Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

    TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA


    Click image for larger version

Name:	resize pic.jpg
Views:	1
Size:	82.4 KB
ID:	2488120

  • #2
    Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

    کسی چیز سے برکت حاصل کرنے کے عمل کو لغتًا (تَفَعُّل کے وزن پر) تَبَرُّک کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ لفظ غلط العام ہے اور اسم کے طور پر اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو پاکیزہ ہو اور کسی بزرگ شخصیت یا مقدس مقام سے منسوب ہو

    Comment


    • #3
      Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

      اللہ عزوجل جو قادر و قیوم اور تمام برکتوں کا مالک ہے اس نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ صرف دنیا جہاں کی برکتوں سے نوازا بلکہ جو چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہوئیں وہ بھی بابرکت ہوگئیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار کو بطورِ تبرک محفوظ رکھنا اور ان سے برکت حاصل کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعینِ عظام کا معمول تھا۔ دورِ صحابہ و تابعین کے بعد نسل در نسل ہر زمانے میں اکابر ائمہ و مشائخ کے علاوہ خلفاء و سلاطین بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آثار و تبرکات کی حفاظت کا بڑے ادب و احترام کے ساتھ خصوصی اہتمام کرتے رہے۔ کتبِ تواریخ و سیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ خاص مواقع پر بڑے اہتمام کے ساتھ مسلمانوں کو ان تبرکات کی زیارت کروائی جاتی تھی۔ آج بھی اہلِ محبت ان تبرکاتِ مقدسہ کو حصولِ فیض و برکت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور ان کی حرمت کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ تبرک کی اسی حیثیت کو قرآن و حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے آثار و احوال کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے

      Comment


      • #4
        Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA


        دعائے نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

        وَ بَارِکْ لِيْ فِيْمَا أَعْطَيْتَ.

        اور جو نعمت تو نے مجھے دی ہے اس میں برکت عطا فرما۔

        1. ترمذي، السنن، کتاب الصلاة، باب : ما جاء فی القنوت فی الوتر، 2 : 328، رقم : 464
        2. ابن حبان، الصحيح، 3 : 225، رقم : 945
        3. ابن خزیمة، الصحيح، 2 : 151، رقم : 1095

        4۔ امام راغب اصفہانی نے ��برکت�� کا ایک معنی خیرِ الٰہی لکھا ہے :

        وَالْبَرَکَةُ ثُبُوتُ الْخَيْرِ الإلٰهیِ فی الشَّيْئِ.

        ��برکت کا معنی ہے کسی شے کے اندر خیرِ الٰہی کا پایا جانا۔��

        (3) راغب الأصبهانی، المفردات : 44

        برکت کے لغوی معانی : ��اضافہ، زیادتی و کثرت اور سعادت و خوش بختی کے ہیں۔��

        ۔ تبرک کا لغوی معنی ہے : ��کسی سے برکت حاصل کرنا۔��

        Comment


        • #5
          Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

          :jazak:
          For New Designers
          وَ بَارِکْ لِيْ فِيْمَا أَعْطَيْتَ

          Comment


          • #6
            Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA


            ۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بابرکت ہونے کا بیان

            اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بعض انبیاء کرام علیہم السلام اور اُن کے اہل و عیال کا مبارک اور بابرکت ہونا بیان کیا ہے۔

            1۔ حضرت نوح علیہ السلام اور ان کے متبعین کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

            قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلاَمٍ مِّنَّا وَبَركَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ.

            فرمایا گیا : اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (کشتی سے) اتر جاؤ جو تم پر ہیں اور ان طبقات پر ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں۔

            هود، 11 : 48

            2۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے :

            وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى إِسْحَقَ.

            ��اور ہم نے اُن پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں۔��

            الصافات، 37 : 113

            3۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اہلِ بیت کے لئے فرمایا :

            رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌO

            ��اے گھر والو! تم پر اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، بیشک وہ قابلِ ستائش (ہے) بزرگی والا ہےo��

            هود، 11 : 73

            4۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بابرکت فرمایا ہے :

            وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّاO

            ��اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے سراپا برکت بنایا ہے اور میں جب تک (بھی) زندہ ہوں اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم فرمایا ہے۔��

            مريم، 19 : 31

            Comment


            • #7
              Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA


              اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بے شمار صفات اور خوبیاں بیان فرمائی ہے۔ قرآن کی ایک صفت اس کا بابرکت ہونا بھی ہے۔

              1۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

              وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ.

              اور یہ (وہ) کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے، بابرکت ہے، جو کتابیں اس سے پہلے تھیں ان کی (اصلاً) تصدیق کرنے والی ہے۔

              الأنعام، 6 : 92

              2۔ سورۃ الانعام میں ہی دوسری جگہ ارشاد فرمایا :

              وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَO

              ��اور یہ (قرآن) برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے سو (اب) تم اس کی پیروی کیا کرو اور (اﷲ سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائےo��

              الأنعام، 6 : 155

              3۔ قرآن حکیم کو خوبیوں والی اور بابرکت کتاب کہا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

              كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُوا الْأَلْبَابِO

              ��یہ کتاب برکت والی ہے۔ جسے ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے تاکہ دانشمند لوگ اس کی آیتوں میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں��

              ص، 38 : 29

              4۔ سورۃ الدخان میں ارشاد فرمایا :

              إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَO

              ��بیشک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں��

              الدخان، 44 : 3


              Click image for larger version

Name:	q3...big.jpg
Views:	1
Size:	34.0 KB
ID:	2423342

              Comment


              • #8
                Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ
                محترم نور صاحب/صاحبہ
                بہت ہی عمدہ اور مفید تھریڈ بنایا ہے اللہ جی آپ کو اس کی جزا اعطا فرمائیں
                آپ سے ایک گزارش ہےکہ قرآنی آیات،یا احادیث مبارکہ کو "جے پی جی"فارمیٹ میں شئیر کردیا کریں کیونکہ نیٹ پر کوئی براوزر تمام "زیر زبر کو سپورٹ کرتے ہیں تو بعض پر نہیں جیسے "انٹرنیٹ ایکسپلورر،یا اوپرا وغیر"تو جو دوست ان براوزرز سے سرچ کریں گے اُن کے سامنے آپ کے عربی متن کے زیر زبر غلط شو ہونے کی صورت میں "عربی معنی کچھ کے کچھ بن جائیں گے"جو کہ سراسر غلط ہوگا۔
                اُمید ہے آپ میری بات سمجھ گئے ہونگے/ہونگی

                اب آپ کو ایک بات کے لئے خبردار بھی کر دوں
                یہاں پر ایک طبقہ ایسا ہے جو صرف اور صرف مخالفت اور مسلم امہ کو تقسیم کرنے کے عمل پر عمل پیرا ہے اور وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
                لہذا آپ مزید محنت کریں اور مزید تاریخی حوالے جمع کئے رکھیں تا کہ بوقت ضرورت کام آئے
                اللہ جی ہم سب کو حق کی روشنی عطا فرمائیں آمین
                ریپوٹیشن ہوائنٹ اور ایکسلنٹ ووٹ قبول کیجئے۔
                :star1:

                Comment


                • #9
                  Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                  تبرک
                  تبرک عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ہے :کسی سے برکت حاصل کرنا"

                  دعائے نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :

                  وَ بَارِکْ لِيْ فِيْمَا أَعْطَيْتَ.
                  اور جو نعمت تو نے مجھے دی ہے اس میں برکت عطا فرما۔


                  Comment


                  • #10
                    Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                    تبرک کا حقیقی تصوّر

                    تبرک و تیمّن کا واسطہ درحقیقت برکت اور فیض حاصل کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ جب ہم اپنے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے درمیان برکت حاصل کرنے کے لئے کوئی واسطہ قائم کر رہے ہوتے ہیں توچونکہ یہ واسطہ عبادت نہیں ہوتا اس لئے اس میں شرک کا کوئی احتمال نہیں۔ جیسے مناسکِ حج اداکرتے ہوئے حجرِ اسود، رکنِ یمانی اور مقامِ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تیمن و تبرک کا واسطہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جب حجر اسود سے برکت کا حصول شرک نہیں تو کسی پیغمبر یا ولی اللہ سے واسطہ تیمن یا واسطہ تبرک شرک کیسے ہو گا؟ اگر ایک پتھر کو واسطہ بنا لینا جائز ہو اور انبیاء و اولیاء کو واسطہ بنانا ناجائز اور شرک تصور کیا جائے تو یہ حقیقی تصورِ دین کے خلاف ہے

                    Comment


                    • #11
                      Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                      تبرک کا شرعی مفہوم

                      قرآن و حدیث کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ذوات، چیزوں اور مقامات کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی خیر و برکت سے نوازا ہے اور اِن کو دیگر مخلوق پر ترجیح دی ہے۔ ان بابرکت ذوات اور اشیاء سے برکت و رحمت اور سعادت چاہنا اور ان کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا تبرک کے مفہوم میں شامل ہے۔

                      Comment


                      • #12
                        Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                        تبرک کی شرائط

                        قرآن و حدیث سے ثابت ہر متبرک چیز خواہ وہ کوئی نشانی ہو یا جگہ یا کوئی ذات، شرعاً ان کو وسیلہ بنانا جائز ہے۔ تاہم اس امر کے لئے درج ذیل شرائط ضروری ہیں :
                        تبرک اختیار کرتے ہوئے یہ عقیدہ رکھنا ضروری ہے کہ مؤثرِ حقیقی اﷲ تبارک و تعالیٰ ہے۔ جس طرح تمام نعمتیں مثلاً رزق، صحت تندرستی، مدد و نصرت، رہائش اور لباس وغیرہ اس کی عطا سے ملتی ہیں اسی طرح متبرک اشیاء یا اشخاص میں خیر و برکت بھی اﷲ تعالیٰ نے ہی ودیعت فرمائی ہے۔ مخلوق میں کوئی بھی ازخود خیر و برکت دینے یا شر و فساد دور کرنے سے عاجز ہے مگر اﷲ تعالیٰ کے اذن اور عطا سے ان میں یہ تاثیر و برکت پائی جاتی ہے۔
                        جن اشخاص یا آثار و اماکن اور اشیاء کو متبرک سمجھ کر ان سے برکت حاصل کی جاتی ہے، ضروری ہے کہ قرآن و سنت سے ان کا عنداﷲ متبرک و افضل ہونا بھی ثابت ہوتا ہو۔ انبیاء و صالحین کے جن آثار کے ذریعے تبرک یعنی خیر و برکت و سعادت حاصل کی جاتی ہے اس کے متعلق صحیح عقیدہ یہ ہے کہ یہ آثار اور نشانیاں اس ذات اور شخص کی شرافت و برزگی، نیکی و پارسائی اور عبادت و ریاضت کی وجہ سے مشرف و مکرم اور قابلِ تعظیم و تکریم اور عند اللہ محبوب و مقرب ہیں۔

                        Comment


                        • #13
                          Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                          تخلیق
                          خ ل ق، خَلْق، تَخْلِیق

                          عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مزیدفیہ کے باب تفعیل سے مصدر اور اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے

                          اسم نکرہ (مؤنث - واحد)
                          جمع: تَخْلِیقات {تَخ + لی + قات}
                          جمع غیر ندائی: تَخْلِیقوں {تَخ + لی + قوں (و مجہول)}

                          معانی

                          1. پیدائش، آفرینش، پیدا کرنا، وجود میں لانا۔
                          "جذبات انسانی کی تخلیق یا بیداری کے کئی ذرائع ہیں۔"،
                          2. تصنیف، اختراع، ایجاد
                          3. مخلوق، وجود۔
                          "کپڑے قدرت کی ایسی تخلیق ہیں جو انسان کے لئے مفید بھی ہیں

                          انگریزی ترجمہ
                          creation

                          مترادفات
                          پَیدائِش، آفْرِینِش، آفْرِین، اِبْداع، تَصْنِیف، فِطْرَت، اِحْداث، آفْرِینِش،

                          Comment


                          • #14
                            Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                            TAKHLEEQ-E-ADAM

                            Hazrat ADAM ke na maa hen na bap(father). balky Allah n in ko matee se bnaya h. Riwayt h k jb Allah pak n ap ko peda krny ka irada farmaya to Hazrat Izraeel alehe salam ko hukm dea k zameen se ak muthee mati laen. Hukm-e-khudawandy k mutabik Hazrat izraeel alehe waslm n asman se uteer kr zameen se ak muthee mati uthe to roe zameen ke upree parat chalky ke manand uteer kr ap ke muthee m a gy jis m 60 colour or mukhtalif kefyt waly mitee th. yani safeed-o-siyah, surkh-o-zard, nuram-o-sakht, sheeren-o-talkh, namkeen-o-pheeki


                            Is matee ko mukhtalif paneon se gondhne ka hukm farmaya so ak mudatat k bad y chipkne wale bn gay phir ak mudat tk y gondhne gay to kechar ke trhan bo'dar gara bn gya phir y khushk ho kr khankarte or bajte hoe matee bn gy..

                            Comment


                            • #15
                              Re: TabarrukaT-e-AmbiyA & AuliyA

                              Phir is matee se Hazrat Adm alehsalam ka putla bna k jannat k darwaze p rakh dya gya jis ko dekh kr farishton ke jamat tajub karte th. phir Allah Tabarak wa talah n is putle m roh ko dakhil hone ka hukm farmaya. Chunacha roh dakhil ho k jb Nathnon tk pohnce to ap ko chenk ae or jb roh zuban tk pohnche to Adm alehsalam n Alhumdulilah parha or Allah pak n farmaya "Ya Rehmakullah" yane Allah tm p rehm farmae. Ae Abu Muhammad (ADM) m n tm ko apne hamd he k ly bnaya h. Phir rafta rafta pore badn m roh pohnc gy or ap zinda ho k khare ho gy. (khuzan 46)

                              Comment

                              Working...
                              X