Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

    اُس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
    وہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گا
    وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی
    وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا
    ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول جائینگے
    وہ شمع فرسودہ کا دھواں یاد رہے گا
    کچھ میر کے ابیات کچھ فیض کے مصرعے
    اک درد کا تھا جن میں بیاں یاد رہے گا
    جاں بخش سی تھی اس گل برگ کی تراوت
    وہ لمسِ عزیزِ دو جہاں یاد رہے گا
    ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکین گے
    تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا
    tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
    tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

  • #2
    Re: اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

    very nice... bohat achi ghazal hai

    Comment


    • #3
      Re: اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا

      very very very nice poetry , great job





      Comment

      Working...
      X