انسان سزائے موت کا قیدی ہے۔
جب دنیاوی قانون کسی انسان کو سزائے موت دیتا ہے تو سزائے موت پانے والا ہر وقت روتا رہتا ہے۔
سزائے موت پانے والا انسان ہر وقت اللہ تعالی سے معافی مانگتا رہتا ہے۔
عام انسان بھی موت کا قیدی ہے لیکن اُس کو کسی جج نے اُس کے سامنے موت کا حکم نہیں* دیا ہوتا اس لیے اس کو فکر نہیں۔
ہر انسان کو اللہ تعالی نے موت کا حکم دے کر دنیا میں* بھیجا ہے لیکن وہ اس حکم کو بھول جاتا ہے۔
ہر انسان کی موت کا وقت مقرر کرکے اُسے دنیا میں*بھیجا ہے لیکن انسان کو اس وقت کا پتہ نہیں*ہے۔
جب کوئی جج کسی موت کے قیدی کا وقت مقرر کرتا ہے تو قیدی پر جو خوف طاری ہوتا ہے وہ قابل بیان نہیں۔
صبح سزائے موت پانے والے کی رات ہزاروں* راتوں*کی عبادت کے برابر ہے وہ ایک سانس میں* سوبار توبہ کرتا ہے۔
گھڑی گھڑی وقت دیکھتا اور روتا ہے کہ اب کیا کروں*۔
سزائے موت کا قیدی آخری رات میں*کچھ نہیں* کھاتا اور نہ اس کو نیند آتی ہے اُسے دنیا کی کوئی چیز اچھی نہیں* لگتی اُسے سمجھ نہیں* آتا کہ میں کیا کروں۔
تو پھر اے انسان تجھے موت کیوں* بھول جاتی ہے۔
تو آزاد دنیا میں* آخری رات میں*بھی گناہ کرتا ہے۔
تو اللہ تعالی کا یہ احسان کیوں*نہیں*مانتا کہ اُس نے تجھے وقتِ مقررہ سے آگاہ نہیں* کیا۔
جب دنیاوی قانون موت کی سزا دیتا ہے تو معافیاں* مانگتا ہے لیکن اللہ تعالی نے جو حکم دیا ہے اُص کا تجھ پر کوئی اثر نہیں ہے۔
زندگی کا ہر دن اور ہر رات اُس قیدی کی طرح*گزار جس کو صبح مار دیا جائے گا۔
سزائے موت کا قیدی آخری رات میں* کبھی گناہ نہیں*کر سکتا اُسے موت نظر آرہی ہوتی ہے۔
اے انسان تیری زندگی سزائے موت کے قیدی کی آخری رات کی طرح*ہے۔
اپنی ہر رات کو آخری رات تصور کرو یہ تصور گناہ سے دور کر دے گا اور تم کبھی گناہ نہیں* کرو گے۔
کل تیری زندگی میں* ہے ہی نہیں* تو تو صرف آج کا ہے جب تجھے موت آئے گی۔ اُس دن آج ہی ہو گا۔ کل نہیں۔
رائٹر : اورنگ زیب فرازی
کتاب : حیات بشر
صفحہ نمبر : 236،237
Comment