Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

عورت پنجرے کی قیدی بھی نہیں اور نمائش کی چیز بھی نہیں

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • عورت پنجرے کی قیدی بھی نہیں اور نمائش کی چیز بھی نہیں

    عورت پنجرے کی قیدی بھی نہیں اور نمائش کی چیز بھی نہیں

    ازافادات:امیر محمد اکرم اعوان مد ظلہ العالی

    ترتیب : خالد حیات اویسی اٹک

    رب جلیل نے عورت اور مرد کے فرائض کو یوں تقسیم کیا ہے جیسے کوئی شخص بہت خوبصورت باغ لگانا چاہے اوراسے وہاں دو طرح کے مزدور چاہیں۔ ایک ایساملازم جو تکڑا اور مضبوط ہوجو چوکیداری کرے۔کسی جانور یا ناپسندیدہ شے جو اُس باغ کو اُجاڑنے یا خراب کرنے کا سبب بنتی ہے کو قریب نہ آنے دے۔اُس کی باڑ لگائے اُس کے لئے کھاد ڈھوئے۔اُس کے لئے پانی کی نالی کھودے۔ دوسرا ملازم اس باغ کے اندرکے لئے چاہئے جو قوت و طاقت میں بیشک اس باہر والے سے کمزور ہو لیکن محبت و شفقت میں اس سے بڑھ کر ہو۔جو چھوٹے چھوٹے پودوں کی نگہداشت کرے۔ایک ایک کلی کو دیکھے ایک ایک پھول کا احساس رکھے ایک ایک پھوٹتے ہوئے شگوفے کا شعور رکھتا ہواور ہر ایک کو نرمی،محبت ،پیاراور تحفظ دے ۔ باہر سے آیا ہوا پانی اس طرح تقسیم نہ کرے کہ آدھے پودے پانی میں غرق ہو جائیں اور آدھے پانی کی قلت سے مر جائیں۔ نازک اور اور حساس ترین کام اندر والے ملازم کا ہے اور یہ کام اﷲ نے عورت کے سپرد فرمایا ہے۔نہ صرف پودوں اور نونہالوں کی بلکہ انسانی باغیچے اور انسانی گلشن میں جو نونہال پلتے اور پھولتے ہیں ان کی تربیت ،ان کا دیکھنا بھالنا،ان کی پرورش ،ان کاسنبھالنا یہ خاتون کی ذمہ داری ہے۔ اُس کی باتوں میں رحمت ،محبت و شفقت،پیار ،نرمی برداشت ہوتی ہے لہذا نازک ہوتی ہے اور اس کے لئے باہر سے روزی کما کے لانا بچوں کے تحفظ کا خیال رکھنا یہ مرد کی ذمہ داری ہے یعنی محنت اور سختی کا کام مرد کے ذمہ لگایا گیا ہے اس لئے اس کے مزاج میں سختی ہے اس کی گفتگو میں بھی سختی ہوتی ہے۔ دونوں کے فرائض تقسیم ہو گئے۔خواتین ہم سے زیادہ اہمیت لے جاتی ہیں وہ زیادہ نازک کام انجام دیتی ہیں۔
    کیاخواتین کوبھی تربیت کی ضرورت ہے؟ان کی تربیت کو کبھی کوئی پر کاہ اہمیت نہیں دیتا ۔بیٹی ہوتی ہے تو والدین دنیا بھر کے علوم اسے پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن دین سکھانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ بہن ہوتی ہے تو بھائی اسے ہر طرح کا آرام پہچانے اور حفاظت کرنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن دین سکھانے کی کوشش نہیں کرتے۔بیوی ہوتی ہے تو خاوند اُسے دنیا کی ساری نعمتیں لا کر تو دیتا ہے ۔بہترین گھردینا چاہتا ہے محبت دیتا ہے پیار دیتا ہے عزت کرتا ہے دنیا کی جو چیز اس کے بس میں ہو اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیتا ہے ۔لیکن دین کے معاملے میں شوہر بھی نہیں پوچھتا۔ماں ہوتی ہے تو بچے اس کی عزت کرتے ہیں اس کی خدمت کرتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں بیٹوں نے بھی کبھی ماں سے بات نہیں کی۔یہ ہمارے اس جذبے کا اثر ہے جس نے ہمیں یہ بتا دیا کہ عورت کا کیا ہے؟ اس کی تو کوئی حیثیت نہیں ایک ناقص العقل کمزور سی مخلوق ہے۔ جب کہ مذہب اسلام کا تین چوتھائی حصہ خواتین سے نقل ہوا۔چونکہ ذاتی مصروفیات کا ایک چوتھائی سے بھی کم پہلو گھر کی چار دیواری سے باہر آتا ہے۔باقی تین چوتھائی گھر کی چار دیواری کے اندر آ جاتا ہے جس قدر خواتین کے مسائل ہیں وہ بھی اس میں شامل کریں تو سارادین ا زواج مطہرات علیھم اجمعین نے بیان فرمایا۔اگر کاشانہ نبویﷺ یہ خواتین نہ ہوتیں تو حیات مبارکہ کا کتنا بڑا حصہ تھا جسے مرد نہیں دیکھ سکتے تھے۔جو خواتین کے متعلق تھا جس کا سوال مرد نہیں کر سکتے تھے جسے سمجھ نہیں سکتے تھے۔ضرورت کے اوقات،تکلیف ،آرام جن پر بیتتی تھی وہ جانتے تھے۔
    جب موسیٰ علیہ السلام منزلوں پر منزل مارتے مدین کے قریب پہنچے تو باہر ایک چشمے پر بہت سے لوگ اپنے مال مویشی کو پانی پلا رہے ہیں۔وہاں دو نوجوان لڑکیوں کو دیکھا جو الگ ہو کر ایک طرف اپنی بکریاں لے کر کھڑی ہوئی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے پوچھا تم یہاں کیوں کھڑی ہو؟انہوں نے کہا ہمیں اپنے گلے کو پانی پلانا ہے۔جب یہاں مرد نہ رہیں تو ہم اپنے ریوڑ کو پانی پلا لیں۔ہمارے گھر میں سوائے ہمارے والد بزرگوار کے کوئی نہیں۔اس چھوٹے سے جملے میں اﷲکریم نے خواتین کے کام کاج میں حصہ لینے کاایک معیار ارشاد فرمایا کہ خاتون گھر سے باہر تب قدم رکھ سکتی ہے جب گھر میں کوئی مرد باہر کی ذمہ داری پوری کرنے کااہل نہ ہو۔ اس مجبوری کی حالت میں خواتین باہر کا کام کریں۔ دیوار سے لگ کر انہیں مرنا نہیں ہے۔انہیں کام کرنا ہے لیکن کام کرنے میں مردوں اورخواتین میں ایک حد فاضل رہے۔
    عہد نبویﷺ میں خواتین تلوار کی دھنی ثابت ہیں۔بدرواحد میں خواتین اپنا حصہ ادا کرتی نظر آتی ہیں۔زخمیوں کو سنبھالتی ہیں یا پانی دیتی ہیں تو مردوں میں گھس کر نہیں الگ سے اپنا پردہ بھی قائم رکھتی ہیں اور میدان عمل میں کام بھی کرتی ہیں۔جو خواتین میدان کارزار میں تلوار کے جوہر بھی دکھایا کرتی تھیں کیا وہ ماں کے پیٹ سے سیکھ کر آتی تھیں یا کسی استاد سے تلوار چلانا سیکھا کرتی تھیں ؟یہ گھوڑوں کی سواری انہیں پیدائشی طو پر مل جاتی تھی یا یہ بھی کسی سے سیکھا کرتی تھیں؟آپ اس بہترین عہد ’’خیرالقرون‘ ‘ میں خواتین کو میدان جہاد و غزوات میں پاتے ہیں لیکن یہ بات وہاں بھی دیکھ لیجئے کہ خواتین مردوں سے خلط ملط ہوئے بغیر الگ سے اپنی تربیت کرتی تھیں اور الگ سے اپنے فرائض سرانجام دیتی ہیں۔ یہی معیار آج بھی ہے کہ خواتین کا پردہ ،ان کی حیا،ان کا الگ رہنا قائم رہے ۔یہ معیار دیا ہے کتاب اﷲ نے کہ عورت پنجرے کی قیدی بھی نہیں ہے اور عورت نمائش کی چیز بھی نہیں ہے۔اس کے درمیان درمیان راستہ ہے۔وہ بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھے اور سیکھے۔اپنی ضرورت کو معروف طریقے سے پورا کرنے کی اہلیت واستعداد حاصل کرے۔ نہ وہ گداگر اور محتاج بنے اور نہ ہی اتنی دیدہ دلیر ہو کہ بے با کانہ مردوں کے ساتھ مل جل جائے۔
    ایک مغربی مفکر کا بھی قول ہے’’ عورت گھر کے باہر آ کر ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے لیکن پھر وہ عورت نہیں رہتی‘‘۔وہ کوئی دوسری مخلوق بن جاتی ہے۔اس میں وہ نسوانیت، عورت پن، دھیما پن، شرم و حیا، محبت و اخوت ، لطف و کرم اور وہ جذبات ختم ہو جاتے ہیں اور آپ ان خواتین کو دیکھ لیں جو اس طرز عمل کو اپنائے ہوئے ہیں وہ ایک تیسری مخلوق بن گئی ہیں۔وہ اگر مرد نہیں بن سکی تو عورت بھی نہیں رہ سکیں اور کوئی عجیب سی مخلوق بن گئی ہیں۔جن کا حلیہ الگ،بات کرنے کا انداز الگ، اٹھنا بیٹھا الگ،جن کے فیصلے تک عجیب و غریب ہیں۔کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا چاہتی ہیں؟کیا کرتی ہیں ؟اور کیا کہہ رہی ہیں؟
    اسلام نے عورت کو نہ تو مغرب کی طرح اشتہار کی زینت بنانے کی اجازت دی ہے اور نہ ہی ہندو تہذیب یا مشرق بعید کی طرح اسے خادم اور کمزور سا ثابت کیا ہے بلکہ اسلام عورت کو بھی انسان اور شرف انسانیت کا حامل گردانتا ہے اور مرد و عورت کو برابر سمجھا جاتا ہے۔اسلامی مساوات یہ ہے کہ مرد کو وہ کام کرنے کا کہا جائے جو مرد کی ذمہ داری میں آتا ہے اور خاتون سے وہ کام لیا جائے جو خواتین کی ذمہ داری میں آتا ہے۔اگر اس سے وہ کام لیا جائے جو اس کے فرائض میں شامل نہیں تویہ عدم مساوات اور ظلم ہے۔
Working...
X