Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

sirf Amjad Islam Amjad Poetry

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • #46
    Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

    ہم سفر

    تمہارا نام کچھ ایسے مرے ہونٹوں پہ کھلتا ہے
    اندھیری رات میں جیسے
    اچانک چاند بادلوں کے کسی کونے سے باہر جھانکتا ہے
    اور سارے منظروں میں روشنی سی پھیل جاتی ہے
    کلی جیسے، لرزتی اوس کے قطرے پہن کر مسکراتی ہے
    بدلتی رُت، کسی مانوس سی آہٹ کی ڈالی لے کے چلتی ہے
    تو خوشبو باغ کی دیوار سے روکے نہیں رکتی
    اسی خوشبو کے دھاگے سے مرا ہر چاک سلتا ہے
    تمہارے نام کو تارا مری سانسوں میں کھلتا ہے

    تمہیں میں دیکھتا ہوں جب سفر کی شام سے پہلے
    کسی الجھی ہوئی گمنام سی چنتا کے جادو میں!
    کسی سوچے ہوئے بے نام سے لمحے کی خوشبو میں!
    کسی موسم کے دامن میں، کسی خواہش کے پہلو میں!
    تو اس خوش رنگ منظر میں تمہاری یاد کا رستہ
    نجانے کس طرف سے پھوٹتا ہے
    اور پھر ایسے مری ہر راہ کے ہمراہ چلتا ہے
    کہ آنکھوں میں ستاروں کی گزر گاہیں سی بنتی ہیں
    دھنک کی کہکشائیں سی
    تمہارے نام کے ان خوشنما حرفوں میں ڈھلتی ہیں
    کہ جن کے لمس سے ہونٹوں پہ جگنو رقص کرتے ہیں
    تمہارے خواب کا رشتہ مری نیندوں سے ملتا ہے
    تو دل آباد ہوتا ہے
    مرا ہر چاک سلتا ہے
    تمہارے نام کا تارا مری راتوں میں کھلتا ہے

    Comment


    • #47
      Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

      تیرا نام

      نہ تھی روشنی کسی آنکھ میں کسی خواب کی
      یہ عجیب شامِ فراق تھی
      لبِ بے نوا کے حصار میں کہیں ایک حرفِ دُعا نہ تھا
      وہ فشار تھا میری روح میں کہیں جیسے کوئی خدا نہ تھا
      فقط اک چشمِ جمال نے میرے کاخ و کُو کو بدل دیا
      رہِ بے چراغ اُجال دی میرے چار سُو کو بدل دیا

      Comment


      • #48
        Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

        آنکھوں کو التباس بہت دیکھنے میں تھے
        کل شب عجیب عکس مِرے آئنے میں تھے

        ہر بات جانتے ہُوئے دِل مانتا نہ تھا
        ہم جانے اعتبار کے کِس مرحلے میں تھے

        وصل و فراق دونوں ہیں اِک جیسے ناگزیر
        کُچھ لطف اُس کے قُرب میں، کُچھ فاصلے میں تھے

        سیلِ زماں کی موج کو ہر وار سہہ گئے
        وہ دن، جو ایک ٹاٹے ہُوئے رابطے میں تھے!

        غارت گری کے بعد بھی روشن تھیں بستیاں
        ہارے ہُوئے تھے لوگ مگر حوصلے میں تھے!

        ہِر پھر کے آئے نقطئہ آغاز کی طرف
        جتنے سفر تھے اپنے کِسی دائرے میں تھے

        آندھی اُڑاکے لے گئی جس کو ابھی ابھی
        منزل کے سب نشان اُسی راستے میں تھے

        چُھولیں اُسے کہ دُور سے بس دیکھتے رہیں!
        تارے بھی رات میری طرح، مخمصے میں تھے

        جُگنو، ستارے، آنکھ، صبا، تتلیاں، چراغ
        سب اپنے اپنے غم کے کِسی سلسلے میں تھے!

        جتنے تھے خط تمام کا تھا ایک زاویہ
        پھر بھی عجیب پیچ مِرے مئسلے میں تھے

        امجد کتابِ جاں کو وہ پڑھتا بھی کِس طرح !
        لکھنے تھے جتنے لفظ، ابھی حافظے میں تھے

        Comment


        • #49
          Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

          محبت کے موسم

          زمانے کے سب موسموں سے نرالے
          بہار و خزاں ان کی سب سے جدا
          الگ ان کا سوکھا الگ ہے گھٹا
          محبت کے خطے کی آب و ہوا
          ماورا اُن عناصرے سے جو
          موسموں کے تغیر کی بنیاد ہیں
          یہ زمان و مکاں کے کم و بیش سے
          ایسے آزاد ہیں
          جیسے صبح ازل۔۔۔جیسے شام فنا
          شب وروز عالم کے احکام کو
          یہ محبت کے موسم نہیں مانتے
          زندگی کی مسافت کے انجام کو
          یہ محبت کے موسم نہیں مانتے
          رفاقت کی خوشبو سے خالی ہو جو
          یہ کوئی ایسا منظر نہیں دیکھتے
          وفا کے علاوہ کسی کلام کو
          یہ محبت کے موسم نہیں مانتے

          Comment


          • #50
            Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

            جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

            تیرے میرے اَبد کا کنارہ ہے یہ
            استعارہ ہے یہ
            روپ کا داؤ ہے
            پیارکا گھاؤ ہے
            جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

            صبح دم جس گھڑی، پھول کی پنکھڑی
            اوس کا آئنہ جگمگانے لگے
            ایک بھنورا وہیں، دیکھ کر ہرکہیں
            شاخ کی اوٹ سے،سر اٹھانے لگے
            پھول،بھنورا،تلاطم ہے، ٹھہراؤ ہے
            جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

            خواب کیا کیا چنے،جال کیا کیا بُنے
            موج تھمتی نہیں،رنگ ُرکتے نہیں
            وقت کے فرش پر،خاک کے رقص پر
            نقش جمتے نہیں،اَبر جُھکتے نہیں
            ہر مسافت کی دُوری کا ِسمٹاؤ ہے
            جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے

            Comment


            • #51
              Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

              دل اک خواب نگر ہے

              دل اک خواب نگر ہے جس میں لمحہ لمحہ
              اُس کے سپنے بند آنکھوں میں نئے دریچے وا کرتے ہیں
              ہر چہرے میں اُس کا چہرہ رکھ دیتے ہیں
              میرے اُس کے بیچ ہزاروں دیواریں ہیں
              رسموں اور رواجوں کی
              بیگانوں کی قاتل نظروں اور اپنوں کی باتوں کی
              اُس کی بے پروائی کی اور اپنی پاگل سوچوں کی
              کالی دُشمن راہوں کی
              میں اس طالم اندھی اور منہ زور فضا میں اک بے مایہ ذرہ تھا
              جو اپنے سے لاکھوں میں گُم تھا
              اُس کے خواب نے میری آنکھیں روشن کی ہیں
              خاموشی میں جادو ہے تو پھر وہ جادو گر ہے
              اُس کی چُپ نے میرے دل کو نطق دیا ہے
              میں قطرہ تھا اُس کی ذات سمندر ہے
              اُس کی محبت نے مجھ کو تخلیق کیا ہے

              ارمانوں کی بانجھ ہوائیں
              آنکھوں کے گُمنام جزیروں میں چلتی ہیں
              اور خواہش کے خُشک درختوں کی شاخوں میں
              سائیں سائیں کرتی ہیں
              موسم آنکھیں پھیر کے دل کے درد نگر سے چل دیتے ہیں
              بادل ویرانے پہ گھر کر بن برسے چل دیتے ہیں
              اُس کے بنا آواز کی کرنیں۔ آنکھیں۔ پھول، ستارے، پتھر
              دل اک شہرِ سنگ ہے جس میں گلیاں ،باغ، منارے، پتھر
              خواہش جادو کی بستی ہے، مُڑ کے دیکھو، سارے پتھر
              دریاؤں کے دھارے پتھر
              وہ آئے تو پتھر کو آواز ملے
              شہرِ سنگ کے دروازوں کو وا کرنے کا راز ملے
              دل اک خواب نگرہے اس کے خوابوں کو آغاز ملے

              Comment


              • #52
                Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                ویرانۂ وجود میں چلنا پڑا ہمیں
                اپنے لہو کی آگ میں جلنا پڑا ہمیں

                منزل بہت ہی دُور تھی، رستے تھے اجنبی
                تاروں کے ساتھ ساتھ نکلنا پڑا ہمیں

                سایا مثال آئے تھے اُس کی گلی میں ہم
                ڈھلنے لگی جو رات تو ڈھلنا پڑا ہمیں

                اپنے کہے سے وہ جو ہُوا منحرف ، تو پھر
                اپنا لکھا ہُوا بھی بدلنا پڑا ہمیں

                محرابِ جاں کی شمعیں بچانے کے واسطے
                ہر رات کنجِ غم میں پگھلنا پڑا ہمیں

                ہم چڑھتے سُورجوں کو سلامی نہ دے سکے
                سَو دوپہر کی دُھوپ میں جلنا پڑا ہمیں

                تھا ابتدا سے علم کہ ہے راستہ غلط
                اور قافلے کے ساتھ بھی چلنا پڑا ہمیں

                شانے پہ اِس ادا سے رکھا پھر کسی نے ہاتھ
                دل مانتا نہ تھا پہ بہلنا پڑا ہمیں

                امجد کسی طرف بھی سہارا نہ تھا کوئی
                جب بھی گرے تو خود ہی سنبھلنا پڑا ہمیں

                Comment


                • #53
                  Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                  گزرتے لمحوں، میں تھک گیا ہوں ، بکھر گیا ہوں
                  میں ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں
                  یہ ساتھیوں کی مفارقت بھی عجیب شے ہے
                  کہ جتنا عرصہ یہ ساتھ چلتے ہیں
                  چھوٹی چھوٹی فضول باتوں پہ روٹھ جاتے ہیں اور لڑتے ہیں
                  دوستوں کے جواں ارادے شکست کرتے ہیں
                  راستے کی سعوبتوں سے انہیں ڈراتے ہیں آپ ڈراتے ہیں
                  منزلوں کو پکارتے ہیں
                  مگر انہی کے وجود ہیں جو مسافتوں کو نکھارتے ہیں
                  گزرتے لمحوں میں ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں
                  میں اپنی تنہائی کے تحُّیر سے ڈر گیا ہوں
                  میں وہ مسافر ہوں جس کے پاؤ ں میں منزلیں ہیں نہ رہگزر ہے

                  Comment


                  • #54
                    Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                    Kahan aa k ruknay they rastay, kahan morr tha usay bhool ja
                    wo jo mil gaya usay yad rakh jo nahi mila usay bhool ja

                    wo tere naseeb ki barishein ksi aur chat pe baras gayein
                    dil-e-bekhabar meri baat sunn usay bhool ja usay bhool ja

                    mein to gum tha tere he dheyan mein, teri aas, tere gumaan mein
                    saba keh gai mere kaan mein mere saath aa usay bhool ja

                    ksi ankh mein nahi ashk-e-gham, tere baad kuch bhi nahi hai kam
                    tujhe zindagi ne bhula dia tu bhi muskura usay bhool ja

                    kyun attaa hua hai ghubaar mein, gham-e-zindagi k fishaar mein
                    wo jo darj tha tere bakht mein, so wo ho gaya usay bhool ja

                    na wo ankh he teri ankh thi, na wo khawb he tera khawb tha
                    dil-e-mutazir tou ye kis liay,tera jaagna, usay bhool ja

                    ye jo raat din ka hai khel sa, isay dekh, is pe yaqeen na ker
                    nahi aks koi b mustaqil, sir-e-aaina usay bhool ja

                    jo bisaat-e-jaan he ulat gaya, wo jo rastay mein palat gaya
                    usy roknay se hasool kya, usay mat bula, usay bhool ja

                    Comment


                    • #55
                      Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                      dil k dariya ko kisi roz utar jana hai
                      itna besimt na chal laut ke ghar jana hai

                      us tak ati hai to har chiz thahar jati hai
                      jaise pana hi use asl main mar jana hai

                      bol ai sham-e-safar rang-e-rihai kya hai
                      dil ko rukana hai k taron main thahar jana hai

                      kaun ubharate hue mahatab ka rasta roke
                      us ko har taur su-e-dasht-e-sahar jana hai

                      main khila hun to isi khak main milna hai mujhe
                      vo to khushbu hai use agle nagar jana hai

                      vo tere husn ka jadu ho k mera gam-e-dil
                      har musafir ko isi ghat utar jana hai

                      Comment


                      • #56
                        Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                        kaho mujh sy muhabbat hai
                        Mohabat ki tabiyat mein
                        yeh kaisa bachpana qudrat ny rakha hai
                        Kh yh jitnii puranii jitnii bhi mazbot ho jay
                        Isay taieed e tazaa ki zarorat phr bhi rehti hay
                        Yaqin ki akhri hadoon tak diloon mein lehlahatii ho
                        Nigahon sy tapakti ho laho mein jagmagatii ho
                        Hazaroon tarh ky dilkash haseen halay banatii ho
                        esy izhar ky lafzon ki hajat phr bhi rehti hai
                        Mohabat mangtii hai yon gawahii apny hony ki
                        Kh jaisay tefl e sadah sham ko ek beij boay
                        Aur shab mein baarhaa uthay,Zameen ko khood kr dekhay
                        kh poda ab kahan tak hai?
                        Mohabat ki tabiyat mein ajab takrar ki khoo hai
                        Keh yh iqrar ky lafzon ko sun’nay sy nahi thakti
                        Becharnaay ki ghari ho ya koi milny ki saat ho
                        Esy bas aik hi dhun hai
                        Kaho mujh sy mohabat hai, Kaho mujh sy mohabat hai
                        Tumhain mujh sy mohabat hai
                        Samandar sy kahien gehri,sitaroon sy siwa roshan
                        hawaon ki terh daaim, Paharon ki terah qaaim
                        Zameen say aasman tak jis qadar achay nazaray hain
                        Mohabat ky kanaay hain wafa kay esta’aray hain
                        hamary hain
                        Hamary wasty yh chandni ratain sanwertii hain,sunehraa din nikalta hai
                        Mohabat jis tarf jay zamana sath chalta hai
                        Kuch aisi besakonii hai wafa ki sar zamenoon main
                        kh Jo ehl e mohabat ko sada bechain rakhtii hai
                        Kh jaisy phol main khushbo, Kh jaisy hath main paraa
                        Kh jaisy sham ka tara
                        Mohabat karny waloon ki sehar ratoon main rehti hai
                        Gumaan ky shakhchoon main aashiyaan banta hai ulfat ka
                        Yh aien wisl mein bhi hijr ky khadshon mein rehti hai
                        Mohabat ky musafirr zindagi jab kaat chukty hain
                        Thakan ki kirchiyaan chuntay wafa ki ajrakain pehny
                        Samy ki rahguzar ki aakhrii sarhad py rukty hain
                        To koi tobti sanson ki dori tham kar
                        Dhery sy kehta hai,Yeh sach hai na?
                        Hamari zindage ek dosry ky nam likhi the
                        Dhundalka saa jo aankhoon ky qareb o dur phela hai
                        Esi ka nam chahaat hai
                        Tumhain mujh sy mohabat thi,Tumhain mujh sy mohabat hai,
                        Mohabat ki tabiyat mein
                        yeh kaisa bachpana qudrat ny rakha hai

                        Comment


                        • #57
                          Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                          laboN pe phuul khilte haiN kisi ke naam se pehle
                          diloN ke diip jalte haiN chiraagh-e shaam se pehle

                          kabhi manzar badalne par bhi qissa chal nahiiN paata
                          kahaani khatam hoti hai kabhi anjaam se pehle

                          yahi taare tumhaari aankh ki chilman meiN rehte the
                          yahi suuraj nikalta tha tumhaare baam se pehle

                          diloN ki jagmagaati bastiyoN pe raaj karte haiN
                          yahi jo log lagte haiN nihaayat aam se pehle

                          hui hai shaam jungle meiN parinde lauTte hoNge
                          ab in ko kis tarah rokeN navah-e-daam se pehle

                          ya saare rang murda the tumhaari shakl ban_ne tak
                          ya saare harf mohmal the tumhaare naam se pehle

                          hua hai voh agar munsif to Amjad ehtiyaatan ham
                          saza tasliim karte haiN kisi ilzaam se pehle

                          Comment


                          • #58
                            Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                            jo tum ne Thhaan hi lii hai
                            hamaare dil se nikloge
                            to itnaa jaan lo pyaare
                            vafa ki siiRhioN par har qadam phaila hua
                            yeh aarzuuoN ka lahu zaaya' na jaayega!
                            samundar saamne hoga, agar saahil se nikloge!

                            sitaare, jin kii aaNkhoN ne hameN ik saath dekhaa hai,
                            gavaahii dene aayeNge!
                            puraane kaaghazoN ki balkoni se bahut se lafz jhaankeNge,
                            tumheiN vaapas bulaayeNge!
                            kaii vaade, fasaadii qarz_KhwahoN ki tarah raste meiN rokeNge
                            tumheiN daaman se pakReNge
                            tumhaari jaan khaayeNge!

                            Chhupa kar kis tarah chehra
                            bhari mehfil se nikloge?!
                            zara phir soch lo jaanaN,
                            nikal to jaayoge shaayad,
                            magar mushkil se nikloge!!

                            Comment


                            • #59
                              Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                              ham the hamaare saath ko’ii tiisra na thaa
                              aisaa hasiin din kahiiN dekhaa sunaa na thaa

                              aankhoN meiN us kii tair rahe the hayaa ke raNg
                              palkeN uThaa ke merii taraf dekhtaa na thaa

                              kuchh aise us ki jhiil si aankheN thiN har taraf
                              ham ko sivaaye Duubne ke raasta na thaa

                              haathoN meiN der tak ko’ii khushbuu basii rahii
                              darwaaza-e-chaman tha vo, baNd-e-qabaa na thaa

                              us ke to aNg-aNg meiN jalne lage diye
                              jaaduu hai mere haath meiN mujh ko pataa na thaa

                              us ke badan ki lau se thii kamre meiN raushni
                              khiRkii meiN chaand, taaq meiN ko’ii diyaa na thaa

                              kal raat vo nigaar hua aisaa multafit
                              aksoN ke darmiyaan ko’ii aaiina na thaa

                              saaNsoN meiN the gulaab to hoToN pe chaandni
                              in manzaroN se maiN to kabhi aashnaa na thaa

                              royaa kuch is tarah mere shaane se lag ke vo
                              aisaa laga ke jaise kabhii be wafaa na thaa

                              hai ishq ek rog, mohabbat azaab hai
                              ik roz ye kharaab kareN ge, kahaa na thaa!

                              ~Amjad vahaaN pe had koi rehtii bhi kis tarah
                              rukne ko keh raha thaa magar roktaa na thaa

                              Comment


                              • #60
                                Re: sirf Amjad Islam Amjad Poetry

                                chaaNd ke saath kaii dard puraane nikle
                                kitne Gham the jo tire Gham ke bahaane nikle

                                fasl-e gul aa'ii phir ik baar asiiraan-e-vafaa
                                apne hii Khuun ke dariyaa meiN nahaane nikle

                                hijr ki choT ajab saNg-shikan hotii hai
                                dil kii befaiz zamiinoN se Khazaane nikle

                                umr guzrii hai shab-e-taar meiN aaNkheN malte
                                kis ufaq se miraa Khurshiid na jaane nikle

                                kuu-e-qaatil meiN chale jaise shahiidoN kaa juluus
                                Khvaab yuuN bhiigtii aaNkhoN ko sajaane nikle

                                dil ne ik iiNT se ta’miir kiyaa taaj mahal
                                tuu ne ik baat kahii laakh fasaane nikle

                                dasht-e tanhaaii-e-hijraaN meiN khaRa sochtaa huuN
                                haaye kyaa log miraa saath nibhaane nikle

                                maiN ne 'Amjad' use bevaastaa dekhaa hii nahiiN
                                vo to Khushbuu meiN bhii aahaT ke bahaane nikle

                                Comment

                                Working...
                                X