Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات


    مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات

    کتاب وسنت کی روشنی میں

    پچھلی دو تین دہائیوں سے فہم قرآن کی جو تحریک پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بالعموم اور شہر لاہور میں بالخصوص جس تیزی سے پھیل رہی ہے و ہ واقعتا ایک بہت ہی مستحسن امر ہے۔اوریہ کہنے میں بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ اس تحریک نے ایک بہت بڑے تعلیم یافتہ طبقے کومتأثر کیا ہے اور ہزاروں افراد کی زندگیوں کے رُخ کویکسر تبدیل کر دیا ہے ۔یہ اسی درسِ قرآن اور ترجمۂ قرآن کی کلاسز کے ہی ثمرات ہیں کہ آج ہر طرف فہم قرآن کے ادارے نظر آتے ہیں اورقرآن کے درس وتدریس کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ہم فہم قرآن کی اس تحریک کے حق میں ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،لیکن چونکہ اس تحریک کے اکثر افراد نہ تو دینی مدارس کے فارغ طلبہ یاعلماء ہیں اور نہ ہی انہوں نے ٹھوس علمی بنیادوں پر دین یعنی قرآن وحدیث کاباقاعدہ علم حاصل کیا ہوتا ہے بلکہ یہ عموما دینی اسلامی تحریکوں کے متحرک کارکنان ہوتے ہیں،اس لیے اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ حضرات بعض اوقات لا شعوری طور پر درسِ قرآن کے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک ایسی راہ پر چلنا شروع کر دیتے ہیں جس سے خیر کم وجود میں آتا ہے اور فتنہ پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ایسے مدرسین،اپنے خلوص کے باوصف،معاشرے کی اصلاح کی بجائے اس میں عدم توازن اور باہمی منافرت کا ایک سبب بن جاتے ہیں۔
    اس مضمون میں ہمارے پیش نظر قرآن و حدیث کی روشنی میں مدرسین قرآن کی ان کوتاہیوں کی نشاندہی ہے جو عام طور پر معاشرے میں اصلاح کی بجائے خرابی کا باعث بنتی ہیں ۔علاوہ ازیں یہ مضمون ایک مدرسِ قرآن کو ایک منہج بھی فراہم کرتا ہے جس پر چل کر وہ اپنے دروس کو عوام الناس کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنا سکتا ہے ۔ اس مضمون سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم دروسِ قرآن کے عوامی حلقوں کے خلاف ہیں،بلکہ ان گزارشات سے ہمارا مقصودمدرسینِ قرآن کو صرف یہ حقیقت باورکرانا ہے کہ ان کی اصل حیثیت مصلحین کی ہے نہ کہ مفسرین کی،اور حلقہ ہائے درسِ قرآنی کا اصل ہدف انذار و تبشیر اورتذکیر ہے نہ کہ تفسیر و تأویل۔ اس ضمن میں قرآن و حدیث پر مبنی چند ہدایات درج ذیل ہیں

    اخلاص

    دین اسلام میں ''نیت'' کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔اللہ کے رسول ۖ کا ارشاد ہے

    ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ))

    ''اعمال کا دارومدارنیتوں پر ہے ۔''

    اللہ کے رسول ۖ کی اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اعمال کی جزا وسزا میں نیت کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے ۔بظاہر ایک عمل لوگوں کے ہاں بہت بڑی نیکی کا کام ہوتا ہے لیکن اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی،بلکہ بعض اوقات یہ عامل کے لیےوبال کا باعث بھی بن جاتا ہے،کیونکہ اس میں اخلاص نہیں ہوتا ۔مدرسین کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنے اندر اخلاص پیدا کریں،خالصتاً اللہ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لیے درسِ قرآن دیں۔ بعض اچھے مدرسین کے بارے میں سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنے دروس میں لوگوں کی تعداد کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں،اگر کسی جگہ لوگوں کی تعداد کم ہو تو وہاں درس دینے سے یا تو انکار کر دیتے ہیں یا اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔ایسا طرز ِعمل اختیار کرنااخلاص کے منافی ہے ۔

    حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ ایک جگہ ایک بڑے مجمع سے خطاب کے لیے تشریف لے گئے،تقریباً دو گھنٹے توحید پر درس دیا ۔جب آپ کا درس ختم ہو چکا تو تھوڑی دیر بعد ایک بوڑھا شخص وہاں پہنچا ۔حضرت شاہ صاحب نے جب اس بوڑھے سے وہاں آنے کا مقصد پوچھا تو اس نے حضرت شاہ صاحب کوبتایا کہ وہ ان کا درس سننے کے لیے آیا تھا۔حضرت شاہ صاحب اس بوڑھے شخص کے جذبے اور ولولے کو دیکھ کر مکمل درس اس اکیلے بوڑھے کو دوبارہ سنانے کے لیے تیار ہو گئے ۔اس پر وہ بوڑھا حضرت شاہ صاحب سے پوچھنے لگا کیا آپ مجھ اکیلے کے لیے دوبارہ اتنا طویل درس دیں گے ؟تو شاہ صاحب نے اس کو جو جواب دیا وہ واقعتا سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے ۔انہوں نے فرمایا


    ''پہلے بھی ایک (اللہ تعالیٰ) ہی کوراضی کرنے کے لیے درس دیا تھا اور اب بھی ایک ہی کو راضی کرنا مقصود ہے ''۔

    جب انسان کے سامنے اصل مقصود اللہ کی رضا ہو تو پھر اس بات کی اہمیت بہت کم رہ جاتی ہےکہ آپ کا درس سننے کے لیے کتنے افراد تشریف لاتے ہیں۔ہمارے ہاں کامیاب مدرس اس کو شمار کیا جاتا ہے جس کے درس میں لوگوں کی تعداد زیادہ ہو،جبکہ اللہ کے ہاں کامیاب مدرس وہ ہے جس میں اخلاص زیادہ ہو،چاہے اس کے درس میں شریک ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہی کیوں نہ ہو۔اس لیے مدرسین کو چاہیے کہ وہ شیطان کے وسوسے میں آ کر حاضرین کی تعداد کو اپنے درس کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار نہ بنائیں،بلکہ اپنا اصل مقصود اللہ کی رضا کوبنائیں۔اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے کہ وہ آپ کے اخلاص کی بنیاد پر دیے گئے درس میں شریک فردِ واحد سے ہی دین کی کوئی اتنی بڑی خدمت لے لے جو کہ عدم اخلاص کی بنیاد پر دیے گئے درس میں شریک ہزاروں سامعین کے مجموعی عمل سے کئی گنا زیادہ ہو۔

  • #2
    Re: مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات


    اِنذار اور فتویٰ کا فرق

    بعض مدرسین کے حوالے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ وہ اپنے دروس میں قرآنی آیات کو جب مختلف افراد،اسلامی جماعتوںاور مسلمان معاشروں پر چسپاںکرتے ہیں تو اُن کااسلوب ناصحانہ کی بجائے مفتیانہ ہوتا ہے ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض مدرسین نفاق،شرک اور کفر سے متعلقہ آیات کا درس دیتے ہوئے بڑی جرات سے عام مسلمانوں پر ان آیات کا انطباق کرنا شروع کر دیتے ہیں اور نتیجتاً مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جماعت کو منافق،کافر ،مشرک اور جہنمی بنا دیتے ہیں ۔مثلاایک مدرس اپنے درس کے لیے نفاق سے متعلقہ آیات کا انتخاب کرتاہے،پھر اُن آیات کا عام مسلمانوں پر انطباق کرتا ہے،اور آخر میں آیت مبارکہ (اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) سنا کر اپنے تئیں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو جہنمی اور اس آیت مبارکہ کا مصداق بنا دیتا ہے ۔

    یہ طرزِ عمل قرآن کے اس مقصد کے بھی خلاف ہے جس کی خاطر اس کو نازل کیا گیا ہے۔قرآن اس لیے نہیں آیا کہ ہم لوگوںپر فتوے لگا کرخوش ہوں کہ تم جہنمی ہو،منافق ہو،مشرک ہو، کافرہووغیرہ،بلکہ قرآن تو اس لیے آیا ہے کہ ہم لوگوں کو نفاق ،شرک اور کفر سے نکال کر جنتی بنائیں ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ تبشیر (جنت کی بشارت )کے ساتھ ساتھ انذار (آخرت کا خوف دلانا) بھی مطلوب ہے،لیکن انذار اور فتویٰ میں بہت فرق ہے ۔انذار یہ ہے کہ آپ لوگوں کو خبر دار کریں،انہیں بتائیں کہ یہ منافقین کی صفات ہیں،یہ اعمال مشرکانہ یا کافرانہ ہیں،قرآن نے ان چیزوں سے روکا ہے اور ان کے مر تکبین کو جہنم کی وعید سنائی ہے ۔یہ تو انذار کا انداز ہے ۔جب کہ فتویٰ کا اسلوب یہ ہے کہ آپ کہیں کہ فلاں کام کرنے والا کافر ہے،مشرک ہے،جہنمی ہے،ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ قرآنی آیات کا مخصوص مسلمانوں اور مسلمان معاشروں پر انطباق کرنا شرعی اصطلاحات کے مطابق اجتہاد ہی کی ایک قسم ہے اور یہ کام فقہاء اور مفتیانِ کرام کا ہے،مدرسین کا نہیں۔

    عربی زبان کے چند بنیادی قواعد کو سیکھ لینے کایہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ آدمی درجۂ اجتہاد اور مسند افتاء پر فائز ہو گیا ہے اور اس کے پاس یہ سند آگئی ہے کہ لوگوں پر قرآنی نصوص کا انطباق کرتا پھرے،بلکہ مدرسین کو چاہیے کہ اپنے دروس میں عوام الناس کو منافق اور جہنمی قرار دینے کی بجائے انہیں ایک باعمل مؤمن اور جنتی بنانے کی طرف توجہ دیں۔جیسا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے کہا ہے کہ ١٤ صدیوں میں ہم نے اتنے مسلمان نہیں بنائے ہیں جتنے اس ایک صدی میں کافر بنا دیے ہیں۔

    ایک خاتون نے راقم الحروف کو بتایاکہ وہ لاہور کے ایک معروف دینی ادارے میں سمر کورس کرنے کے لیے تشریف لے گئیں تو پہلے ہی دن معلمہ نے ایمان و اسلام کے تقاضوں پر درس دینے کے بعد تمام خواتین سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کا اقرار کریں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔تو وہاں پر موجو دسب خواتین نے معلمہ کے درسِ قرآن سے متأثر ہو کر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ۔ مذکورہ خاتون نے مزید بتایا کہ اگلے دن جب وہ کلاس میں شرکت کے لیے تشریف لے گئیں تو انہوں نے کلاس میں موجود خواتین کو سلام نہ کیا ۔اس پر کلاس میں موجود تمام خواتین نے ان سے اس بات پر احتجاج کیا کہ آپ نے کلاس میں داخل ہوتے وقت سلام کیوں نہیں کیا؟تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول ۖ کا فرمان ہے کہ صرف مسلمانوں کوسلام کرنا چاہیے جبکہ کل پوری کلاس نے اس بات کا اقرار کیا تھا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں۔کچھ ہی دیر بعد معلمہ صاحبہ کلاس میں تشریف لے آئیںاور انہوں نے آتے ہی پوری کلاس سے سوال کیا کہ کیا آپ کے اندر ایمان ہے؟ تو ساری کلاس کا سر شرم کے مارے جھک گیا۔پھر معلمہ صاحبہ نے کہا تمہیں کیا معلوم کہ ایمان کیا ہوتا ہے !آج میں تمہیں بتاؤں گی کہ ایمان کیا ہے اور اس کے کیا تقاضے ہیں !

    یہ تو صرف ایک واقعہ ہے،اس قسم کے بیسیوں دروس میں باقاعدہ سامعین سے اس بات کا اقراریا کم از کم یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ منافق ہیں اورایمان سے خالی ہیں ۔ ہمارے خیال میں یہ طرزِ عمل اس حکمت کے بھی منافی ہے جس کے بارے میں ہمیں حکم دیاگیا ہے کہدعوت و تبلیغ میں اس کو ملحوظ رکھیں ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

    (اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط)

    (النّحل:١٢٥)


    ''(اے نبیۖ!) اللہ کے راستے کی طرف بلایئے حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور اُن سے مجادلہ کیجیے اس طریقے پر جو کہ بہتر ہو۔''
    کتاب اللہ نے ایک تو دعوت میں حکمت کا حکم دیا ہے اور وعظ ونصیحت پر دعوت کی بنیاد رکھنے کی طرف رہنمائی کی اور اگر مجادلہ کی کسی سے ضرورت پڑے تو’ مجادلہ احسن ‘کی اجازت دی ہے نہ کہ مطلق مجادلہ کی۔

    Comment


    • #3
      Re: مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات


      تفسیر بالماثور کا التزام

      تفسیر کی دو قسمیں ہیں:تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے۔ تفسیر کی پہلی قسم ''تفسیر بالماثور'' کے جواز کے بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے 'جبکہ دوسری قسم ''تفسیر بالرائے'' کے جائز ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال اور تفاصیل ہیں ۔
      تفسیر بالماثور کو ''تفسیر بالروایہ'' یا'' تفسیر بالمنقول'' بھی کہتے ہیں ۔اس کی مزید چار قسمیں ہیں

      ١) قرآن کی تفسیر خود قرآن سے کرنا
      ٢) قرآن کی تفسیر حدیث سے کرنا
      ٣) قرآن کی تفسیر اقوالِ صحابہ سے کرنا
      ٤) قرآن کی تفسیر اقوالِ تابعین سے کرنا
      اللہ کے رسول ۖ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآن کے الفاظ سکھاتے تھے اسی طرح قرآن کے معانی بھی بتاتے تھے،کیونکہ یہ آپۖ کی ذمہ داری تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو قرآن کے الفاظ کے ساتھ ساتھ معانی بھی بتائیں ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے

      (وَاَنْزَلْنَااِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ)

      (النّحل:٤٤)


      ''اور ہم نے (اے نبیۖ!) آپ کی طرف الذکر (قرآن) کو نازل کیا تا کہ آپ لوگوں کے لیے ان کی طرف نازل کردہ چیز (قرآن مجید) کے معانی واضح کر دیں''۔



      اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۖ نے اپنی اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی نبھا یا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قرآنی الفاظ کے معانی کی بھی تعلیم دی۔مشہور تابعی ابو عبد الرحمن السلمی رحمہ اللہ کاقول ہے

      حدثنا الذین یقرء ون القرآن کعثمان بن عفان و عبد اللہ بن مسعود وغیرھم أنھم کانوا اذا تعلموا من النبی ۖ عشر آیات لم یتجاوزھا حتی یعلموا ما فیھا من العلم و العمل

      '' جن صحابہ نے ہمیں قرآن پڑھایا مثلاً حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رحمہما اللہ وغیرہ ،وہ ہم سے کہتے تھے کہ جب وہ اللہ کے نبی ۖ سے دس آیات کی تعلیم حاصل کر لیتے تو اُس وقت تک آگے نہ بڑھتے تھے جب تک ان دس آیات کا مکمل علم و عمل حاصل نہ کر لیتے تھے ''۔

      اس قسم کے اور بھی بہت سارے آثار مروی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی تفسیر خود بیان کی ہے ۔ہمارے ہاں مدرسین میں حدیث کا فہم اور مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے عموماًیہ کوتاہی پائی جاتی ہے کہ وہ بعض اوقات آیاتِ قرآنیہ کی ایسی تفسیر کر جاتے ہیں جو احادیث ِرسول کے صریحاً خلاف ہوتی ہے۔عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ عربی زبان کی واجبی سی شد بدحاصل کرنے کے بعد مدرسین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امام ابن کثیر، امام قرطبی اور ابن جریر طبری رحمہم اللہ اجمعین جیسے جلیل القدر مفسرین کی صف میں،بلکہ شاید اُن سے بھی کچھ آگے کھڑے ہیں۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ علم حدیث سے ناواقفیت کی وجہ سے اللہ کے رسول ۖ کی تفسیر سے ہٹ کر تفسیر بالرائے کرتے ہیں اور اس پر مصر بھی ہوتے ہیں۔ یہ اہل سنت کا اتفاقی عقیدہ ہے کہ جو تفسیر بھی حدیث کے خلاف ہو گی وہ مردود اور قابل مذمت ہے ۔ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی فرماتے ہیں


      ''تفسیر میں اصل گمراہی کا سبب اس بنیادی حقیقت کو بھول جانا ہے کہ قرآن کے مطالب وہی ہیں جو اس کے مخاطبِ اوّل (یعنی محمد ۖ ) نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔ قرآن محمد ۖ پر نازل ہوا اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ۖ نے سمجھا اور سمجھایاہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہےیا تو علمی،روحانی نکتے ہیں،جو قلب ِمؤمن پر القاء ہوں اور یا پھر اقوال و آراء ہیں،اٹکل پچو باتیں ہیں،جن کے محتمل قرآنی لفظ کبھی ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے،لیکن یہ یقینی بات ہے کہ وہ باتیں قرآن سے مقصود نہیں ہیں۔ قرآنی مقصود صرف وہی ہے جو رسول ۖ نے سمجھا اور سمجھایا ہے ۔دوسری کسی بات کو مقصودِ قرآنی کہناظلم و زیادتی ہے اور افتراء علی اللہ ''۔

      لہٰذا مدرسین کو چاہیے کہ درسِ قرآن دیتے ہوئے حدیث اور اقوالِ صحابہ کا خصوصی اہتمام کریں۔ اصل تفسیر ''تفسیر بالماثور'' ہی ہے۔ تفسیر کی اس قسم میں احتیاط ملحوظ رکھنا اس قدرضروری ہے کہ تفسیر سے متعلقہ احادیث،اقوالِ صحابہ اوراقوال تابعین کو بیان کرتےوقت صحیح سند سے ثابت شدہ احادیث اورا قوال کا التزام کیا جائے ۔تفسیر بالماثور پر مشتمل معروف تفاسیر میں تفسیر طبری،تفسیر ابن کثیر اور مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب کی تیسیر القرآن کا مطالعہ مدرسین کو لازماً کرنا چاہیے کیونکہ یہ تفاسیر ایک مدرس بلکہ مفسر کے لیے بھی ایک حد قائم کردیتی ہیں کہ یہ و ہ حدود ہیں جن سے قرآن کے درس اور تفسیر میں تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔



      Comment


      • #4
        Re: مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات

        تفسیر بالرائے سے اجتناب

        اس کو ''تفسیر الدرایہ'' اور ''تفسیر بالمعقول'' بھی کہتے ہیں۔ اس سے مراد قرآن کی تفسیرخود قرآن 'یا حدیث 'یا اقوال صحابہ یا اقوالِ تابعین سے کرنے کی بجائے اپنے اجتہاد اوررائے کی بنیاد پر کرنا ہے۔ تفسیر بالرائے کی دو قسمیں ہیں :تفسیر با لرائے محمود اور تفسیربالرائے مذموم ۔

        تفسیر بالرائے محمود

        درج ذیل اوصافِ ثلاثہ پر مشتمل تفسیر ' تفسیر بالرائے محمود کہلاتی ہے


        ١) جو تفسیر سلف صالحین کے عقیدے،منہج تفسیر اور اصولِ تفسیر کے مطابق ہو۔
        ٢) تفسیر بالماثور کے مخالف نہ ہواورقواعد لغویہ عربیہ کے موافق ہو۔
        ٣) جس کے مفسر میں تفسیر کی تمام علمی،اخلاقی،دینی،عقلی اور عملی شرائط پائی جاتی ہوں ۔

        تفسیر بالرائے مذموم

        اگر کسی تفسیر میں درج ذیل اوصاف میں سے کوئی ایک وصف بھی پایا جائے تو وہ تفسیر بالرائے مذموم ہے

        ١) جو سلف صالحین کے عقیدے،منہج تفسیر یا اصولِ تفسیر کے خلاف ہو۔
        ٢) تفسیر بالماثور یا قواعد لغویہ عربیہ کے خلاف ہو۔
        ٣) جس کا مفسر جاہل ہو یا ان تفسیری علوم سے ناواقف ہو کہ جن کا علم ایک مفسر کے لیے از بس ضروری ہے مثلاعلمِ حدیث،علمِ لغت،علمِ نحو ،علمِ صرف،علمِ اشتقاق،علمِ
        بلاغت،علمِ اصولِ فقہ،علمِ قراء ت،علمِ ناسخ و منسوخ،علمِ اسبابِ نزول،علمِ اصول الدین(یعنی عقائد)۔

        اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ تفسیربالرائے جائز ہے 'لیکن اس کے باوجود صحابہ کرام اور تابعین عظام اپنے تقویٰ و ورع کی بنیاد پر تفسیر بالرائے سے حتی الامکان گریز کرتے تھے اور ممکن حدتک تفسیر بالماثور پر ہی اکتفا کرتے تھے 'جیساکہ درج ذیل آثار سے واضح ہوتا ہے ۔

        امام ابن جریرطبری لکھتے ہیں

        ١) حضرت ابو معمر الأزدی سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے قرآن کی آیت (وَفَاکِھَةً وَّاَبًّا)کے بارے میں سوال ہواتو جواب میں آپ کہنے لگے
        أیّ أرض تقلنی و أیّ سماء تظلنی اذا قلتُ فی القرآن برأیی



        ''کون سی زمین مجھے اٹھائے گی اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اگر میں قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کروں ؟''



        ٢) حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ

        أنّ ابن عباس سئل عن آیة لوسئل عنھا بعضکم لقال فیھا' فابی أن یقول فیھا






        '' حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس آیت کی تفسیر سے اجتناب کیا۔ اگر تم میں سے کسی سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ ضرور اس کا مفہوم بتادیتا ''۔










        ٣) حضرت طلق بن حبیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے قرآن کی ایک آیت کی تفسیر پوچھی ،حضرت جندب نے جواب
        دیا
        ''میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اگر تم مسلمان ہوتو میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔یا یہ کہا کہ میرے پاس مت بیٹھو''۔










        ٤) حضرت یزیدبن ابی یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ

        کنا نسأل سعید بن المسیب عن الحلال و الحرام،و کان اعلم الناس،فاذا سالناہ عن تفسیر آیة من القرآن سکت کان لم یسمع





        ''ہم حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے حلال و حرام کے بارے میں سوال کرتے تھےکیونکہ انہیں اس چیز کا سب سے زیادہ علم تھا،لیکن جب ہم ان سے قرآن کی کسی آیت کی تفسیر پوچھتے تو وہ ایسے خاموش ہو جاتے تھے جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو''۔









        ٥) علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عبیدہ السلمانی رحمہ اللہ سے قرآن کی ایک آیت کی تفسیرپوچھی تو انہوں نے کہا

        ذھب الذین کانوا یعلمون القرآن فیم أنزل القرآن ،اتق اللہ و علیک بالسداد





        ''وہ لو گ چلے گئے جو یہ جانتے تھے کہ قرآن کس بارے میں نازل ہوا۔تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور سیدھی راہ پر چلتے رہو''۔










        ٦) علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ا براہیم نخعی رحمہ اللہ کہتے تھے





        ''ہمارے اساتذہ تفسیر کرنے سے بچتے اور ڈرتے تھے''۔ (٩)











        ٧) مسروق کہا کرتے تھے




        ''تفسیر کرنے سے بچو اور ڈروکیونکہ تفسیر اللہ کی طرف سے روایت ہے ''۔(١٠)










        مذکورہ بالا آثار سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین پرقرآن کی کسی آیت کی تفسیر کرتے وقت کس قدر اللہ کا خوف اور ڈر غالب ہوتا تھاباوجودیکہ وہ اس کے سب سے زیادہ اہل بھی تھے۔
        خلاصۂ کلام یہ کہ

        ١) تفسیر بالرائے سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔
        ٢) اگر تفسیر بالرائے کرنی ہی ہو تو ایسا شخص کرے جو صحیح معنوں میں اس کااہل ہواور ان شرائط کے مطابق کرے جوکہ تفسیر بالرائے محمود کے ضمن میں اوپر بیان ہو چکی ہیں۔
        ٣) علاوہ ازیں یہ کہ تفسیر بالرائے کرنے کے بعدبھی اس کو اپنی رائے ہی کے طور پر بیان کرے اور اللہ کی طرف اس کی نسبت کرنے سے ڈرتا رہے ۔
        ٤) ہمارے ہاں مدرسین چونکہ تفسیر بالرائے کی مذکورہ بالا شرائط پر پورے نہیں اُترتے لہٰذا ان کے لیے درسِ قرآن دیتے وقت قرآنی آیات کا مسلم معاشروں پر انطباق کرنایا ان سے نئی نئی تفاسیر اختراع کرنا بالکل بھی جائز نہیں ہے ۔مدرسین کو چاہیے کہ اپنے دروس میں اوّل تو تفسیر بالماثور پر ہی اکتفا کریں۔لیکن اگرتفسیر بالرائے کے ضمن میں کچھ بیان کرنا بھی ہے توصرف معروف معاصر مفسرین کے حوالے سے ہی کچھ بیان کر دیں اور اپنی الگ رائے ہر گز پیش نہ کریں!

        یہ بھی واضح رہے کہ تفسیر اور تذکیر میں فرق ہے۔ نصیحت او ریاد دہانی تو ایک مسلمان کے لیے ان قرآنی آیات میں بھی ہے جو پچھلی اقوام کے بارے میں نازل ہوئی ہیں لہٰذا قرآن کی ہر ہر آیت ہمارے لیے تذکیر کا باعث ہے اور اس کو بطور نصیحت بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن آیات کی تفسیر ایک بالکل علیحدہ شے ہے۔ مثلاً قرآن کی آیت (اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) میں تذکیری پہلو تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص کو اعتقادی نفاق کے بارے میں ڈرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمارے اندر پیدا نہ ہو جائے،اگر پیدا ہو جائے تو اس کی اس بدترین سزا کے پیش نظر اس کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس آیت کی تفسیر یہ ہو گی کہ ہم اس آیت کو معاشرے کے بعض افراد یا طبقوں پر applyکرنا شروع کر دیں یعنی ان الفاظ قرآنی کے مصداق مت تلاش کریں۔

        Comment

        Working...
        X