Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Aik bohat hi ahm sawal

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Aik bohat hi ahm sawal

    :thmbup: Asslam-o-Alaikum
    Abid bhai omeed ha aap khariet se hoon ge mera sawal yeh ha kah kisi amaam masjid ne pucha ha kah aik aurat ka khawand saat saal se la pata ho gia ha aur os aurat ke do bache hain ab us k khawand k bara main koi patha nahin kay wo foot ho gia ha ya nahin us mard ko us k gar walon ne bohat doonda magar us ke bare main koi pata nahin chal raha aur larki ke gar wale apni beti ki shaadi dobara karna chahte hain kia wo is tarha shadi kar sakte hain ya intizar karna pare ga aur kitna aap maharbani farma kar shariet ki roow se tafsili rahnamai farmain ALLAH TALLA aap ka hamiou nasir ho.

  • #2
    Re: Aik bohat hi ahm sawal

    اسلام علیکم بھائی آپکے پوچھے گئے سوال کا تعلق مفقود الخبر شوہر کے بارے میں ہے.
    تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مفقود الخبر وہ شخص ہے جو کہ منکوحہ بیوی کا شوہرہو اور پھر کہیں چلا گیا ہو اور اس کی کوئی خبر نہ ہو کہ آیا زندہ ہے یا مرگیا ایسے شخص کی بیوی دوسرا نکاح نہیں کرسکتی جب تک یہ یقین نہ ہوجائے کہ وہ وفات پا گیا ہے۔ مفقود الخبر کے بارے میں امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کی یہی رائے ہے کہ اس کی بیوی اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتی جب تک کہ ایسے شخص کی موت کا یقینی علم نہ حاصل ہوجائے عقد نکاح کا احترام اور اخلاق کی پاکیزگی اس رائے کو مان لینے کی تائید کرتے ہیں لیکن فی زمانہ جب کہ مواصلات کے زرایع میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہوچکی ہے اب کسی شخص کے بارے میں سابقہ زمانے کی طرح زیادہ دیر تک غائب رہنا تقریبا ناممکن ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ زمانہ حال میں ضبط نفس اور اخلاق کی وہ اعلٰی قدریں بھی باقی نہیں رہیں تو امت کے فقہا نے ایسی عورت کو بغیر کسی سرپرست کہ جو اسکی عزت و عصمت کا بھی نگہبان ہو چھوڑے رکھنا اسلامی مزاج کے خلاف سمجھا لہذا امام مالک اور امام احمد بن حنبل کہ اقوال کی روشنی میں ایسی عورت کے لیے چار سال انتظار کی مدت متعین کرکے اس کو عقد ثانی کی اجازت مرحمت فرمادی ہے ۔ نیز فقہا احناف بھی اس مسلک سے متفق ہیں اس پر عمل درآمد درج زیل طریقے سے ہوگا۔
    سب سے پہلی ایسی عورت اپنے شوہر کی غیر حاضری میں نان و نقفہ کا پراپر انتظام نہ ہونے نیز اپنی عصمت کی حفاظت کا متبادل نظام نہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنا دعویٰ مسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے یااسلامی عدالت میں دائر کرے گی۔ اور دعوے کے ثبوت کے لیے دو گواہ پیش کرے گی جو کہ اس کی متعلقہ شخص کے ساتھ نکاح ہوجانے اور پھرمخصوص مدت سے اس کے لاپتہ ہونے کی گواہی دیں گے۔
    حاکم یا مسلمان جماعت اس معاملے پر غور کریں گے اور اپنے زرایع سے ہر ممکن طریقے سے مفقود الخبر شوہر کا پتا لگانے کی کوشش کریں گے جب اس کا سراغ نہ مل پائے تو عورت کو چار سال انتظار کی مدت کا حکم دیں گے اور اس مدت کہ گذر جانے پر عدالت متعلقہ شخص کو مردہ قرار دینے کا حکم صادر کرے گی۔ اور وہ عورت عدالت سے اس حکم کے جاری ہونے کی تاریخ سے لیکر چار ماہ دس دن تک بیوہ کی عدت کو پورا کرے گی تواب اسے دوسرا نکاح کرنے کی اجازت ہوگی۔۔۔
    امید ہے آپ کو آپ کےسوال کا جواب مل گیا ہوگا۔
    والسلام آپکا خیر اندیش عابد عنائت۔
    ساقیا ہور پلا ہور پلا ہور پلا

    Comment


    • #3
      Re: Aik bohat hi ahm sawal

      :rose bohat khoob Abid bhai ALLAH TALLA aap ki umer main barkat daley aamin

      Comment


      • #4
        Re: Aik bohat hi ahm sawal

        Jazak Allah

        Comment


        • #5
          Re: Aik bohat hi ahm sawal

          Buhat hee acha reply kia hay Abid sahib.

          Comment


          • #6
            Re: Aik bohat hi ahm sawal

            jazakallah

            Comment

            Working...
            X