Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

جمہوریت کا مزاج

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • جمہوریت کا مزاج

    اسلام علیکم

    الیکشن2013 سر پہ ہیں ایسا ہے کہ انے والے دن شاید حیرت انگیر واقعات کے دن ہو۔۔یہ دن ہمارے ھق میں کتنے مہربان یا کتنے نامہربان ہونگے۔۔یہ ہم پہ منصر ہے اب ہمیں خود ہی جواب دہ اور خود ہی جواب طلب ہونا ہے۔۔

    ایسا ہے کہ جمہوریت کا مزاج بولنے کی سیلقہ شعاری اور سننے کی بردبادی سے عبارت ہے جمہوریت ہر اس فرد کو لب کشائی کی دعوت دیتی ہے جو کچھ کہنا چاہتا ہے۔۔جمہوریت کی صورت میں ہم ایک ایسی فضا کو قبول کرتے ہیں جس میں ہم سے کھل کر اختلاف کیا جا سکے۔۔۔جو لوگ جمہوریت کی حمائت کرتے ہیں وہ گویا یہ چاہتے ہیں کہ معاملے دلیل سے طے ہوں نہ کہ اطقت سے۔۔مخالف دلیلوں کو سنا جائے اور دعووں پہ نظر ثانی کی جائے۔۔


    اس نظام کے زیر اثر ہم میں سے سے پہلے اس امکان کو قبول کرنے کی آمادگی پیدا ہونی چاہیے کہ صداقت شاید ہمارے ساتھ نہ ہو دوسرے کے ساتھ ہو۔۔جمہوریت ان لوگوں کے لیے یقینا ایک نامناسب ترین نظام ہے جو اپنے قول کو قول فیصل سمجھتے ہیں اور دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔۔


    کامل صداقت انسانوں کی دست رس سے ہمیشہ دور رہی ہے ہاں اس کی کچھ شبہاتیں ہیں جن پہ قناعت کرنی پڑتی ہے یہ شباہتیں مختلف دائیروں میں بکھری ہوئی ہیں۔۔سیاست کے دائرے میں صداقت کی گہری شباہت ایک ایسے نظام میں پائی جاتی ہے جو انسانوں کی مسرت کو اپنی اساس قرار دیتا ہو۔اس زمین پر اور اس زندگی میں انسان کی مسرت کیا ہے جموریہت اس امر کے تعین کے لیے ایک مناسب ماحول پیدا کرتی ہے۔۔



    اگر ہمیں جمہوریت اور جمہپوریت کی قدریں عزیز ہیں تو پھر ہمیں جمہوریت کے ان تقاضوں کو بھی محسوس کرنا پڑے گا اور اس مدت کو فرض شناسی کے ساتھ گزارنا ہوگا جو تاسیس جمہوریت کے لیے مقرر کی گئی ہیں ورنہ سب کچھ محض مذاق ہو کر رہ جائے گا۔۔قوم کو ایک بہترین موقع مل رہا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے کاش ہم اس سے پوری طرھ فائدہ اٹھائیں اور اپنی اس بدترین سر نوشت کو بدل سکیں جو ایک مدت سے ہمارا مقسوم رہی ہیں



    وما علینا البلاغ


    بےتاب تابانی عفی عنہہ

    :(

  • #2
    Re: جمہوریت کا مزاج

    intakhaabat to jamhooreyat ka keh k laray jatay hian lekan bad main Amreyat hi amreyat nazar ati hai ...
    اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
    اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

    Comment


    • #3
      Re: جمہوریت کا مزاج

      ایک پرانی بات ہے کہ "جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے جس میں سروں کی گنتی کی جاتی ہے اُن سروں میں کیا خناس ہے یہ نہیں دیکھا جاتا"۔

      جمہوریت ہر اس فرد کو لب کشائی کی دعوت دیتی ہے جو کچھ کہنا چاہتا ہے
      جی مگر صرف بولنے کی حد تک اور صرف اس حد تک کہ بات اپنے مفاد میں ہو، جیسے ہی بات اپنے مفاد سے باہر ہوئی، اس کو امن کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔

      میں آپ کو ایک بہت عام سطح کی مثال دیتا ہوں۔ ایک فٹبال فورم ہے انگلیند کا، جس پر فٹبال پر ڈسکشن ہوتی ہے۔ میں وہاں پوسٹ کرتا ہوں گاہے بگاہے۔ کچھ مدت پہلے آج سے بیس سال پہلے ہونے والے ایک حادثے کی نسبت جس کی از سر نو تفتیش ہوئی اور پتہ چلا کہ وہاں پر جو کچھ عوام کو بتایا گیا تھا، جھوٹ تھا، اس پر بحث ہو رہی تھی۔ میں نے ایک کامنٹ لکھا کہ "ہل بارو کی سچائی بیس سال بعد سامنے آ گئی، اب دیکھیے 11 ستمبر کی سچائی کب سامنے آتی ہے" میرے اس کامنٹ کا پہلا حصہ پوسٹ ہوا دوسرا حصہ کاٹ دیا گیا۔ فری ڈام آف سپیچ!!!!۔

      بولنے کا صرف اتنا حق ہے کہ بات مفاد سے باہر نہ ہو۔ میں ایسی جمہوریت کو نہیں مانتا۔ میں اس طرزِ حکومت کو بھی اس لیے نہیں مانتا کہ اس میں مک مکاؤ کے تحت حکومت کی جاتی ہے اور ایک مدت تک۔ جیسے ہی پارٹیوں کا مفاد یا اتفاق ختم ہو جائے ایک دوسرے پر گھناؤنے اور گندے اور غلیظ الزامات لگانے شروع کر دئیے جاتے ہین۔ یہ سیاست نہیں غلاظت ہے!
      tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
      tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

      Comment


      • #4
        Re: جمہوریت کا مزاج

        جمہوریت کی لغوی معنی ’’لوگوں کی حکمرانی
        ‘‘ Rule of the Peopleکے ہیں

        ۔بعض لوگ اس کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ لوگوں کی ’’اکثریت کی بات ماننا‘‘لیکن درحقیقت یہ ’’اکثریت کی اطاعت ‘‘کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی مفکر ہیروڈوٹس (Herodotus)کہتا ہے کہ :
        ’’ جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں‘‘۔
        چناچہ سابق امریکی صدر ’’ ابراہم لنکن‘‘ کا یہ قول جو کہ جمہوریت کا نعرہ ہے ،اسی حقیقت کی عکاسی کرتاہے:
        ’’Goverment of the poeple, by the people, for the people‘‘
        ’’عوام کی حاکمیت ، عوام کے ذریعے ، عوام پر‘‘


        جمہوریت کے حوالے سے ایک غلط فہمی


        دورِ حاضر میں بشمول دینی عناصر ،لوگوں کے ذہن میں جمہوریت کے حوالے سے ایک مغالطہ یہ ہے کہ جمہوریت 200سال قبل انقلابِ فرانس کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی ایک نئی قسم ’’لبرل ڈیموکریسی‘‘(Liberal Democracy) انقلابِ فرانس کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔چناچہ اس کے ساتھ یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ اس جمہوریت کی تاریخ کیا ہے اوراس کا سفر کیسے طے ہوا ہے؟

        1265ء میں انگلستان کی پہلی انتخابی پارلیمنٹ کی صورت میں ’’کامل جمہوریت‘‘ کی طرف پہلا قدم طے ہوا۔1517ء میں جب مارٹن لوتھر (MartinLuthar)نے یورپ کی نشاء ۃ ثانیہ اور اصلاح (Reformation)کے نام پر اپنے مقالے چرچ کے دروازے نصب کرکے چرچ سے آزادی اکا اعلان کردیا۔یہی نظریہ 1688ء کی’’انگلش سول وار‘‘ کا پیش خیمہ ثابت ہوا،جبکہ ’’سینٹ‘‘ (Senate)کے لیڈر کروم ویل (Cromwell) نے انگلستان کے بادشاہ ہنری آئی(Hennry I)کو شکست دیکر سولی پر چڑھادیا۔ اس انقلاب کو ’’گلوریس ریولیشن‘‘(Golorios Revelotion) کہاجاتا ہے، اور اسی کے بعد بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوری دور کاآغاز ہوا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ :
        (۱) تمام مذاہب برابر قرار پائے،جس کی رو سے (Freedom of religon)کا نظریہ سامنے آیاجوکہ (Free from the religon)یعنی تمام مذاہب سے آزادی کا باعث بنا۔
        (۲) کلیسا اور اسٹیٹ میں جدائی ہوگئی یعنی ریاست کے معاملات میں مذہب کا عمل دخل ختم کردیاگیا۔
        (۳) Bank of England کاقیام عمل میں آیاجس کے ذریعے سرمایا دارنہ نظام کی بنیاد رکھی گئی۔
        (۴) سیاست جاگیرداروں Land Lords سے منتقل ہوکر سرمایہ داری میں منتقل ہوگئی۔

        انقلابِ فرانس(French Revuolation) جس کو انسانی تاریخ میں’’جمہوریت‘‘کی ابتداء کی بنیاد قرار دیا جاتاہے۔ یہ دراصل والٹیئرVolataire (1694-1778)اور روسلRossel (1712-1778)جیسے بد قماش اور بدمعاش انسانوں کے فلسفوں اور نظریات کا نتیجہ تھا جن کوآج انسانی تاریخ کے عظیم مفکرین کے طورپرپیش کیاجاتا ہے ۔ان بدقماشوں کے عقائد میںیہ بات شامل تھی کہ ’’عیسائیت ‘‘پر عمل کرنا دراصل گھر پر کام کرنے والی خادمائوں پر لازم ہے ،ہمیں اس کی ضرورت نہیں اور ان لوگوں کے عشق ومحبت کی فسانے اور زناکاریاں کسی سے پوشیدہ نہیں۔چناچہ ان دونوں کی تحریروں کے نتیجے میں1789ء انقلابِ فرانس رونما ہواجس کے درجِ ذیل بھیانک نتائج نکلے:
        (۱)لامذہبیت (Seculerism)کو قانونی تشخص حاصل ہوا۔
        (۲)مذہب سے آزادی حاصل ہوئی۔یعنی مذہب کو ایک بے کار اور uselessشے سمجھا گیا۔
        (۳) سیاسی حقوق میں مساوات کے تصور کو تسلیم کیاگیاجس کی رو سے معاشرے کے ہر فرد کے حق رائے دہی کو بغیر کسی تخصیص کے برابر تسلیم کیاگیا۔ جس کے نتیجے میں Liberal Democracy کا فلسفہ معرض وجود میں آیا۔
        (۴) تقسیم الحکم یعنی نظام حکومت کوتثلیث کی شکل میں تقسیم کردیاگیا۔مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ۔
        (۵) آزاد انتخاب کا تصور سامنے آیا۔
        (۶)اور یہودیوں کا سب سے بڑا شیطانی ہتھیار’’بینک ‘‘یعنی بینک آف فرانس قیام عمل میں آیا۔

        یہ بات بھی قابل غورہے کہ اس Liberal Democracy کو 1900ء تک یعنی انقلابِ فرانس کے 100سال تک بقیہ دنیا میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور 1900ء تک کل تین ہی ممالک یعنی امریکہ،برطانیہ اور فرانس ان جمہوری اصولوں پر قائم تھے۔’’جمہوریت ‘‘کو اصل فروغ پہلی جنگ عظیم اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور خصوصاً جنگ عظیم دوم کے بعد حاصل ہوا ۔اگر جمہوریت کی تاریخ اور سفر کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ یہ ہمیشہ جنگوں اورخانۂ جنگی کے بعد (Colonolization)اور اقتصادی بحرانوں کے نتیجے میں ہی نافذ ہوئی۔جیسے جنگ عظیم اول کے بعد آسٹریا،ہنگری اور ترکی وغیرہ میں، جنگ عظیم دوم کے بعد جرمنی اور جاپان میں، ’’کلو نائیزیشن‘‘کے بعد ہندوستان او ر پاکستان میں، اقتصادی بحرانوں کے بعد روس اور ایسٹ یورپ میں ۔

        موجودہ دور میں ہم نے دیکھا کہ2001ء میں ڈیڑھ مہینے کی شدید بمباری کے بعد میں افغانستان اور پھر2003ء میں اسی طرح عراق میں جمہوریت نافذ کی گئی اور یوں جمہوریت کے نفاذکے لئے ہمیں دو خونریز جنگیں دیکھنی پڑیں اور اب مشرق وسطیٰ میں اسی جمہوریت کے نفاذ کے لئے بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔پس جان لیجئے کہ کہ موجودہ جمہوریت کبھی بھی جمہوری اصولوں پر رائج نہیں ہوئی ۔

        یہ بھی حقیقت ہے کہ اس جمہوریت کو فروغ دینے کے لئے ہمیشہ سے ہی مذہب اباحیت ،دین کے منکر ،مذہب اور دین کو جدا کرنے والے اور سودی کاروبار کو فروغ دینے والے بنے۔لہٰذا نفاذاور استحکام جمہوریت کے نتیجے میں ہمیشہ دین مغلوب ،مذہب سے دوری ،اخلاقی انحطاط اور سودی کاروبار کو استحکام اور فروغ ملااور آج پاکستان میںبھی جمہوری دانشوروں اور علمبردار طبقے میںزیادہ تر یہی لوگ نظر آئیں گے۔


        Allah-o-Akbar Kabeera, Wal Hamdulillaah-e-Kaseera, Subhan Allah-e-Bukratan-wa-Aseela

        Comment


        • #5
          Re: جمہوریت کا مزاج

          جب ہم اسلام کا مطالعہ بحیثیت سیاسی نظام کہ کرتے ہیں تو ہم پر یہ بات روشن ہوتی ہے کہ اسلام جب نظام سیاست کی بات کرتا ہے تو وہ بطور اصطلاح تو ضرور خلافت کی بات کرتا ہے مگر یہ خلافت قائم کیسے ہوگئی ؟ اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟؟؟؟اس بات کی اٗسلام کہیں بھی وضاحت نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے ایک اصول دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ۔۔
          (وَأَمْرُہُمْ شُوْرَیٰ بَینَہُمْ ) الشوریٰ : ٣٨
          اور وہ اپنے اس امر کو باہمی مشاورت سے طے کرتے ہیں ۔
          ہمارے نزدیک امر سے یہاں مطلق مراد تقرر اولی الامر ہی ہے اور یہی وہ بنیادی نقطہ ہے کہ جہاں سے اسلام کی سیاسی نظام میں جمہوریت کی ابتداء ہوتی ہے ہم پہلے بھی عرض کرچکے اسلام نے جہاں بھی سیاسی نظام کی بات کی ہے تو وہاں فقط نظام خلافت کو بطور اصطلاح کہ تو ضرور بیان فرمایا ہے مگر کہیں بھی انعقاد خلافت و قیام خلافت کہ طریقہ کار کی از خود وضاحت نہیں فرمائی بلکہ یہ فرض اس نے اپنے ماننے والوں کی صوابدید پر چھوڑدیا ہے اور یہی وہ اصول ہے کہ جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں بحیثیت کل یا مستقل نظام کی صورت میں جو نظام سیاست ہوگا وہ تو مبنی بر خلافہ ہوگا لیکن خود اس نظام خلافہ کا جو قیام ہوگا وہ مبنی بر جمہور یعنی شورٰی کہ ہوگا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو مسلمانوں میں جو سب سے پہلا نزاع واقع ہوا وہ اسی نظام سیاست کو قائم کرنے کہ معاملے میں تقرر اولی الامر کہ مسئلہ پر ہوا اور اس مسئلہ میں قضیہ ثقیفہ بنو ساعدہ میں ہر ایک گروہ نے اپنے حق اولیت کو جتلایا مگر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود آگے بڑھ کر سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تو پھر اسی { وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ } کہ اصول کہ مطابق تمام صحابہ کرام کہ جو اس وقت ثقیفہ بنو ساعدہ میں حاضر تھے نے حضرت ابوبکر صدیق کہ بیعت فرمالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفینی رسومات سے فراغت کہ بعد مسجد نبوی میں بیعت عامہ کے زریعے تمام مسلمین نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہ حق اولی الامریت کی اولیت کی تصدیق و توثیق فرمادی یہاں تک کہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت فرمائی جو کہ اس منصب کے لیے خود کو اہل سمجھتے تھے مگر انھوں نے جمہور مسلمین کی اجتماعی مشاورت و فیصلہ کہ آگے اپنے حق اولیت کو سرینڈر کردیا اور پھر اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ جب دوسرے خلیفہ کے تقرر کا وقت آیا تو انھے خود خلیفہ اول کی نامزدگی کی سند حاصل ہوئی مگر پھر بھی وہ سند انھے خلافت کا اہل ثابت کرنے میں مستقل نہ ٹھری یہاں تک کہ انھے بھی بیعت عامہ کہ کڑے امتحان سے گزرنا پڑا اور پھر جب تیسرے خلیفہ کہ تقرر کا وقت آیا تو شش رکنی کابینہ کی نامزدگی سامنے آئی جن میں بحرحال آخری ٹائی حضرت علی و عثمان رضی اللہ عنھما کہ مابین قرار پائی تو تب شورٰی کہ متفق فیصلہ کی رو سے مدینہ کہ گلی کوچوں حتٰی کہ مدینہ کے گردو نواح میں ٹھرے ہوئے تجارتی قافلوں سے بھی رائے شماری کروائی گئی اور جب کثرت رائے حضرت عثمان کہ حق میں وصول ہوئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ثالث چن لیا گیا اور یہ طریقہ کار بعینہ آج کہ جدید دور میں الیکشنز کا طریقہ کار کہلاتا ہے ۔ عرض یہ کرنا چاہتا ہوں جب ہم اسلامی نظام سیاست کی بات کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اسلام بطور نظام سیاست کہ تو خلافت کا تصور پیش کرتا ہے مگر وہ تصور محض اصطلاحی ہے کیونکہ اسلام خود اپنے ہی وضع کردہ نظام حیات کہ مطابق جو قانون پیش کرتا ہے اسی قانون کو ہی اسلام کہ پیش کردہ تمام تر معاملات و نظامات میں استقلال کی حیثیت حاصل ہے اور وہ اصول ہے قرآن و سنت کی بالا دستی لہذا جن جن دیگر نظام ہائے زندگی میں اس اصل اصول کو فالو کیا جائے گا وہ وہ نطام یا طریقہ کار اسلامی ہی کہلائیں گے ۔جیسا کہ اوپر ہم نے اسلام کہ تصور خلافت کہ قیام و انعقاد کی مختلف صورتوں کو بیان کیا یہ تمام کی تمام صورتیں کہیں بھی براہ راست قرآن و سنت میں بیان نہیں ہوئیں بلکہ اسی قرآن وسنت کہ ماننے والوں کی ذاتی صوابدید پر منحصر ہیں کہ جب وہ کسی بھی قضیہ کا شکار ہوں تو بقول امام رازی علیہ رحمہ کہ ۔۔۔
          { وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ } فقيل كان إذا وقعت بينهم واقعة اجتمعوا وتشاوروا فأثنى الله عليهم،
          کہ جب انھے کوئی امر واقعہ پیش آتا ہے تو وہ اجتماعی مشاورت سے کام لیتے ہیں او رپھر اسے اللہ کہ سپرد کردیتے ہیں۔

          پھر یاد رہے کہ اسلامی نظام سیاست میں جہاں ایک طرف بطور نظام کہ خلافت کو اسلامی اصطلاحی تائید حاصل ہے وہیں جمہوریت کو بھی اصطلاحی تائید بصورت شورائیت کہ حاصل ہے مگر یہ دونوں اپنے وجود کہ اعتبار سے غیر مستقل ہیں اصلا اصول اور استقلال ان دونوں کہ اوپر جس شئے کو حاصل ہے وہ ہے قرآن و سنت کی بالا دستی لہذا قرآن و سنت پر مبنی جو نظام ہوگا وہی اصل میں اسلام کا نظام سیاست کہلانے کا حق دار ہوگا ۔یعنی ہمارے نزدیک خود خلافہ کو بھی بحیثیت اسلامی سیاسی نظام کہ استقلال حاصل نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک خلافت محض ایک اصطلاح ہے لہذا اصطلاح کہ اعتبار سے تو اسلامی سیاسی نظام میں اسے افق ہے مگر بطور نظام کہ خلافت کیا ہے ؟ یہ مرہون منت ہے اسلام کہ مستقل اصولوں کی پیروی میں یعنی قرآن و سنت کی اتباع میں لہذا اسلام کہ سیاسی نظام کا جس طریق سے بھی اجراء و انعقاد ہو وہ طریق کار اصل اہمیت کا حامل نہیں بلکہ اصل اہمیت قانون کو ہے اور وہ قانون ہے قرآن و سنتت کی پیروی لہذا جب کوئی خلیفہ قرآن وسنت کی پیروی کا دم بھرے تو وہ اسلامی نظام سیاست کا درست حق دار ہوگا اور بعینہ جب کوئی وزیراعظم یا صدر جب اسلامی سیاسی نظام کو تابع شریعت چلائے تو وہ بھی اسلامی نظام سیاست کی اہلیت کا درست حق دار ہوگا
          ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

          Comment


          • #6
            Re: جمہوریت کا مزاج

            یاد رہے معزز قارئین کرام کہ جب ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد اسلامی جمہوریت ہوتی ہے نہ کہ جمہوریت کا وہ معروف مغربی و سیکولر تصور جیسا کہ ہم اوپر بھی واضح کرچکے کہ ہمارے نزدیک اسلامی نظام سیاست میں نہ تو جمہوریت ہی کو اصلا مقصود بالذات کی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی خلافت کو بلکہ اسلامی نظام حیات و سیاست میں جو شئے اصلا مقصود بالذات ہے وہ ہے اللہ کے قانون کا لوگوں پر حکمران ہونا اب چاہے اس قانون کو قرآنی اصطلاح خلافت کہ زیر تسلط لوگوں پر لاگو کردیا جائے یا پھر قرآنی اصطلاح شورائیت یعنی جمہوریت کے تحت۔ ہر دو صورتوں میں یہ دونوں نظام اصلا مقصود بالذات نہیں بلکہ مقصود بالذات تک پہنچنے کا زریعہ ہیں ۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے ہمارے پیارے ناقدین جمہوریت ،جمہوریت کے لفظ اور مغربی تصور جمہوریت اور اسکی تعریف کو لیکر اس قدر متشدد ہوجاتے ہیں وہ مغربی تصور جمہوریت کو ایک آفاقی تصور سمجھ کر اس تصور سے زرا سا بھی ہٹ کر اس کے کسی بھی اسلامی ورژن یا کسی اور ورژن کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے جب کہ ہم کہتے ہیں جمہوریت بذات خود کوئی نطام نہیں ہے چہ جائیکہ مغربی تصور جمہوریت کو اس قدر آفاقی تصور کرلیا جائے کہ اس تصور سے ہٹ کر جمہوریت کی کسی بھی توجیہ یا تعبیر کو خود جمہوریت کہ ہی کھاتہ سے نکال باہر کیا جائے ۔معرف مغربی معنوں میں جمہوریت ایک ایسا نظام ہے کہ جس میں اقتدار اعلٰی کہ مالک عوام ہوتے ہیں اور انکی کثرت رائے سے جو کہ ووٹوں سے حاصل ہوتی ہے مقننہ وجود میں آتی ہے ۔یہی مقننہ ملک کا سب سے بڑا قانون ساز ادارہ کہلاتی ہے انسایئکلو پیڈیا آف فلاسفی میں جمہوریت کہ تصور کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ جمہوریت کہ اصل معنی ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں سیاسی فیصلوں کا حق براہ راست اور مجموعی طور پر شہریوں کو حاصل ہوتا ہے اور اکثریت کی حکومت کہ اصول کو بطور ضابطہ تصور کیا جاتا ہے اور اسے ہی براہ راست جمہوریت کہا جاتا ہے ۔۔۔۔
            یعنی یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے کہ جس میں اکثریت کی قوت اور انکا عمل ایک خاص آئینی دائرہ کار کے اندر ہوتا ہے اور آئینی طور پر ایک ایسا دائرہ کار یعنی فریم ورک متعین ہوتا ہے کہ جس میں تمام لوگ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے اپنے حقوق سے لطف اندرز ہوسکیں ۔یاد رہے کہ ہمارے نزدیک لفظ جمہوریت کا استعمال کسی بھی نظام سیاست کی ان سیاسی و سماجی خصوصیات پر ہوسکتا ہے کہ جو اگرچہ حکومت کی کسی بھی تعریف پر صادق نہ آئیں مگر ان کا مقصد سیاسی و سماجی و معاشرتی تفریقات کا خاتمہ ہو۔خاص طور پر ایسی تفریقات جو کہ انفرادی حق ملکیت اور اسکی تقسیم سے پیدا ہوتے ہیں لہذا جو طریقہ کار اس قسم کی تفریقات کہ خاتمہ کا باعث بنے ہمارے زندیک وہ اصلا تصور جمہوریت ہے اور اسلامی جمہوریت کہلانے کا اصلا حق دار ہے ۔کہ اسلام ہی وہ دین اور نظام حیات جو کہ معاشرے کی تمام طبقاتی تقسیموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا قائل ہے ۔
            ہم پھر سے عرض کیے دیتے ہیں کہ ہمارے نزدیک جمہوریت دراصل خود کوئی مقصد یا غایت نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ایسا آلہ حکومت ہے کہ جس کہ زریعہ کسی بھی ریاست میں عوام اپنے سیاسی و معاشی مستقبل میں براہ راست شریک ہوسکتے ہیں ۔اسکے ساتھ ساتھ ہمارے نزدیک جمہوریت کا سب سے مؤثر ترین جو جوہر ہے وہ ہی اصلا ہمیں جمہوری نظام کی تشکیل کہ لیے اکساتا ہے اور وہ ہے کسی بھی ریاست میں سیاسی نظام کی یا سیاسی غلبہ اقتدار کی پر امن منتقلی کا جوہر یعنی کسی بھی ریاست میں انتقال اقتدار یعنی حق اولیت اولی الامر کی تنفیذ ۔
            ہمارے نزدیک اسلام نے بحیثیت نظام تو خلافت کی طرف توجہ دلائی ہے مگر اس امر خلافت پر تمکن فی الامر ہونے کی حیثیت سے انتقال اقتدار کا مرحلہ کیسے طے ہوگا اسے لوگوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ قضیہ ثقیفہ بنو ساعدہ سے لیکر آج تک جتنے بھی مسلم پیشوا حکومت گزرے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی اپنے حق اولیت کو منصوص من اللہ نہیں ٹھرایا بلکہ سب نے اپنے اپنے حق اولیت کو مختلف شکلوں میں بیان کیا مگر جسے عوام کی تائید بصورت بیعت حاصل ہوگئی وہ اس منصب کا درست حق دار تصور کرلیا گیا یعنی منصب خلافت پر تمکن فی الامر ہونے کی حیثیت سے تمام مسلمان فرمانروا بیعت عامہ کی شکل میں اسلامی نظام شورائیت یعنی جمہوریت کے مرہون منت رہے ۔لہذا جمہوریت ہی وہ طریقہ کار ہے کہ جس کہ زریعہ کسی بھی ریاست میں سیاسی اقتدار کو پر امن طریقہ سے منتقل کیا جاسکتا ہے ۔

            لہذا ہمارے نزدیک جمہوریت کا بنیادی جوہر صرف رائے سے اقتدار کی پر امن منتقلی اور رائے سے ہی معاشرے میں ہیئت حاکمہ کی بنیادی تشکیل ہے لہذا اس کے سوا جمہوریت سے بحیثیت نظام کچھ تصور کرنا ضرورت سے زیادہ ہوگا ۔لہذا ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہوگا کہ جس کی بنیادی تشکیل شعور نبوت کی روشنی میں ماتحت قرآن وسنت کہ کی جائے ۔لہذا یہی وجہ ہے جب ممتاز اسلامی اسکالر ڈاکٹر حمیداللہ سے یہ جمہوریت کی بابت سوال کیا گیا تو انھوں نے اس کا جواب کچھ اس طرح سے دیا ۔۔۔
            سوال: کیا موجودہ دور کی جمہوریت اسلامی تقاضوں کو پورا کرتی ہے؟
            اقتباس:
            اقتباس:
            جواب: اسلام میں کوئی معین طرزِ حکومت نہیں پایا جاتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری دانست میں اس بارے میں کوئی صراحت نہیں کی کہ میرے بعد جانشین کون ہوگا۔ اس کا منشاءیہ تھا کہ ہر اسلامی جماعت، ہر اسلامی گروہ اور اسلامی مملکت اپنے زمانے کی ضرورتوں کے لحاظ سے خود کوئی حکم دے، اس طرح وہ حکم ابدی نہیں ہوگا۔ جب تک چاہیں گے وہ طریق حکومت رائج رہے گا اور جب ہم اسے مضر پائیں گے تو تبدیل بھی کرسکیں گے۔ اس کے برخلاف اگر ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی معین فرمادیتے کہ بادشاہت ہونی چاہیے یا جمہوریت یا کوئی اور نظام حکومت، تو اس طرح ہمارے ہاتھ بندھ جاتے اور قیامت تک ہم اس کی خلاف ورزی نہ کرسکتے۔ غالباً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی بہتری اسی میں پائی کہ اس بارے میں ان پر پابندی نہ عائد کی جائے۔ ان حالات میں جمہوریت بھی ہمارے لیے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے اور بادشاہت بھی۔ کوئی تیسرا طریقہ¿ حکومت بھی کارآمد ہوسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ: مثلاً نظام حکومت کیا ہو؟ اس بارے میں اسلام کوئی حکم نہیں دیتا۔ بادشاہت بھی جائز ہے اور اگر جمہوریت ہو تو بھی جائز ہے اور جماعت کی حکومت ہو تو وہ بھی جائز ہے۔ ان سب کو جب اسلام جائز قرار دیتا ہے تو ان حالات میں ہر دور کے اور ہر ملک کے لوگ باہم مشاورت کے ساتھ خود ہی طے کرلیں گے کہ ہمیں کون سا طرزِ حکومت اپنے زمانے کے لیے اختیار کرنا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت داﺅدؑ اور حضرت سلیمان ؑ جیسے پیغمبروں کو بھی بادشاہ کا لقب دیا گیا۔ جب ایسے جلیل القدر پیغمبر بادشاہت کرچکے ہیں تو پھر ہم اسے حرام کیسے قرار دے سکتے ہیں؟
            ڈاکٹر صاحب کہ اس اقتباس نے جہاں ایک طرف جمہوریت کہ غیر اسلامی ہونے کہ تصور کی نفی فرمادی وہیں اسلامی نظام سیاست میں کسی بھی ایک نظام کی مستقل حیثیت کی بھی نفی فرمادی ۔
            اب آخر میں ہم ان بنیادی جمہوری اوصاف کا بیان کریں گے کہ جوکسی بھی ریاست میں بطور نظام سیاست کہ اگر رائج ہوجائیں تو وہ معاشرہ مثالی معاشرہ کہلا سکتا ہے ۔ ان میں سے پہلا تو اقتدار کی پر امن منتقلی ہے کہ دنیا کہ کسی بھی نظام سیاست میں اقتدار کی پر امن منتقلی کا جمہوریت سے زیادہ پر امن کوئی طریق کار نہیں ہے کہ جس میں ریاست کہ تمام شہری خود اپنی مرضی سے بذریعہ بیلٹ ناٹ بُلٹ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور یوں اقتدار ایک شخصیت سے دوسری شخصیت تک انتہائی پر امن طریق سے منتقل ہوجاتا ہے اور دوسرا یہ کہ کسی بھی ملک یا قوم کی ہئیت حاکمہ اور امور مملکت کہ تعین کرنے اور چلانے میں عوام کی رائے کی شرکت کا کسی نہ کسی طور پر یوں التزام کیا جائے کہ ملک میں سیاسی نظام کی تشکیل کرنے کہ ساتھ ساتھ امور مملکت کو چلانے اور نظم و نسق کو طے کرنے میں بھی ایک حد تک عوام کی شرکت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتاکہ جس عوام کی سیاسی و معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے قوانین وضع کیے جارہے ہوں اس عوام میں ان قوانین کی ایجاب و قبولیت کا داعیہ عامہ پیدا ہوسکے ۔۔۔۔
            ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

            Comment


            • #7
              Re: جمہوریت کا مزاج

              جمہوریت اور پاکستانی جمہوریت میں بہت فرق ہے جی





              Comment


              • #8
                Re: جمہوریت کا مزاج

                اسلام و علیکم عابد بھائی -
                بڑی خوشی ہوئی آپ کو اتنے عرصے بعد فورم پر تحریر لکھتے ہوے دیکھ کر- اگرچہ میری راے اس معاملے میں تھوڑی مختلف ہے جو میں جلد ہی پیش کروں گا

                -بس فل وقت ابھی اتنا کہوں گا کہ خلافت اور اس کے علاوہ جتنے بھی سیاسی نظام مسلم ممالک یا مختلف علاقوں میں رائج رہے ہیں ان میں کہیں نہ کہیں اسلام کی روح موجود رہی -لیکن یہ جمہوریت جس کو پیدا ہوے ٨٠٠-٩٠٠ سال گزرے ہیں -اور مسلم ممالک میں رائج ہوے اس نظام کو آدھی صدی گزرنے والی ہے- یہ جمہوریت حقیقت میں اسلام کے سیاسی نظام کی ضد ہے -غیر مسلم طاغوتی قوتوں نے ہم مسلمانوں کو یہ مغالطہ دیا ہوا ہے - کہ جمہوریت ا یک ایسا نظام حکومت ہے جو تمام مذاھب کے سیاسی افکار کواپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتا ہے - اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکثر دینی حلقوں نے ان سے متاثر ہو کر یہ اصطلاح نکال لی ہے "اسلامی جمہوریت " -تا کہ اپنے جائز اور نا جائز مقاصد دونوں کو ایک وقت میں حاصل کیا جا سکے -
                باقی تفصیل بعد میں پیش کروں گا -


                Allah-o-Akbar Kabeera, Wal Hamdulillaah-e-Kaseera, Subhan Allah-e-Bukratan-wa-Aseela

                Comment


                • #9
                  Re: جمہوریت کا مزاج

                  Bohat Shukria Aur Az had Khushi ki baat Ha Ko Jawad masod Aur Abid Sahib na Mari post ma khul ka apni Raay
                  ka Izhar keya Bohat Shukria Mamnoon Hoon..


                  khush Rehay


                  Dr Faustus
                  :(

                  Comment


                  • #10
                    Re: جمہوریت کا مزاج

                    Originally posted by Dr Faustus View Post
                    Bohat Shukria Aur Az had Khushi ki baat Ha Ko Jawad masod Aur Abid Sahib na Mari post ma khul ka apni Raay
                    ka Izhar keya Bohat Shukria Mamnoon Hoon..


                    khush Rehay


                    Dr Faustus
                    ابھی ہم کھلے ہی کب ہیں ابھی تو آغازِ جمہوریت ہے۔
                    tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
                    tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

                    Comment


                    • #11
                      Re: جمہوریت کا مزاج

                      السلام علیکم عابد بھائی
                      ایک مدت بعد آپ کی یوں پیغام پر حاضری دیکھ کر مسرت ہوئی۔
                      زیرِ بحث مضمون اپنے اصل خدوخال سے نکل کر اسلامی قدروں اور اسلامی فکر کی جانب چلا گیا ہے اور جس ضمن میں آپ کا خلاصہ ہے کہ چونکہ نبی پاک ﷺ نے اپنی حیاتِ مقدسہ میں ایسا کوئی قول نہیں فرمایا جس سے یہ ظاہر ہو کہ اسلامی معاشرے میں کیسی حکومت ہونی چاہے اور نہ ہی قرآن پاک نے اس نسبت سے کوئی حکم جاری فرمایا ہے۔ لہذا بقول آپ کے اسلامی معاشرہ اپنے لیے وہ طرزِ حکومت چننے کا حقدار ہے جسے وہ بہتر سمجھے اور اگر وہ پرانا یا ناقابلِ استعمال ہو جائے تو اسے بدلا جا سکے۔
                      مزید اس پر بحث کرنے سے قبل میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں:
                      قرآنِ پاک نے لفظ خلیفہ کا استعمال کیا ہے، کیا آپ اپنی دانست کے مطابق بتاسکے ہیں کہ اس لفظ خلیفہ کا خدوخال کیا ہے؟ اور وہ بات جس پر قرآن کی تمام تر تعلیمات کا دارومدار ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو، اسکا اطلاق کہاں تک ہے؟؟؟
                      Last edited by Masood; 28 April 2013, 02:56.
                      tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
                      tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

                      Comment


                      • #12
                        Re: جمہوریت کا مزاج

                        Originally posted by Masood View Post
                        السلام علیکم عابد بھائی
                        ایک مدت بعد آپ کی یوں پیغام پر حاضری دیکھ کر مسرت ہوئی۔
                        زیرِ بحث مضمون اپنے اصل خدوخال سے نکل کر اسلامی قدروں اور اسلامی فکر کی جانب چلا گیا ہے اور جس ضمن میں آپ کا خلاصہ ہے کہ چونکہ نبی پاک ﷺ نے اپنی حیاتِ مقدسہ میں ایسا کوئی قول نہیں فرمایا جس سے یہ ظاہر ہو کہ اسلامی معاشرے میں کیسی حکومت ہونی چاہے اور نہ ہی قرآن پاک نے اس نسبت سے کوئی حکم جاری فرمایا ہے۔ لہذا بقول آپ کے اسلامی معاشرہ اپنے لیے وہ طرزِ حکومت چننے کا حقدار ہے جسے وہ بہتر سمجھے اور اگر وہ پرانا یا ناقابلِ استعمال ہو جائے تو اسے بدلا جا سکے۔
                        مزید اس پر بحث کرنے سے قبل میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں:
                        قرآنِ پاک نے لفظ خلیفہ کا استعمال کیا ہے، کیا آپ اپنی دانست کے مطابق بتاسکے ہیں کہ اس لفظ خلیفہ کا خدوخال کیا ہے؟ اور وہ بات جس پر قرآن کی تمام تر تعلیمات کا دارومدار ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو، اسکا اطلاق کہاں تک ہے؟؟؟

                        وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ مسعود بھائی !
                        زیر نظر مقالہ ہمارے ایک فورم پر خلافت و جمہوریت کے موضوع پر ہونے والی بحث سے اخذ شدہ ہے جس میں ہم نے اسلامی نظام سیاست پر اصولی بحث کی ہے ۔
                        جہان تک بات ہے آپ کے اٹھائے گئے اس سوال کی کہ.
                        ....
                        ہمارے نزدیک چونکہ نبی پاک ﷺ نے اپنی حیاتِ مقدسہ میں ایسا کوئی قول نہیں فرمایا جس سے یہ ظاہر ہو کہ اسلامی معاشرے میں کیسی حکومت ہونی چاہے اور نہ ہی قرآن پاک نے اس نسبت سے کوئی حکم جاری فرمایا ہے۔ لہذابقول آپکے اسلامی معاشرہ اپنے لیے وہ طرزِ حکومت چننے کا حقدار ہے جسے وہ بہتر سمجھے اور اگر وہ پرانا یا ناقابلِ استعمال ہو جائے تو اسے بدلا جا سکے۔

                        تو آپ ہماری مراد کسی حد تک بالکل درست سمجھے ہیں لیکن آپکو یہ بتلاتا چلوں کہ ہمارا یہ نقطہ نظر خالصتا ہماری ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ دنیائے اسلام کے معروف اسکالر ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب کی رائے بھی ہمارے پیش نظر ہے لہذا ہم نے بطور استشہاد انکی رائے کو اپنے سابقہ مراسلے میں نقل بھی کیا ہے ہمارے نزدیک اسلامی نظام حکومت کی اصل " وامرھم شورٰی بینھم " کا اصول ہے کہ جسے اسلام نظام سیاست میں " اصل الاصول " کہا جاسکتا ہے چناچہ آیت میں لفظ " امرہُمْ " تقرر فی الامر یا تمکن فی الامربالاجماع یا بالمشاورت ہے " جبکہ آیت میں وارد شدہ الفاظ یعنی " شُورٰی بین ہُمْ " سے مراد امت کا " باہمی اجماعی مشاورتی مؤقف " ہے کہ جسے امت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
                        جہاں تک بات ہے لفظ خلیفہ کی اور اسکے خدو خال کی تو یہ لفظ عربی زبان میں نیابت یا " قائم مقامیت " کے معنٰی میں بولا جاتا ہے جب اصل شخص غائب یعنی غیر حاضر ہو تو اسکی نیابت جس شخص کہ سپرد ہوگی وہ خلیفہ کہلائے گا چاہے اصل کی غیابت جزوقتی ہو جیسے حاکم کا کہیں اور چلے جانا یا پھر کل وقتی یعنی حاکم کی موت ہوجانا۔ قرآن پاک میں جو انسان کو اللہ کا خلیفہ کہا گیا ہے وہ ان معنـٰی میں ہرگز نہیں کہا گیا کہ اللہ پاک نعوذ باللہ کہیں چلا گیا ہے یا فوت ہوگیا ہے یا پھر اللہ کو خلافت کی ضرورت ہے بلکہ قرآن میں جو لفظ خلیفہ بولا گیا ہے اس سے مراد اصلا اللہ کی مخلوق کے لیے خلیفہ کی ضرورت ہے کیونکہ انسان اپنی مادی کثافت اور عدم قرب کےحجابات کی وجہ سے اللہ پاک سے براہ راست فیوض و برکات نہیں پا سکتا سو اس وجہ سے مخلوق کی ضرورت کے پیش نظر ایک ایسی مخلوق کی ضرورت پیش آئی جو کہ اللہ اور اسکے بندوں کہ درمیان نیابت کا کار خیر انجام دے سکے، جسے عرف عام میں ضرورت نبوت سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ سو ان معنٰی میں اللہ کے رسل و انبیاء مخلوق کے لیے اللہ کے خلیفہ اور پھر انکی غیر حاضری کے بعد انکی امت میں سے انکے جو جانشین ہوں وہ اللہ کے انبیاء کی لائی ہوئی شریعت کہ عین مطابق یعنی منھاج النبوت پر حکومت کا نظام قائم کرتے ہوئے انبیاء کے خلفاء کہلائیں گے ۔
                        اب اسی تصور خلافت کو ہم مولانا مودودی کے قلم سے کسی قدر واضح کرنے کی کوشش کریں گے ۔۔
                        مولانا لکھتے ہیں کہ :
                        ۔۔۔۔
                        اب خلافت کو لیجیے۔ یہ لفظ عربی زبان میں نیابت کے لیے بولا جاتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے دنیا میں انسان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ زمین پر خدا کا نائب ہے یعنی اس کے ملک میں اس کے دیئے ہوئے اختیارات استعمال کرتا ہے۔ آپ جب کسی شخص کو اپنی جائیداد کا انتظام سپرد کرتے ہیں تو لازماً آپ کے پیش نظر چار باتیں ہوتی ہیں ۔ ایک یہ کہ جائیداد کے اصل مالک آپ خود ہیں نہ کہ وہ شخص۔ دوسرے یہ کہ آپ کی جائیداد میں اس شخص کو آپ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ تیسرے یہ کہ اسے اپنے اختیارات کو ان حدود کے اندر استعمال کرنا چاہیے جو آپ نے اس کے لیے مقرر کر دی ہیں ۔ چوتھے یہ کہ آپ کی جائیداد میں اسے آپ کا منشاء پورا کرنا ہو گا نہ کہ اپنا۔ یہ چار شرطیں نیابت کے تصور میں اس طرح شامل ہیں کہ نائب کا لفظ بولتے ہی خودبخود انسان کے ذہن میں آجاتی ہیں ۔ اگر کوئی نائب ان چاروں شرطوں کو پورا نہ کرے تو آپ کہیں گے کہ وہ نیابت کے حدود سے تجاوز کر گیا اور اس نے وہ معاہدہ توڑ دیا جو نیابت کے عین مفہوم میں شامل تھا۔ ٹھیک یہی معنی ہیں جن میں اسلام انسان کو خلیفہ قرار دیتا ہے اور اس خلافت کے تصور میں یہی چار شرطیں شامل ہیں ۔ اسلامی نظریۂ سیاسی کی رو سے جو ریاست قائم ہو گی وہ دراصل خدا کی حاکمیت کے تحت انسانی خلافت ہو گی جسے خدا کے ملک میں اس کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اس کی مقرر کی ہوئی حدود کے اندر کام کر کے اس کا منشاء پورا کرنا ہو گا۔۔۔
                        قریبا کچھ ایسی ہی بات مولانا حمید الدین فراہی نے بھی فرمائی کہ
                        ۔۔۔
                        قرآن کا مطالعہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں حاکم اعلٰی کا نائب ہے وہ خدا کی سیاسی و قانونی حاکمیت کو نافذ کرنے والا خلیفہ ہے ۔اس کہ اختیارات محدود اور متعین ہیں اسے نہ قانونی حاکمیت حاصل ہے اور نہ ہی سیاسی خود مختاری ،اس کا فریضہ اللہ کہ احکام و امر کو نافذ کرنا ہے ۔ لیکن نیابت خداوندی یا الٰہی خلافت کا یہ مقام کسی فرد واحد کسی خاندان یا کسی مخصوص طبقے کا حق نہیں ہے بلکہ ان تمام لوگوں کا حق ہے جو کہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کریں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ لائے قانون الٰہی کے سامنے سر جھکا دیں ۔ یہیں سے اسلام کا نظام خلافت مغرب کہ سیاسی نظام سے متضاد اور مختلف ہوجاتا ہے ۔کیونکہ مغرب کی ریاست مطلق العنان اور مختار مطلق ہے اور اسلام کی جمہوری خلافت اللہ کہ قانون کی پابند ہے۔۔
                        امید کرتا ہون مسعود بھائی کہ میں کسی قدر لفظ خلیفہ کے خدو خال آپ پر واضح کرنے میں کامیاب ہوگیا ہونگا۔ ۔ والسلام
                        ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

                        Comment


                        • #13
                          Re: جمہوریت کا مزاج

                          اسلام اور جمہوریت
                          میری دانست میں اسلام سمیت دنیا کے تمام مذاہب کا اگر سرسری سا بھی مطالعہ کیا جائے تو جو اصول نکھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ جو بھی طرز حکومت یا نظام حکومت عدل و انصاف کے ساتھ ساتھ عوام کی معاشی و معاشرتی فلاح و بہبود اور مساوات پر مبنی بنیادی اصولوں پر کھڑا ہو وہی نظام حق ہے اور وہی نطام عین منشاء اسلام ہے ۔ ۔
                          کیونکہ اسلام کا یہ دعٰوی ہے کہ انسان زمین پر اللہ کا نائب (بصورت نبوت) ہے اس کا صاف مطلب ہے یہ ہے کہ انسان کو زندگی کہ تمام پہلوؤں میں اللہ کے نائب کی حیثیت سے ہی کام کرنا ہے اور ہرحال میں مرضی رب کو پیش نظر رکھنا ہے خواہ اس (کام) کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہو یا پھر دیگر افراد سے آیا وہ کام اخلاقیات سے متعلق ہے یا پھر اقتصادیات و سیاسیات سے یا پھر انسانی سرگرمیوں کہ دیگر شعبوں سے، یہی نظریہ (یعنی نیابت خدا کا نظریہ) انسان کو سچی اور صحتمندانہ تہذیب اور بہترین تمدن کی طرف لیکر چلتا ہے لہزا اس نظریہ سے وجود پاکر ایک ایسی ریاست تشکیل میں آتی ہے جس کا بنیادی اصول " اللہ کی حکومت لوگوں پر لوگوں ہی کے زریعے" لہزا اسلام جب اس بات پر زور دیتا ہے کہ حاکمیت اللہ ہی کی ہے تو گویا اسلام یہ کہتا ہے کہ کسی بھی انسان کو کسی دوسرے انسان پر مطلقا حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں لہزا تمام حکومتی مشینری خواہ وہ خلیفہ ہو یا اس کے مشراء یا پھر سربراہ مملکت ہو یا اس کی کابینہ یا پھر پارلیمنٹ کے تمام منتخب نمائندے یہ سب بحیثیت عوامی نمائندگان اللہ کے قانون کے نفاذ پر مامور ہیں ۔ ۔
                          کیونکہ اس نظام سیاست میں برتری قانون کو حاصل ہے باقی سب انسان قانون کی نظر میں برابر ہیں ۔اسلام عدل،توازن،اور اعتدال کو انسانی اعمال کے حوالے سے متعارف کرواتا ہے اسلام دنیا کے مطالبات اور آخرت کے تقاضوں کے درمیان باہم اعتدال پر زور دیتا ہے نہ فرد کے مفادات کو قربان کرتا ہے اور نہ ہی معاشرہ کے مفادات کو بحیثیت مجموعی مسترد کرتا ہے بلکہ ہر ایک کو اس کا جائز حصہ دیتا ہے۔ ریاست کے حقوق اور شہریوں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرکے سرمایہ داریت اور کیمونزم ہردو انتہاء پسند فلسفوں کی نفی کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام میں "نظام خلافت " کو آئڈیل نظام حکومت قرار دیا گیا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسلام خلافت کے سوا دیگر کسی بھی نظام حکومت کو شرف قبولیت نہیں بخشتا بلکہ راقم کے نزدیک صحیح یہ ہے کوئی بھی نظام حکومت ہو وہ اگر بنیادی اسلامی اصولوں سے نہیں ٹکراتا تو عین منشاء اسلام ہے لہزا سردست میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا ہے کہ آیا اسلام اور جمہوریت ایک دوسرے کے منافی ہیں یا مطابق، بلکہ سردست یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ہوسکتا ہے جمہوریت اپنے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ اسلام کے مطابق نہ ہو مگر مطلقا اس بنیاد پر جمہوریت کو غیراسلامی قرار دے دینا کہ اس میں عوام کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے یہ انتہائی غلط بات ہے ۔
                          یہاں کہا گیا کہ جمہوریت اس لیے بھی غیر اسلامی ہے کہ اس میں سروں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا تو اس کا جواب میں، میں دنیائے اسلام کے معروف اسکالر ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب کی زبانی دے دیتا ہوں جب آپ سے ایک مرتبہ یہی سوال کیا گیا تو آپ یوں گویا ہوئے کہ ۔۔ ۔
                          سوال:کیا اسلام میں موجودہ دور کے الیکشن یعنی جمہوریت کا تصور موجود ہے جس میں انسانوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے؟
                          جواب: اس کا جواب میں یہ دوں گا کہ جس چیز کی ممانعت نہ ہو، وہ عام طور پر جائز اور حلال ہوتی ہے۔ عہد نبوی میں لوگوں کو گنا نہیں جاتا تھا، یہ صحیح ہے، لیکن اگر ہم گنیں تو اس کی ممانعت بھی عہد ِنبوی میں نہیں ملتی۔ اچھے لوگوں کا انتخاب کرنا آپ کے بس میں ہے۔ محض لفاظی کرنے والے ایسے شخص کو جس کا کردار ٹھیک نہیں ہے، اگر آپ پارلیمنٹ کا ممبر بنائیں تو اس شخص کا اتنا قصور نہیں ہوگا جتنا کہ آپ کا اپنا قصور ہوگا۔ لہٰذا آپ اپنے فرائض پر غور کریں اور ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جو آپ کی رائے میں اچھے کردار کے مالک ہوں‘ ملک کی صحیح خدمت کرسکتے ہوں اور آپ کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرسکتے ہوں۔

                          سوال: کیا موجودہ دور کی جمہوریت اسلامی تقاضوں کو پورا کرتی ہے؟

                          جواب: اسلام میں کوئی معین طرزِ حکومت نہیں پایا جاتا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری دانست میں اس بارے میں کوئی صراحت نہیں کی کہ میرے بعد جانشین کون ہوگا۔ اس کا منشاء یہ تھا کہ ہر اسلامی جماعت، ہر اسلامی گروہ اور اسلامی مملکت اپنے زمانے کی ضرورتوں کے لحاظ سے خود کوئی حکم دے، اس طرح وہ حکم ابدی نہیں ہوگا۔ جب تک چاہیں گے وہ طریق حکومت رائج رہے گا اور جب ہم اسے مضر پائیں گے تو تبدیل بھی کرسکیں گے۔ اس کے برخلاف اگر ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی معین فرمادیتے کہ بادشاہت ہونی چاہیے یا جمہوریت یا کوئی اور نظام حکومت، تو اس طرح ہمارے ہاتھ بندھ جاتے اور قیامت تک ہم اس کی خلاف ورزی نہ کرسکتے۔ غالباً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی بہتری اسی میں پائی کہ اس بارے میں ان پر پابندی نہ عائد کی جائے۔ ان حالات میں جمہوریت بھی ہمارے لیے کارآمد ثابت ہوسکتی ہے اور بادشاہت بھی۔ کوئی تیسرا طریقہ¿ حکومت بھی کارآمد ہوسکتا ہے۔
                          ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ: مثلاً نظام حکومت کیا ہو؟ اس بارے میں اسلام کوئی حکم نہیں دیتا۔ بادشاہت بھی جائز ہے اور اگر جمہوریت ہو تو بھی جائز ہے اور جماعت کی حکومت ہو تو وہ بھی جائز ہے۔ ان سب کو جب اسلام جائز قرار دیتا ہے تو ان حالات میں ہر دور کے اور ہر ملک کے لوگ باہم مشاورت کے ساتھ خود ہی طے کرلیں گے کہ ہمیں کون سا طرزِ حکومت اپنے زمانے کے لیے اختیار کرنا ہے۔ قرآن مجید میں حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے پیغمبروں کو بھی بادشاہ کا لقب دیا گیا۔ جب ایسے جلیل القدر پیغمبر بادشاہت کرچکے ہیں تو پھر ہم اسے حرام کیسے قرار دے سکتے ہیں؟

                          سوال: اسلامی نقطہ نظر سے حکمرانوں کو منتخب کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے؟ کیا موجودہ طریق انتخابات اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟

                          جواب: اسلام میں بادشاہت کی بھی اجازت ہے جہاں بادشاہ کا بڑا بیٹا خودبخود ولی عہد بن جاتا ہے اور ”ورث سلیمان داﺅد“ آیت قرآنی (16:27) اس کی اجازت بھی دیتی ہے۔ جمہوریت کی بھی اجازت ہے۔ جماعتی Collegial حکومت کی بھی اجازت ہے۔ وہاں وہ نظام بھی پایا جاسکتا ہے جو ان سب کا ایک مجموعہ یا ان میں سے چند کا مخلوط ہو جیسے خلافت ِ راشدہ میں تھا۔ خلافت ِراشدہ بادشاہت نہیں تھی اور نہ ہی روایتی جمہوریت، کیونکہ جمہوریت میں
                          معین مدت کے لیے (چار یا پانچ سال کے لیے) کسی کو منتخب اور مقرر کیا جاتا ہے اور پھر نئے انتخابات ہوتے ہیں۔ خلافت ِ راشدہ مجموعہ تھی بادشاہ اور جمہوریت کا‘ یعنی ایک شخص کا تاحیات انتخاب ہوتا تھا‘ اور یہ ساری چیزیں اسلام نے جائز قرار دیں۔ اسلام میں کسی معین طرزِ حکومت کو لازم قرار نہیں دیا گیا بلکہ عدل و انصاف کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ ۔ ۔

                          جمہوریت اور اسلام پر میں پہلے بھی کسی فورم پر اپنی رائے کا اظہار کرچکا ہوں اور میرا مؤقف بھی عین وہی ہے جو کے ڈاکٹر صاحب نے بیان فرمایا اور مجھے خوشی ہے کہ آج اس بحث کی غرض سے جب میں نے مطالعہ کیا تو خود کے مؤقف کو دنیا اسلام کے ایک عظیم سکالر کے مؤقف کے قریب تر پایا ۔ ۔
                          والسلام
                          ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

                          Comment


                          • #14
                            Re: جمہوریت کا مزاج

                            قرآن کا مطالعہ ہمیں یہ بتلاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں حاکم اعلٰی کا نائب ہے وہ خدا کی سیاسی و قانونی حاکمیت کو نافذ کرنے والا خلیفہ ہے ۔اس کہ اختیارات محدود اور متعین ہیں اسے نہ قانونی حاکمیت حاصل ہے اور نہ ہی سیاسی خود مختاری ،اس کا فریضہ اللہ کہ احکام و امر کو نافذ کرنا ہے ۔
                            کیا میں اپنے بھائی سے یہ پوچھ سکتا ہوں کہ وہ کون سے احکام و امور ہیں جو اللہ کی جانب سے ہیں اور جنہیں نافذکرنے کے لیے اللہ تبارک تعالیٰ کو انسان کی پیدائش بحثیت نائب یا خلیفہ کرنی مقصود ہوئی؟ کیا صرف نمازیں پڑھ لینا، روزے رکھ لینا، الحاج بن جانا، قرآن حفظ کر لینا اور قرآن کے رٹے لگا کر پڑھ لینا، زکوٰۃ دینا - یہی اللہ کے احکام اور وہ امور ہیں جن کے لیے حضرت انسان کی پیدائش کی گئی اور اسے اللہ کا خلیفہ ہونے کا شرف عطا کیا گیا؟
                            Last edited by Masood; 28 April 2013, 23:58.
                            tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
                            tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

                            Comment


                            • #15
                              Re: جمہوریت کا مزاج

                              جی سر جی پہلے تو معذرت چاہوں گا کہ سابقہ مراسلہ میں آپکے ایک اہم سوال پر توجہ نہ کرسکا میری مراد آپکے درج ذیل سوال سے ہے ۔۔
                              اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو، اسکا اطلاق کہاں تک ہے؟؟؟
                              جی تو میرے بھائی اس سوال کا سادہ سا آسان سا اور مختصر ترین جواب یہ ہے کہ ایک عام مسلمان سے لیکر ریاست کہ حاکم اعلٰی تک ہر ہر شخص کے لیے اس حکم کا یکساں اطلا ق لازم ہے جو کہ انسانی زندگی کہ تمام شعبوں پر یکساں طور پر محیط ہے ۔

                              Originally posted by Masood View Post
                              کیا میں اپنے بھائی سے یہ پوچھ سکتا ہوں کہ وہ کون سے احکام و امور ہیں جو اللہ کی جانب سے ہیں اور جنہیں نافذکرنے کے لیے اللہ تبارک تعالیٰ کو انسان کی پیدائش بحثیت نائب یا خلیفہ کرنی مقصود ہوئی؟ کیا صرف نمازیں پڑھ لینا، روزے رکھ لینا، الحاج بن جانا، قرآن حفظ کر لینا اور قرآن کے رٹے لگا کر پڑھ لینا، زکوٰۃ دینا - یہی اللہ کے احکام اور وہ امور ہیں جن کے لیے حضرت انسان کی پیدائش کی گئی اور اسے اللہ کا خلیفہ ہونے کا شرف عطا کیا گیا؟
                              جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ آیا وہ کونسے امور ہیں کہ جنکی تنفیذ کے لیے اللہ پاک نے انسان کو شرف نیابت عطا فرمایا ہے تو اس کا بھی آسان سا اور سادہ سا اور مختصر ترین سا جواب تو یہی ہے کہ ایک اسلامی سوسائٹی کے اندر رہتے ہوئے ایسے تمام امور جو انسانی فلاح و بہبود کے ضامن ہوں ان سب کا بجا لانا اسلامی ریاست کہ ایک ادنٰی شہری سے لیکر حاکم اعلٰی سب پر واجب ہے۔
                              آپ نے آقا کریم کا صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مشھور ارشاد تو سنا ہوگا :
                              کلکم راعٍ وکلکم مسئول عن رعیته (متفق علیہ)
                              یعنی اسلامی معاشرہ کا ہرہر فرد اپنی اپنی حدود وقیود کے اندر اندر راعی بھی ہے اورمسئول بھی ہے ۔ ایک گھر کا سربراہ اہل خانہ کی بابت، ایک شہر کا حکمران اپنےشہری مضافات کے لیے اوراسی طرح کسی خاص علاقہ کا حکمران اس خاص علاقہ کے لئے اور پوری ریاست کا حکمران پوری رعایا کے لئے خدا کے ہاں بھی مسئول ہو گا جبکہ حقوق کے اتلاف و ضیاع کی صورت میں عام رعایا بھی اس سے باز پرس کر سکےگی ۔ یاد رہے کہ انسان سائنٹفیکلی ایک سوشل اینیمل یعنی معاشرتی حیوان ہے سو ایسے میں اپنی اجتماعی زندگی کی ترتیب و تہذیب، تمدن اور ثقافت کے لیے وہ جو ادارے قائم کرتا ہے ان میں ریاست سب سے اہم اور بنیادی ادارہ ہے۔ دنیا کی کسی بھی ریاست کے قوانین و ضوابط کا اگربدیہی طور پر ہی مطالعہ کیا جائے تو جو بات متفقہ طور پر سامنے آتی ہے اور جس پر تمام دنیا کے ریاستی قوانین متفق ہیں وہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کی جان و مال و عزت و آبرو اور بنیادی حقوق کا تحفظ کسی بھی ریاست کی ایک بنیادی ذمہ داری ہے ۔
                              اسلام چونکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے وہ دیگر اداروں کی طرح جہاں ایک طرف ریاست کے قیام کے لیے مکمل ہدایات اور اصول فراہم کرتا ہے وہیں اپنے ان اصولوں اور ہدایات کی روشنی میں جو ریاست قائم کرتا ہے اس کی اپنی الگ اور ممتاز خصوصیات ہوتی ہیں جن میں سے ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی ریاست ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے کہ جس میں احکامات الہیہ کے نفاذ سے لیکر ریاست کہ عام شہریوں کی تعلیم و تربیت اور جان و مال و عزت و آبرو کا تحفظ اسکی بنیادی زمہ داری ہوتی ہے اسکے علاوہ ریاستی عوام کے حقوق و فرائض اوربنیادی سہولیات کی فراہمی جہاں ایک طرف ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بنیادی زمہ داری ہے وہیں امن و امان کا قیام اورعدل و انصاف اور مساوات کا نظام قائم کرنا بھی ایک اسلامی ریاست کی بنیادی زمہ داریوں میں شامل ہے اس کے علاوہ روزگار اور زرائع معاش کی فراہمی ، صحت و صفائی کا خیال رکھنا بھی شامل ہے ۔
                              آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینہ منورہ میں قائم ہوئی اسلام نے چودہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ قبل فلاح و بہبود کو حکومت کے فرائض میں شامل کیا اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مجلس شوری، زکوٰۃ ، مالی امداد، مفت تعلیم، بیت المال، امن و امان، خوراک کی فراہمی، صحت کی سہولیات، عدل و انصاف، اخوت، مساوات صلہ رحمی جیسے بہترین اور عمدہ اصول دیے تاکہ بہترین فلاحی ریاست قائم ہو۔ اسلام میں حاکم اعلیٰ کو قوم کا خادم قرار دیا گیا ہے۔
                              غرض اسلامی ریاست کا تمام نظام قرآن و سنت کے احکامات و تعلیمات کے مطابق ہوتا ہے اور حاکمیت اعلیٰ کا حق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو حاصل ہے۔ ریاست کا سربراہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا نائب سمجھ کر اختیارات استعمال کرتا ہے۔ حاکم اور رعایا اخلاقی اور قانونی طور پر برابر ہوتے ہیں اور نظام حکومت میں عوام براہ راست شریک ہوتے ہیں۔
                              ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

                              Comment

                              Working...
                              X