برصغیر کے حنفی حضرات عقیدہ میں کس منہج سے تعلق رکھتے ہیں؟
توحید کی علماے کرام نے تین اقسام بیان کی ہیں:
- [*=right]توحید اُلوہیت
[*=right]توحید ربوبیت
[*=right]توحید اسماء وصفات
اہل سنت والجماعت کے بالمقابل تاویل سے بچنے کا ایک دوسرا طریق کار اہل تفویض کا ہے جو اللہ تعالی ٰکی صفات کے لیے کوئی مجازی معنیٰ پیش کر کے تاویل تو نہیں کرتے،لیکن سرے سے عربی الفاظ کا مفہوم ہی تسلیم کرنے سے انکار کر جاتے ہیں اور ان صفات کو اللہ کے سپرد کر دینے کا مقصد یہ بیان کرتے ہیں کہ اُن کا کوئی لغوی معنی بھی بیان نہ کیا جائے ۔
مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا موقف
مولانا سلیم اللہ خان نے توحیدِاسماء وصفات کےضمن میں اہل سنت کے تین مسالک بیان کیے ہیں اوراُن کے خیال میں جمہور اہل سنت یعنی صحابہ، تابعین اور ائمہ اربعہ کا موقف توحیدِاسماء وصفات کے بیان میں یہ ہے کہ وہ اللہ کی صفات کے بارے مطلقاً تفویض کے قائل ہیں یعنی وہ اللہ کی صفات کی کیفیت بیان کرنا تو کجا ان کے لغوی/عرفی معنی ہی کے قائل نہیں خواہ حقیقی ہوں یا مجازی ۔ مولانا لکھتے ہیں:
وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰه یعنی اس کی تفسیر صرف اللہ ہی کو معلوم ہے، یہ مسلک ِتفویض ہے اور یہی جمہور متقدمین اہل سنت اور اَئمہ اربعہ کا مسلک ہے۔
2۔دوسرا مسلک یہ ہے کہ یہ نصوص اپنی حقیقت پر ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان جو حقیقی معنی اس کے ہو سکتے ہیں۔ وہی مراد ہیں،اس کی کیفیت،کنہ اور صورت کیا ہوگی؟یہ معلوم نہیں، یعنی یہ نصوص و صفات معلوم المعنی اور متشابه الکیفية ہیں۔اسی مسلک کی وضاحت میں مشہور مقولہ کہا گیا:الإستواء معلوم والکیف مجهول والسؤال عنه بدعة اورالاستواء غیر مجهول والکیف غیر معقول والإیمان به واجب. امام مالک اور ان کے اُستاذ ربیعہ بن ابو عبد الرحمن وغیرہ کی طرف یہ مقولہ منسوب ہے۔
آگے چل کر ایک مقام پر مولانا سلیم اللہ خان صاحب اس بارے مولانا عبد الحی لکھنوی کی تحقیق سے اختلاف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اپنے مقالہ کے آخر میں مولانا سلیم اللہ خاں لکھتے ہیں :
مسئلے کا تاریخی پس منظر
مولانا سلیم اللہ خان صاحب نے اپنے اس مقالہ میں تفویض مطلق کے مسلک کی نسبت صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہؒ کی طرف کی ہے جو خلافِ حقیقت ہے۔ اس مسئلے میں مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی نسبت مولانا عبد الحی لکھنوی کی تحقیق راجح اور امر واقعہ کے زیادہ قریب ہے کہ صحابہ ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ اربعہ کا مسلک تفویض مطلق نہیں تھا بلکہ وہ صفاتِ باری تعالیٰ کو معلوم المعنی او ر متشابہ الکیفیہ بیان کرتے تھے۔
اس مسئلے پر تحقیقی گفتگو سے پہلے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اس اُلجھن کو سامنے لائیں جس کے پیش نظر وہ عقیدہ میں ائمہ اربعہ کی تقلید حرام سمجھنے کی بنا پر امام ابو حنیفہ(متوفی ۱۵۰ھ) کی تقلید ترک کر دیتے ہیں لیکن حنفی عوام کے سامنے اپنے امام کی مخالفت کے طعن سے بچنے کے لیے امام صاحب کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے تاویلات اور حِیَل کا ایک نہ ختم ہونے والاباب کھول دیتے ہیں۔ جن حضرات نے ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کے مناقب پر لکھی جانے والی کتب کا مطالعہ کیا ہے اور وہ سلف صالحین اور ائمہ مجتہدین کے دور کے بہت بعد چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہونے والے فقہی جمود کے پس منظر سے بھی واقف ہیں، اس مناظراتی، جدلیاتی اور فکری جنگ سے ضرور آگاہ ہوں گے جو چوتھی صدی ہجری کے تقلیدی جمود کے دور سے شروع ہو کر صدیوں حنفیہ اور شافعیہ کے مابین جاری رہی۔ بعد ازاں ایک طرف تو شافعیہ جغرافیائی اعتبار سے شرقِ بعید مثلاً انڈونیشیا، ملائیشیا وغیرہ کے علاقوں میں پھیل گئے اور دوسری طرف برصغیر پاک و ہند میں تقلید ِجامد کے خلاف شاہ ولی اللہ دہلوی اور ان کے ہمنواؤں کی طرف سے فروغ ِ حدیث (اہل حدیث) کی تحریک برپاہوئی یعنی نصوص کو فصوص پر اور سنت کو فقہ پر ترجیح دینے یا اجتہادات ِائمہ کو کتاب وسنت پر پیش کرنے کے دور کا آغاز ہوا تو ان مناظروں اورمجادلوں کا رخ شافعیہ سے اہل حدیث کی طرف پھرگیا اور حنفیہ اور غیر مقلداہل حدیث کے مابین بظاہر نہ ختم ہونے والے مناظرات کے ایک طویل سلسلہ نے جنم لیا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حنفیہ نے فقہی مسائل میں تو تقلید ِجامد کا ثبوت دیا اور اس کو واجب قرار دیا لیکن اعتقادی مسائل میں امام ابو حنیفہ کی تقلید نہ کرنے کی وجہ سے یہ کئی فرقوں اشعری،ماتریدی،معتزلی،بریل وی، دیوبندی، حیاتی، مماتی،وجودی، شہودی، مفوضہ،مؤوّلہ وغیرہ میں بٹ گئے۔پس حنفیہ من وجہ مقلد ہیں اور من وجہ غیر مقلد ہیں۔فقہی مسائل میں حنفی مذہب کے مقلد ہیں جب کہ اعتقادی مسائل میں یہ امام ابو حنیفہ کی تقلید کے قائل نہیں ہیں ۔
البتہ دو بنیادی باتوں کی وضاحت ضروری ہے کہ اہل حدیث فقہی مسائل میں اگر علماے اُمت کا اجماع ہو تو اس اجماع کی حجیت کے قائل ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب اہل حدیث کسی متعین امام کی تقلید نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تجدد کی راہ پر ہیں یا کسی نئی فقہ کی تدوین کر رہے ہیں بلکہ علماے اہل حدیث کے فتاویٰ کو دیکھا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ وہ ائمہ کی آراء کو قرآن وسنت پر پیش کر کے قدیم مسائل میں کسی نہ کسی فقہی مذہب یا امام کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ ائمہ اربعہ تک محدود نہیں رہتے۔ جدید مسائل میں وہ کتاب وسنت سے ائمہ سلف کے طریقہ کار کی روشنی میں براہ راست استدلال کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
چونکہ اعتقادی مسائل میں عموماً قیاس وغیرہ کی گنجائش نہیں ہوتی،یعنی اعتقادی مسائل حالات اور زمان و مکان کی تبدیلی سے متاثر ہوئے بغیر ویسے ہی رہتے ہیں،کیونکہ ان کا تعلق زیادہ تر خبر سے ہوتا ہے جو غیر متبدل رہتی ہے، پس عقیدے کے مسائل میں ہمیں پیچھے سے پیچھے جانا چاہیے اور سلف صالحین یعنی صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ اسلاف ؒ کے طریق کار کی اتباع کرنی چاہیے۔
یہ بھی واضح رہے کہ اعتقادی مسائل میں اہل سنت(سلف صالحین) میں کوئی زیادہ اختلاف مروی نہیں ہے بلکہ اکثر اعتقادی مسائل میں ائمہ اربعہ کا عقیدہ تقریبا ایک ہی ہے، سوائے ایمان کی حقیقت کے مسئلے میں،جس میں امام ابو حنیفہؒ کا اختلاف نقل ہوا ہے لیکن اس مسئلے کے بارے میں بھی امام ابن عبد البرمالکی اور امام ابن ابی العز حنفی کا رجحان یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ نے اسی قول کی طرف رجوع کر لیا تھا جو ائمہ ثلاثہ کا ہے۔ اس کے برعکس فقہی اور عملی مسائل میں حالات اور زمانے کے تغیرات کی وجہ سے بہت دفعہ نصوص کا اطلاق تبدیل ہونے کا مغالطہ ہوتا ہے۔اسی بنا پر ابن قیم اسے فتوی کی تبدیلی سےتعبیر کرتے ہیں۔ لہٰذا ان میں اجتہاد کی بڑی اہمیت ہوتی ہے جو قدیم مسائل میں اصحابِ ترجیح کا سا ہوتا ہے نہ کہ اجتہادِ مطلق کی حیثیت کا حامل۔ اہل الحدیث کے فتاویٰ ہماری اس بات کے شاہد ہیں۔
پس حنفیہ نے کسی متعین فقہ کی تقلیدکو لازم قراردے کر کسی تعبیر خاص کو عین دین اسلام یا وحی کی صورت شریعت ِاسلامیہ کی طرح دائمی قرار دے دیا ہے جبکہ اہل حدیث کے نزدیک کوئی متعین فقہ ایک عارضی اور بدلتی شے ہے جب کہ صرف وحی والہام (شریعت ِاسلامیہ)ہی دائمی ہے لہٰذاحق کسی ایک متعین فقہ میں محصور نہیں ہے چنانچہ وہ کتاب وسنت کی بنیاد پر سب فقہوں اور جمیع فقہاےمحدثین سے برابر کی سطح پر استفادہ کے قائل ہیں۔
کیا ائمہ اربعہ مفوضہ تھے؟
اس تمہید کے بعد ہم اصل نکتہ کی طرف آتے ہیں کہ کیا مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا یہ دعویٰ درست ہے کہ سلف صالحین یا ائمہ اربعہ مفوضہ ہیں؟اگر ہم اس مسئلے کی تحقیق میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کو شامل کر لیں تو شاید یہ مضمون بہت طویل ہو جائے لہٰذا سردست ہم ائمہ اربعہ کے بارے بالعموم اورامام ابوحنیفہ کے بارے بالخصوص اس موقف کا جائزہ لے رہیں ہے کہ وہ اہل تفویض میں سے تھے یا نہیں؟
امام ابن تیمیہ ( متوفی ۷۲۸ھ) سے جب یہ سوال ہوا کہ دو اشخاص کا آپس میں جھگڑا ہوا ہے اور ان میں سے ایک یہ کہتا ہے کہ جو شخص اللہ کے آسمان میں ہونے کا اعتقاد نہ رکھے تو وہ گمراہ ہے اور دوسرا شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جگہ میں منحصر نہیں ہے تو اس بارے امام شافعی (متوفی ۲۴۰ھ) کا عقیدہ کیا ہے؟ توامام صاحب اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
الحمد ﷲ، اعتقاد الشافعي رضي اﷲ عنه واعتقاد سلف الإسلام کمَالك والثوري والأوزاعي وابن المبارك وأحمد بن حنبل وإسحٰق بن راهویه وهو اعتقاد المشایخ المقتدٰی بهم کالفُضیل بن عیاض وأبي سلیمان الداراني وسهل بن عبد اﷲ التستري وغیرهم، فإنه لیس بین هؤلاء الأئمة وأمثالهم نزاع في أصول الدین وکذٰلك أبو حنیفة رحمة اﷲ علیه فإن الاعتقاد الثابت عنه في التوحید والقدر ونحو ذلك موافق لاعتقاد هؤلاء واعتقاد هؤلاء هو ما کان عليه الصحابة والتابعون لهم بـإحسان وهو ما نطق به الکتاب والسنة
علامہ نواب صدیق حسن خان (متوفی ۱۳۰۷ھ) ایک جگہ سلف صالحین کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
فمذهبنا مذهب السلف إثبات بلا تشبیه وتنزیه بلا تعطیل وهو مذهب أئمة الإسلام کمالك والشافعي والثوري وابن المبارك والإمام أحمد وغیرهم فـإنه لیس بین هؤلاء الأئمة نزاع في أصول الدین وکذلك أبو حنیفة رضي اﷲ عنه فإن الاعتقاد الثابت عنه موافق لاعتقاد هؤلاء وھو الذي نطق به الکتاب والسنة
اب ہم نسبتاً تفصیل سے امام ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ کا عقیدہ بنیادی مصادر سے نقل کررہے ہیں:
امام ابو حنیفہ کا عقیدہ
العلم نوعان: علم التوحید والصفات وعلم الشرائع والأحکام والأصل في النوع الأول هو التمسک بالکتاب والسنة ومجانبة الهوٰی والبدعة ولزوم طریق السنة والجماعة الذي علیه الصحابة والتابعون ومضٰی علیه الصالحون وهو الذي کان علیه أدرکنا مشایخنا وکان علی ذلك سلفنا أعني أبا حنیفة وأبا یوسف ومحمد أو عامة أصحابهم رحمهم اﷲ وقد صنّف أبو حنیفة رضي اﷲ عنه في ذلك کتاب الفقه الأکبر وذکر فیه إثبات الصفات
امام بزدوی کی اس عبارت میں چند بنیادی باتیں بیان ہوئی ہیں:
5۔اس کتاب میں جو عقیدہ بیان ہوا ہے وہ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام محمد اور کبار حنفی علما و مشائخ کا ہے۔
6۔اس کتاب میں جو عقیدہ بیان ہوا ہے، وہی صحابہ وتابعین کا عقیدہ ہے۔
7۔اس کتاب میں جو عقیدہ بیان ہو اہے، وہ اہل سنت والجماعت کا ہے۔
اب ہم امام ابو حنیفہ کی اس کتاب میں بیان شدہ عقیدہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کیا ہے؟ کیاوہ تاویل کا عقیدہ ہے جیسا کہ ماتریدیہ حنفیہ کا عقیدہ ہے ؟ یا وہ تفویضِ مطلق کاعقیدہ ہے جیسا کہ مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا عقیدہ ہے؟ یا صفات کو ان کے حقیقی معنی پرباقی رکھنے اور کیفیت نہ بیان کرنے کا عقیدہ ہے جیسا کہ سلفی عقیدہ ہے؟
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں:
وله ید و وجه ونفس کما ذکره اﷲ تعالىٰ في القرآن، فما ذکره اﷲ تعالىٰ في القرآن من ذکر الوجه والید والنفس فهو له صفات بلا کیف، ولایقال إن یده: قدرته أو نعمته لأن فیه إبطال الصفة وهو قول أهل القدر والاعتزال ولکن یده صفته بلا کیف وغضبه ورضاه من صفات اﷲ تعالىٰ بلا کیف
اس عبارت میں ایک طرف تو امام ابو حنیفہ نے صفاتِ باری تعالیٰ کا اثبات کیا ہے اور دوسری طرف ان صفات میں تاویل سے منع کیا ہے اور تاویل کو معتزلی منہج قرار دیا ہے۔ گویا صفاتِ باری تعالیٰ میں تاویل کا مذہب تو قطعی طور پر ردّ ہو گیا یعنی تاویل والا مسلک امام صاحب اوراہل سنت والجماعت کا نہیں ہے۔
اب امام صاحب نے اللہ کی صفات کا جو اثبات کیا ہے تو کیا اس اثبات سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ ان صفات کا حقیقی معنی بھی بیان نہیں کرتے اور اِثبات سے مراد صرف الفاظ کا اثبات لیتے ہیں جیسا کہ مفوضہ کا عقیدہ ہے یا اُن کی مراد یہ ہے کہ وہ صفات کا حقیقی معنی تو بیان کرتے ہیں لیکن کیفیت بیان نہیں کرتے اور اثباتِ صفات سے ان کی مراد حقیقی معنیٰ کا اثبات ہے جیسا کہ سلفی عقیدہ ہے۔
ہم یہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ امام ابو حنیفہ کی یہ عبارت مفوضہ کا ردّ کر رہی ہے او ر سلفی عقیدے کو بیان کر رہی ہے کیونکہ امام صاحب نے جب صفات کا اثبات کیا تو کیفیت کی نفی کی ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ صفات کے حقیقی معنی کے قائل ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن میں بیان شدہ صفاتِ باری تعالیٰ کے اثبات سے مراد اگر لفظوں کا اثبات لیا جائے تو اس کا انکار قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کلام ماننے والا کوئی مسلمان نہیں کر سکتا کیونکہ قرآن کے الفاظ کا انکار تو کوئی کافر کر سکتا ہے۔یا وہ شخص جو قرآن کے اللہ کی کلام لفظی ہونے کا منکر ہے کیا امام صاحب اپنی عبارت ولکن یده صفة بلا کیفسے صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ کا انکار نہ کرنا؟کیا امام صاحب یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ بھی ثابت ہیں؟ یعنی امام صاحب اہل علم کو وہ عقیدہ بتلانا چاہتے ہیں جس سے مسلمانوں کا بچہ بچہ واقف ہے۔ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے، بلکہ امام صاحب کا اس عبارت سے مقصود یہ ہے کہ صفات اپنی حقیقی معنیٰ کے ساتھ ثابت ہیں لیکن بغیر کیفیت کے ہیں۔اگر امام ابوحنیفہ کے لیے مفوضہ یا مولانا سلیم اللہ خان صاحب کا عقیدہ لیں تو پھر صفات کے اِثبات سے مراد صرف الفاظ کا اثبات ہو گا کیونکہ تفویض کی صورت میں تو کوئی بھی معنیٰ مراد نہیں لیا جاتا۔
اب ہم اس طرح آتے ہیں کہ کبارحنفی علما نے امام ابو حنیفہ
کی ان عبارات سے تفویضِ مطلق کا عقیدہ سمجھا ہے یا صفات کے حقیقی معنی کے اثبات کا سلفی عقیدہ؟
Comment