Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Lets Pray for All اپنے مسلمان بھائ بہنوں کے لئے غائبانہ دعا

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Lets Pray for All اپنے مسلمان بھائ بہنوں کے لئے غائبانہ دعا

    السلام علیکم
    آئے اس فورم میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو دعائوں میں یاد رکھیں ۔ غائبانہ دعا کی بڑی فضیلت ہے اپنی دعائوں کی حاجتیں پوسٹ کریں

    دعاکرنا بھی خیرخواہی ہے
    غائب مسلمان کو اپنی دعاوٴں میں یاد رکھنا بھی اس کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے ، غائبانہ دعا کرنے والوں کی تعریف قرآن پاک میں بھی ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ﴿وَالَّذِیْنَ جَاؤُوْا مِنْ بَعْدِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْإِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِّلَّذِیْنَ آمَنُوْا رَبَّنَا إِنَّکَ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴾ (الحشر:10)

    ”نیز (یہ مال)ان لوگوں کا (حق ہے)جوان سب کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں بھی اورہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اورہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کسی قسم کا کوئی کھوٹ نہ رکھ۔ اے ہمارے رب !بلاشبہ تو بڑا ہی شفیق ،انتہائی مہربان ہے ۔“

    نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلى الله عليه وسلم کو موٴمنین اور موٴمنات کے لیے استغفار کا حکم دیا ہے: ﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ﴾ (محمد : 19)
    ترجمہ:”اور معافی مانگو اپنے گناہ کے لیے اور ایمان دار مردوں اور عورتوں کے لیے بھی “۔

    اور حضرت نوح عليه السلام نے اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کی :﴿رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْْتِیَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾۔ (نوح : 28)

    ”اے میرے رب! بخشش فرما دے تو میری بھی، میرے ماں باپ کی بھی اور ہر اس شخص کی بھی جو داخل ہو میرے گھر میں، ایمان کی حالت میں، اور سب ہی ایمان دار مردوں اور ایمان دار عورتوں کو “۔

    اور حضرت ابراہیم عليه السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دی ہے :﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَاب﴾․ (إبراہیم :41)

    ” اے ہمارے رب! بخشش فرما دے میری بھی اور میرے والدین کی بھی، اور سب ایمان والوں کی بھی، اس دن جب کہ حساب قائم ہوگا“۔

    اور حضرت ابو الدرداء رضي الله عنه آپصلى الله عليه وسلمکا ارشاد نقل کرتے ہیں :” ما من عبد مسلم یدعو لأخیہ بظہر الغیب إلا قال الملک: ولک بمثل“ (مسلم ، حدیث نمبر : 2732 ، باب فضل الدعاء)

    ” جو مسلمان اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تمہارے لیے بھی اسی طرح ہو “۔

    اور حضرت صفوان کہتے ہیں کہ میں اپنے خسر حضرت ابو الدرداء رضي الله عنه سے ملنے کے لیے گیا ، وہ گھر پر تشریف فرما نہ تھے ؛ البتہ ہماری خوش دامن حضرت ام الدرداء رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، انہوں نے پوچھا کہ امسال آپ کا حج کا ارداہ ہے ؟میں نے اثبات میں جواب دیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لیے خیر کی دعا کرنا ؛ کیوں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم فرماتے تھے کہ ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا قبول ہوتی ہے ، دعا کرنے والے کے قریب ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے ، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو موجود فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ تمہارے لیے بھی اسی جیسا ہو ۔ (حوالہ سابقہ ، حدیث نمبر : 2733)

    ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنے کی بڑی فضیلت ہے ، اس سے اپنے بھائی کے بارے میں اس شخص کا غیر معمولی خلوص و محبت اورخیر خواہی کا بہترین جذبہ ظاہر ہوتا ہے ، اسی حکم میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ اگر کوئی شخص کسی متعین مسلمان کے لیے تو دعا نہیں کرتا ؛ لیکن جماعت مسلمین کے لیے دعا کرتا ہے ، حدیث مذکور میں یہ بھی خوش خبری کہ اس سے دعا قبول ہوگی ؛ (دلیل الفالحین : 299/7) کیوں کہ دعا کرنے والا اللہ کی رضا وخوش نودی والا کام کررہا ہے ؛ اس لیے اللہ تعالیٰ خوش ہوکر اس کی دعا قبول کرلیتا ہے ۔ (حوالہ سابقہ)

    حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضي الله عنه روایت کرتے ہیں : ”أسرع الدعاء إجابة دعاء غائب لغائب “ (الأدب المفرد ، حدیث نمبر : 623 ، باب دعاء الأخ بظہر الغیب)

    ” تمام دعاوٴں سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب شخص کے لیے ہو “ ۔

    اس لیے اسلاف کا طریقہ رہا ہے کہ جب وہ اپنے لیے دعا کرنا چاہتے تھے تو ان دعاوٴں میں اپنے بھائیوں کو بھی شامل کرتے تھے ؛ تاکہ ان کی برکت سے خود ان کی دعا قبول ہوسکے اور انہیں بھی اس کے بقدر حاصل ہوجائے اور ایک حدیث میں تو صراحة مذکور ہے کہ کسی بھائی کے لیے اگر غائبانہ دعاکی جائے تو وہ ردنہیں کی جاتی ہے ۔ (مسند أحمد ، حدیث نمبر : 3577، أول حدیث عمران بن حصین)گویا وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے ۔

    حضرت ابو الدرداء رضي الله عنه فرماتے ہیں کہ میں اپنے ستر بھائیوں کے لیے سجدہ کی حالت میں نام لے کر دعا کرتا ہوں (إحیاء علوم الدین : 186/2، کتاب آداب الألفة) یہ خیر خواہی کا اعلیٰ درجہ ہے ، پوری جماعت مسلمین کے لیے دعا کرنے میں وہ خصوصی حضرات بھی شامل ہوجاتے ، لیکن ناموں کی اتنی لمبی فہرست سجدہ کی حالت میں لیتے اور ہر ایک کے لیے جداگانہ دعا فرمایا کرتے تھے ، یہی حضرات تھے جو حدیث پر عمل کرکے دکھاگئے ، وہ گویا اس کے لیے پیدا کیے گئے تھے ، غائبانہ دعا کرنے کی جو فضیلت ہے اس پر انہوں نے نہ صرف یہ کہ خود عمل کیا ؛ بلکہ بعد میں آنے والوں کے لیے اسوہ اور نمونہ بھی چھوڑ کر گئے کہ کس طرح غائبانہ دعا کی جائے اوراس میں کیا نیت کی جائے ، غائبانہ دعا کرنے میں خود دعاکرنے والے کا فائدہ ہے ، اس سے جہاں خلوص ومحبت کا اظہار ہوتا ہے ، وہیں اس کی دعا خود اپنے حق میں بھی قبولیت کے لائق بن جاتی ہے اور فرشتوں کی آمین کی مستحق بن جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس فضیلت کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! آمین
    Source: http://farooqia.com/ur/lib/1433/07/p46.php
    Last edited by Admin; 21st September 2016, 10:57. Reason: Justified text to right. Font size changed. Tagged.

  • #2
    JazzakAllah o Khair
    مجھے تلاش نہ کر ذوقِ بیخودی سجود
    نظر کی چند شعاعوں میں گھر گیا ہوں میں

    Comment


    • #3
      ameen
      اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
      اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

      Comment

      Working...
      X