Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

~~~ Allama Iqbal ~~~

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • ~~~ Allama Iqbal ~~~

    Assalamalikum

    Allama Iqbal kay baray main jo Quotes millian yaha share karti jaoun gee :rose


    سکندری اور قلندری

    ایک مرتبہ علامہ اقبال باہر بیٹھے تھے کہ ایک فقیر تہبندباندھے ہاتھ میں بڑی سی لٹھ لیے نمودار ہوا اور آتے ہی علامہ اقبال کی ٹانگیں دبانے لگا۔ علامہ اقبال کچھ دیر خاموشی سے پائوں دبواتے رہے پھر فرمایا ’’کیسے آنا ہوا؟‘‘ فقیر نے جواب دیا ’’میں اپنے پیر کے پاس گیا تھا۔ اُنھوں نے فرمایا ہے کہ ڈاکٹر اقبال کو تمھارے علاقے کا قلندر مقرر کیا گیا ہے۔‘‘ علامہ اقبال نے کہا ’’لیکن مجھے تو اس منصبِ قلندری کے عطا کیے جانے کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘‘ فقیر نے علامہ کی اس بات کو قلندری کے کوچے کی کوئی رمز جانا اور بیٹھا پائوں دباتا رہا۔ اتنے میں چوہدری محمد حسین تشریف لے آئے اور آتے ہی سر سکندر حیات سے متعلق کوئی بات کہنا چاہتے تھے کہ علامہ اقبال نے روکا اور کہا ’’چوہدری صاحب اس سکندری کو رہنے دیجیے آج تو یہاں قلندری کی باتیں ہو رہی ہیں۔‘‘ -

    اقبال دیر سے ہی آتا ہے

    بچپن میں ایک مرتبہ اقبال کو سکول پہنچنے میں دیر ہو گئ، کلاس میں داخل ہوۓ تو ماسٹر نے پوچھا : "آج دیر سے کیوں آۓ ہو؟ اقبال نے مسکرا کر جواب دیا "اقبال ہمیشہ دیر سے ہی آتا ہےا"
    اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
    اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔


  • #2
    Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

    علام اقبال کی شگفتہ مزاجی:

    علامہ اقبال سنجیدہ اور متین ہونے کے باوجود بڑے بذلہ سنج اور خوش طبع تھے۔ گفتگو خواہ کسی قسم کی ہو، مزاح کا پہلو ضرور ڈھونڈ لیتے۔ مہذب و شائستہ لطائف کی قدر کرتے۔ خود بھی لطائف بنا کر دوست احباب کو ہنساتے رہتے، بعض اوقات لطائف کے ذریعے اہم مسائل بھی حل کر دیتے تھے۔ -

    لطیف طنز:

    خان نیاز الدین خان جالندھر کی بستی دانش منداں کے رئیس اور علم و ادب سے شغف رکھنے والے بزرگوں میں سے تھے۔ ایک قدرِ مشترک دونوں اصحاب میں یہ بھی تھی کہ دونوں اعلیٰ نسل کے کبوتروں کے ناقد تھے۔ خان صاحب، علامہ اقبال کو جالندھر سے اعلیٰ قسم کے کبوتروں کے جوڑے بھیجتے تھے۔ اپنے بچوں سے محبت کرنے اور پرورش کرنے کا جذبہ جانوروں میں بہت ہوتا ہے لیکن ایک جوڑا اُنھوں نے ایسا بھیجا جو ان اوصاف سے بالکل عاری تھا۔ چنانچہ ایک خط میں خان صاحب کو تحریر فرماتے ہیں ’’آپ کے کبوتر بہت خوب ہیں مگر افسوس کہ زمانہ حال کی مغربی تہذیب سے بہت متاثر معلوم ہوتے ہیں۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ بچوں کی پرورش سے انتہائی بیزا ر
    ہیں۔‘‘
    اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
    اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

    Comment


    • #3
      Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

      افطاری کے لیے سامان

      ماہِ رمضان میں ایک مرتبہ پروفیسر حمید احمد خاں، ڈاکٹر سعید اللہ صدر شعبہ فلسفہ اور پروفیسر عبد الواحد، علامہ اقبال کے دولت کدے پر گئے۔ کچھ دیر بعد مدیر انقلاب مولانا غلام رسول مہر اور مولانا عبدالمجید سالک بھی تشریف لے آئے۔ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو گیا۔ آپ نے گھٹنی بجا کر اپنے نوکر کو بلایا اور اس نے کہا ’’افطار کے لیے سنگترے، کھجوریں کچھ نمکین اور میٹھی چیزیں جو کچھ ہو سکے سب لے آئو۔‘‘ سالک صاحب نے عرض کی ’’اُفوّہ! اتنا سامان منگوانے کی کیا ضرورت ہے، کھجوریں ہی کافی ہیں۔‘‘ علامہ اقبال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا’’سب کچھ کہہ کر ذرا رعب تو جما دیں۔ کچھ نہ کچھ تو لائے گا۔‘‘

      خواہش

      آخری دنوں میں علامہ اقبال کی صحت بڑی حد تک گر چکی تھی۔ بوقتِ شب دَمے کے دورے بھی پڑنے لگے تھے۔ ُعفِ قلب کے ساتھ جگر بھی بڑھ گیا تھا۔ معالجوں نے آپ کو تُرش اشیاء اور چاول وغیرہ کھانے سے منع کر دیا تھا۔ علامہ اقبال کو پلائو اور کباب بہت پسند تھے۔ آپ اُنھیں اسلامی غذا کہا کرتے۔ ایک دن حکیم محمد حسن قرشی سے فرمانے لگے ’’میری دلی خواہش ہے کہ ایک روز میرے ہاں آپ کی دعوت ہو۔ آپ میرے سامنے بیٹھ کر پلائو کھائیں تا کہ اگر میں پلائو کھا نہیں سکتا تو کم از کم کھاتے ہوئے دیکھ لوں۔ -


      اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
      اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

      Comment


      • #4
        Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

        انسانی زندگی کا انحصار اپنے گرد پیش کے حقائق کا مشاہدہ کرنے اور ان کے صیحح مفہوم کو سمجھ کر عمل پیرا ہونے پر ہے۔
        علامہ اقبال
        اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
        اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

        Comment


        • #5
          Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

          bahut umdaa Anchu...

          Comment


          • #6
            Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

            Originally posted by -=The Driver=- View Post
            bahut umdaa Anchu...
            shukria :rose
            jo jo collection mila jama karti jaoun gee :D
            اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
            اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

            Comment


            • #7
              Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

              علامہ اقبال اور تکریم رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ و سلّم

              اے ظہورِ تو شبابِ زندگی
              جلوہ ات تعبیر خوابِ زندگی
              در جہاں شمع حیات افروختی
              بندگاں را خواجگی آموختی!

              ترجمہ۔ رسول پاک صلیٰ اللہ علیہ و سلّم کی آمد مبارک انسانیت کی زندگیوں میں رعنائیوں کی ضمانت ہے۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلّم سے ان جلوؤں کی نمود ظاہر ہوتی ہے جو اب تک کائنات کے دل میں ایک رازکی طرح پوشیدہ تھے۔ حضور صلے اللہ علیہ وسلّم نے دنیا میں علم حقیقی کا نور اور ہدایت کی ایسی شمعیں روشن کی ہیں کہ انسان حیواں کو گمراہی کے پست مقام سے اٹھا کر دنیا کا پیشوا بنا دیا ہے۔۔۔
              اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
              اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

              Comment


              • #8
                Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                Ye Dour Apne Baraheem Ki Talash Mein Hai
                Sanam Kudah Hai Jahan, La Ilaha Illallah
                Allama Muhammad Iqbal.
                اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                Comment


                • #9
                  Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                  ہ اقبال اور بیمار ماں

                  عبدل المجید سالک زکر اقبال میں لکھتے ہیں۔۔۔ہندو کالج کے طلبہ علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگےِ۔ آپ مسلمانوں کے لیے لکھتے ہیں ہمارے لیے کجھ نہں لکھتے۔۔۔۔فرمایا۔۔۔ایک شخص کی ماں بہمار اور جان بہ لب ہے کیا اس حالت میں تم اس سے توقع رکھتے ہو کہ وہ اسے بیماری کی حالت میں چھوڑ کر کسی اور کی تیماداری کرے۔۔۔طلبہ نے جواب دیا۔۔ایسا تو کبھی نہیں ہوسکتا،،
                  فرمایا۔۔۔میری قوم کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔میں اسے اس حالت مین چھوڑ دوں تو کیا یہ فعل میری اپنی فطرت سے غداری کے متراوف نہ ہوگا۔۔۔۔
                  کل کلام اقبال اور حیات اقبال اسی تیماداری کی معراج ہے۔۔۔
                  اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                  اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                  Comment


                  • #10
                    Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                    Originally posted by Aanchal View Post
                    shukria :rose
                    jo jo collection mila jama karti jaoun gee :D
                    jinab daad deni paregi apko... bahut umda kaam kar rahe ho..

                    Comment


                    • #11
                      Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                      عقل پر اقبال کا اعتراض

                      ڈاکٹر سید عبداللہ ”عقل و خودی“ کے عنوان سے ”طیف اقبال“ میں اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں،

                      ” اقبال کے خیال میں عقل ایک ناتمام چیز ہے یعنی عقل حقیقت کی کلیت کا ادراک نہیں کر سکتی۔۔۔۔ عقل جو حواس پر مبنی ہے حقیقت تک پہنچنے کے لئے یقینی راستہ نہیں ہے۔“

                      گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
                      چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے

                      عقل کے خلاف اقبال کا اعتراض ہے کہ عقل میں گرمی، جذب ، سرور و جنوں نہیں ۔ خودی کی تقویت کے لیے جس سرگرمی جذب و سرور کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقل اس سے محروم ہے۔ خودی کی تسخیر کے لیے آگے بڑھنے کی جدوجہد کے لیے یقین کی ضرورت ہے مگر وہ یقین عقل کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ عقل کی باتیں یقینی نہیں ہوتیں۔ عقل کی ایک بڑی کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ شک میں گرفتار رہتی ہے اس لیے خودی میں و ہ حرکت اس سے پیدا نہیں ہوتی جو عشق یعنی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔ بحرکیف عقل ایسی چیز نہیں جس سے نفرت ہو، اقبال نے عملی اور جزوی امور میں اس کی مخالفت نہیں کی انہوں نے عقل سے اختلاف اس لیے کیا ہے کہ کلی امور میں یہ فوراً انکار کر دیتی ہے۔

                      اک دانش ِنورانی ، اک دانش برہانی
                      ہے دانش ِ برہانی، حیرت کی فراوانی
                      اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                      اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                      Comment


                      • #12
                        Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                        اقبال کے ہاں عشق سے مراد

                        اقبال کے ہاں عشق سے مراد ایمان ہے ایمان کا پہلا جُز حق تعالٰیٰ کی الوہیت کا اقرار ہے اور اس پر شدت سے یقین ، اس شدت کو صوفیاءکرام نے عشق سے تعبیر کیا ہے۔ عقل ہمیں زندگی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حل سمجھاتی ہے لیکن جو شے عمل پر آمادہ کرتی ہے وہ ہے عشق ۔ عشق و ایمان سے زیادہ قوی کوئی جذبہ نہیں، اس کی نگاہوں سے تقدیریں بد ل جاتی ہیں۔

                        کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
                        نگاہ ِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

                        بقول مولانا روم،

                        ” عقل جُزئی قبر سے آگے نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ قبر سے آگے عشق کا قدم اُٹھتا ہے اور عشق ایک جست میں زمان و مکان والی کائنات سے آگے نکل جاتا ہے۔

                        عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
                        اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

                        اقبال کے نزدیک عقل و علم کی سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ اس کی بنیاد شک پر قائم ہے۔ اس وجہ سے عقل و علم میں وہ خواص موجود نہیں جو تربیت خودی کے لیے ضروری ہیں۔ اس کے مقابلے میں عشق بے خوفی ، جرات اور یقین و ایمان پیدا کرتی ہے۔ اس لیے وہ خدا سے صاحبِ جنوں ہونے کی آرزو کرتے ہیں۔

                        بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
                        عقل ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی
                        خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
                        مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
                        خرد نے کہہ بھی دیا لا الہٰ تو کیا حاصل
                        دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
                        اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                        اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                        Comment


                        • #13
                          Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                          عشق اور خودی

                          اقبال کے تصورِ خودی کو ان کے تصورِ عشق سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا تربیت خودی کے لیے سب سے بڑا وسیلہ اقبال کے نزدیک عشق ہے جس کے بغیر خودی نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ پختہ ہو سکتی ہے۔ صوفیوں کے نزدیک نصب العین تک پہنچنے کے لیے خودی کو مٹانا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک عشق کے کمال کی علامت یہ ہے کہ مادی وجود کو خود مٹایا جائے

                          اقبال کے نزدیک خودی کی تربیت ضروری ہے نہ کہ مٹا دینا۔ اقبا ل نے بار بار کہا ہے کہ خودی عشق سے استوار ہوتی ہے۔ اور یہ عشق نہ تو وہ صوفیانہ عشق ہے جو خود کو فنا کرکے کمال حاصل کرتا ہے اور نہ وہ مجازی عشق جو معمولی آرزوں کے لیے تڑپنا ہے۔ اقبال کے نزدیک اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔

                          مرد خدا کا عمل ، عشق سے صاحب فروغ
                          عشق ہے اصل ِ حیات ، موت ہے اس پر حرام
                          عشق دمِ جبرئیل ، عشق دل ِ مصطفی
                          عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام
                          عشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوا
                          اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

                          ڈاکٹر سید عبداللہ ”طیف اقبال “ میں لکھتے ہیں۔

                          ” اقبال کے نزدیک عشق اورخودی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔ عشق پا لینے مسخر کرنے کی صلاحیت اور آرزو رکھتا ہے اور خودی کا خاصہ بھی یہی ہے کہ وہ غیر خودی کو مسخر کرنے یا پانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عشق کا خاصہ ہے۔۔۔۔۔ کہ اس کا یقین اٹل اور محکم ہوتا ہے اور خود ی بھی یقین محکم کے پہیوں پر چلتی ہے۔ عشق پریشانیوں ، رنگا رنگیوں اور بد نظمی میں ترتیب ِحیات کرتا ہے۔ خودی کا بھی یہ وصف ہے کہ تنظیم حیات کرتی ہے۔“

                          الغرض اقبال کے نزدیک خودی نہ صرف عشق سے استوار ہوئی ہے بلکہ عشق خودی کا دوسرا نام ہے مولانا عبدالسلام ندوی”اقبال ِ کامل “ میں لکھتے ہیں کہ ،
                          ”ڈاکٹر صاحب کے نزدیک عقل و عشق دونوں خودی کا جزو ترکیبی ہیں۔“
                          اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                          اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                          Comment


                          • #14
                            Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                            اقبال کا تصور عقل و عشق

                            عشق عربی زبان کا لفظ ہے محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے اور یہی محبت کسی درجے پر جا کر جنوں کہلاتی ہے۔ عشق کا محرک مجازی یا حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہ عشق نا ممکن کو ممکن بنا ڈالتا ہے ۔ کہیں فرہاد سے نہر کھد واتا ہے تو کہیں سوہنی کو کچے گھڑے پر تیرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبر کہلاتا ہے تو کوئی سیدنا بلال بنتا ہے۔ غرض ہر عشق کے مدارج مختلف ہیں۔ کوئی عشق مجازی میں ہی گھر کر رہ جاتا ہے۔ تو کوئی عشق ِ مجازی سے حقیقی تک رسائی حاصل کرکے حقیقی اعزازو شرف حاصل کرتا ہے۔

                            اقبال کے یہاں عشق اور ان کے مترادفات و لوازمات یعنی وجدان ، خود آگہی، باطنی شعور ، جذب ، جنون ، دل ، محبت ، شوق ، آرزو مندی ، درد ، سوز ، جستجو، مستی اور سرمستی کا ذکر جس تکرار، تواتر، انہماک سے ملتا ہے ۔اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کے تصورات میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک عطیہ الہٰی اور نعمت ازلی ہے۔ انسانوں میں پیغمبروں کا مرتبہ دوسروں سے اس لیے بلند تر ہے کہ ان کا سینہ محبت کی روشنی سے یکسر معمور اور ان کا دل بادہ عشق سے یکسر سرشار ہے۔محبت جسے بعض نے فطرت ِ انسانی کے لطیف ترین حسی پہلو کا نام دیا ہے۔ اور بعض نے روح ِ انسانی پر الہام و وجدان کی بارش یا نورِ معرفت سے تعبیر کیا ہے۔اس کے متعلق اقبال کیا کہتے ہیں اقبال ہی کی زبان سے سنتے چلیے ، یہ ان کی نظم ”محبت “ سے ماخوذ ہے۔

                            تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکیزگی پائی
                            حرارت لی نفس ہائے مسیح ِ ابن مریم سے
                            ذرا سی پھر ربو بیت سے شانِ بے نیازی لی
                            ملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر ِ شبنم سے
                            پھر ان اجزاءکو گھولا چشمہ حیوان کے پانی میں
                            مرکب نے محبت نام پایا عرشِ اعظم سے
                            اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                            اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                            Comment


                            • #15
                              Re: ~~~ Allama Iqbal ~~~

                              ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
                              اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
                              اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

                              Comment

                              Working...
                              X