

          بہت دنوں سے ہے بےآب چشمِ خوں بستہ
          وگرنہ ہم بھی چراغاں کنارِ جُو کرتے

          یہ قرب مرگِ وفا ہے اگر خبر ہوتی
          تو ہم بھی تجھ سے بچھڑنے کی آرزو کرتے

          چمن پرست نہ ہوتے تو اے نسیمِ بہار
          مثالِ برگِ خزاں تیری جستجو کرتے

          ہزار کوس پہ تُو اور یہ شام غربت کی
          عجیب حال تھا پر کس سے گفتگو کرتے

          فرازؔ مصرعہٴ آتشؔ پہ کیا غزل کہتے
          زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے

          Comment


          • Re: درد آشوب

            98


            میں اور تُو



            روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتی
            کوئی گھٹتا ہوا بڑھتا ہوا بے کَل سایہ
            ایک دیوار سے کہتا کہ مرے ساتھ چلو



            اور زنجیرِ رفاقت سے گریزاں دیوار
            اپنے پندار کے نشے میں سدا اِستادہ
            خواہشِ ہمدمِ دیرینہ پہ ہنس دیتی تھی




            کون دیوار کسی سائے کے ہمراہ چلی
            کون دیوار ہمیشہ مگر اِستادہ رہی
            وقت دیوار کا ساتھی ہے نہ سائے کا رفیق




            اور اب سنگ و خشت کےملبےکےتلے
            اُسی دیوار کا پندار ہے ریزہ ریزہ
            دھوپ نکلی ہے مگر جانے کہاں ہے سایہ

            Comment


            • Re: درد آشوب

              99

              کون آتا ہے مگر آس لگائے رکھنا
              عمر بھر درد کی شمعوں کو جلائے رکھنا

              دوست پرسش پہ مصر اور ہمارا شیوہ
              اپنے احوال کو خود سے بھی چھپائے رکھنا

              ہم کو اُس نام نے مارا کہ جہاں بھی جائیں
              خلقتِ شہر نے طوفان اٹھائے رکھنا


              اِس چکا چوند میں آنکھیں بھی گنوا بیٹھو گے
              اُس کے ہوتے ہوئے پلکوں کو جھکائے رکھنا

              Comment


              • Re: درد آشوب

                100


                افریشیائی ادیبوں کے نام

                جہانِ لوح و قلم کے مسافرانِ جلیل
                ہم اہلِ دشتِ پشاور سلام کہتے ہیں
                دلوں کا قرب کہیں فاصلوں سے مٹتا ہے
                یہ حرفِ شوق بصد احترام کہتے ہیں
                ہزار لفظ و بیاں و زباں کا فرق سہی
                مگر حدیثِ وفا ہم تمام کہتے ہیں


                وہ ماؤ ہو کہ لوممبا ،سکارنو ہو کہ فیض
                سبھی کے لوح و قلم عظمتِ بشر کے نقیب
                سب ایک درد کے رشتے میں منسلک بسمل
                سبھی ہیں دور نظر سے سبھی دلوں کے قریب
                جکارتہ و سراندیپ سے پشاور تک
                سبھی کا ایک ہی نعرہ سبھی کی ایک صلیب



                ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ زندگی اپنی
                فضائے دہر میں کیوں موت سے بھی سستی ہے
                ہم اہلِ شرق ہیں سورج تراشنے والے
                مگر ہماری زمین نور کو ترستی ہے
                یہ کیاکہ جو بھی گھٹا دشت سے ہمارے اٹھے
                وہ دور پار سمندر پہ جا برستی ہے


                فلک سے اب نہیں اترے گا کوئی پیغمبر
                جہانِ آدم و حوا سنوارنے کے لیے
                یہاں محمد(ﷺ) و گوتم ، مسیح و کنفیوشس
                جلا چکے ہیں بہت آگہی فروز دیے
                مگر ہے آج بھی اپنا نصیب تاریکی
                مگر ہے آج بھی مشرق شبِ دراز لیے



                ہمیں کو توڑنے ہوں گے صنم قدامت کے
                ہمیں کو اب نیا انسان ڈھالنا ہو گا
                ہمیں کو اپنے قلم کی ستارہ سازی سے
                ہر ایک خطہٴ تیرہ اُجالنا ہو گا
                ہمیں کو امن کے گیتوں سے میٹھے بولوں سے
                مہیب جنگ کی آندھی کو ٹالنا ہو گا

                Comment


                • Re: درد آشوب

                  Originally posted by MR.Fkas View Post
                  السلام علیکم
                  اس تھریڈ میں "درد آشوب" میں موجود غزلیں اور نظمیں پوسٹ کی جائیں گی۔
                  IN SHA ALLAH me b part lon gi is thread mein
                  Ap ne ye thread mje ni tag kia :(
                  Ya Allah! You are Al-Muhaymin, The Protector

                  Comment


                  • Re: درد آشوب

                    وہ شام کیا تھی جب اس نے بڑی محبت سے
                    کہا کہ تو نے یہ سوچا بھی ہے کبھی احمد

                    خدا نے کتنی تجھے نعمتیں عطا کی ہیں
                    وہ بخششیں کہ ہیں بالا تر از شمار و عدد

                    یہ خال و خد یہ وجاہت یہ تندرست بدن
                    گرجتی گونجتی آواز استوار جسد

                    بسان لالۂ صحرا تپاں تپاں چہرہ
                    مثال نخل کہستاں دراز قامت و قد
                    Ya Allah! You are Al-Muhaymin, The Protector

                    Comment


                    • Re: درد آشوب

                      Originally posted by MR.Fkas View Post
                      السلام علیکم
                      اس تھریڈ میں "درد آشوب" میں موجود غزلیں اور نظمیں پوسٹ کی جائیں گی۔
                      Walaikum Assalaam

                      Buhat umda thread hai.............Kuch ghazlen parhi hein baqi bhi Insha'Allah zaror parhon ga..........

                      Comment


                      • Re: درد آشوب

                        Originally posted by Mr.Khan View Post
                        Walaikum Assalaam

                        Buhat umda thread hai.............Kuch ghazlen parhi hein baqi bhi Insha'Allah zaror parhon ga..........
                        بہت شکریہ بھائی جان

                        Comment


                        • Re: درد آشوب

                          yahan kia challing :hairdrayer:

                          Comment


                          • Re: درد آشوب

                            Originally posted by SheeN View Post
                            yahan kia challing :hairdrayer:
                            is thread mein Ahmad Faraz ki Book Dard-e-Ashob k=mein sy apni fav poem post krni hy.. ap b hissa lo na
                            Ya Allah! You are Al-Muhaymin, The Protector

                            Comment


                            • Re: درد آشوب

                              ye tu complete hogai na book?
                              Originally posted by Zeest View Post
                              is thread mein Ahmad Faraz ki Book Dard-e-Ashob k=mein sy apni fav poem post krni hy.. ap b hissa lo na

                              Comment


                              • Re: درد آشوب

                                Originally posted by SheeN View Post
                                ye tu complete hogai na book?
                                book complete ho ya na ho, ap us mein sy apna koi b pasandida intkhab yahan post kr den
                                Ya Allah! You are Al-Muhaymin, The Protector

                                Comment

                                Working...
                                X