Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

صحابہ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک اور فاقہ کشی کا بیان

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • صحابہ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک اور فاقہ کشی کا بیان

    یہ تحریر محمدبن جمیل زینو کی مرتب کی گئی کتاب شمائل نبویہ سے لی گئی ہے

    صحابہ رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک اور فاقہ کشی کا بیان

    ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو دیکھا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھروں کے باہر بیٹھے ہوئے ہیں ۔
    الرسول : اس وقت تمہیں کس چیز نے تمہارے گھروں سے نکالا ہے۔
    ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ : بھوک نے اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
    الرسول : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے بھی بھوک ہی نے نکالا ہے ۔
    اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیںحکم دیتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوں پھر وہ ابو الحیشم مالک بن نبھان ایک انصاری آدمی کے گھر کی طرف گئے مگر اسے گھر میں نہ پایا۔
    ابو الہیشم کی بیوی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے مرحباً و اھلاً(خوش آمدید) کہتی ہے ۔
    الرسول :فلاں یعنی ابو الہیشم کہاں ہے؟
    عرت: وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے گئیں اسی دوران ابو الہیشم آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی طرف دیکھتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چمٹ کر کہتا ہے میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔
    ابو الہیشم : اللہ کا شکر ہے کہ آج مجھ سے زیادہ محترم مہمانوں والا کوئی نہیں ہے ۔ابو الہیشم چلا جاتا ہے اور گرد خشک اور تازہ کھجوروں سے بھری ہوئی ایک ٹہنی لے آتا ہے ۔
    ابو الہیشم :کھائیے جناب اس سے! پھر ابو الہیشم چھری لے کر ایک بکری ذبح کرنے کے لئے جاتا ہے ۔
    الرسول : دودھ دینے والی بکری ذبح نہ کرنا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی کھجوریں اور گوشت کھاتے ہیں میٹھا پانی پیتے ہیں اچھی طرح سیر ہوجاتے ہیں ۔
    الرسول : ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور باز پرس ہوگی بھوک نے تمہیں گھروں سے نکالا اور واپس ہونے سے پہلے تم نے یہ نعمتیں حاصل کر لیں۔

    (اس حدیث کو مسلم، مالک اور ترمذی نے روایت کیاہے)

    اس حدیث سے یہ فائدہ اور نتیجہ نکلتا حاصل ہوتا ہے ۔

    1

    ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سخت بھوک لاحق ہوتی تھی اور اسباب کو اختیار کرتے ہوئے گھروں سے نکلتے تھے کہ شاید وہ کچھ کھانا پالیں۔

    2

    ۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی اپنے کسی ساتھی کے گھر کھانے کے لئے چلا جائے جب وہ جانتا ہو کہ اس کے دوست کے اس سے خوشی ہوگی۔

    3

    ۔ جب آدمی اکیلا نہ ہوتو پردے کی اوٹ میں عورت سے کچھ پوچھنا جائز ہے۔

    4

    ۔ نعمت کی فراوانی اس کے خالق کے شکر اور نعمتوں میںمصروف مست ہو کر نعمتیں عطا کرنے والے سے غافل ہوجانے پر تنبیہ کرنا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

    لئن شکرتم لأزیدنکم ۔

    (سورۃ ابراہیم آیۃ:7)

    اگر تم شکر ادا کروگے تو میں تمہیں مزید نعمتیں عطا کروں گا‘‘۔
Working...
X