Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

انسانی شناخت کا ایڈوانس سرویلینس سسٹم

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • انسانی شناخت کا ایڈوانس سرویلینس سسٹم


    دنیا کی بدلتی صورتحال کے سبب سیکیورٹی کے حوالے سے بہت زیادہ نئی مصنوعات اور ایجادات سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی حوالے سے
    CeBit 2010
    میں لوگوں کی شناخت کے لئے ایک انتہائی جدید 'ایڈوانس سرویلینس نظام' متعارف کرایا گیا۔


    لوگوں کی شناخت کے لئے یہ جدید کمپیوٹر پروگرام ایک آسٹریلوی کمپنی
    NICTA
    کی جانب سے متعارف کرایا گیا، جسے ایڈوانس سرویلینس سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔
    اس نظام کے بارے میں
    NICTA
    کمپنی کے مینیجر برائے آئی پی رائٹس پال ہوف نے بتایا :"یہ دراصل چہرہ پہچاننے کا نظام ہے، جو کیمرے کے ذریعے حاصل کردہ کسی بھی تصویرکا ڈیٹا بیس میں موجود تصاویر سے موازنہ کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کیمرے کے ذریعے حاصل کردہ جو بھی چہرے اسکرین پرنظرآرہے ہیں ان کے گرد ایک باکس بن جاتا ہے اوراس کے نیچے ڈیٹا بیس میں موجود کسی شکل سے اس کی مشابہت کی تفصیلات لکھی آرہی ہیں۔"
    اس مقصد کے لئے کمپیوٹراسکرین کے اوپرایک ویڈیو کیمرہ نصب تھا، جو سامنے آنے والے افراد کی ویڈیو کو ایک کمپیوٹر پر منتقل کررہا تھا۔ اگراس فرد کا نام ڈیٹا بیس میں موجود ہوتا تو باکس کے نیچے اس کا نام لکھا آجاتا ہے ورنہ نام کی جگہ
    Unknown
    یعنی نامعلوم لکھا آجاتا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اگر کوئی شخص اپنا نام بتاتا تو اسے فوری طور تصویر کے ساتھ درج کردیا جاتا اور پھر وہ شکل اور نام ڈیٹا بیس کا حصہ بن جاتا۔ اس کے بعد جب بھی وہ شخص دوبارہ اسکرین پر نمودار ہوتا بھلے کتنے ہی مجمے میں کیوں نہ ہو اسکے چہرے کے گرد بنے باکس کے نیچے اس کا نام درج ہوتا۔ اس کمپیوٹر پروگرام کا ایک اور دلچسپ فیچر یہ ہے کہ کوئی ایسا چہرہ جس کے بارے میں تفیصلات ڈیٹا بیس میں موجود نہ ہوں مگراس کی مشابہت کسی دوسرے فرد سے ہوتو کمپیوٹر اسکرین پر لکھا آجاتا ہے کہ وہ چہرہ کسی خاص فرد سے کس حد تک مشابہت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک صاحب کیمرے کے سامنے آئے تو دلچسپ طور پر ان کی چہرے کے نیچے درج تفصیلات سے پتا چلا کہ وہ سابق جرمن چانسلر ہیلمٹ کوہل سے 60 فیصد مشابہت رکھتے ہیں اور یہ بالکل درست تھا کیونکہ وہ کچھ ویسے ہی دکھائی دیتے تھے۔

    اس کمپیوٹر سوفٹ ویئر کے ممکنہ استعمال کے بارے میں نکٹا کمپنی کے پال ہوف نے کچھ یوں بتایا: " اس کا کام کسی چہرے کو دیکھ کر اس فرد کی شناخت کرنا ہے، لہذا اگرآپ نے کچھ ایسے لوگوں کی فہرست بنا رکھی ہو، جن کے بارے میں آپ چاہتے ہوں کہ وہ کسی خاص علاقے میں داخل نہ ہوں، تو آپ اس نظام کوایک الارم کے ساتھ منسلک کرسکتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی ایسا فرد اس کے سامنے آئے گا تو خودکار طریقے سے الارم بج اٹھے گا۔ دوسری طرف اس کا ایک اوراستعمال بھی ہوسکتا ہے جیسے کچھ بڑے ہوٹل ہم سے رابطے میں ہیں اور جو اس نظام کو اپنے اہم مہمانوں کو پہچاننے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر جیسے ہی کوئی مہمان دروازے پر نمودار ہوگا تو مہماندار فورا اسے نام سے مخاطب کرکے اسے خوش آمدید کہے گا جس سے ظاہر ہے کہ مہمان خود کو بہت اہم اور اچھا محسوس کرے گا۔"

    پال ہوف نے اس کمپیوٹر پروگرام کا ایک اور ممکنہ استعمال پولیس کی جانب سے تفتیش کے لئے بھی بتایا۔ مثلا کہیں کوئی فرد جرم کرتا ہے اور کسی ذریعے سے اس کی تصویر حاصل کرلی جاتی ہے تو اس نظام کے ذریعے پہلے سے موجود مجرموں یا مشتبہ افراد کی لسٹ میں سے اسے فوری طور پر تلاش کیا جاسکتا ہے۔"

    ایڈوانس سرویلنس نظام کی ایک بہت ہی خاص بات یہ ہے کہ یہ بیس لاکھ افراد کی ڈیٹا بیس میں موجود کسی بھی شکل کو پہچاننے یا اس کی مشابہت تلاش کرنے کے لئے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لیتا ہے۔

    چونکہ کسی بھی فرد کی ڈیٹا بیس میں تلاش کے لئے تصویر یا ویڈیو کا ہونا ضروری ہے، تو اس کے لئے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس تصویر یا ویڈیو کی کوالٹی کیسی ہونی چاہیے کہ یہ نظام بالکل درست طور پر کام کرسکے؟ یہی سوال جب ہم نے پال ہوف کے سامنے رکھا تو انہوں نے بتایا، " اس سے قبل جو اس طرح کے نظام تھے ان کے لئے بہت بہتر کوالٹی یعنی ہائی ریزولیوشن کی تصاویر یا وڈیو کا ہونا ضروریتھا مگر ہمارا یہ جدید نظام بہت ہی کم روزولیوشن کی تصاویراوروڈیو کی صورت میں بھی بالکل درست نتائج دیتا ہے۔
    u can't gain RESPECT by choice nor by requesting it... it is earned through your words & actions."

    :pr:

  • #2
    Re: انسانی شناخت کا ایڈوانس سرویلینس سسٹم

    good system
    "Can you imagine what I would do if I could do all I can? "

    Comment

    Working...
    X