Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Aihsaan Alli::::Mumtaz Mufti

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Aihsaan Alli::::Mumtaz Mufti

    احسان علي

    کيسي رنگيلي طبعيت تھي احسان علي کي، محلے ميں کون تھا جو ان کي باتوں سے محفوظ نہ ہوتا تھا، اگر وہ محلے کي ڈيورہي ميں جاپہنچے، جہاں بوڑھوں کي محفل لگي ہوتي تو کھانسي کے بجائے قہقہے گونجنے لگتے، چوگان ميں بيٹھي عورتوں کے پاس سے گزرے تو دبي دبي کھي کھي کا شور بلند ہوتا محلے کے کنويں کے پاس جا کر کھڑے ہوتے تو لڑکوں کے کھيل ميں نئي روح دور جاتي۔
    جوان لڑکياں انہيں ديکھ کر گھونگھٹ تلے آنکھوں ہي آنکھوں ميں مسکراتيں، اور پھر ايک طرف سے نکل جانے کي کوشش کرتيں، مٹيار عورتيں ديکھ پاتيں تو ان کے گالوں ميں گھڑے پڑجاتے خواہ مخواہ جي چاہتا کہ کوئي بات کريں، بوڑھي عورتین قہقہ مار کر ہنس پڑتيں مثلا اس روز احسان علي کو چوگان ميں کھڑا ديکھ کر ايک بولي، يہاں کھڑے ہو کر کسے تاڑ رہے ہو، احسان علي، يہ سامنے عورتوں کا جو جھرمٹ لگا ہے، نہ جانے کس محلے سے آئي ہيں، دوسري نے دور کھڑي عورتوں کي طرف اشارہ کيا، اے ہے اب تو اپنے حيمد کيلئے ديکھا کرو، بھابي کہنے لگي، اللہ رکھے جوان ہوگيا، اور تو کيا اپنے لئے ديکھ رہا ہوں، بھابھي احسان علي مسکرايا، اس بات پر ايک معني خيز طنزيہ قہقہ بلند ہوا، احسان علي ہنس کر بولا دنيا کسي صورت ميں راضي نہيں ہوتي ہے چاچي اپنے لئے ديکھو تو لوگ گھورتے ہيں، کسي کيلئے ديکھو تو طعنہ ديتے ہيں مذاق اڑاتے ہيں، جواب دينے ميں احسان علي کو کمال حاصل تھا، ايسا جواب ديتے کہ سن کر مزہ آجاتا، شادان نے يہ سن کر چاچي کو اشارہ کيا اور مصنوعي سنجيدگي سے کہنے لگي، چاہے اس عمر ميں اوروں کيلئے ديکھنا ہي رہ جاتا ہے، احسان علي نے آہ بھري بولے کاش تم ہي سمجھتيں شاداں، اتني عمر ہوچکي ہے چچا پر تمہيں سمجھ نہ آئي، شاداں مسکرائي ابھي ديکھنے کي حوس نہيں مٹي۔
    اچھا شاداں ايمان سے کہنا سنجيدگي سے بولے کبھي تمہیں ميلي آنکھ سے ديکھا ہے؟
    بائيں چچا شاداں ہونٹ پر انگلي رکھ کر بيٹھ گئي، ميں تو تمہاري بيٹي کي طرح ہوں، يہ بھي ٹھيک ہے وہ ہنسے جب جواني ڈھل گئي تو چچا جي سلام کہتي ہوں، ليکن جب جوان تھي توبہ جي پاس نہ بھٹکتي تھي کبھي کيوں بھابھي جھوٹ کہتا ہوں ميں؟ اس بات پر سب ہنس پڑے اور احسان علي وہاں سے سرک گئے، ان کے جانے کے بعد بھابھي نے کہا، تو بہ بہن شاداں نے مسکراتے ہوئے کہا ابکون سا حاجي بن گيا ہے، اب بھي تو عورت کو ديکھ کر منہ سے رال ٹپکٹتي ہے، ليکن شادان بھابھي نے کہا شاباش ہے اس کو کبھي محلے کي لڑکي کو ميلي آنکھ سے نہيں ديکھا، يہ تو ميں مانتي ہوں شاداں نے ان جانے ميں آہ بھري، يہ صفت بھي کسي کسي ميں ہوتي ہے، چاچي نے کہا، جب محلے واليوں کي يہ بات احسان علي نے پہلي بار سن پائي بولے اتنا بھروسہ بھي نہ کرو مجھ پر۔
    کيوں چاچي نےہنس کر کہا، يہ کيا جھوٹ ہے تمہاري يہ صفت واقعي خوب ہے تو منہ پر کہوں گي، احسان علي، لو چاچي يہ صفت نہ ہوتي ان ميں تو ہمارے محلے ميں رہنا مشکل ہو جاتا ہے، شاداں بولي۔
    جواں مٹياريں تو اب بھي پلا بجا کر نکلنے کي کوشش کرتيں، جب احسان علي جوان تھے، ان دونوں تو کسي عورت کا ان کے قريب سے گذرجانا بے حد مشکل تھا، خواہ مخواہ دل دکھ دکھ کرنے لگتا، ماتھے پر پسينہ آجاتا، دونوں ہاتھوں سے سينہ تھام ليتي، ہائے ميں مرگئي، يہ تو اپنا احسان علي ہے، ان دنوں بوڑھي عورتيں مخدوش نگاہوں سے گھورتي تھيں، محلے کے مرد تو اب ابھي انہيں ديکھ کر تيوري چڑھاليتے البتہ جب وہ کوئي دلچپ بات کرتے تو وہ ہنسنے لگتے، اور يوں ہمکال ہوتے ہيسے اپني فراحدلي کيوجہ سے ان کے گزشتہ گناہ معاف کردئيے ہوں، ليکن احسان علي کي غير حاضري ميں وہ اکثر کہا کرتے، بوڑھا ہوگيا ہے ، ليکن ابھي ہدايت نہيں ہدايت تو اللہ مياں کي طرف سے ہوتي ہے، جنہيں نہ ہو انہيں کبھي نہيں ہوتي، حرامکاري کي لت کبھي جاتي ہے بابا جي ہاں بھئ يہ تو سچ ہے، ديکھ لو اتني عمر ہوچکي ہے، باتوں ميں کوئي فرق نہيں آيا، وہي چھيرڑ کافي لا ہولا ولا قوتھ، بات بھي سچي تھي اگر چہ احسان علي پچاس سے زيادہ ہوچکے تھے، ليکن وہي منڈي داڑھي متبسم آنکھيں اور چھيڑنے والي باتيں، ان کي روح ويسے ہي جوان تھي بچوں کو گلي ڈنڈا کھيلتے ہوئے ديکھتے تو وہيں کھرے ہو کر واہ واہ کرنےلگتے کھلاڑي کو داد دينے لگتے يا امپائر بن کر کھڑے ہو جاتے، کڑکے انہيں کھيل ميں حصہ لينے پر مجبور کرتے، تالياں بجاتے شور مچاتے چچا جي ہمارے آڑي بنيں گے، نہيں ہمارے ايک ہنگامہ بپا ہوجاتا تھا، کھڑکيوں سے محلے والياں جھانکيں لگتين، لو ديکھ لو احسان علي گلي ڈنڈا کھيل رہے ہيں، چق کي اوت ميں سے آواز آتي ہے، بھائي جي کيا پھر سے جوان ہونے کا ارادہ ہے؟ سبز جنگلے سے شاداں سر نکالتي، ابھي تو اللہ رکھے پہلي جواني ختم نہيں ہوئي، شاہ نشين سے چاچي بولتي، توبہ شاداں تو بھي کس رخ سے چين لينے نہيں ديتي، شکر کر احسان کا دھيان کھيلوں سے ہٹا ہے، گلي ڈنڈا کھيلنے ميں کيا عيب ہے، مسجد سے آتا جاتا کوئي محلے دار نہيں ديکھ کر ہنستا، کب تک اس لڑکيوں کے کھيل ميں لگے رہے گے اب خدا کو بھي ياد کرو، احسان علي ہنس کر گنگناتے، وقت پيري گرگ ظالن ميشور پرہيزگار، دوسرا آکر کہتا ہے، دنياواري غلاظت سے اکتائے نہيں ابھي؟صوم صلوتھ کي پاکيزگي کو کيا جانو، احسان کہتے، بابا جي غلاظت کا احساس ہوتو پاکيزگي کي آرزو پيدا ہوتي ہے، تم ميں احساس نہيں کيا، بابا جي پوچھتے ہيں اور وہ جواب ديتے ہيں، احساس تو ہے پر غلاظت بھي ہو، اس بات پر کوئي لاحول پڑھ ديتا اور وہ ہنستے، لو بھائي جي ابن تو شيطان بھي آگيا اور وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔
    احسان علي کے آنے سے پہلے محلہ کيسا ويران دکھائي ديتا تھا، اگرچہ موسم سرما ميں دوپہر کے قريب محلے والياں چوگان ميں اکھٹي ہوکر ازار بند بناتي تھي، دوپہر کے قريب جب چوگان ميں دھوپ آتي تو چوکياں بجھ جاتيں مٹي کي ہنڈياں رکھ دي جاتين، جن تيلوں کے مٹھے بھرے ہوتے، بارہ بجے کھانے پينے سے فارغ ہو کر عورتيں وہاں جمع ہوجاتيں، ايک بجے تک اچھا خاصا ميلا لگ جاتا، عجيب آوازيں پيدا کرتے تتلياں ٹکراتيں ازار بند بنتے ہوئے کسي کي بات چھڑ جاتي گلے ہوتے شکايتيں ہوتيں، ايک دم دوسرے پر آواز کسے جاتے مگر قہقہت کي آواز نہ ہوتي، ادھر ڈيوڑھي ميں مسئلے مسائل بات گرم رہتي، شريعت کے احکام بار بار دہرائے جاتے، حديثوں کے حوالے دئيے جاتے، اوليا کرام کي حکايات سنائي جاتيں ہنگامہ تو مگر اس ميں مزاج کي شيرني نام کونہ ہوتي، عورتوں کے مسلسل جھگڑوں اور مردوں کي خشک بخشوں کي وجہ سے وہ مسلسل شور محلہ اور بھي ويران کرديتا، پھر احسان علي پينش لے کے محلے ميں آبے ان کے آنے کے بعد محلے کا رنگ بدل گيا، جب عورتيں ايک دوسرے کے گلے شکوے کرنے ميں مصروف ہوتيں تو احشسان علي نکل آتے اور آتے ہي ايس بات کرتے کہ سبھي ہنس پٹرتيں، اور محفل کا رنگ ہي بدل جاتا طعنے اور تمسخر کي جگہ ہنسي مذاق شروع ہوجاتے، آپس ميں جھگٹرتي عورتين ملکر احشان علي کے خلاف محاذ قايم کرليتيں اور محلے کے چوگان ميں قہقہے گونجتے لگتے محلے کے بزرگ خشک مسائل چھوڑ کر احسان علي کے چٹکلے سننے لگتے، بات بات پر لاحولا پڑھنے والے بڈھے لاحول پڑھنا بھول جاتے ليکن پھر بھي عادت سے مجبور ہر کر کوئي نہ کوئي لاحول پڑھ ديتا اس پر احسان علي کھلکھلکلا کر ہنس پٹرتے، بھائي جان کيا آپ کو بات بات پر لاحول پڑھنے کي ضرورت پٹرتي ہے ہم تو يہ جانتے ہيں کہ شيطان کا خطرہ لاحق نہ ہو لاحوال کا سہار لينے کي ضرورت نہيں پٹرتي، احسان علي کو لاحول سے چڑ تھي، ہاں تو واقعي احسان علي کے آنے پر محلے ميں ايک نئي روح دوڑ گئي تھي۔
    پھر ايک روز ايک انوکھا واقعہ ہوا، چوگان ميں عورتيں حسب معمول جمع تھيں، نئي روشني کے نوجوانوں کي بات چل رہي تھي شاداں نےدور سے احسان علي کو آتے ديکھ ليا، چاچي کو اشارہ کر کے باآواز بولي چچي خدا جھوٹ نہ بلائے آج کل تو چھوٹے چھوٹے لڑکے بھي چچا احسان علي بنے ہوئے ہيں راہ چلتي لڑکي کو تاڑتے ہيں،
    ہائے ہائے چاچي نے شاداں کا اشارہ سمجھنے بغير کہا تم تو خواہ مخواہ اس بے چارے، شاداں نے پھر سے اشارہ دہرايا، جسے ديکھ کر چچي کا غصہ مسکراہٹ ميں بدل گيا، آج کل کے مردوں کي کيا پوچھتي ہو چچي، شاداں نے پھر سے بات شروع کي بال کچھڑي ہوجاتے ہيں، پر عورتوں کو تاڑنے کي لت نہيں جاتي، ہاں شاداں چچي نے منہ بنا کر کہا، زمانہ ہي ايسا آيا ہے، اس کےبعد مجمے پر
    Mind Sciences

  • #2
    Re: Aihsaan Alli::::Mumtaz Mufti

    پر خاموشي چھا گئي، احسان کي بات سننے کي منتظر تھي اگر چہ وہ سب يوں بيٹھ گئيں تھيں جيسے انہيں احسان علي کے آنے کي خبر نہ ہو۔
    احسان علي آئے اور چپ چاپ ان کے پاس سے گزر گئے انہوں نے ان کو جاتے ہوئے ديکھا اور خيران ہوگئيں، اللہ خير کرے آج احسان علي کو کيا ہوا ہے، چاچي زير لب بولي، ميں تو آپ حيران ہوں، شاداں ہاتھ ملنے لگي اے ہے احسان علي اور چپ چاپ پاس سے گزر جائے، ميں کہتي ہوں ضرور کوئي بات ہے، بھابھي نے انگلي ہلاتے ہوئے کہا کہيں گھر سے لڑ کر تو نہيں آئے تھے شاداں نے پوچھا، لو چاچي نے ہونٹ پر انگلي رکھ کر کہا جس روز نواب بيوي سے لرا، اس روز تو اور بھي چمکا ہوا ہوتا ہے، کيوں بھابھي ياد ہے کل کيسے ہنس ہنس کر گھر کي لڑائي کي بات سنا رہا تھا، ہاں بھابھي مسکرائي جيسے لڑائي نہ ہوئي ہو تماشہ ہوا، اس کا کيا ہے چاچي بوليں، اس کيلئے تو ہر بات تماشہ ہے چاہے موت کي ہو يا بياہ کي، ہائے چاچي کيسي اچھي طبعيت ہے احسان علي کي کبھي ماتھے پر تيوري نہيں ديکھي ايمان سے رنگيلا ہے رنگيلا، پر ميں کہتي ہوں ضرور آج کوئي بات ہے، بھابھي ہونٹ پر ہاتھ رکھ کرسوچنے لگي، شاداں ازار بند لپيٹتے ہوئے بولي، چلو تو چل کر نواب بي بي سے پوچھيں، اے اہے دو جوڑے تو چڑھالينے دو بھابھي نے کہا، ہو نہ ہو دوجورے اتنا لوبھي کيا، اس نے اٹھ کر بھابھ کے ازار بند کو زبر دستي لپيٹ ديا، پہلے تو نواب سے ادھر ادھر کي باتيں کرتي رہيں، پھر چاچي نے بات چھيڑي کہنے لگي، احسان علي کو کيا ہوا ہے آج؟
    ابھي اچھے بھلے باہر گئے تھے، نواب بي بي بے جواب ديا، وہ تو ہم نے بھي ديکھا تھا اسے باہر جاتے ہوئے، بھابھي نے جواب ديا، ميں نےتو بلکہ انہيں چيڑنے کي خاطر کچھ کہا بھي تھا، شاداں بولي، ميں کہا چلو دو گھڑي کا مذاق ہي رہے گا، پر انہيں يوں چپ چاپ ديکھ کر ميں تو حيران رہ گئي، کہيں ميري بات کا برا تو نہ مان ليا، توبہ ميں بات کيوں کي، انہوں نے نواب بي بي نے کہا، برا ماننے والا نہيں وہ، کسي فکر ميں پڑا تھا جو يوں پاس سے گزر گيا، چاچي نے کہا، ہاں تو ٹھيک ہے، نواب بي بي نے کہا اپنے حيمد کا خط آيا ہے آج، لڑکے نے اپني شادي کے بارے ميں لکھا ہے، ہائيں ميں مرگئي شاداں چلائي، آپ اپني شادي کيلئے لکھا ہے کيا توبہ کيا زمانہ آيا ہے، اس ميں حرج کيا ہے، چاچي بولي، اللہ رکھے جوان لڑکا ہے، آپ کماتا ہے ، لکھ ديا تو کون سي قيامت آگئي، ميں جانوں احسان علي کو دير نہيں کرني چاہئے اس بات ميں انہوں نے انہيں خيال ہوتا اس بات کا تو يہاں تک نوبت نہ آتي ميں تو کب سے کہہ رہي تھي کہ لڑکے کو نامرد کردو ليکن ان کے اپنے چائو بھي ختم ہوں، اتني عمر ہوچکي ہے ليکن ابھي ہوس نہيں گئي۔۔۔نہ بہن چاچي بوليں مجھ سےتو آپ انہوں نے کئي بار کہا ہے چاچي چاچي جہاں لڑکا کہے گا اس کي شادي کرديں گے، اللہ اللہ خير سے سلا آج کل يہ لڑکے کي مرضي بغير نہيں ہوتے، بات بھي سچي ہے۔
    يہ بات ہے نواب بي بي تو اب کيوں سر پيٹ کر باہر نکل گيا، لڑکے نے اپني بيوي تلاش کرلي، تو۔۔۔۔۔اپني بيوي تلاش کر لي ہے؟ شاداؤ بولي، سچ بھابھي ران پر ہاتھ مار کر بولي، ہاں بھابھي نواب بي بي بولي، پہلے تو اس اسے اپني مرضي کي بيوي تلاش کرنے کي پٹي پڑھاتے رہے اور اب اس نے اپني بيوي کا چنائو کر ليا ہے تو مياں گرم ہو رہے ہيں، کون ہے وہ؟ چاچي نے پوچھا، مجھے کيا معلوم اسکول ميں استاني ہے لڑکے نے فوٹو بھيجي ہے اس کي، ہم بھي ديکھيں شادان نے منت کي، نواب بي بي اٹھ بيٹھي اور ميز کي دراز ميں سے فوٹو لے آئي، ہائے چاچي يہ توميم ہے ميم شاداں خوشي سے پھولي نہ سمائي اے ہے، چاچي بولي، ايسي ہي تو ہوتي ہيں يہ اسکول والياں، تو بہ کيسي بني ٹھيني ہتھيني ہے، بھابھي ہنسي۔
    کتني خوبصورت ہے شاداں بولي، احسان علي کو ايسي خوبصوعرت بہو کہاں سے مل سکتي تھي، عين اس وقت احسان علي آگئے شادان کي بات سن کر وہ گھبراگئے، ٹھٹھک کر کھڑے پھر کمرے سے باہر جانے لگے ليکن شاداں کب چھوڑنے والي تھي انہيں، مبارک ہو چچا وہ بولي نئي بہو مبارک ہو، محلے کي لڑکياں تو تمہيں پسند نہيں تھیں اللہ رکھے لڑکے نے يہ مشکل بھي آسان کردي، ايک ساعت کيلئے احسان علي کا منہ فق ہوگيا، ليکن جلدي وہ سنبھل کر غصے ميں بولے، وہ تو ہے بے وقوف، بے وقوف اتنا بھي نہيں سمجھتا خوبصورت لڑکيان ديکھنے کيلئے ہوتي ہيں، بہانے کيلئے نہيں، بھلا ديکھو تو اس لڑکي کا اس گھر ميں گزارا ہوسکتا ہے؟ کيوں اس کو کيا ہے، شاداں بولي ديکھو کتني خوبصورت ہے، يہي تو مصيبت ہے، وہ سر کھجاتے ہوئے بولے۔
    آپ جو ساري عمر خوبصورت لڑکيوں کے پيچھے پھرتے رہے ہو، احسان علي اب کيا لڑکے کا جي نہيں چاہتا، بھابھي بولي، پيچھے پيچھے پھرتا رہا ہوں نا، بياہ کر تو نہيں لايا ہوں کسي کو، يہ ديکھ لو، يہ حميد کي ماں بيٹھي ہے، وہ جوش ميں بولے ، ديکھ لو کيا ناک نقشہ ہے، کيوں نواب بي بي کو کيا ہے؟ چاچي ہنسي ميں کب کہتا ہوں کہ کچھ ہے اگر کچھ ہوتا تو کيا ميرے چولہے پر بيٹھ کر برتن مانجھتي رہتي؟
    آخر حميد کا بھي تو جي چاہتا ہے کہ خوبصورت لڑکي ہو، اس ميں حرج ہي کيا ہے،شاداں مسکرائي، ميں کب کہتا ہوں کہ جي نہ چاہے ليکن چاہئيے يہ تيترياں تو يارانہ لگانے کيلئے ہوتي ہيں، بيہانے کيلئے نہيں، ہائيں شاداں نے ناک پر انگلي رکھ لي، احسان علي تم نے تو حد کردي۔
    کوئي محلے کي باہ ليتا پھر چاہے جہاں مرضي ہوتي يارانے لگاتا پھرتا ،احسان علي اپني ہي دہن ميں کہے گئے، توبہ ميري احسان علي تم تو بات کہتے ہوئے کسي کا لحاظ نہيں کرتے، چاچي بوليں، لو اسے ديکھو ذرا، احسان علي پھر تصوير ان کے سامنے رکھ دي، يہ آنکھيں، راہ چلتے کو روکتي ہيں يا نہيں، توبہ آنکھيں بھر نہيں جاتا، اے ہے ديکھا کيوں نہيں جاتا بھلي اچھي تو ہے، شاداں مسکرائي، مرد کي آنکھ سے ديکھو تو معلوم ہونا، احسان علي ٹکٹکي باندھ کر اسے ديکھنے لگے، اپني بہو کے بارے ميں کہہ رہے ہو، چاچي ہنسي، بہو تو جب بے گي تب ديکھا جائے گا، چاچي ويسے بات کر رہا ہوں، آجر مجھے بھي تو اس گھر ميں رہنا ہے، وہ مسکرائے ، اس بات پر تو نواب بي بي کي بھي ہنسي نکل گئي بولي، ان کي تو عادت ہي ايسي ہے، جو منہ ميں آيا کہہ ديا۔
    ان کے جانے کے بعد احسان علي پھر اسي طرح گم سم ہوگئے حميد کي ماں نے کئي بار بات چھيڑنے کي کوشش کي ليکن وہ اپنے خيالات ميں گم تھے، دفعتا وہ اٹھ بيٹھے، حميد کي ماں مجھے آپ جا کر اس سے ملنا چاہئيے ايسا نہ ہو کہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے، سوٹکيس ميں دو جوڑے رکھ دے صبح کي پہلي گاڑي سے ہي چلا جائوں گا، حميد کے پاس پہنچ کر پہلے تو انہوں نے باتوں ہي باتوں ميں اسے سمجھانے کي کوشش کي، چٹکلے سنائے، اپنے تجربہ اور مشاہدہ کو پيش کرنے کيلئے آپ بيتياں بياں کيں، ليکن حميد نے کس بات کا جواب نہ ديا تو وہ دليلوں پر اتر آئے ليکن اس پر بھي حميد خاموش رہا تو انہوں نےاسے دھمکانا شروع کرديا، جلدي ہي دھمکيوں نے منتوں کي شکل اخيتار کرلي، اس پر حميد بولا، ابا جي ميں مجبور ہوں ميں نسرين سے بياہ کرنے پر مجبور ہوں، اس وقت احسان علي کو باتيں کرتے ہوئے ديکھ ايسا معول ہوتا تھا، جيسے کوئي ڈوبتا سہارا لينے کيلئے ہاتھ پائوں مار رہا ہو، دفعتا وہ پھر کلا ميں آگئے بولے، اچھا بے شک بياہ لائو اسے ليکن ہمار پاس کبھي نہ آئے گي کبھي نہيں، ہم اس سے کبھي نہيں مليں گے، اس پر حميد اٹھ بيٹھا بولا، آپ کي مرضي ليکن اس لڑکي کو بياہنے پر تم اس قدر مصر کيوں ہوں؟ انہوں نے پوچھا ميں مجبور ہو ابا جي حميد نے کہا، ہماري شادي ہوچکي ہے، ہوچکي ہے؟ وہ دھڑام سے صوفے پر گر پڑے، يہ حقيقت ہے ، ہميد نے سنجيدگي سے کہا، اس بات کو ايک ہفتہ ہوچکا ہے، ايک ہفتہ انہوں نے پيشاني سے پسينہ پونچھا، يہ بات ہےتو پھر جھگڑا ہي کيا، وہ ہنس پڑے ليکن ان کي ہنسي بے حد کھيساني تھي، حميداٹھ بيٹھا اور ساتھ والے دروازے پر کھٹکھٹانے لگا، ايں احسان علي نے حيراني سے اس طرف ديکھا تم تو کہتے تھے يہ کمرہ پڑوسيوں سے متعلق ہے اور کيا کہتا ہے ابا جي حميد مسکرايا اور پھر با آواز نسرين آجائو، ابا تم سے ملنا چاہتے ہيں، وہ احسان علي کے پائوں تلے سے زمين سرک گئي، تو يہ بات ہے۔
    نسرين بڑے پروقار انداز سے کمرے ميں داخل ہوئي، سلام عرض کرتي ہوں، سريلي آواز کمرے ميں گونجي دو ايک ساعت کيلئے وہ سامنے ٹنگي ہوئي تصوري کو گھورتے رہے، پھر دفعتا انہيں احساس ہوا کہ انہيں جواب ميں کچھ کہنا چاہئيے، بيٹھے تشريف رکھئے، وہ گھبرا کر بولے، انہوں نے محسوس کيا کہ وہ اسي صوفے کے دوسرے سرے پر بيٹھ گئي ہے، گھبرا کر اٹھ بيٹھے، اب کيا ہوسکتا ہے خير کوئي بات نہيں جو ہونا تھا ہو چکا، فضول، ہاں بھئي، حميد سے مخاطب ہوئے، تم انہيں محلے ميں لائونا، تمہيں وہاں آنا ہي پڑے گا، تمہاري ماں تمہاري راہ ديکھتي رہي ہے، سچ کيا واقعي آپ چاہتے ہيں کہ ہم گھر آئيں؟ اور تو کيا مذاق کررہا ہوں، تمہيں چھٹي ليتي چاہئيے، ہاں چھٹي تو ميں نے پہلے ہي لے رکھي تھي، حميد مسکرايا، تو پھر يہاں کيا کر رہے ہو، کيا حماقت ہے، انہوں نے مسکرانے کي کوشش کي، کل ہي پہنچ جائوں وہاں، اچھا تو اب ميں جاتا ہوں، نسرين کو ساتھ لانا، سمجھے؟
    جس وقت حميد اور نسرين محلے ميں داخل ہوئے وہ سب چوگان ميں تھيں، نسرين نے کالا ريشميں برقعہ اتار، ايک ساعت کيلے وہ جھجک گئيں، رسمي سلام ہوئے، دعائيں دي گئيں، سر پر ہاتھ پھيرے گئے، جب دلہن اپنے گھر چلي گئي تو نکتہ چيني ہونے لگي ايک بولي لے بہن دلہن کا ہمارے ساتھ کيا مي، شاداں بولي کيوں ہم کيا کم ہيں کسي سے، تيسري نے کہا منہ پر اللہ مارا پوڈر دو دو انگلي چڑھا ہوا ہے، چوتھي نے کہا ويسے تو چودويں کا چاند ہے، احسان علي کا گھر تو منور ہوگيا، ہاں بہن، شاداں نے آہ بھر کر کہا، اسے محلے والياں پسند نہ تھيں، شادان نے سر اٹھايا تو سامنے احسان علي کھڑے تھے، بھابھي بولي، سنا احسان علي شاداں کيا کہہ رہي ہے، لا حولا ولا قوتھ، احسان علي کے منہ سے، بے ساختہ نکل گيا، احسان علي کو اس کا احساس ہوا تو لگے سر کنے وہاں، شاداں نے بڑھ کر ہاتھ سے پکڑ ليا، بولي اب کہاں جاتے ہو ميں تو گن گن کر بدلے لونگي، چاچي ہنسي بولي کيسي مبارک دلہن آئي ہے احسان علي کے منہ سے عربي کے لفظ نکلے، پر چاچي شاداں چلائي، ان سے بھلا پوچھو تو آج لاحول پڑھنے کي کيا ضرورت پڑي ہے انہيں، ارے ہے شاداں بھابھي بولي کيا کہہ رہي ہے تو؟ ٹھيک کہہ رہي ہوں شاداں چمکي، اس روز ميں نے لا حول پڑھا تو احسان علي نے کس قدر شرمندہ کيا تھا، مجھے کہنے لگے لاحولا پڑھا جائے تو شيطان کچھ دور نہيں ہوتا۔۔۔اب تو اسے جانے بھيدے گي يا نہيں، چاچي چڑ کر کہنے لگي، گھر بہو آئي ہے اور تو نے اسے يہاں پکڑ رکھا ہے۔
    Mind Sciences

    Comment


    • #3
      Re: Aihsaan Alli::::Mumtaz Mufti

      اسي شام جب دلہن اپنے کمرے ميں چلے گئے تو شاداں نے حسب معمول از مذاق سے کہا، خير سے دلہن گھر ميں آئي ہے تمہيں تو شکرانہ کے نفل ادا کرنے چاہيئے احسان علي، جب کبھي شاداں انہيں مذاق ميں نفل يا نماز کيلئے کہتي تو احسان علي، جواب ميں کوئي نہ کوئي فقرہ چست کرديا کرتے ليکن اس روز بولے سچ اچھا شاداں تو بھي کيا کہے گي، کہ چچا نے ميري بات نہيں ماتي، آج تو تيري بات پوري نہيں کرتے ہيں يہ ، کہہ کر وہ حمام کے پاس جا بيٹھے اور وضو کرنے لگے، پہلے تو سمجھ رہي تھي کہ مذاق کر رہے ہيں، ليکن وہ جب جائے نمار پر کھڑے ہوگئے تو شاداں حيران ہوگئي، اگلے روز تمام محلے ميں بات مشہور ہوچکي تھي کہ احسان علي نے نفل پڑھے، سچ مچ بولي ، کيا واقعي، بھابھي نے دونوں ہاتھوں سے سينہ سنبھال ليا، نہيں نہيں ميں نہيں مانتي، تمہار قسم شاداں نے ہاتھ چلا کر کہا، مبارک قدم ہے دلہن کا چاچي بولي، احسان علي مچلے پر کھڑے ہوئے، محلے کي ڈيوڑھي تک بات پہنچي تو اس پر بحث ہونے لگي، اجي ہر بات کيلئے وقت مقرر ہے، ميں کہتا ہوں، شکر کرو کہ اس نٹ کھٹ نےسجدہ کيا، آخر کب تک نہ کرتا سجدہ، احسان علي کو آتے ديکھ کر ايک بولا، آخر آگئے نا راہ راست پر، ہاں بھئي اب تو چھپ چھپ کر نفل پڑھے جاتے ہيں، احسان علي کو تو کہا کرتا تھا کہ جب غلاظت کا احساس ہو تو ۔۔۔۔آگئے نا عورتوں کي باتوں ميں۔۔۔۔احسان علي ہنسنے کي کوشش کي کون ہے بابا جي عورت کي بات ميں نہيں آتا ہے سب مجھ سے ہيں ليکن، اس ميں کيا برا ہے، بابا جي نے کہا، ہميں تو بلکہ خوشي ہے کہ تم نے سجدہ کيا۔
      دو دن تو احسان علي کے گھر ہنگامہ رہا، عورتيں آتي جاتي رہيں محلے کے کين ميراثي ڈرم اور بھانڈ بدھائي دينے کيلئے آموجود ہوئے، پھر تيسرے دن جب انہيں فراغت ہوئي تو نواب بي بي نے کہا،اب کيا دلہن کيلئے چار ايک جوڑوں کا انتظام بھي نہ کروں گے، اور محلے والے انہيں وليمے کي دعوت ديني ہوگي، پہلے تو احسان علي شہر سے چيزيں خريدنےکيلئے تيار نہ تھے، پھر جب انہوں نے ديکھا کہ نواب بي بي کے ساتھ حميد جانے کو تيار ہے تو حميد کا جانا ٹھيک نہيں دلہا دلہن کو عليحدہ کرنا مناسب نہيں ہے، تو پھر ميرے ساتھ کون جائے گا، نواب بي بي نے چر کر پوچھا، تو ميں ہي چلا جاتا ہوں، وہ بولے اس پر حميد کہنے لگا، ميرے جانے ميں کيا حرج ہے ابا جي آپ جو گھر ہيں نسرين اکيلي تو نہ رہے گي احسان علي نے اصرار کيا تو وہ بولا آپ جا کر نہ جانے کيا کيا اٹھا لئيں گے، اوہ ہوں تو يہ بات ہے، احسان علي نے اطمينان کا سانس ليا، تو دلہن کو بھي ساتھ لے جائو، اس بات پر نوب بي بي چلائي اے ہے نئي دلہن کو ساتھ لئے پھريں گے لوگ کيا کہيں گے، احسان علي خاموش ہوگئے اور حميد اپني والدہ کو ساتھ لے کر دو روز کيلے شہر چلا گيا۔
      پہلے روز تو وہ باہر نکل گئے، چوگان ميں بيٹھي عورتوں کے ساتھ باتيں کرتے رہے پھر ڈيونڈ ميں جا بيٹھے، ليکن جلد ہي وہاں بھي دلہن اور ان کے نفلوں کي بات چھر گئي اور وہ بہانے بہانے وہاں سے سرک گئے بچوں نے انہيں گزرتے ہوئے ديکھا تو لگے شور مچانے، ايک ساعت کيلئے وہ حسب معمول وہاں کھڑے رہے پھر دفعتا کوئي خيال آيا، اس کھڑکي کي طرف ديکھا نسرين کے کمرے اس طرف کھلتي تھي ، اس خيال پر ہ پھر چوگان ميں آکھڑے ہوئے، چوگان ميں شاداں نے انہيں پکڑ ليا، اور لگي مذاق کرنے ليکن اس روز انہيں کوئيبات نہ سوجتي تھي، بار بار اوپر کھڑکي کي طرف ديکھتے اور پريشان ہوجاتے، شام کو جب وہ گھر پہنچے تو نسرين مسکراتي ہوئي انہيں ملي، رات کيلئے کيا بنائوں، جو تم چاہو، وہ گھبرا کر ادھر ادھر ديکھنے لگے، نسرين انہيں کي چار پائي پر بيٹھ گئي تو وہ گھبراکر اٹھ بيٹھے اور ان کي منہ سے بے ساختہ نکل گيا، نسرن چونک پڑي، کيا چاہئيے آپ کو؟ ميں تو بھول ہي گيا وہ اپني دھن ميں بولے کيا؟ نسرين نے پوچھا کچھ نہيں وہ بڑ بڑائے ميرا مطلب ہے انہيں خود سمجھ ميں نہ آتا تھا، کہ ان کا مطلب کيا ہے، ان کي گھبرائي ہوئي نظريں جائے نماز پر پڑيں، اطمينان کا سانس ليا، جيسے ڈوبتے ہوئے کو سہارا مل گيا ہو، ميرا مطلب ہے وہ بولے مغرب کي نماز کا وقت تو جارہا ہے، انہيں وضو کرتے ديکھ کر نسرين نے جائے نماز بچھا دي، اور آپ اس کے پاس ہي بيٹھ کر سوئيڑ بننے لگي، وضو سے فارغ ہو کر جائے نماز پر آکھڑے ہوئے ابھي نيت باندھنے ہي لگے تھے کہ پيچھے سے خوشبو کا ايک لپٹا آيا مڑ کر ديکھا تو نسرين کچھ بن رہي تھي، وہ پھر بڑ بڑانے لگے، ميرا مطلب ہے يعني ابھي وقت ہے کافي وقت ہے ابھي يہ پاس مسجد ہے، يہ کہہ کر انہوں نے جوتا پہنا اور پيشتر اس کے کہ نسرين کچھ کہے، باہر نکل گئے اس کے بعد انہيں پتہ نہيں کيا ہوا، وہ بھاگے بھاگے چوگان سے نکل گئے کھيلتے ہوئے بچوں کو ديکھے بغير آگے چلے گئے، ڈيوڑھي خالي پڑي تھي، وہاں انہيں ہوش آيا، سوچنے لگے پھر نہ جانے مسجد کے دروازے پر کيسے پہنچ گئے، دروازت ميں احسان علي کو ديکھ کر محلے والے ان کي طرف متوجہ ہوگئے، ايک بولا اس کي بھولا نہ جانئے جو صبح گيا گھر واپس آوے شام، دوسرا کہنے لگا آخر کبھي کبھي غلاضت کا احساس ہو ہي جاتا ہے، يہ سن کر معاوہ مڑے جيسے وہاں سے بھاگ جانا چاہئيے ، عين اسي وقت بابا جي آگئے، احسان علي کو پکڑ ليا، آکر واپس نہيں جايا کرتے احسان علي، انہيں گھيسٹ کر مسجد ميں لے گئے اس بات پر انہيں اطمينان ہوگيا بولے، يہ ديکھو ميں تو نہيں آيا مجھے لايا جارہا ہے، چلو يونہي سہي، بابا جي نے کہا تيرا بولا آخر کوئي نہ کوئي بہانہ وسيلہ بن ہي جاتا ہے، نہي بہو کے قدم کو دعا دو بيئ۔

      چوتھے نے کہا، ورنہ کہاں احسان علي کہاں مسجد، اگر مسجد کا امام وقت تنگ سمجھ کر کھڑا نہ ہوتا تو نہ جانے کيا کيا باتيں ہوتيں اس وقت۔
      رات کو کھانے کے بعد نسرين نے انہيں کے کمرے ميں اپنا بستر جماديا اور پھر آپ چار پائي پر بيٹھ کر اطميننان سے سوئيٹر بننے لگي، حقہ پتيے ہوئے وہ کچھ سوچنے کي کوشش کررہے تھے، ليکن بار بار نگائيں ادھر ادھر بھٹکنے لگتيں، شامنے فرش پر نسرين کي خوبصورت سرخ چپلي ان کي آنکھوں تلے ناچتي، کمرہ خوشبو سے بھرا ہوا تھا، اف وہ بار بار اپني ناک سکڑاتے کيس واہيات بو تھي، ہاں وہ ميري کتاب، وہ آپ ہي گنگناتے، کتاب؟ نسرين کي آواز کمرے ميں گونجي ميں ديتي ہوں آپ کي کتاب، نہيں نہيں وہ چلائے ميں خود لے لوں گا، وہ اٹھ بيٹھے ليکن نسرين پہلے ہي الماري تک جا پہنچي، لاحول والا قوتھ، بے اختيار ان کے منہ سے نکل گيا، دور ہي رک گئے جيسے آگے بڑھنے سے ڈرتے ہوں، وہ نيلي وہ بائيں، طرف والي وہ چلائے، وہاں رکھ دوں، انہوں نے دور سے چار پائي کي طرف اشارہ کيا وہاں، ان کي آنکھوں تلے کتاب کي لفظ ناچے لگے، حاشيہ سرک سرک کر دائيں سے بائيں طرف جا پہنچا اور پھر بائيں سے دائيں چلنا شروع کرديتا، لفظوں کي قطاريں لگتيں اور پھر دفعتا ايک جگہ ڈھير جوجاتيں دور محلے والياں ڈھولک بجا رہي تھي، سامنے نسرين کسي انداز ميں بيٹھي تھي، کيا واہيات طريقے سے بيٹھي تھي، انہوں نے سوچا کيا نمائشي انداز ہيں، اور پھر چونکے، کيا پھتے نائي کي ماں نہيں آئي، وہ گويا کتاب سے پوچھنے لگے، کوئي کام نے نسرين نے پوچھا، نہيں نہيں وہ گھبرا گئے ويسے وہ سونے کو تو آئے گي، اس کي کيا ضرورت ہے ، نسرين بولي۔
      ميں جو ہوں اور وہ ازر سر نو گھبراگئے ميں جوں ہوں ميں جو ہوں دور محلے ڈھولک کے ساتھ گارہي تھيں، وہ گيارہ بج گئے، انہوں نے گھڑي کي طرف ديکھا کر کہا، ابھي تو گيارہ ہي بجے ہيں، کمرے ميں چھوٹی سے بتي جل رہي تھي چاروں طرف عجيب سي بو پھيلي ہوئي تھي، دو چھوٹے دو چھوٹے پائوں رضائي سے باہر نکلے ہوئے تھے چيني چيني کسي نے تمسخر سے ان کے کام ميں کہا، سرہانے پر کالے بالوں کا ڈھير لگا تھا، سرہانے تلے پتلي تتلي انگلياں پڑيں تھيں، جن پر روغن چمک رہا تھا، فضول انہوں نے منہ بنايا، اٹھ بيٹھے اور باہر صحن ميں چاندني چھٹکي ہوئي تھي، دور محلے والياں گا رہي تھيں، بال گوري دے پيچھرے کالے، نہ جانے کيوں انہوں نے محسوس کيا جيسے ان کي زندگي کي تمام تر رنگيني ختم ہوچکي تھي، اندر آکر وہ سوچنے لگے، ہوں تو دو بجے ہيں، وقت گزررتا ہيں نہيں گھڑي چلانے لگي۔
      جائے نماز کو ديکھ کر انہوں نے اطمينان کا سانس ليا جو ہونا تھا ہوگيا، انہوں نے سوچا حميد نے کس قدر فحش غلطي کي ہے بے وقوف انہوں نے نسرين کي طرف ديکھ کر سوچا اور پھر ان جانے ميں جائے نماز پر کھڑے ہوگئے، اس وقت انہيں نماز گويا دہي نہ تھي ميرے اللہ ميرے دل سے آوازيں آرہي تھيں، جي چاہتا تھا، کہ چيخ چيخ کر روئيں، رکوع کے بغيروہ سجدہ ميں گر گئے، عين اس وقت شاداں چاچي کے ساتھ کوٹھے سے نيچے اتري، چپ شاداں زير لب بولي، وہ سوچ رہے ہونگے، آج توچچا احسان سے وہ مذاق کرکے رہوں گي، کہ ياد کريں گے، چاچي ہنس پڑي بولي، تجھے بھي تو ہر سمے شرارتيں ہي سوجھتي ہيں، اور وہ کيا لحاظ کرتے ہيں ميرا، شاداں نے کہا، ہائيں انہيں سجدے ميں ديکھ کر شاداں نے اپنا سينہ سنبھالا، ميں مر گئي يہاں تو تہجد ادا کي جارہي ہے، نہ جانے بہو نے کيا جادو کيا ہے، سچ چاچي ہونٹ پر انگلي رکھ لي، اور يہ ديکھ لو دلہن سو رہي ہے جيسے کچھ خبر ہي نہ ہو۔
      احسان علي چونک کر اٹھ بيٹھے ان کے گال آنسوئوں سے تر تھے ہاے ميرے اللہ شادان نے پھر اپنے آپ کو سنبھالا، احسان علي نے انہيں ديکھا تو دفعتا منہ ڈھيلا پڑ گيا، چہرے پر جھرياں چھاگئيں، جيسے ايک لخت وہ بوڑھے ہوگئے ہو، احسان علي شاداں نے چیخ سي ماري، احسان علي نے منہ پھيرا، ايک ہچکي نکل گئي اور وہ سجدے ميں گر پڑے، انہوں نے محسوس کيا گويا چيني کا نازک کھلونا ريزہ ريزہ ہو کر ڈھير ہوگيا ہو۔
      Mind Sciences

      Comment

      Working...
      X