حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں ایک آدمی حاضرہوا اور عرض کی کہ میرے کسی ہمسائے نے میری مرغابی چرا لی ہے ۔ اب کو بھی اس بات کو تسلیم نہیں کر رہا ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمام لوگوں کو عبادت کے لیے جمع کیا اور پھر خطبہ فرمایا ۔ خطبہ میں فرمانے لگے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے پڑوسی کا مرغابی چوری کرتا ہے اور پھر اس حالت میں عبادت کے لیے آتا ہے کہ اس کے سر پر مرغابی کے پر لگے ہوتے ہیں ۔
ایک آدمی نے فورا" اپنے سر پر ہاتھ پھیرا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اسے پکڑ لوگ یہی تمہارا چور ہے
(فراستہ المومن ص 26 )
حضرت سلیمان علیہ السلام نے تمام لوگوں کو عبادت کے لیے جمع کیا اور پھر خطبہ فرمایا ۔ خطبہ میں فرمانے لگے کہ تم میں سے ایک آدمی اپنے پڑوسی کا مرغابی چوری کرتا ہے اور پھر اس حالت میں عبادت کے لیے آتا ہے کہ اس کے سر پر مرغابی کے پر لگے ہوتے ہیں ۔
ایک آدمی نے فورا" اپنے سر پر ہاتھ پھیرا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اسے پکڑ لوگ یہی تمہارا چور ہے
(فراستہ المومن ص 26 )
Comment