Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

جمہوریت کا مزاج

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • #16
    Re: جمہوریت کا مزاج

    Bohat khoob, replay karoon ga ghar jaa ker in sha Allah.
    tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
    tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

    Comment


    • #17
      Re: جمہوریت کا مزاج




      میری راے جمہوریت پر ----گزشتہ سے پیوستہ

      جمہوریت دراصل ایک نیا’’ کفری دین‘‘ہے۔جمہوریت، لادینیت یا سیکولرازم کی ناجائز اورغیر قانونی باندی ہے اور سیکولرازم وہ نظریہ ہے جو زندگی اور ریاست وحکومت سے دین کو نکا ل باہر کرتا ہے۔ جمہوریت اللہ کے قانون محکم کا بالکل اعتبار نہیں کرتی، سوائے یہ کہ اللہ کا وہ قانون جو آئین و دستور کے تابع ہوجائے یا پھر عوامی خواہشات کے اور ان سب سے پہلے وہ’’ طاغوت ‘‘یا ’’سربراہ طبقے‘‘ کی ترجیحات واغراض کے عین مطابق ہوجائے۔لہٰذا جمہوریت اللہ کے دین کے مدمقابل ایک مستقل دین ہے ۔جس میں طاغوت کی حکمرانی ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی اور جھوٹے معبودان متفرقہ کی شریعت ہے نہ کہ اللہ واحدو قہار کی۔ مخلوق میں سے جو بھی اسے اختیار کرے یا اس کی موافقت کرے تودرحقیقت وہ اپنے لئے اللہ واحد قہار کے قانون کے مدمقابل قانون ساز ی کے حق کو قبول کررہا ہے۔چناچہ اب وہ اسے قبول کرنے کے بعد قانون سازی میں شریک ہو یا نہ ہو اور ان شرکیہ انتخابات میں جیتے یا ہار جائے۔ اس کا’’ دین‘‘ جمہوریت کے مطابق ان میں حصہ لینا یا حصہ لینے والوں کی موافقت کرنا اور اپنے لئے قانون سازی کو قبول کرنا اور اپنے بنائے ہوئے قانون کو اللہ کی کتاب وقانون پر مقدم کئے جانے کو قبول کرلینا ہی ’’عین کفر‘‘ ہے اورواضح گمراہی ہے بلکہ معبود حقیقی سے ٹکر لے کر اس کے ساتھ’’ شرک‘‘ کرنا ہے۔ لہٰذا عوام کا اپنے لئے عوامی نمائندے مقرر کرنا ایسا ہی جیسے ہر قبیلے اور جماعت نے ان میں سے اپنا ایک رب مقرر کرلیاہوتاکہ وہ ان کی خواہشات وآراء کے مطابق ان کے لئے قوانین بنائے۔
      { اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اﷲُ وَ لَوْ لاَ کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْم} (الشوریٰ:۲۱)
      ’’کیا ان کے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین سے وہ کچھ قانون قرار دیا جس کی اللہ نے اجازت نہ دی اور اگر کلمہ فصل نہ ہوتا تو ان کے مابین فیصلہ کردیاجاتا اور بے شک ظالموں کے دردناک عذاب ہے۔‘‘

      کچھ دیندار عناصردرج بالا حقائق کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ یہ تمام خباثتیں تو ’’مغربی جمہوریت ‘‘ کا نتیجہ ہیں اور ہم تو ’’اسلامی جمہوریت ‘‘ کے قائل ہیں اور اس کے لئے وہ جمہوریت کو ’’شریعت کا لبادہ‘‘اڑھانے کے لئے چند واقعات و احکامات کو توڑ مروڑ کر دلیل بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔چناچہ یہ ضروری ہے کہ اُن کی اس غلط فہمی کوبھی دور کیاجائے اور اصل حقیقت کو سامنے لایا جائے۔

      جمہوریت کوجائز قراردینے کے لئے اسے’’ شوریٰ‘‘ کانام دینا
      بعض بصیرت سے کورے اس باطل ،کفری اورجمہوری دین کے لئے اہل ایمان بندوں کی صفات سے متعلق ان قرآنی ارشادت سے دلیل لیتے ہیں :
      { وَ اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ} (شوریٰ:۳۸)
      ’’اور ان کا معاملہ باہم مشورہ سے ہوتا ہے‘‘۔

      {وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ} (آل عمران:۱۵۹)
      ’’اور آپ معاملے میں ان سے مشورہ لیں ‘‘

      اور اس کفری مذہب کو جائز قرار دینے کے لئے اس پر شوریٰ کا’’شرعی لبادہ‘‘ چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’جمہوریت اسلامی شورائیت کی جدیدشکل ہے‘‘۔لیکن جان لیجئے کہ نام بدل دینے سے چیزوں کے احکام نہیں بدلتے اور نہ ہی حلال کو حرام یا حرام کو حلال کردیاجاتا ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا:
      ’’میری امت کا ایک گروہ شراب کوا یسے نام سے حلال کرے گا جو خودانہوں نے رکھا ہوگا‘‘۔(مسند احمد )

      اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ سلف وصالحین متفقہ طورپر ایسے لوگوں کو کافر قرار دیتے ہیں جو توحید کو برا کہے یا اس کی مخالفت کرے یا اسے خارجیت یا تکفیر کہے یا شرک کو اچھا یا جائز سمجھے یا اس کا مرتکب ہو یا اس کا نام بدل کر کچھ اور رکھ دے۔ (ملاحظہ ہو الدررالسنیۃ فی الاجوبۃ النجدیۃ:۱/۱۴۵)

      لہذا جمہوریت کواہل ایمان کے صائب الرائے لوگوں کی شوریٰ پر قیاس کرنا اور مجلس شوریٰ کو کفر وفسق وعصیان کی مجالس کے مشابہ قرار دینا دراصل کذب وباطل ہے کیونکہ قومی یا صوبائی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے مراکزدراصل’’ شرک کے قلعے‘‘ ہیں جس میں’’ جمہوری آلھہ وارباب‘‘ اور ان کے شرکاء اپنے دستور اور وضعی قوانین کے مطابق لوگوں کے لئے ایسے قوانین بناتے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
      {ءَ اَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اﷲُ الْوَاحِدُ الْقَہَّارُ، مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِلَّآ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْہَآ اَنْتُمْ وَ ٰابَآؤُکُمْ مَّآ اَنْزَلَ اﷲُ بِہَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْآ اِلَّآ اِیَّاہُ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ}(یوسف:۳۹-۴۰)
      ’’کیا بہت سے مختلف رب بہتر ہیں یا اکیلااللہ غالب تم اس کے سوا ایسے ناموں کی عبادت کرتے ہوجنہیں تم نے اور تمہارے آباء نے رکھ لیا حالانکہ اللہ نے ان کی دلیل نہیں اتاری۔ حکم کرنا صرف اللہ کے لئے ہے اس نے حکم دیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ‘‘۔

      {اَمْ لَہُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ اﷲُ} (الشوری:۲۱)
      ’’کیاان کے شرکاء ہیں جنہوں نے ان کے لئے قوانین کودین قرار دیا جس کا حکم اللہ نے نہیں دیا‘‘۔

      لہٰذا جمہوریت کو ’’شوریٰ ‘‘پر قیاس کرلینا ایسے ہی ہے جیسے شرک کو توحید اور کفر کو ایمان پر قیاس کرنا اور اللہ پر بلاعلم جھوٹ باندھنا اور اس کی آیات میں الحاد،حق وباطل اور ظلمت کو خلط ملط کرنا ہے۔یہ جاننے کے بعد سمجھ لیں کہ شوریٰ جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے قانون کی حیثیت دی اس کے اور گندی جمہوریت کے مابین فرق آسمان وزمین جیسا ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کر جو فرق خالق ومخلوق میں ہے۔اسی طرح کافرق ان دونوں میں بھی ہے۔جمہوریت اس کائنات میں عوام کو سب سے بڑی قانونی اتھارٹی مانتی ہے۔ یعنی اکثریت کا فیصلہ اکثریت جسے چاہے حلال کرے جسے چاہے حرام کردے۔ گویا
      جمہوریت میں اکثریت ہی’’ الٰہ اور رب ‘‘ہوتی ہے، جبکہ شوریٰ میں اکثریت اللہ اور ا س کے رسول پھر امام المسلمین کے احکامات وفیصلہ جات کی تابعداری کی پابند ہوتی ہے اور امام اکثریت کی رائے یا فیصلے کا پابند نہیں ہوتا جبکہ اکثریت ان کی اطاعت کی پابند ہوتی ہے اگرچہ وہ ظلم کریں سوائے اس کے وہ کسی ’’صریح کفر ِ بواح ‘‘ کا حکم دے،جب اس کی اطاعت جائز نہیں بلکہ اس کو معزول کرنا مسلمانوں پر ضروری ہوجاتاہے۔
      چناچہ شوریٰ اللہ تعالیٰ کا عطاکردہ ربانی نظام ومنہج ہے جبکہ جمہوریت ان ناقص انسانوں کی کارگزاری ہے جو خواہشات کے اسیر ہیں۔ چناچہ نیز نبی علیہ السلام نے فرمایا:
      ’’درحقیقت لوگ ایسے سو اونٹوں کی طرح ہیں جن میں توایک بھی سواری کے قابل نہ پائے گا‘‘۔ (عن ابن عمرؓ،متفق علیہ)

      اسی طرح اللہ نے اپنی کتاب میں واضح طور پر اکثریت کے خلاف فیصلہ دیا ہے ۔فرمایا:
      { وَ اِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اﷲِ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ} (الانعام:۱۱۶)
      ’’اور اگر آپ نے زمین پر رہنے والے افراد کی اطاعت کی تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بہکادیں گے وہ محض گمان پر چلتے ہیں اور صرف اندازے لگاتے ہیں ‘‘۔

      {وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآءِٔ رَبِّہِمْ لَکٰفِرُوْنَ} (الروم:۸)
      ’’اور اکثر لوگ اپنے رب سے ملاقات کا انکار کرتے ہیں ‘‘۔

      { وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاﷲِ اِلَّا وَ ہُمْ مُّشْرِکُوْن}
      (یوسف:۱۰۶)
      ’’اورنہیں ایمان لائے ان میں سے اکثر اللہ پر مگر اس حال میں کہ وہ مشرک ہوتے‘‘۔

      {وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ} (یوسف:۲۱)
      ’’لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ‘‘۔

      { فَاَبٰٓی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا} (الاسراء:۸۹)
      ’’پس اکثر لوگوں نے انکار کردیا لیکن ناشکری سے‘‘۔
      چناچہ جمہوری نمائندے درحقیقت اپنے اپنے بت کدوں (پارلیمنٹس)میں جھوٹے معبود وں کی مانندہیں جو کہ دین جمہوریت اور دستور کے قانون کے مطابق قانون سازی کرتے ہیں اور اس سے بھی پہلے وہ اپنے رب اور معبود یعنی بادشاہ یا صدر یا سربراہ کا حکم مانتے ہیں جو ان کے قوانین کا فیصلہ کرتا ہے،یعنی ان کی تصدیق یا تردید کرتا ہے ۔

      درحقیقت جمہوریت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ دین کو ریاست کے معاملے سے الگ کردیتی ہے اور اسی پر اس کے وجود کا دارومدار ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب یورپی اقوام نے اپنی زندگی سے دین کو نکال پھینکا تو اس جمہوریت نے اس کفر کی مٹی میں جنم لیا۔ پھر اس نے شرک وفساد کے کھلیانوں میں نشو ونماپائی اور ان کی فضاؤں کو زہریلا کرنا شروع کردیا اوربالاخر مغرب میں دین کو ریاست سے الگ کرکے رکھ دیا جس کے نتیجے میں اس گندی جمہوریت نے ان کے لئے وشراب نوشی وجنسی آزادی ودیگر فواحش کو قانونی حیثیت دی۔ چناچہ اسلام کے علاوہ دین جمہوریت پر ایمان رکھنے والاہی یا جاہل بیوقوف اس جمہوریت کے جائزہونے یا اس کوشوریٰ کے مساوی قرار دے کر اس کا دفاع کرسکتا ہے ۔
      (جاری ہے


      Allah-o-Akbar Kabeera, Wal Hamdulillaah-e-Kaseera, Subhan Allah-e-Bukratan-wa-Aseela

      Comment


      • #18
        Re: جمہوریت کا مزاج

        عابد بھائی۔

        مجھے آپ کے جوابات جو کہ پوسٹ نمبر 15 میں عنایت کیے گئے ہیں مکمل طور پر اتفاق ہے اور میں بھی اسی سوچ کی حمایت کرتا ہوں کہ اسلامی ریاست میں ایک عام انسان کی بنیادی سہولتوں سے لیکر ریاستی قوانین اور اصول اور ضابطے اسلام مقرر کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی شریعت کا عندیہ ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر نبی پاکﷺ نے مدینہ میں سب سے پہلی اسلامی ریاست کی بنیاد ڈالی ۔ یہی وہ ریاست ہے جس کا تمام تر نظام قرآن اور سنت کے احکامات وتعلیمات کے مطابق رکھا گیااسکا سرچشمہ کیا تھا؟ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی شریعت۔ اور اللہ تعالیٰ کی شریعت کو امپلی منٹ کرنے کا مطلب کیاہے؟ خلافت کا قیام کرنا جس میں حاکمِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ مگر چونکہ وہ ذات دنیا میں آکر خود حکومت نہیں کریگی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا جانشین اپنا خلیفہ مقرر کیا کہ ان طے شدہ امور کی روشنی میں تم نے دنیا میں وہ ریاست قائم کرنی ہے جس میں میری (یعنی اللہ تعالیٰ) کی شریعت کو نافذ کیا جائے۔
        جب اس بات کو ہم مانتے اور تسلیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے سامنے کسی بھی انسان کی بنائی یا چنی ہوئی پارلیمنٹ کو اپنا حاکمِ اعلیٰ مان لیناایسا ہی ہے گویا ہم اللہ تعالیٰ کے مقابل کسی اور کو کھڑا کر رہے ہیں کہ ہمیں اللہ کی عطا کردہ شریعت قبول نہیں ہم اپنی پارلیمنٹ خود بنائیں گے اور اپنے فیصلے خود کریں گے۔ یہی تو شرک ہے۔ یہی تو ثبوت ہے کہ جمہوریت شرک ہے، جس میں ہم حاکمِ اعلیٰ کے عطا کردہ قوانین کو ایک طرف کر کے انسانی معاشرے کے لیے کیا بہترہے اور کیا نہیں اسکا تعین اپنے تئیں کرنے لگتے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ سے بہتر کوئی جان سکتا ہے کہ انسان کو بہتر زندگی گزارنے کے لیے کن امور کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو ہمیں خدائی کا انکار کرنے پڑے گا اور اللہ کی شریعت کو رد کرنا پڑے گا (نااعوذباللہ) اور اگر نہیں تو پھر ہم کیسے اُن لوگوں کی بنائی ہوئی پارلیمنٹ کو ایسے قوانین بنانے کی اجازت دے سکتے ہیں جو لوگ خود کریمنل اور جرائم پیشہ ہیں؟

        اب آتا ہوں میں اپنی کمتر اور ناچیز ذاتی سوچ کی طرف کہ میرے نذدیک کونسا طرزِحکومت ایک اسلامی معاشرے میں ہونا چاہیے۔
        جیسا کہ اوپر کی بحث میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہیں بنایا مگر اپنی عبادت کے لیے۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا سب سے بڑا اور اہم فریضہ دنیا میں اللہ کی شریعت کو قائم کرنا ہے ۔ یہی وہ فرض ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر دنیا میں بھیجا۔
        اسلامی حکومت کی بنیاد اسی شریعت پر ہونی چاہیے جس کی بنیاد آپ ﷺ نے ڈالی۔ آپ ﷺ نے کسی طرزِ حکومت کو نہیں چکا کیوں؟ اس لیے کہ آپ ﷺ نے جس ریاست کی بنیاد ڈالی تھی، اسکی ابتدا تو ریاست کی ابتدا ہی سے ہو چکی تھی اور جو شریعتِ خداوندی پر مبنی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنی جانب سے کوئی قانون نہیں لکھا، کوئی دستاویزات نہیں بنائیں، کوئی کتابچے نہیں لکھے تھے ، کوئی آئین نہیں بنایا تھا، سب کا سب اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق تھا۔ الغرض اساس یہی شریعت ہونی چاہیے۔ مگر چونکہ انسانی معاشرہ زبردستی سے ترقی پزیر ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ حالات بہت جلد بدلتے ہیں ، نئے نئے اسلوب جنم لیتے ہیں، تو اسلامی حکومت میں وہ لچک ہونی چاہیے کہ وہ وقت کی تبدیلی کو اپنے اندر جذب کر لے۔
        ایک مثال دیتا ہوں،آپ کو اپنی فارن پالیسی کیسے مرتب دینی ہے، اسکے لیے اگر آپ کو پارلیمنٹ چاہیے تو ضرور تشکیل دیں، مجلسِ شوریٰ چاہیے تو ضرور بنائیں ، ان کی تشکیل کے لیے ووٹنگ کرانی ہے ضرور کروائیں، جو بھی فارن پارلیسی بنانی ہے صلاح مشورے سے بنائیں کیونکہ اس دور میں آپ بہتر جان سکتے ہیں کہ آپ کو کس ملک کے ساتھ کیسے تعلقات رکھنے ہیں مگر مگر مگر کوئی بھی ایسا قانون، ایسی پالیسی نہ بنائی جائے جو شریعتِ خداوندی سے ٹکراتی ہو۔ اگر ایسا ہے تو پالیسی کو ناقابل عمل قرار دیا جائے گا۔ جو بھی پارلیمنٹ قوانین بنائے، انہیں اپنی اساس کے تابع ہونا چاہیے۔اگر ایسا ہے تو خلافت کی حدود میں رہ کر جمہوریت کا تصور ناممکن نہیں!۔

        Last edited by Masood; 30 April 2013, 01:34.
        tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
        tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

        Comment


        • #19
          Re: جمہوریت کا مزاج

          Originally posted by Masood View Post
          عابد بھائی۔




          اسلام علیکم سر جی ! مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں آپکے اس لیٹیسٹ مراسلہ کا کیا جواب دوں ؟؟ جب کہ میں سمجھتا ہوں کہ خلافت و جمہوریت کے باب میں ہم اپنا پوائنٹ آف ویوبڑی کلیرٹی سے واضح کرچکے آپ نے شاید سابقہ مراسلات میں سے مراسلہ نمبر 5،6 اور 12 کا بنظر غائر مطالعہ نہیں کیا جو آپکو یہ شبہات لاحق ہوئے آپ سے گذارش ہے کہ آپ میرے ریکمنڈ کردہ میرے مراسلات کو غور سے پڑھیئے اور پھر
          ان میں سے کسی چیز پر آپکو اختلاف ہو یا تناقض نظر آئے تو باقاعدہ کوٹ کرتے ہوئے سوالیہ یا پھر معترضانہ پیرائے میں بیان کیجیئے میں جواب دینے کی کوشش کروں گا سر دست تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ کے اٹھائے گئے نکات جدیدہ کے جوابات پہلے سے ہمارے سابقہ مراسلات میں موجود ہیں لیکن پھر بھی آخر میں جمہوریت کی بابت اپنا نقطہ نظر ترتیب وار نکات کی صورت میں واضح کردیا ہوں شاید کہ اس طریق سے اپنی بات زیادہ بہتر انداز میں کہہ سکوں گا ۔۔
          نکتہ نمبر ایک :- ہم جب لفظ جمہوریت بولتے ہیں تو اس سے ہماری مراد جمہوریت کا معروف مغربی تصور یا تعریف یا نظریہ نہیں ہوتا بلکہ ہماری مراد اس وقت اسلامی نظریہ جمہوریت سے ہوتی ہے کہ جس میں شورائیت کی روح کارفرما ہوتی ہے اور جسے آپ اقبال کی زبان میں اسلامی روحانی جمہوریت سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں لہذا جب ہم یہ کہتے ہیں، تو اس وقت ہمارے پیش نظر اسلام کا قانون مشاورت و مساوات ہوتا ہے جو کہ بطور اصول کے اس نظریہ کے پیچھے کار فرما ہوتا ہے ۔
          نکتہ نمبر دو:- ہمارے نزدیک نہ تو جمہوریت کو کسی مستقل نظام کی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی خلافت خود کوئی نظام ہے بلکہ ہمارے نزدیک یہ دونوں الفاظ نظام تک پہنچے کے زرائع ہیں۔ نظام اصل میں قرآن و سنت ہے کہ جسے قانون اور اصول کے اعتبارسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
          نکتہ نمبر تین:-
          ہمارے نزدیک لفظ خلافت سے مراد اصولی طور پرکوئی دینی اصطلاح نہیں ہے مگر چونکہ یہ لفظ ایک نظام کو برپا کرنے کی مد میں ایک خاص طریقہ کارکی وضاحت کرتا ہے تو اسے عرف عام میں ایک دینی اصطلاح کی سی حیثیت حاصل ہوگئی ہے وگرنہ قرآن وسنت کو اگر بغور دیکھا جائے تو مراد اس لفظ سے محض تفھیم مدعا ہے کیونکہ روایات میں ہمیں مسلمانوں کے اجتماعی سیاسی نظم کے لیے اس کے بالمقابل الجماعۃ اور السطان کے الفاظ بھی ملتے ہیں اب ظاہر ہیں کہ یہ الفاظ بھی مسلمانوں کے سیاسی
          نظم اجتماعی کہ معاملہ میں کوئی اصولی یا پھر دینی اصطلاح ہرگز نہیں ہیں لہذا ان کا اصل منشا لغوی اعتبار سے تفھیم مدعا ہی سمجھ میں آتا ہے ۔
          چوتھا نکتہ :- خلافت کی طرح ہم جمہوریت کو بھی کسی خاص دینی اصطلاح کی صورت میں نہیں دیکھتے بلکہ اسے بھی ہم ایک نظام کو برپا کرنے کے لیے ایک خاص طریقہ کار کی مد میں دیکھتے ہیں اور اس سے ایک خاص معنی مراد لیتے ہیں جو کہ اسلامی سیاسی نظم اجتماعی کو برپا کرنے میں محض ایک طریقہ کار کے بطور ممد و معاون ثابت ہو ۔
          پانچواں اور آخری نکتہ :- ہمارے نزدیک اسلامی نظام سیاست میں نہ تو جمہوریت ہی کو اصلا مقصود بالذات کی حیثیت حاصل ہے اور نہ ہی خلافت کو بلکہ اسلامی نظام حیات و سیاست میں جو شئے اصلا مقصود بالذات ہے وہ ہے اللہ کے قانون کا لوگوں پر حکمران ہونا اب چاہے اس قانون کو قرآنی اصطلاح خلافت کہ زیر تسلط لوگوں پر لاگو کردیا جائے یا پھر قرآنی اصطلاح شورائیت یعنی جمہوریت کے تحت۔ ہر دو صورتوں میں یہ دونوں نظام اصلا مقصود بالذات نہیں بلکہ مقصود بالذات تک پہنچنے کا زریعہ ہیں ۔
          انسایئکلو پیڈیا آف فلاسفی میں جمہوریت کہ تصور کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ جمہوریت کہ اصل معنی ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں سیاسی فیصلوں کا حق براہ راست اور مجموعی طور پر شہریوں کو حاصل ہوتا ہے اور اکثریت کی حکومت کہ اصول کو بطور ضابطہ تصور کیا جاتا ہے اور اسے ہی براہ راست جمہوریت کہا جاتا ہے
          یعنی یہ ایک ایسا طرز حکومت ہے کہ جس میں اکثریت کی قوت اور انکا عمل ایک خاص آئینی دائرہ کار کے اندر ہوتا ہے اور آئینی طور پر ایک ایسا دائرہ کار یعنی فریم ورک متعین ہوتا ہے کہ جس میں تمام لوگ انفرادی و اجتماعی طور پر اپنے اپنے حقوق سے لطف اندرز ہوسکیں ۔
          یاد رہے کہ ہمارے نزدیک لفظ جمہوریت کا استعمال کسی بھی نظام سیاست کی ان سیاسی و سماجی خصوصیات پر ہوسکتا ہے کہ جو اگرچہ حکومت کی کسی بھی تعریف پر صادق نہ آئیں مگر ان کا مقصد سیاسی و سماجی و معاشرتی تفریقات کا خاتمہ ہو۔ خاص طور پر ایسی تفریقات جو کہ انفرادی حق ملکیت اور اسکی تقسیم سے پیدا ہوتے ہیں لہذا جو طریقہ کار اس قسم کی تفریقات کہ خاتمہ کا باعث بنے ہمارے زندیک وہ اصلا تصور جمہوریت ہے اور اسلامی جمہوریت کہلانے کا اصلا حق دار ہے۔ اسلام ہی وہ دین اور نظام حیات ہے جو کہ معاشرے کی تمام طبقاتی تقسیموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا قائل ہے ۔
          ہم پھر سے عرض کیے دیتے ہیں کہ ہمارے نزدیک جمہوریت دراصل خود کوئی مقصد یا غایت نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک ایسا آلہ حکومت ہے کہ جس کہ زریعہ کسی بھی ریاست میں عوام اپنے سیاسی و معاشی مستقبل میں براہ راست شریک ہوسکتے ہیں۔ لہذا ہمارے نزدیک جمہوریت کا بنیادی جوہر صرف رائے سے اقتدار کی پر امن منتقلی اور رائے سے ہی معاشرے میں ہیئت حاکمہ کی بنیادی تشکیل ہے ،اس کے سوا جمہوریت سے بحیثیت نظام کچھ تصور کرنا ضرورت سے زیادہ ہوگا چناچہ ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریت ایک ایسا طرز حکومت ہے کہ جس کی بنیادی تشکیل شعور نبوت کی روشنی میں ماتحت قرآن وسنت کہ کی جائے۔۔۔۔

          آخر میں مسعود بھائی نکات کی طوالت کی وجہ سے معذرت کا خواستگار ہوں مجھے عرض مدعا سمجھانے میں یون طوالت اختیار کرنا پڑی والسلام
          ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

          Comment


          • #20
            Re: جمہوریت کا مزاج

            میری راے جمہوریت پر ----گزشتہ سے پیوستہ

            جمہوریت کے شیدائیوں کا یہ مؤقف ہے کہ مشورہ اور ووٹ ایک ہی چیز ہے اور ووٹ مشورہ لینا کا ایک جدید طریقہ ہے۔اس بات کی وضاحت تو اوپر خلیفہ کے انتخاب کے عنوان کے ضمن میں واضح ہوچکی ہے مگر اس سلسلہ میں چند مزید چند اہم امور سامنے رہیں۔سب سے پہلے اصولی بات یہ ہے کہ مشاورت وہاں کی جاتی ہے جہاں نص موجود نہ ہو اور جب نص موجود ہوتو شوریٰ کی کوئی حیثیت نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
            {وَ مَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لاَ مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اﷲُ وَ رَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ وَ مَنْ یَّعْصِ اﷲَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً مُّبِیْنًا} (الاحزاب:۳۶)
            ’’کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کے لئے جائز نہیں جب اللہ اور اس کا رسول ایک بات کا فیصلہ کردیں کہ انہیں اپنے معاملے میں اختیار مل جائے‘‘۔

            دوسرا یہ کہ مشورہ اور ووٹ دو الگ الگ نظاموں پر مبنی ہیں اور انہی کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ مشورہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ،رسول اللہ ﷺکی سنت اور حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا فعل ہے۔اس کے برعکس ووٹ کا ذکر نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی احادیث میں کہیں ملتا ہے اورامت کی ۱۴ سو سالہ تاریخ یعنی 1924ء میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ تک ووٹ کا کوئی ذکر نہیں ملتا ۔
            مشورہ کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا:
            {وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ} (آل عمران:۱۵۹)
            ’’’اورآپ معاملے میں ان سے مشورہ لیں پھر جب آپ فیصلہ کرلیں تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتاہے‘‘۔

            یہاں فرمایا ’’ جب آپ فیصلہ کرلیں ‘‘،
            یہ نہیں فرمایا کہ ان سے مشورہ لیں اور ان کی رائے کے مطابق فیصلہ کرلیں ۔یہ بھی نہیں فرمایا کہ ان سے مشورہ لیں اور اکثریت کے مطابق فیصلہ کرلیں۔اسلا م کا مزاج یہ ہے کہ مشورہ لینے والا ہی فیصلہ کرے ،مشورہ دینے والے نہیں۔ چناچہ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ’’مشورہ ‘‘ الگ چیز ہے اور قصد یا فیصلہ کرنا الگ چیز ہے۔اگر مشورہ دینا فیصلہ قرار پاتا تو بات یوں کی جاتی کہ اکثریت کے فیصلہ کے مطابق ہی فیصلہ کیا کریں چناچہ پھر مشورہ کو ووٹ قرار دیا جاسکتا تھا۔

            اسی طرح سورۃ الشوریٰ کی آیت۳۸میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ{وَاَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ} ’’وہ اپنے معاملات باہمی مشورہ سے طے کرتے ہیں ‘‘۔یہ نہیں فرمایا کہ ’’وہ اپنے معاملات اکثریت کے مشورہ کے مطابق کرتے ہیں‘‘۔اگر اللہ تعالیٰ اس طرح فرمادیتے تو قیامت تک کے لئے اکثریت کے مشورے اور رائے فیصلہ بن جاتے لیکن اللہ تعالیٰ نے مشور ہ کو فیصلہ نہیں بنایا۔

            اس کے برعکس جمہوریت میں حاکمیت ہی افراد کی ہوتی ہے اس لئے ہر انسان کاووٹ اس کا فیصلہ ہوتا ہے۔اگر ووٹ عوام کا فیصلہ نہیں اور صرف مشورہ ہے تو پھر ان کی حا کمیت بنتی ہی نہیں ۔حاکم حکم دیتے ہیں چناچہ مشورہ دینے والے حاکم نہیں ہوسکتے
            ۔چونکہ جمہوریت میں اکثریت حاکم ہے اس لئے اگر ہم ووٹ کو مشورہ اور رائے بنادیں گے تو ہمیں لوگوں کی حاکمیت کے جمہوری تصور اور نظریہ سے انکار کرنا پڑے گااور پھر جمہوریت کی تعریف ہی غلط ہوجاتی ہے۔اس لئے ووٹ نہ تو رائے ہے نہ مشورہ۔اسی طرح مشورہ عاقل اور عابد سے لیا جاتا ہے جبکہ ووٹ ہر جاہل و عالم دیتا ہے ۔مشورے میں بعض اوقات ایک آدمی کی رائے سو آدمیوں کی رائے پر بھاری ہوجاتی :

            اس حوالے سے آخر میں ایک حدیث بات کو بالکل واضح کردیتی ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں :

            ’’میں نے کہا کہ یارسول اللہ !اگر پیش آئے ہمیں کوئی ایسا امر جس کو ہم قرآن میں نازل نہ پائیں اور نہ آپ کی سنت میں ؟آپ نے فرمایا:’’اہل ایمان میں سے نیک لوگوں کی شوریٰ بناؤاور کسی اکے دکے کی رائے پر فیصلہ نہ کرو‘‘۔


            Allah-o-Akbar Kabeera, Wal Hamdulillaah-e-Kaseera, Subhan Allah-e-Bukratan-wa-Aseela

            Comment


            • #21
              Re: جمہوریت کا مزاج

              کیا دورِ نبوی ﷺمیں فیصلے جمہوری اصولوں کی بنیاد پر کثرتِ رائے سے ہوتے تھے ۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آیا خلیفہ کو کسی بھی معاملہ فیصلہ کرنے کا کتنا اختیار حاصل ہے؟

              اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ کہ اسلام کے نظام خلافت میں خلیفہ کے لئے کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے صائب الرائے افراد پر مشتمل شوریٰ سے مشورہ اور رائے لینا ضروری قرار دیاگیا ہے۔البتہ خلیفہ کو اس بات کا پابند نہیں بنایا گیا کہ وہ اہل شوریٰ کی رائے کے مطابق فیصلہ کرے ،چہ جائے کہ وہ اپنے فیصلے اکثریت کی رائے کے مطابق کرنے کا پابند ہواور دوسری بات یہ کہ اہل شوریٰ سے مشاورت جب لی جائے گی جب کسی معاملے میں شریعت کا کوئی واضح حکم موجود نہ ہویا پھر شریعت کے کسی حکم کے نفاذ کے طریقہ کار یا اس کے مقدم و مؤخر کرنے کا معاملہ ہو۔

              غزوہ ٔ احد کے موقع پر جب قریشِ مکہ تین ہزارکا لشکرِ جرار لے کر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ نے اس امر پر صحابہ کرامرضی اللہ عنہم مشاورت کی کہ جنگ مدینہ میں رہ کر مدافعانہ طور پر لڑی جائے یا شہر سے باہر نکل کر میدان میں لڑی جائے۔رسول اللہ کی رائے تھی کہ جنگ شہرمیں رہ کر لڑی جائے اور کبارصحابہ رضی اللہ عنہم کی رائے بھی یہی تھی ۔رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بھی یہی چاہتا تھا۔لیکن چند نوجوان صحابہ جنہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت نہیں کی تھی ،ان کا اصرار تھا کہ جنگ باہر میدان جاکر لڑی جائے۔چناچہ رسول اللہ ﷺنے ان کی رائے کااحترام کرتے ہوئے باہر لڑنے کا اعلان فرمایا ۔رسول اللہ ﷺہتھیار منگوائے اور دوہری زرہ پہن کر تشریف لائے۔اسی اثناء میں کبارصحابہ رضی اللہ عنہم نے ان نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم سے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے جس بات کو پسند کررہے تھے اسی کو اختیار کرنے میں خیر تھی۔چناچہ جب ان نوجوان صحابہ نے بھی رسو ل اللہ سے معذرت کی اور آپ کو اپنی سابقہ رائے کے مطابق ہی فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔لیکن آپ نے فرمایا:

              ’’کسی نبی کو یہ لائق نہیں کہ اسلحہ جنگ زیبِ تن کرے اور دشمن کی طرف نکلنے کا اعلان کرے تو اس سے لڑے بغیر واپس ہو۔میں نے تمہیں یہ بات کہی تھی تو تم نے اسے تسلیم نہ کیا اور باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا ۔اب تم پر لازم ہے کہ اللہ سے ڈرو اور جب دشمن سے مقابلہ ہو تو جنگ میں ثابت قدم رہواور اس بات کا خیال رکھو کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ، اسی طرح کرو‘‘۔(البدایہ والنھایہ ج:۴ص۱۲) اس واقعہ سے بھی یہ بات پتہ چلتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت مدینہ میں رہ کر جنگ لڑنے کی قائل تھی مگر رسول اللہ نے ا ن چند نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم کی دلجوئی کے لئے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ کیا مگر جب بعد تمام صحابہ کرام بشمول نوجوان صحابہ بھی مدینہ میں رہ کر جنگ لڑنے کا مشورہ دینے لگے تو
              رسول اللہ نے اکثریت کی بات کو رد کرتے ہوئے اپنافیصلہ برقرار رکھا۔

              دین جمہوریت کے دلدادہ دورِ خلفائے راشدین کے بارے میں بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں بھی تمام امور جمہوری بنیادوں پر طے ہوتے تھے ۔اس حوالے سے بھی چند مثالیں سامنے رہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کسی بھی جمہوری اقدار کا دور دور تک کوئی شائبہ بھی دورِ خلفائے راشدین میں نہیں ملتا جس کاڈھنڈورہ یہ جمہوریت کے داعی پیٹتے رہتے ہیں۔

              جیش اسامہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ :


              رسول اللہ کی وفات کے بعد جب عرب کے قبائل مرتد ہونے لگے اور کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ۔جھوٹے داعیانِ نبوت کھڑے ہونے لگے اور آئے دن اُ ن کی قوت میں اضافہ ہونے لگا۔دوسری طرف جیشِ اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کامسئلہ بھی سامنے تھا جس کو خود نبی کریم ﷺنے اپنی زندگی میں ترتیب دیا تھا۔ان حالات کے پش نظر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پہلے جیشِ اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے متعلق مشورہ کیا تو ان نازک حالا ت میں شوریٰ فوری طور پر لشکر کی روانگی کے خلاف تھی لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا دوٹوک فیصلہ ان الفاظ میں فرمایا:
              ’’اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔اگر مجھے یہ یقین ہوکہ درندے آکر مجھے اٹھالے جائیں گے،تو بھی میں اسامہ کا لشکر ضرور روانہ کروں گا۔جیساکہ نبی کریم نے حکم دیا تھااور اگر ان آبادیوں میں میرے سوا کوئی شخص بھی باقی نہ رہے تو بھی میں یہ لشکر ضرور روانہ کروں گا‘‘۔(طبری جلد۳ص۲۲۵)

              چناچہ آپ رضی اللہ عنہ کے اس دوٹوک فیصلہ کے بعد بااتفاق یہ لشکر بھیجا گیا جو چالیس دن کے بعد کامیاب ہوکر واپس لوٹا۔

              اس کے بعد مانعینِ زکوٰۃ کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ نے انصارومہاجرین کو جمع کیا اور ان مشاورت چاہی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
              ’’اے خلیفہ رسولﷺ!میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت عرب سے نماز اداکرنے کو ہی غنیمت سمجھیں اور زکوٰۃ پر مواخذہ نہ کریںاور اس وقت مہاجرین و انصار میں تمام عرب وعجم کے مقابلے کی سکت نہیں‘‘۔
              حضرت عمررضی اللہ عنہ کی رائے سننے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے رائے طلب کی تو انہوں نے حرف بہ حرف حضرت عمررضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید کی ۔اس کے بعد تما م انصار ومہاجرین بھی اسی رائے کی تائید میں یک زبان ہوگئے ۔یہ سن کر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا:
              ’’اللہ کی قسم !میں برابر امرِ الٰہی پر قائم رہوں گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا…اللہ کی قسم!اگریہ لوگ جو زکوٰۃ رسول اللہ ﷺکو دیتے تھے اس میں سے ایک رسی بھی روکیں گے تو میں ان سے برابر جہادکرتا رہوں گا حتیٰ کہ میری روح اللہ تعالیٰ سے جاملے۔خواہ ان لوگوں کی مد دکے لئے ہر درخت اور پتھر اورجن و انس میرے مقابلے کے لئے جمع ہوجائیں ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں رکھابلکہ دونوں کو ایک ہی سلسلہ میں ذکر فرمایاہے ‘‘۔(کنز العمال جلد۳ص۴۲)
              یہ تقریر ختم ہوتے ہی حضرت عمررضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اٹھے اور فرمایا:
              ’’اللہ کی قسم!اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں جو لڑائی کا ارادہ ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالا ہے اور میں پہچان گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے حق ہے‘‘۔(بخاری،کتاب
              مندرجہ بالا حقائق کثرتِ رائے کے معیارِ حق ہونے کے جوکہ جمہوریت کا اصل خاصہ ہے ،ابطال پر دو ٹوک اورقطعی فیصلہ کردیتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود جو جمہوریت کی اس ’’نیلم پری‘‘کے دامِ فریب میں مبتلا ہوکر جمہوریت کو اسلا م کے نظامِ شوریٰ سے جوڑتا رہے تو اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ :

              {فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوبَہُمْ وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ } (الصف:۵)
              ’’پس جب انہوں نے ٹیڑھا راستہ اختیار کیا تو اللہ نے اُن کے دلوں کو اور ٹیڑھا کردیا اور اللہ تعالیٰ ہرگز کسی فاسق وفاجر کو ہدایت نہیں دیا کرتا


              Allah-o-Akbar Kabeera, Wal Hamdulillaah-e-Kaseera, Subhan Allah-e-Bukratan-wa-Aseela

              Comment

              Working...
              X