Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

عقیدہ توحید اور امت توحید !~1~!~

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • عقیدہ توحید اور امت توحید !~1~!~

    عقیدہ توحید اور امت توحید
    ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالیؔ



    ہر انسان کو اپنے حقوق کا ادراک بھی ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے حقوق کے حصول کیلئے سرگرداں بھی رہتا ہے ایک سلیم العقل انسان کو جیسے اپنے حقوق کا تحفظ پسند ہوتا ہے ایسے ہی اس پر جو اوروں کے حقوق ہیں انکی ادائیگی میں بھی کوشاں رہتا ہے بلکہ کبھی اپنا حق چھوڑ دیتا ہے لیکن اوروںکا حق ضرور ادا کرتا ہے۔ بندے پر جو حقوق لازم ہیں ان میں سے سب سے اہم حقوق اللہ تعالیٰ کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے سب سے بڑا حق یہ ہے کہ بندہ اسے وحدہ لاشریک مانے اور صرف اسی کی عبادت کرے۔
    خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے اتنے موثر انداز میں عقیدہ توحید کی تبلیغ کی بہت جلد شرک کی تیرگی دور ہوگئی اور نور توحید ہر سمت جگمگانے لگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس انداز میں یہ عقیدہ توحید سیکھا اور آگے پہنچایا کہ آج صدیوں کے گذر جانے کے باوجود بھی یہ عقیدہ اپنی اصلی شکل میں امت کے سینوں میں موجود ہے۔
    حضرت موسیٰ  کی امت پر رب نے بڑے انعامات کیے جب انہیں فرعون کی غلامی سے نجات دلوائی رات کو حضرت موسی قوم کو ساتھ لے کے نکلے صبح کے وقت فرعون کا لشکر پکڑنے پہنچ گیا �قرآن مجید میں ہے۔
    ��تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا دن نکلے پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروھوں کا اصحاب موسی( علیہ السلام) نے کہا ہم پکڑے گئے۔ موسی(علیہ السلام) نے فرمایا یوں نہیں بے شک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے۔ تو ہم نے موسی (علیہ السلام )کو وحی فرمائی۔ کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا۔ تو ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں(فرعونیوں)کو اور ہم نے نجات دی موسی( علیہ السلام) اور انکے سب ساتھیوں کو پھر دوسروں( فرعونیوں) کو ہم نے ڈبو دیا۔��
    (سورہ شعراء آیت نمبر۶۰ سے لیکر ۶۶ )
    ان لوگوں پر جس قدر اللہ کے انعامات تھے حق یہ تھا کہ انہیں اگر ٹکڑے ٹکڑے بھی کردیا جاتا ان کے ہر ٹکڑے سے اَحَدَ اَحَد کی صدائیں آتیں مگر کس قدر کھوکھلا ان کا عقیدہ تھا اور بھدّا ان کا مزاج تھا قرآن مجید میں ہے۔
    اور ہم نے نبی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جو کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے تھے بولے اے موسیٰ ہمیں ایک ایسا خدا بنادے جیسے ان کیلئے اتنے خدا ہیں موسی(علیہ السلام) نے کہا تم ضرور جاھل لوگ ہو۔
    (سورہ الاعراف آیت نمبر۱۳۸)
    قارئین اب خود فیصلہ کریں ایک طرف وہ قوم جن کی براہ راست اپنے نبی سے ملاقات ہوئی ان سے توحید کا سبق پڑھا ۔جسے رب نے اتنا نوازا۔ انہیں موت کے منہ سے نکالا ، ان کے دشمنوں کو ان کے سامنے غرق کیا اپنے رب کو دریا عبور کرتے ہی بھول گئے
    ادھر یہ امت توحید ہے کہ قرون اولی کے مسلمان تو اپنی جگہ رہ گئے آج چودہ سو تیس سال گذر جانے کے باوجود حالانکہ آج کے امتی نے رسول اللہﷺ کو فاران کی چوٹی پہ دعوت توحید دیتے دیکھا نہ ہی آپ سے ملاقات کرسکا نہ بات کرسکا نہ ہی آپ کے کسی صحابی یا تابعی سے ملاقات ہوئی مگر پھر بھی آج کے مومن کا عقیدہ توحید اس قدر پختہ ہے کہ اگر کوئی باطل پرست اسے یہ کہے کہ چلو بُت کو صرف ایک بار سجدہ کردو میں تجھے سونے میں تول دیتا ہوں تو آج کا کوئی بڑا صاحب علم وفضل ہی نہیں بلکہ بالکل سادہ سا ان پڑھ مسلمان بھی کہے گا یہ سونا میں تیرے منہ پہ مارتا ہوں مگر میں بُت کو سجدہ نہیں کرونگا۔
    یہ محض دعوی نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے جس قدر اس امت نے توحید کی لذت محسوس کی ہے اور عقیدہ توحید پہ پہرا دیا ہے اس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔
    اس کی مزید وضاحت کیلئے یہ حدیث سامنے رکھیے۔
    ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا تمہارے نزدیک کس مخلوق کا ایمان سب سے زیادہ باعث تعجب ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا فرشتوں کا ایمان بڑا باعث تعجب ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ کیوں نہ ایمان لاتے حالانکہ وہ اپنے رب کے پاس ہیں۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا انبیاء علیہم السلام کا ایمان بڑا باعث تعجب ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ کیوں نہ ایمان لاتے حالانکہ ان پر وحی اتاری جاتی ہے ۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا ہمارا ایمان بڑا باعث تعجب ہے رسول اللہ ﷺ فرمایا تم کیوں نہ ایمان لاتے جب میں تمہارے سامنے موجود ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام مخلوقات میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ باعث تعجب اس قوم کا ایمان ہے جو میرے وصال کے بعد ہوگی وہ لوگ ایسے صحف (رجسٹر) پائیں گے جن میں کتاب ہے وہ اس پر ایمان لے آئیں گے۔
    (مشکوہ حدیث نمبر ۶۲۸۸۔
    دلائل نبوت امام بیہقی جلد ۶صفحہ۵۳۸)

    قارئین اس حدیث شریف کا مضمون سامنے رکھیں اور اپنے سینے کی طرف توجہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی مستقبل کی اس خبر میں بھی کتنی صداقت ہے۔ ایمانی لحاظ سے اس امت کی کتنی عظمت ہے۔ آجکے سادہ سے مومن سے پوچھیں کہ تیرے گھر میں جو قرآن موجود ہے کیا تجھے کبھی اس بارے میں شک گذرا یہ اردو بازار لاہور سے چھپنے والا قرآن رسول اللہ ﷺ پر اترا بھی تھا یا نہیں۔ وہ کہے گا مجھے کبھی شک نہیں ہوا بلکہ مجھے سو فی صد یقین ہے کہ یہی قرآن ہے جو رسول اللہ ﷺ کے سینے پر نازل ہوا اور آپ نے امت کو پڑھ کے سنایا۔ حالانکہ اس اُمتی نے جبریل علیہ السلام کو آتے دیکھانہ رسول اللہ ﷺ کو پڑھ کے سناتے دیکھا مگر قرآن کو کتاب اللہ تسلیم کیا ہے۔ رب ذوالجلال کو بھی بغیر دیکھے مانا ہے اور جنھیں دیکھ کے رب کو ماننا تھا رسول اللہ ﷺ کو بھی بغیر دیکھے مانا ہے۔ جبکہ پہلی امتوں میں ایمانی صورت حال اور تھی یہاں تک حضرت موسی علیہ السلام کی قوم نے تو اللہ تعالیٰ کو ماننے کیلئے بھی دیکھنے کی شرط لگا دی اور کہا تھا۔
    ��ہمیں اللہ اعلانیہ دکھا دو��
    (سورہ نساء آیت نمبر ۱۵۳)
    امت مسلمہ کی یہ ایمانی عظمت اب بھی برقرار ہے عقیدہ توحید باقی ہے۔ لیکن چمک میں فرق آنے لگا ہے۔
    رسول اللہﷺ نے یہی حقیقت خود بیان فرمائی ۔
    (۱) ��مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے دی گئی ہیں اور میں خدا کی قسم تمہارے بارے میں خطرہ محسوس نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے لیکن مجھے خطرہ ہے کہ تم کہیں دنیا کی محبت میں ڈوب نہ جائو۔
    (بخاری شریف حدیث نمبر۱۳۴۴،مسلم شریف حدیث نمبر ۲۲۹۶)
    (۲) حضرت عبادہ بن نُسَیّ کہتے ہیں میں حضرت شداد بن اوس کے پاس ان کی جائے نماز میں داخل ہوا تو وہ رو رہے تھے میں نے پوچھا اے ابو عبدالرحمن رونے کی وجہ کیا ہے؟ تو حضرت شداد نے کہا رسول اللہﷺ سے میں نے ایک حدیث سنی تھی اس کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ میں نے کہا وہ کونسی حدیث ہے انہوں نے کہا اس دوران کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ایسی کیفیت ملاحظہ کی جس سے میں غمگین ہوا۔ میں نے کہا یا رسول اللہﷺ میرے والدین آپ پر قربان ہو جائیں آپ کے چہرہ مبارک پر میں کیسی کیفیت دیکھ رہا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک امر کی وجہ سے میں رنجیدہ ہوں جس کا مجھے میرے بعد اپنی امت پرخطرہ ہے۔ میں نے کہا وہ کونسا امر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شرک اور شھوت خفیہ ہے حضرت شداد کہتے ہیں میں نے کہا کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا خبردار میری امت کے لوگ نہ سورج کی عبادت کریں گے نہ چاند کی نہ کسی بت کی عبادت کریں گے اور نہ ہی کسی پتھر کی لیکن اپنے اعمال کی وجہ سے لوگوں کیلئے ریاکاری کریں گے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺکیا ریا شرک ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہاں ریا شرک ہے میں نے کہا شہوت خفیہ کیا ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سے صبح کے وقت روزے کی حالت میں ہوگا اسے دنیا کی شھوتوں میں سے کوئی شھوت عارض ہو جائے گی تو وہ روزہ توڑ دے گا۔


    (مستدرک للحاکم جلد نمبر۵ ،ص۴۷۰، کتاب الرقاق، باب الشھوۃ الخفیہ ،حدیث نمبر۸۰۱۰ ،مطبوعہ دارالمعرفۃ ،
    مسند امام احمد جلد نمبر۵، ص۸۳۵ حدیث نمبر۱۷۲۵۰ ،مطبوعہ عالم الکتب ،
    ابن ماجہ کتاب الزھد باب الریا والسمعہ، حدیث نمبر۴۲۰۵ ،
    بیہقی شعب ایمان ،باب فی اخلاص العمل و ترک الریا ،جلد نمبر۵، ص۳۳۳ ، حدیث نمبر۶۸۳۰ ،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ،
    حلیہ الاولیا، جلد نمبر۱،ص۲۴۷،مطبوعہ دارا احیاء التراث العربی )

    امام حاکم نے کہا ہے یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔

    (۳) حضرت عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں میں۔ حضرت ابو درداء اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بیٹھے تھے کہ حضرت شداد بن اوس اورحضرت عوف بن مالک تشریف لے آئے اور فرمایا اے لوگو میں نے جو رسول اللہﷺ سے سنا ہے اس کی وجہ سے مجھے تجھ پر شھوت خفیہ اور شرک کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔
    حضرت عبادہ اور حضرت ابو درداء نے کہا اے اللہ معاف کرے کیا رسول اللہﷺ نے ہمیں یہ ارشاد نہیں فرمایا: شیطان مایوس ہوگیا ہے کہ جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے۔ جہاں تک شھوت خفیہ کا تعلق ہے۔ اسے ہم جانتے ہیں وہ دنیا اور عورتوں کی خواہش ہے۔ اے شداد جس شرک سے آپ ہمیں ڈرار ہے ہیں یہ شرک کیا ہے۔
    حضرت شداد نے کہا تم خود ہی مجھے بتا ئو جس نے کسی بندے کیلئے دکھلاوا کرتے ہوئے نماز پڑھی یا روزہ رکھا یا صدقہ کیا۔ کیا اس نے شرک کیا؟ حضرت عبادہ اور حضرت ابو دردا نے کہا ہاں حضرت شداد نے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے جس نے ریاکاری کرتے ہوئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا جس نے ریا کرتے ہوئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کرتے ہوئے صدقہ کیا اس نے شرک کیا۔

    (سیر اعلام النبلاء للذھبی جلد نمبر۴،ص۹۵،مطبوعہ دارالفکر)
    رسول اللہ ﷺ نے جس انداز میں شرک کی جڑیں کاٹیں کہ ہمیشہ کیلئے اسے ختم کردیا چنانچہ شیطان کو یہ مایوسی صرف جزیرہ عرب کے لحاظ سے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لحاظ سے ہوئی ملاحظہ ہو۔
    (۴) حضرت جابر سے مروی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔��شیطان مایوس ہوگیا ہے کہ نمازی اسکی بندگی کریں۔

    ( البدایہ ، ابن کثیر جلد نمبر1،ص۶۶،مطبوعہ دارالمعرفۃ)
    اس مضمون کی موید اور بھی متعدد احادیث ہیں۔
    ان احادیث سے پتہ چلتا ہے اس امت کا کلمہ توحید پر یقین اتنا دیرپا ہے کہ جب نماز روزہ کا نام بھی باقی نہیں رہے گا یہ کلمہ اس وقت بھی ہوگا اور اس وقت بھی معتبر ہوگا، چنانچہ اس امت میں پہلے عمل میں کمزوری واقع ہوگی عقیدہ توحید بعد میں باقی رہے گا۔امت جس مرحلہ سے گذر رہی ہے یہ امت کے شرک جلی (بت پرستی) میں مبتلا ہونے کا مرحلہ نہیں بلکہ شرک خفی ریا کاری اور دنیا میں رغبت کا مرحلہ ہے۔

    ایک حدیث شریف میں جو کچھ قبائل کے مشرک ہو جانے کا ذکر ہے وہ بعد کامعاملہ ہے۔دیکھیے
    (۵) حضرت حذیفہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
    آپﷺ نے فرمایا:۔
    اسلام یوں بوسیدہ ہو جائے گا جس طرح کپڑے کے نقش و نگار مدھم ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ نہیں جانا جائے گا روزہ کیا ہے صدقہ کیا ہے اور قربانی کیا ہے؟ ایک ہی رات میں کتاب اللہ غائب ہو جائے گی زمین پر اس کی ایک آیت بھی باقی نہیں رہے گی لوگوں کے کچھ طبقے باقی رہ جائیں گے بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت کہیں گے ہم نے اپنے آباء کو اس کلمہ لا الہ الا اللہ پر پایا تھا ہم بھی وہی کہ رہے ہیں۔
    حضرت صلہ بن زفر نے حضرت حذیفہ سے کہا جب انہیں نماز روزہ صدقہ اور قربانی کا پتہ نہیں ہوگا تو لا الہ الا اللہ انہیں کیا فائدہ دے گا؟ حضرت حذیفہ نے ان سے اعراض کیا صلہ نے تین مرتبہ آپ سے پوچھا آپ اعراض کرتے رہے تیسری مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ حضرت صلہ کی طرف متوجہ ہوئے فرمایا اے صلہ یہ کلمہ ان کو نارجھنم سے نجات دے گا۔تین مرتبہ یہ کہا۔

    (مستدرک للحا کم جلد نمبر ۵ صفحہ نمبر ۶۶۶ حدیث نمبر ۸۵۰۸،
    سنن ابن ماجہ ، باب ذھا ب القرآن والعلم حد یث نمبر ۴۰۴۹،
    کتا ب النہایہ فی الفتن لا بن کثیر جلد نمبر ۱ صفحہ نمبر ۳۰)
    امام حاکم نے کہا ہے یہ حدیث ٖصحیح ہے
    اس حدیث شریف میں جن حا لات کا ذکر کیا گیا ہے ابھی وہ حالات یقینا نہیں آئے ، ابھی تو نما زیو ں سے مسجد یں بھر ی ہو ئی ہیں روزے دار روزہ رکھتے ہیں آج کے حا لات کے مقابلے میں وہ حالات کتنے برے ہو نگے جب نماز روزے کا نا م بھی بھول جائے گا مگر کلمہ اسلام پھر بھی نہیں بھولا ہوگا ۔ اس وقت کے کمزور ترین مومن کا بھی کلمہ معتبر ہوگا ،چنانچہ آج کے مسلما نوں پر تھوک کے لحا ظ سے فتوی شرک کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔ جن کے کلمہ کو غیر معتبر قراردے دیا جائے اس کا یہ مطلب نہیں کہ شرک جلی کا امکان نہیں امکا ن توخدائی کے جھوٹے دعوے کا بھی ہے (معاذاللہ) جب کوئی جھوٹا یہ کہہ سکتا ہے کہ میں خود اللہ ہوں (معا ذاللہ) اس کا رب ذوالجلا ل کے علاوہ کسی اور کو معبود مان کر شرک کرنے کا امکا ن موجود ہے لیکن امت میں ہر طرف پھیل جا نے والا شرک وہ شرک خفی ہے ۔ ریا کا ری ہے
    سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس امت نے خاتم النبین حضر ت محمد مصطفےﷺ کی ختم نبوت پر پہرادینے کا حق ادا کیا ہے اور آپ ﷺکے بعدکسی کی جھوٹی نبوت کو برداشت نہیں کر سکی اور اس معنی میں شرک فی الرسالت کا مقابلہ کیا ہے وہ امت سید المر سلین حضر ت محمد مصطفی ﷺکو معبوث کرنے والی ذات اللہ وحدہ لاشریک کے بارے میں شرک کو کیسے برداشت کر سکتی ہے جن کے نزدیک رسول اللہ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا ان کے نزدیک ازلی ابدی حی قیوم اللہ کے ہوتے ہوئے کو ئی اور اللہ کیسے ہو سکتا ہے ۔
    ویسے بھی جب تک قرآن موجو دہے شرک جلی کے امت میں پنپنے کی کوئی گنجا ئش نہیں ہے۔ پہلی امتو ں میں جو بد عملی تھی اس کا اس امت میںآجا نا معاذاللہ ایک اور امر ہے مگر پہلی امتو ں میں جیسے شرک تھا ویسے اس امت میں آنا یہ ہر گزنہیں ہے ان امتوں کی کتابیں محرف ہو گئیں مگر اس امت کا قرآن آج بھی تحریف سے پا ک ہے۔ان امتو ں میں ایسا بگاڑجو آیا تو اصلاح کیلئے نبوت کا دروازہ کھلا تھا ۔ مگر یہ امت آخری امت ہے اور رسول ﷺآخری نبی ہیں ۔ چنا نچہ پہلی امتو ں جیسی شر ک کی بیما ری اس امت کا مسئلہ ہی نہیں ہے ۔اگر تھوک کے لحا ظ سے اس امت میں شرک آجانا ہوتا تو نبوت کا دروازہ بند نہ کیا جاتا بلکہ کچھ لوگو ں کے بقو ل ـــ��آج مشرکین مکہ کے شرک سے بڑا شر ک مسلما نو ںمیں پایا گیا ہے��تو رسول ﷺکو چھو ٹے مشرکین کے خلاف جہا د کیلئے نہ بھیجاجاتا بلکہ بڑے مشرکین کے زما نے میں معبوث کیا جا تا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول ﷺکو نہا یت گھمبیر شرک کے زمانے میں مبعوث کیا گیااور آپ ﷺ نے شرک کی جڑیں ہمیشہ کیلئے کا ٹ دیں اور اپنی امت کی ریا کاری ،دنیا کی رغبت اور شہوت خفیہ کو شدید فتنہ قرار دیا امت کو شرکیہ امور سے ڈرانا ضرور چاہیے تا کہ کہیں جزوی طور پر بھی امکا نی صورت واقع میں نہ پائی جاسکے مگر توسل ،تبرک کا عقیدہ رکھنے والوں پر اور مزارات اولیاء پر حا ضری دینے والوں پر شرک کا فتوی بہت بڑا ظلم بھی ہے اور ملت میں انتشار کا باعث بھی ہے۔

    توحید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت (Divinity) میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ معیارِ الوہیت واجب الوجود ہونا اور مستحق عبادت ہونا ہے۔ واجب الوجود وہ ذات ہے جس پر کبھی نہ عدم آیا ہے نہ آسکتا ہے۔ وہ صرف ایک ذات ہے اللہ تعالیٰ کی جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی کوئی وقت ایسا نہیں کہ وہ نہیں تھا اور کوئی وقت ایسا نہیں ہوگا کہ وہ نہ ہو۔ اگر بندہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو واجب الوجود مانتا ہے یا مستحق عبادت مانتا ہے تو وہ مشرک ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے اذن واجازت سے کسی ذات کو مدد گار مان لینا یہ شرک نہیں ہے۔ کیونکہ معیارِ الوہیت مدد گار ہونا نہیں ہے بلکہ واجب الوجود ہونا اور مستحق عبادت ہونا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی میں مجازی ہو سکتا ہے اور نہ عطائی۔ جبکہ قرآن مجید میں ہے کہ فرشتوں کو میدانِ بدر میں مدد گار بنایا گیا تھا۔ رسول اللہﷺ کے بارے میں یا اولیاء اللہ کے بارے میں مشکل کشائی کا عقیدہ رکھنے سے نہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں شرک لازم آتا ہے اور نہ ہی صفات میں۔ ذات میں اس لیے نہیں کہ مجازی مدد گارماننے سے ان مقبولانِ بارگاہ ایزدی کو واجب الوجود مانا گیا ہے اور نہ ہی مستحق عبادت۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کے لحاظ سے بھی شرک لازم نہیں آئے گا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جو مشکل کشائی اور حاجب روائی کرتا ہے تو کسی کے اذن و توفیق سے نہیں خود ایسا کرتا ہے۔ مقبولانِ بارگاہ ایزدی اللہ تعالیٰ کے حکم و توفیق سے ایسا کرنے والے ہیں۔ شرک تب لازم آتا جب اللہ تعالیٰ کے بندوں کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرح کسی کا محتاج نہ مانا جاتا یا پھر اللہ تعالیٰ کو بھی اللہ کے بندوں کی طرح مشکل کشائی میں کسی کا محتاج مانا جاتا معاذ اللہ جبکہ ایسا نہیں تو پتہ چلا اس کی ذات میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور صفات میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔
    قرآن مجید کی تقریباً ساٹھ آیات ہیں جن میں ایک ہی وصف کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے بارے میں بھی بیان کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اور لحاظ سے اور بندوں کے بارے میں اور لحاظ سے ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرۃ آیت نمبر۲۵۷ میں فرمایا۔ ظلمت سے نور کیطرف اللہ تعالیٰ نکالتا ہے۔ اور سورۃ ابراہیم آیت نمبر 1میں اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ سے فرماتا ہے ہم نے آپ کیطرف کتاب اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کو ظلمت سے نکال کر نور عطا فرمائیں۔ ظلمت سے نور کی طرف نکالنا مشکل کشائی ہے لیکن مشکل کشائی معیارِ الوہیت نہیں ہے۔ اس کا مجازاً بندے کو مظہر بنایا جاسکتا ہے۔ مگر الوہیت مجازی نہیں ہوتی نہ کوئی مجازی واجب الوجود ہوتا ہے اور نہ مجازی معبود ہوتا ہے۔
    اس میں مقبول بارگاہ ایزدی کے وصال سے پہلے اور بعد میں کوئی فرق نہیں ہے جیسے قبل از وصال کسی کو مجازی طور پر اللہ تعالیٰ نہیں کہہ سکتے مگر مدد گار تو کہہ سکتے ہیں اگر مدد گار ہونا معیارِ الوہیت ہوتا ہے تو کسی زندہ پر بھی مدد گار کا لفظ بولنا شرک ہوتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا صرف فوت شد گان میں سے کسی کو شریک ماننا ہی شرک نہیں بلکہ زندوں میں سے بھی کسی کو اسکا شریک ماننا شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیا بعید ہے جو عصائے کلیم اللہ علیہ السلام کو جامد ہونے کے باوجود جاندار بنادے تو مقبولانِ بارگاہِ ایزدی کو بعد از وصال بھی وہی تجلیوں کا مظہر بنا دے۔
    قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس میں مقبولانِ بارگاہ ایزدی کو اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان وسیلہ بنانے سے منع کیا گیا ہو یا ان کے وسیلے سے دعا مانگنے سے روکا گیا ہو۔
    ہاں قرآن مجید میں بتوں کو وسیلہ بنانے والے بتوں کے پجاریوں کے عقیدہ کی مذمت کی گئی ہے۔ اور یہ واضح ہے کیونکہ بت اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور پھر ان کی عبادت کر کے انہیں رب کے قرب کا ذریعہ سمجھنا شرک ہی شرک ہے اور مقبولانِ بارگاۂ ایزدی اللہ تعالیٰ کے محبوب و مقرب ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے دشمن بتوں کی طرح نہیں ہیں۔ ھاں اگر ان محبوبانِ الہٰی کی عبادت کر کے کوئی اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتا ہے ان ذوات کی عزت کے باوجود ان کو معبود بنا کر قربِ ایزدی کا وسیلہ بنانے والے پر فتویٰ لگے گا۔
    لیکن جمہور امت ِ مسلمہ اللہ تعالیٰ کے کسی نبی یا ولی کو معبود بنائے بغیر انہیں قربِ الہٰی کا وسیلہ بناتے ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید کی کسی آیت میں یا کسی بھی حدیث میں کوئی ممانعت نہیں بلکہ وسیلہ بنانے کا حکم اور اجازت ہے۔
    قرآن مجید میں بتوں کے بارے میں جو لفظ دعا استعمال کیا گیا ہے اس کا معنٰی پکارنا یہ اسلوبِ قرآن سے بے خبری کا نتیجہ ہے۔ لفظ دعاء کا معنٰی پکارنا بھی ہے مگر وہ دعائِ لغوی ہے اور بتوں کے بارے میں جہاں لفظ دعا استعمال ہوا ہے وہاں دعا سے مراد پوجنا ہے پکارنا نہیں ہے اور بعض قلیل مقامات پر جہاں بتوں کے بارے میں دعا کا معنٰی پکارنا ہے وہاں یہ بات حتمی طور پر ثابت ہے کہ وہ پہلے ان کو معبود مان چکے ہیں پھر انہیں بحیثیت معبود پکار رہے ہیں جو کہ شرک ہے۔ اس پر قرآنی آیات، احادیث اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم گواہ ہیں۔ ویسے بھی مکہ شریف یا مدینہ شریف میں کوئی قبر ایسی نہیں تھی کہ لوگ جسے پکارتے ہوں اور ان آیات کا نزول ہوا ہو۔ ھاں بتوں کی پوجا تھی جسکی مذمت کی گئی۔


    رسول اللہﷺ کے آثار مقدسہ پر حاضری اور برکت کے حصول کیلئے وہاں جانا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا بھی عقیدہ تھا اسے کسی نے بھی شرک نہیں سمجھا بلکہ رسول اللہﷺ کے مبارک قدموں کے لگنے کی جگہ ڈھونڈ کر صحابہ نماز پڑھتے رہے اور دعائوں کی قبولیت کیلئے ایسے مقامات کی نیت سے سفر کیا۔

    (۱) حضرت عتبان بن مالک جو انصاری اور بدری صحابی ہیں، انہوں نے نابینا ہو جانے پر رسول اللہﷺ سے درخواست کی۔
    ��یا رسول اللہﷺ مجھے پسند ہے کہ آپ میرے پاس میرے گھر میں تشریف لائیں ایک جگہ آپ نماز پڑھیں میں اسے اپنے لیے جائے نماز بنالوں رسول اللہﷺ نے یہ دعوت قبول فرمائی۔
    (بخاری جلد نمبر۱، صفحہ۱۱۶، حدیث نمبر۴۲۵دارالفکر )
    پھر رسول اللہﷺ حضرت عتبان کے گھر تشریف لے گئے اور ایک جگہ جماعت کروائی

    ( بخاری حدیث نمبر۴۲۴)
    (۲) حضرت موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو مدینہ شریف سے مکہ شریف جاتے ہوئے راستے میں کچھ مقامات ڈھونڈ کے نماز پڑھتے دیکھا اور وہ بتاتے تھے کہ میرے والد محترم حضرت عبداللہ بن عمر ان مقامات پر نماز پڑھتے تھے اور انہوں نے رسول اللہﷺ کو ان مقامات پر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔

    (بخاری جلد نمبر۱،ص۱۲۶، حدیث نمبر۴۸۳)

    (۳) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو عین کعبۃ اللہ کے اندر تھے سرکار دو عالم ﷺ نے جہاں نماز پڑھی اسے کعبہ کے دوسرے مقامات سے افضل سمجھتے تھے۔حضرت نافع کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کعبہ میں داخل ہوتے تھے دروازے سے داخل ہوتے سیدھے چلتے تھے دروازے کو اپنی پشت کے پیچھے رکھتے تھے پس چلتے تھے یہاں تک ان کے چہرے کے سامنے والی دیوار اور انکے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا۔ اب اس مکان کا ارادہ کرتے تھے جس کے بارے میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو بتایا تھا کہ رسول اللہﷺنے اس جگہ نماز پڑھی ہے۔

    (بخاری شریف ، جلد ۱، ص۱۳۳، حدیث نمبر۵۰۶)

    (۴) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ رسول اللہﷺ نے غزوہ خندق کے موقع پر مسجد ��فتح�� میں پیر، منگل اور بدھ کے روز دعا مانگی چنانچہ بدھ کے دن دو نمازوں کے دوران آپﷺ کی دعا قبول کرلی گئی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا جب بھی مجھ پر کوئی مشکل سے مشکل مرحلہ آیا میں نے بدھ کے دن اسی وقت دو نمازوں کے درمیان مسجد فتح میں جا کر دعا کی ، ہر بار میری دعا قبول ہوئی اور مجھے قبولیت کا پتہ بھی چل گیا۔

    (الادب المفرد ،للا مام بخاری ص۵۵۸، دار ابن کثیر بیروت،
    مسند امام احمد جلد۵،ص۱۱۰، حدیث نمبر۱۴۶۱۷مطبوعہ عالم الکتب ،
    وفا ء الوفا ، جلد نمبر۳، ص۳۹، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، )
    یہاں واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ حضرت جابر مسجد نبوی مسجد حرام مسجد اقصی کے علاوہ مسجد فتح میں حصول برکت کیلئے تشریف لے جاتے تھے قبولیت دعا کیلئے معین وقت اور معین جگہ کا اھتمام کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی برکت سے متبرک جگہ پر حاضری اپنے لیے مفید سمجھتے تھے۔
    صحابہ کرام سے لے کر آج تک جمہورِ امت اس نظریے پر قائم رہ کر توحید کی علمبردار ہے۔
    (۱) حضرت بلال بن حارث رضی اللہ عنہ نے جو صحابی رسولﷺ ہیں۔ بعد از وصال نبویﷺ دورِ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ میں رسول اللہﷺ کے روضہ پاک پر جا کر آپ سے مدد چاہی۔ جس کو ابنِ کثیر نے البدایہ والنھایہ جلد نمبر۷ صفحہ نمبر۹۸پر روایت کیا ہے اور اس سند کو صحیح کہا ہے۔ ایسے ہی ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری شرح صحیح البخاری جزنمبر۲ صفحہ نمبر۶۲۹ میں اسکو ذکر کے اس کی توثیق کی ہے۔
    (۲) حضرت محمد بن منکدر جو تابعی ہیں اور حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ایسی شخصیات کے استاد ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے روضہ پاک کے بارے میں کہا۔ مجھ پر جب مصیبت آتی ہے تو میں رسول اللہ ﷺ کی قبر سے استعانت کرتا ہوں۔
    سیر اعلام النبلاء جلد نمبر۶ صفحہ نمبر۱۵۹
    (۳) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد امام المحدثین حضرت ابو بکر بن خزیمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تیسری صدی ہجری میں حضرت امام علی رضارحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار شریف پر محدثین کی جماعت کے ہمراہ حاضری دی اور بڑی تواضع و تضرع سے کھڑے رہے۔
    تہذیب التہذیب جلد نمبر۴ صفحہ ۶۵۷
    (۴) حافظ الحدیث محمد بن حبان رحمۃ اللہ تعالیٰ نے بھی چوتھی صدی ہجری میں امام علی رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی قبر شریف کی حاضری کو ہر مشکل کاحل قرار دیا۔
    (کتاب الثقات ۵/۳۲۵)
    ایسے ہی ہر دور میں تبرک کا یہ عقیدہ موجود رہا ہے۔یہاں تک کہ حافظ ابن کثیر نے اپنے امام ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا ہے۔
    ابن تیمیہ کی وفات کے بعد ایک جماعت غسل دینے سے پہلے چارپائی کے پاس بیٹھ گئی انہوں نے پاس بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کی اور ابن تیمیہ کے دیدار سے بھی برکت پائی اور بدن کو چوم کر بھی برکت حاصل کی پھر مرد پیچھے ہٹ گئے اور عورتوں کی جماعت نے بھی یہی کام کیا (دیکھ کر اور بدن کو چوم کر) برکت پائی نیز حافظ ابن کثیر نے یہ بھی لکھا ایک جماعت نے ابن تیمیہ کے غسل سے بچا ہوا پانی پیا اور ایک جماعت نے ابن تیمیہ کے بدن کو بیری کے جن پتوں سے غسل دیا گیا تھا وہ پتے آپس میں تقسیم کرلیے۔

    (البدایہ والنھایہ ، جلد نمبر۱۴، ص۵۵۲،۵۵۳، مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)
    جسٹس محمد تقی عثمانی نے دیو بند کے پہلے صدر مدرس محمد یعقوب نانوتوی کے بارے میں لکھا ہے دیو بند کے اطراف میں ہیضے کی وباء کا آغاز ہو رہا تھا حضرت مولانا کو اس کے بارے میں کوئی کشف ہوا ہوگا۔ آپ نے دیو بند میں یہ اعلان کرایا کہ۔
    ��ہیضے کی شدید وباء گھر گھر پھیلنے والی ہے لوگوں کو چاہیے کہ وہ کثرت سے صدقہ و خیرات دیں اور اپنی مملوکات میں سے روپیہ، غلے میں سے غلہ، کپڑے میں سے کپڑا، شاید اللہ تعالیٰ ان صدقات کی برکت سے اس بلا کو روک دیں��۔
    لیکن دیو بند کے بعض شیخ زادوں نے سُنا تو انہوں نے اس پر توجہ دینے کی بجائے استہزاء کا انداز اختیار کیا اور کہنے لگے کہ:
    ��ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مدرسے میں چندے کی کمی ہوگئی ہے جسے پورا کرنے کے لئے مولوی صاحب یہ اعلان کر رہے ہیں��۔ حضرت کو یہ جملہ پہنچا تو جوش میں آکر فرمایا: ۔
    ��اچھا تو اب وبا آکر رہے گی اور ایک ایک گھر سے کئی کئی جنازے اٹھیں گے��حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ ��حضرت! آپ بھی تو یہیں مقیم ہیں�� فرمایا۔
    ��ہاں! یعقوب اور یعقوب کی اولاد بھی اسی وباء میں جائے گی�� چنانچہ وہ شدید وباء آئی اور حضرت مولانا کی وفات بھی اسی وباء کے دوران ہوئی پھر یہ بھی مشہور ہے۔ واللہ اعلم۔ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا کی قبر کی مٹی کو اس وباء کے مریضوں کے لیے سامان شفا بنا دیا ۔ جس گھر میں کسی کو ہیضہ ہوتا، مولانا کی قبر سے کچھ مٹی اٹھا کر لے جاتا اور اس کے استعمال کی برکت سے اللہ تعالیٰ مریض کو شفا بخش دیتے۔

    (جہان دیدہ ص،۵۱۷،۵۱۸)
    چنانچہ تبرک و توسل ایسے امور کی بنیاد پر امت مسلمہ پر شرک کا فتویٰ لگانا ہر گز درست نہیں ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے بعض مقامات پر جو خرافات کا سلسلہ جاری ہے اسے نہ روکا جائے ۔نہیں خرافات کو آ ہنی ہاتھوں سے روکنا چاہیے۔
    حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمہ اللہ علیہ نے مزارات اولیاء پر حاضری کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہا۔
    ��مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالا تفاق ناجائز اور سجدہ حرام ��

    (فتاوی رضویہ جلد نمبر۹،ص۵۲۲، طبع رضا فائونڈیشن لاہور)
    آج عقیدہ توحید پر قائم اس امت کا پرابلم بت پرستی نہیں بلکہ ریااور وھن ہے۔
    طبیب قلوب حضرت محمدمصطفیﷺ نے اس صورت حال کا تذکرہ کر کے اس کا علاج بھی بتایا ہے۔
    ��حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایاقریب ہے کہ کئی باطل گروہ تمہیں قتل کرنے کیلئے اور تمہارا مال لوٹنے کیلئے ایک دوسرے کو یوں دعوت دیں جیسے کھانے والے ایک برتن پر دوسروں کو دعوت دیتے ہیں ایک صحابی نے پوچھا یہ صورت اس وقت مسلمانوں کی کم تعداد کی وجہ سے ہوگی رسول اللہﷺ نے فرمایا بلکہ اس وقت تم آج کے مقابلے کہیں زیادہ ہوگے لیکن تم(امت مسلمہ) اس وقت سیلاب کی پھین(جھاگ) کی طرح ہوگے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ھیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وھن ڈال دے گا ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہﷺ وھن کیا ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔
    (مسند امام احمد جلد۵ صفحہ۲۷۸،مطبوعہ عالم الکتب)
    چنانچہ ہمارے مسئلے کا حل جس میں پوری قوم مبتلا ہے اور پوری امت پریشان ہے وھن کا مرض دور کرنے میں ہے۔ رسول اللہﷺ کے دو لفظوں پر عمل سے ہمارا کھویا ہوا وقار بحال ہو سکتا ہے۔ دندناتے ہوئے امریکی درندوں کو لگام دی جاسکتی ہے اور ملک کی شاہراہوں اور گلیوں کو گرتے لاشوں سے بچایا جاسکتا ہے۔ دنیا کی محبت ترک کی جائے۔ اور موت سے نفرت ترک کی جائے۔ دنیا کی محبت سے مراد وہ محبت ہے جو بندے کو آخرت سے غافل کرے ایسی محبت ترک کرنا لازم ہے۔ موت کی محبت اختیار کرنے سے مراد خودکشی نہیں ہے۔ بلکہ رضاء الہٰی کی خاطر دنیا پر آخرت کو ترجیح دینا ہے۔ اس سلسلہ میں جان بھی دینی پڑے تو اس کی پروانہ کرناہے
    ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

  • #2
    Re: عقیدہ توحید اور امت توحید !~1~!~

    جزاک اللہ آبی بھائی
    ایک حصہ پڑھ سکا ہوں مزید بھی جلد پڑھ لوں گا
    لیکن جتنا پڑھا وہ بھی اتنا جامع اور بہترین ہے کہ سبحان اللہ
    اللہ جی ہم مسلمانوں کو صحیح مسلمان ہونے کا شرف عطا فرمائیں آمین
    :star1:

    Comment

    Working...
    X