آنکھ جھپکنے سے دماغ بند
انسان ایک منٹ میں دس پندرہ بار آنکھ جھپکتا ہے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آنکھ جھپکتے وقت دماغ کے کچھ حِصے کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا تعلق یونیورسٹی کالج لندن سے ہے۔
کرنٹ بیالوجی(Current Biology) میں لکھتے ہوئے ان سائنسدانوں نے کہا ہے کہ آنکھ میں روشنی داخل ہونے کی صورت میں بھی پلک جھپکنے پر دماغ کے حصے کام بند کر دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ انسان پلک جھپکنے کو کبھی اس طرح محسوس نہیں کرتا کہ اسے دیکھنے میں وقفہ محسوس ہو۔
آنک جپھکنے کے وقت نہ تو روشنی ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ دکھائی دیتا ہے لیکن ہمیں اندھیرے کا احساس نہیں ہوتا۔
سائنسدان معلوم کرنا چاہتے تھے کہ انسان بار بار آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانے سے پریشان کیوں نہیں ہوتا۔
انسان ایک منٹ میں دس پندرہ بار آنکھ جھپکتا ہے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آنکھ جھپکتے وقت دماغ کے کچھ حِصے کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔ تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا تعلق یونیورسٹی کالج لندن سے ہے۔
کرنٹ بیالوجی(Current Biology) میں لکھتے ہوئے ان سائنسدانوں نے کہا ہے کہ آنکھ میں روشنی داخل ہونے کی صورت میں بھی پلک جھپکنے پر دماغ کے حصے کام بند کر دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ انسان پلک جھپکنے کو کبھی اس طرح محسوس نہیں کرتا کہ اسے دیکھنے میں وقفہ محسوس ہو۔
آنک جپھکنے کے وقت نہ تو روشنی ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ دکھائی دیتا ہے لیکن ہمیں اندھیرے کا احساس نہیں ہوتا۔
سائنسدان معلوم کرنا چاہتے تھے کہ انسان بار بار آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانے سے پریشان کیوں نہیں ہوتا۔
Comment