Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Gender Issue In Friendship

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Re: Gender Issue In Friendship

    Originally posted by aabi2cool View Post

    :tasali:...na mera veer.......teddy
    شاہ حسین جیہناں سچ پچھاتا' کامل عِشق تیہناں دا جاتا

    Comment


    • Re: Gender Issue In Friendship

      Originally posted by aabi2cool View Post
      گی ۔ والسلام آپکا خیر اندیش
      khair andesh bhai....waily ho k parrhan gi..........:ANYWORD3
      شاہ حسین جیہناں سچ پچھاتا' کامل عِشق تیہناں دا جاتا

      Comment


      • Re: Gender Issue In Friendship

        Originally posted by saraah View Post
        :tasali:...na mera veer.......teddy
        :eye:
        Originally posted by saraah View Post
        khair andesh bhai....waily ho k parrhan gi..........:ANYWORD3
        hun e parh main aydi mehnaat nal likhia serf taray laiii
        ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

        Comment


        • Re: Gender Issue In Friendship

          Originally posted by aabi2cool View Post
          4 bajay kaam per jana hy abhi 12:15 huy hain :salam:
          yaani tere 12 wujj gaye :dance2:
          :thmbup:

          Comment


          • Re: Gender Issue In Friendship

            Originally posted by munda_sialkoty View Post
            yaani tere 12 wujj gaye :dance2:
            12:15 likh hy
            ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

            Comment


            • Re: Gender Issue In Friendship

              Originally posted by aabi2cool View Post
              اسلام علیکم آپ نے فرمایا کہ میرے خیالات میں کنفیوژن ہے درحقیقت آپکا ذہن اس مسئلے میں کنفیوژن کا شکار ہے اسکی اصل وجہ مطالعہ کی کمی ہے ۔دیکھیے میری عمومی عادت ہے کہ میں جب بھی کسی سوال کا جواب دیتا ہوں تو اس میں سوال کرنے والے کہ پیش نظر جو خاص مقصد ہوتا ہے اس کو بھی نظر میں رکھتا ہوں اور اس مقصد کو جاننے کہ لیے میں ہمیشہ سوال کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیتا ہوں اس کی ایک تازہ مثال سینوریتا کا محبت والا سوال تھا جب اس نے محبت کہ بارے میں سوال کیا کہ محبت کیا ہے اور کیا اطاعت محبت کا لازمی جز ہے تو میں اس کہ سوال کا مقصد اور پھر اسکہ نتیجے میں پیدا ہونے والے دیگر سوالوں سے بھی واقف ہوگیا لیکن آپ نے دیکھا ہوگا کہ زیادہ تر قارئین کی نظر فقط محبت تک محدود رہی کسی نے بھی اطاعت اور اسکے محبت کا لازمی جز ہونے کہ مقصد کو سوال میں نہیں سمجھا ۔ ۔ اسی لیے آپ نے دیکھا ہوگا کہ جس کسی نے بھی سینوریتا کہ سوال کا جواب دیا ان میں سے اکثریت نے تو اطاعت والے حصے کو چھوا تک نہیں بس فقط محبت کیا ہے اس پر حقیقی یا افسانوی طور پر سب نظر ڈالتے رہے لیکن جو جواب میں نے دیا اسکو جب آپ غور سے دیکھیں گی تو آپ پر یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ میں نے سینوریتا کہ سوال کہ اصل مقصد کو مد نظر رکھا اور ایک ایسا مختصر اور جامع جواب دے دیا تھا کہ اس کو مزید سوال کرنے کی گنجائش نہیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔اسی طرح یہاں بھی ہے جب سارا نے سوال کرنے سے پہلے مثال نقل کی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دوستی فقط دوستی ہوتی ہے لہذا وہ دوستی کرتے وقت جنس کو اہمیت نہیں دیتے تو میں نے سوال کرنے والے کہ مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے صاف صاف لکھ دیا کہ اگر وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں دوستی فقط دوستی ہوتی ہے اس میں مرد اور عورت کی کوئی قید نہیں اور ایسا کہتے ہوئے اگر ان کی مراد دین اسلام بھی ہے تو وہ بالکل غلط کہتے ہیں دین میں ایسی دوستی کی کوئی اجازت نہیں یہاں پر میں نے دین کہ نقطہ نظر کو دو ٹوک الفاظ میں بیان کردیا کہ جس پر دوسری کوئی راے نہیں ہوسکتی ۔ ۔ ۔ اور دوسری طرف میں نے یہ بھی صاف صاف بیان کردیا کہ اگر دوستی کو فقط دوستی کہ تناظر میں دیکھا جائے تو . . . دوستی کہ تناظر سے مراد نفس دوستی ہے یعنی یہ کہ دوستی کہ جو معنٰی ہیں انکہ تناظر میں . . . دوستی کہ معنٰی کیا ہیں تو عرض ہے کہ آپ دوستی کا کوئی ایک بھی معنٰی ایسا متعین نہیں کرسکتے کرسکتے کہ جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ دوستی کہ فلاں معنٰی فقط مرد سے مرد کی دوستی کہ لیے خاص ہیں ۔ ۔ اور جب میں نے یہ حقیقت بیان کی تو اس وقت میرے مد نظر دین نہیں کہ دین کا نقطہ نظر میں پہلے وضاحت اور صراحت کہ ساتھ پیش کرچکا تھا بلکہ نفس دوستی تھا کہ دوستی کہتے کسے ہیں ۔ ۔ ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم جنسی فرق کو بھی محض نامحرم کہ تناظر میں دیکھتے ہیں کیا دوستی کہ جو معنٰی ہیں وہ ایک بہن یا بھائی ، ماں یا بیٹے اور میاں یا بیوی پر صادق نہیں آتے کیا ایک ماں ،بیٹے بہن ،بھائی ۔ میاں یا بیوی کہ درمیان باوجود جنسی اختلاف کہ دوستی نہیں ہوسکتی آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا کہ میری اپنے بہنوں یا بھائیوں میں فلاں کہ ساتھ اچھی دوستی ہے یا میرے والدین نے مجھے ہمیشہ دوستوں کی طرح ٹریٹ کیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔


              اب آتا ہوں دین اسلام کی دین فطرت ہونے والی بحث کی طرف لیکن پہلے عرض یہ ہے کہ سوال یہ تھا کہ مرد اور عورت کی دوستی سے کیا فرق پڑتا ہے اور کیوں فرق پڑتا ہے ۔ تو اس کا جواب میں نے دے دیا تھا کہ مرد اور عورت(نامحرم) کی آپس میں دوستی اس لیے نہیں ہوسکتی کہ ہمیں ہمارے دین نے منع کیا ہے ۔ یہ تھا اس سوال کہ کیوں اور کیا کہ حصہ کا مختصر اور جامع جواب ۔۔۔ لیکن اب آپ نے فرمایا ہے کہ مجھے اس کیوں اور کیا کی دین اسلام کہ حوالے وضاحت بھی کرنی چاہیے اور ا س پر آپ نے دلیل کہ طور پر یہ فرمایا ہے کہ چونکہ اسلام ایک دین فطرت ہے اور اسلام نامحرم مرد اور عورت کی دوستی کو منع کرتا ہے اور اسلام نے جو اصول دیئے ہیں وہ فطرت کہ اصولوں کہ عین مطابق ہیں سو آپ کہ نزدیک یہ ثابت ہوا کہ فطرت میں بھی مرد اور عورت کی دوستی نہیں ہوسکتی ۔ درحقیقت یہاں آپ ایک سخت قسم کہ مغالطے کا شکار ہیں اور وہ مغالطہ یہ ہے کہ آپ دین اسلام کو جو فطرت کہ عین مطابق سمجھتی ہیں اس سے مراد آپ یہاں طبعی فطرت لے رہی ہیں جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے یہ ٹھیک ہے کہ دین اسلام میں فطرت کہ اصولوں کی رعایت رکھی گئی لیکن اس مراد کلی طور پر طبعی فطرت نہیں بلکہ انسان کی فطرت سلیمہ ہے اسکی ایک آسان مثال نقل کردوں کہ عورت اور مرد کہ درمیان میلان یعنی ایک دوسرے کی اٹریکشن فطرت کا تقاضا ہے یہ فطرتی قانون ہے کہ دونوں اجناس ایک دوسرے کی طرف مائل ہوتی ہیں اب اگر یہاں آپکی منطق کو لاگو کیا جائے تو چونکہ دین اسلام فطرتی دین ہے اس لیے پھر اسکو مرد اور عورت کہ آزادانہ اختلاط کو منع نہیں کرنا چاہیے لیکن آپ دیکھتی ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دین اسلام اس طبعی فطرت کہ خلاف ہم لوگوں کو آزادنہ میل ملاپ سے منع کرتا ہے اور وہ اس لیے منع کرتا ہے کہ مرد اور عورت کا طبعی میلان فطرت حقیقی تو ہے لیکن فطرت سلیمہ کہ خلاف ہے اور اسلام فطرت سلیمہ کا ہی دائی ہے ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ میں نے اپنے اولین رپلائی میں اسلامی نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے مرد کی مرد کہ ساتھ دوستی کو اسلامی نقطہ نگاہ سے حد اعتدال کی قید کہ ساتھ بیان کیا تھا اسکی بھی وجہ یہ تھی کہ فطرتا مرد کی مرد سے دوستی میں لوگوں کو کوئی قباحت نہیں نظر آتی مگر جب اسلام ایک مخصوص عمر کہ مرد کہ ساتھ دوستی میں جب قید لگاتا ہے تو اس کہ پیش نظر اس وقت وہی علت ہوتی ہے جو ایک مرد کی ایک عورت کہ ساتھ جنسی اختلاط کی وجہ بن کر انسانی فطرت سلیمہ کو متاثر کرسکتی ہے ۔ سو اسلام دین فطرت سلیمہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں چیزوں پر پابندی لگاتا ہے ۔ ۔ ۔۔ اور آخر میں مجھے تعجب ہے کہ آپ یہ تو مانتی ہیں کہ اسلام مرد اور عورت کی دوستی کو منع کرتا ہے مگر دوسری طرف بقول رینیا آصف آپ کو اس بات پر اصرار ہے کہ مرد اور عورت دونوں اچھے کولیگ تو ہوسکتے ہیں مگر اچھے دوست نہیں ۔۔ ۔۔ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ آپ نے جو اسلام میں اس چیز کی اجازت دی وہ کس دلیل کہ تحت دی اور اگرآپ تمام اسلامی حدود و قیود کہ اندر رہتے ہوئے عورت اور مرد کو ایک اچھا کولیگ ثابت کرنا چاہتی ہیں تو پھر ایسا دوستی کہ معاملے میں کیوں نہیں یہ میرے سوال ہیں آپ سے امید ہے آپ جواب مرحمت فرمائیں گی ۔ والسلام آپکا خیر اندیش
              aap nay bahut umday tareekay se bataya hai............... :salam:
              :alhamd::SubhanAllhaa::alhamd::jazak::insha:

              Comment


              • Re: Gender Issue In Friendship

                Originally posted by rehman View Post
                aap nay bahut umday tareekay se bataya hai............... :salam:
                shukriya k aap ko baat samjh main aagi :salam:
                ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

                Comment


                • Re: Gender Issue In Friendship

                  Originally posted by aabi2cool View Post
                  :eye:

                  hun e parh main aydi mehnaat nal likhia serf taray laiii
                  aabi bhai aap esay b kr lete ho............372-haha

                  achaa parrh loon gi na..........:yy:
                  شاہ حسین جیہناں سچ پچھاتا' کامل عِشق تیہناں دا جاتا

                  Comment


                  • Re: Gender Issue In Friendship

                    Originally posted by aabi2cool View Post
                    ...
                    Pehley mey aik cheez clear ker dun.
                    Mey ney ye nahi kaha tha key aap key khayalaat mey confusion hai, mey ney sirf ye kaha tha key aap ka reply thora sa confusing hai. Wo iss liye aap ney tab explain nahi kiya tha agar aap tabhi apni baat ko tasfeel sey bata detey atleast aik aik misaal dey ker khair ab mujhey samaj aa gaya hai sarah ka Q aur aap ka jawab bhi. Aap agar meyra pehla reply deykhein tau uss mey ney sirf yahi kaha hai key Islam ney hamein limits bata di hein tau phir iss pey argue nahi ker saktey hein. Aur jab mey ney aap ka reply perha tau phir mey ney iss point ko phir sey socha like apney gird-o-nawah mey dekha then I realised key haan merey bhi tau uni. fellows hein jin key sath ham projects pey kaam kertey hein, group studies kertey hein, at times lunch bhi ikhatta kertey hein aur work place mey bhi aeysa hota hia. Iss sab ko zehan mey rakhtey huye I thought key okay if we are in certain boundries so it means that we could be good colleagues, but NOT FRIENDS
                    " Obstacles are what you see when you take your eyes off your goals "

                    Comment


                    • Re: Gender Issue In Friendship

                      Originally posted by Xai View Post
                      Pehley mey aik cheez clear ker dun.
                      Mey ney ye nahi kaha tha key aap key khayalaat mey confusion hai, mey ney sirf ye kaha tha key aap ka reply thora sa confusing hai. Wo iss liye aap ney tab explain nahi kiya tha agar aap tabhi apni baat ko tasfeel sey bata detey atleast aik aik misaal dey ker khair ab mujhey samaj aa gaya hai sarah ka Q aur aap ka jawab bhi. Aap agar meyra pehla reply deykhein tau uss mey ney sirf yahi kaha hai key Islam ney hamein limits bata di hein tau phir iss pey argue nahi ker saktey hein. Aur jab mey ney aap ka reply perha tau phir mey ney iss point ko phir sey socha like apney gird-o-nawah mey dekha then I realised key haan merey bhi tau uni. fellows hein jin key sath ham projects pey kaam kertey hein, group studies kertey hein, at times lunch bhi ikhatta kertey hein aur work place mey bhi aeysa hota hia. Iss sab ko zehan mey rakhtey huye I thought key okay if we are in certain boundries so it means that we could be good colleagues, but NOT FRIENDS
                      پہلے میں آپکی ہمت کو سلام پیش کرلوں :salam: کہیں تھک نہ گئیں ہوں آپ اتنا لکھ لکھ کہ :tasali:۔ اس کہ بعد مجھے شدید حیرت کہ آپ مجھ سے یہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے پہلے سے ہی تفصیلا اور مثال دے کر بات کو سمجھانا چاہیے تھا یہ آپ کہہ رہی ہیں حالانکہ آپ خود ہر بات کو دو حرفی میں کرنے کی عادی ہیں اور اس دو حرفی کو آپ ٹو دی پوائنٹ بات کرنا سمجھتی ہیں ۔ ۔۔ خیر یہ ایک الگ ٹاپک ہے بحرحال میں زیادہ بحث کو طول نہیں دینا چاہتا کہ آپ کہ اچھے کولیگ ہونے والی بات کا آپریشن کرکہ یہ ثابت کروں کہ آپ کہ الفاظ سے کیا ثابت ہے لہزا اس بارے میں آپ ہی کہ بیان کو معتبر سمجھتا ہوں ۔لیکن اتنا عرض کرتا چلوں کہ ہم نے پہلے بھی بات کو واضح کرکہ ہی لکھا تھا کہ اسلام کی رو سے لڑکے اور لڑکی کی دوستی جائز نہیں ۔ ۔۔ اور اگر اسلام سے ہٹ کر فقط دوستی کو دوستی کہ تناظر میں دیکھا جائے تو فقط جنسوں کا اختلاف امر دوستی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ۔ ۔ ۔ اور سمجھنے والے سمجھ گئے تھے مگر آپ کو شاید اسلام کہ دین فطرت ہونے والی بات جو کہ *آپ نے سن رکھی تھی اس سے یہ مغالطہ لگا کہ شاید ہم فطرت کہ اصولوں کہ تحت بات کررہے ہیں اور اسلام بھی دین فطرت ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ایک چیز کو فطرتا جائز کہیں اور اسلام جو کہ دین فطرت ہے وہ اسکی مخالفت کرتا ہو ۔ ۔ ۔۔خیر اب آپ کا مغالطہ دور ہوگیا ہمارے لیے یہی بڑی بات ہے امید کرتا ہون ہماری بحث آپکہ اور ہمارے علم میں مثبت اضافے کا باعث بنی ہوگی والسلام آپ کاخیر اندیش
                      ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

                      Comment


                      • Re: Gender Issue In Friendship

                        Originally posted by aabi2cool View Post
                        پہلے میں آپکی ہمت کو سلام پیش کرلوں :salam: کہیں تھک نہ گئیں ہوں آپ اتنا لکھ لکھ کہ :tasali:۔ اس کہ بعد مجھے شدید حیرت کہ آپ مجھ سے یہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے پہلے سے ہی تفصیلا اور مثال دے کر بات کو سمجھانا چاہیے تھا یہ آپ کہہ رہی ہیں حالانکہ آپ خود ہر بات کو دو حرفی میں کرنے کی عادی ہیں اور اس دو حرفی کو آپ ٹو دی پوائنٹ بات کرنا سمجھتی ہیں ۔ ۔۔ خیر یہ ایک الگ ٹاپک ہے بحرحال میں زیادہ بحث کو طول نہیں دینا چاہتا کہ آپ کہ اچھے کولیگ ہونے والی بات کا آپریشن کرکہ یہ ثابت کروں کہ آپ کہ الفاظ سے کیا ثابت ہے لہزا اس بارے میں آپ ہی کہ بیان کو معتبر سمجھتا ہوں ۔لیکن اتنا عرض کرتا چلوں کہ ہم نے پہلے بھی بات کو واضح کرکہ ہی لکھا تھا کہ اسلام کی رو سے لڑکے اور لڑکی کی دوستی جائز نہیں ۔ ۔۔ اور اگر اسلام سے ہٹ کر فقط دوستی کو دوستی کہ تناظر میں دیکھا جائے تو فقط جنسوں کا اختلاف امر دوستی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ۔ ۔ ۔ اور سمجھنے والے سمجھ گئے تھے مگر آپ کو شاید اسلام کہ دین فطرت ہونے والی بات جو کہ *آپ نے سن رکھی تھی اس سے یہ مغالطہ لگا کہ شاید ہم فطرت کہ اصولوں کہ تحت بات کررہے ہیں اور اسلام بھی دین فطرت ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم ایک چیز کو فطرتا جائز کہیں اور اسلام جو کہ دین فطرت ہے وہ اسکی مخالفت کرتا ہو ۔ ۔ ۔۔خیر اب آپ کا مغالطہ دور ہوگیا ہمارے لیے یہی بڑی بات ہے امید کرتا ہون ہماری بحث آپکہ اور ہمارے علم میں مثبت اضافے کا باعث بنی ہوگی والسلام آپ کاخیر اندیش
                        " Obstacles are what you see when you take your eyes off your goals "

                        Comment


                        • Re: Gender Issue In Friendship

                          Acha ab to main jaraha hon kal sara din naheen aon ga kaheen jana hy shayed kal raat ko aa sakon til then ALLAH hafiz :salam:
                          ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

                          Comment


                          • Re: Gender Issue In Friendship

                            Originally posted by aabi2cool View Post



                            اب آتا ہوں دین اسلام کی دین فطرت ہونے والی بحث کی طرف لیکن پہلے عرض یہ ہے کہ سوال یہ تھا کہ مرد اور عورت کی دوستی سے کیا فرق پڑتا ہے اور کیوں فرق پڑتا ہے ۔ تو اس کا جواب میں نے دے دیا تھا کہ مرد اور عورت(نامحرم) کی آپس میں دوستی اس لیے نہیں ہوسکتی کہ ہمیں ہمارے دین نے منع کیا ہے ۔ یہ تھا اس سوال کہ کیوں اور کیا کہ حصہ کا مختصر اور جامع جواب ۔۔۔ لیکن اب آپ نے فرمایا ہے کہ مجھے اس کیوں اور کیا کی دین اسلام کہ حوالے وضاحت بھی کرنی چاہیے اور ا س پر آپ نے دلیل کہ طور پر یہ فرمایا ہے کہ چونکہ اسلام ایک دین فطرت ہے اور اسلام نامحرم مرد اور عورت کی دوستی کو منع کرتا ہے اور اسلام نے جو اصول دیئے ہیں وہ فطرت کہ اصولوں کہ عین مطابق ہیں سو آپ کہ نزدیک یہ ثابت ہوا کہ فطرت میں بھی مرد اور عورت کی دوستی نہیں ہوسکتی ۔ درحقیقت یہاں آپ ایک سخت قسم کہ مغالطے کا شکار ہیں اور وہ مغالطہ یہ ہے کہ آپ دین اسلام کو جو فطرت کہ عین مطابق سمجھتی ہیں اس سے مراد آپ یہاں طبعی فطرت لے رہی ہیں جب کہ ایسا ہرگز نہیں ہے یہ ٹھیک ہے کہ دین اسلام میں فطرت کہ اصولوں کی رعایت رکھی گئی لیکن اس مراد کلی طور پر طبعی فطرت نہیں بلکہ انسان کی فطرت سلیمہ ہے اسکی ایک آسان مثال نقل کردوں کہ عورت اور مرد کہ درمیان میلان یعنی ایک دوسرے کی اٹریکشن فطرت کا تقاضا ہے یہ فطرتی قانون ہے کہ دونوں اجناس ایک دوسرے کی طرف مائل ہوتی ہیں اب اگر یہاں آپکی منطق کو لاگو کیا جائے تو چونکہ دین اسلام فطرتی دین ہے اس لیے پھر اسکو مرد اور عورت کہ آزادانہ اختلاط کو منع نہیں کرنا چاہیے لیکن آپ دیکھتی ہیں کہ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دین اسلام اس طبعی فطرت کہ خلاف ہم لوگوں کو آزادنہ میل ملاپ سے منع کرتا ہے اور وہ اس لیے منع کرتا ہے کہ مرد اور عورت کا طبعی میلان فطرت حقیقی تو ہے لیکن فطرت سلیمہ کہ خلاف ہے اور اسلام فطرت سلیمہ کا ہی دائی ہے ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ میں نے اپنے اولین رپلائی میں اسلامی نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے مرد کی مرد کہ ساتھ دوستی کو اسلامی نقطہ نگاہ سے حد اعتدال کی قید کہ ساتھ بیان کیا تھا اسکی بھی وجہ یہ تھی کہ فطرتا مرد کی مرد سے دوستی میں لوگوں کو کوئی قباحت نہیں نظر آتی مگر جب اسلام ایک مخصوص عمر کہ مرد کہ ساتھ دوستی میں جب قید لگاتا ہے تو اس کہ پیش نظر اس وقت وہی علت ہوتی ہے جو ایک مرد کی ایک عورت کہ ساتھ جنسی اختلاط کی وجہ بن کر انسانی فطرت سلیمہ کو متاثر کرسکتی ہے ۔ سو اسلام دین فطرت سلیمہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں چیزوں پر پابندی لگاتا ہے ۔ ۔ ۔۔ اور آخر میں مجھے تعجب ہے کہ آپ یہ تو مانتی ہیں کہ اسلام مرد اور عورت کی دوستی کو منع کرتا ہے مگر دوسری طرف بقول رینیا آصف آپ کو اس بات پر اصرار ہے کہ مرد اور عورت دونوں اچھے کولیگ تو ہوسکتے ہیں مگر اچھے دوست نہیں ۔۔ ۔۔ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ آپ نے جو اسلام میں اس چیز کی اجازت دی وہ کس دلیل کہ تحت دی اور اگرآپ تمام اسلامی حدود و قیود کہ اندر رہتے ہوئے عورت اور مرد کو ایک اچھا کولیگ ثابت کرنا چاہتی ہیں تو پھر ایسا دوستی کہ معاملے میں کیوں نہیں یہ میرے سوال ہیں آپ سے امید ہے آپ جواب مرحمت فرمائیں گی ۔ والسلام آپکا خیر اندیش
                            Boht khoob! Bohut mudallil jawab dia hai aap nay..abbhi bahi..:thmbup:

                            Yahan main thora sa ye add kerna chahoon ga..k jisaa k islam fitrate-saleema ka dae hai..tu ye haqeeqat main insaaf aur adal ka aain mutabiq hai..iss k misaal hum iss terhan day saktay hain...k ager koi na mehram mard ya aurat apas main freindship kertay hain..tu woh jo bhi kertay hain iss ku sahi ya jaiz samjh k hi kertay hain..laykin jab uss mard ki wife, behan or mother kisse say freindship kertee hai..tu mard uss ku bardasht nahi kerta..aur issee terhan aurat apnay husband, father or bhai ki kissay say freindship hargiz nahi bardasht kartee.

                            Lihaza islam tabai ftirat ki had tak tu na mehram aurat aur mard k milan ku jaiz qarar deta hai (jisaa k shadi say pehlay larki ya larkay ku dekh lena ya pasand kerna) ..lykin fitrat-e-saleema k mutabiq iss baat k ijaazat nahi deta k na mehram aurat ya mard main dostee honee chahye.

                            Waslam!


                            Allah-o-Akbar Kabeera, Wal Hamdulillaah-e-Kaseera, Subhan Allah-e-Bukratan-wa-Aseela

                            Comment


                            • Re: Gender Issue In Friendship

                              good points

                              Comment


                              • Re: Gender Issue In Friendship

                                Originally posted by senorita View Post
                                good points
                                WAQAI RITA GOOD POINTS HAIN......:D:
                                AUR MERA DIL CHAH RAHA HAI K ME IN PE MAZEED DISCUSSION KROON......:mm:

                                HMMM....KRTAY HAIN KUCH.....
                                شاہ حسین جیہناں سچ پچھاتا' کامل عِشق تیہناں دا جاتا

                                Comment

                                Working...
                                X