ستارے بیخود و سرشار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
اندھیرے رُکشِ انوار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
مسائل زندگی کے جو کبھی سیدھے نہ ہوتے تھے
سراسر سہل اور ہمورا تھے ، کل شب جہاں میںتھا
اگرچہ محتسب بھی ان گنت تھے اس شبستان میں
مگر سب میکشوں کے یار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
جوانی محوِ آرائش تھی پوری خود نمائی سے
دو عالم آئنہ بردار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
گدازِ قربتِ اصنام سے دل پگھلے جاتے تھے
نفس صہبا ، بدن گلنار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
گماں ہوتا تھا شاید زندگی پھولوں کا گجرا ہے
گلوں کے اس قدر انبار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
عدم مت پوچھ کیا کیفیتیں تھیں ذہن پر طاری
نشاطِ روح کے معمار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
اندھیرے رُکشِ انوار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
مسائل زندگی کے جو کبھی سیدھے نہ ہوتے تھے
سراسر سہل اور ہمورا تھے ، کل شب جہاں میںتھا
اگرچہ محتسب بھی ان گنت تھے اس شبستان میں
مگر سب میکشوں کے یار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
جوانی محوِ آرائش تھی پوری خود نمائی سے
دو عالم آئنہ بردار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
گدازِ قربتِ اصنام سے دل پگھلے جاتے تھے
نفس صہبا ، بدن گلنار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
گماں ہوتا تھا شاید زندگی پھولوں کا گجرا ہے
گلوں کے اس قدر انبار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
عدم مت پوچھ کیا کیفیتیں تھیں ذہن پر طاری
نشاطِ روح کے معمار تھے ، کل شب جہاں میں تھا
Comment