Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Pakistan ki Tareekh or Haqaiq

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Pakistan ki Tareekh or Haqaiq

    اسلامی جمہوریۂ پاکستان جنوبی ايشيا ميں واقع ہے۔ پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران اور جنوب ميں بحيرہ عرب واقع ہيں۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ اور يہ نام چودھری رحمت علی نے تجويز کيا تھا۔

    تاريخ

    711 میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں محمد بن قاسم پاکستان کے خاصے حصے کو فتح کرتا ہے اور یوں پاکستان دنیا کی سب سے بڑی عرب ریاست کا ایک حصہ بن جاتا ہے جس کا دارالحکومت دمشق، زبان عربی اور مذہب اسلام تھا۔ پاکستان سیاسی، مذہبی اور ثقافتی طور پر عربدنیا سے جڑ جاتا ہے۔ اس واقع نے پاکستان اور جنوبی ایشیاء کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
    سن 1947 سے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش برطانوی کالونی تھے اور برصغیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی (انگریزوں سے) کی تحریک کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" اس تحریک کا مقبول عام نعرہ تھا۔ اس مطالبے کے تحت تحریک پاکستان وجود میں آئ۔ اس تحریک کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔ 14 اگست1947 کو پاکستان وجود میں آیا۔ تقسیم برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں نے کچھ ایسے سقم چھوڑے جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1948اور 1965 میں کشمیر کے مسلہ پر دو جنگیں کا سبب بن۔ اس کے علاوہ کیوں کہ پاکستانی پنجاب میں بہنے والے تمام دریا انڈیا کے زیر قبضہ کشمیر سے ہوکر آتے تھے لہذا پاکستان 1960 میں انڈیا کے ساتھ سندھ طاس ماہدہ کرنا پڑا جس کے تحت پاکستان کومشرقی دریاوں ستلج، بیاس اور راوی سے دستبردار ہونا پڑا۔ جبکہ دریاے سندہ، چناب اور جہلم پر پاکستان کا حق تسلیم کر لیا گیا۔
    1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئ اندرونی اور بیرونی مشکلات نے پاکستان کو گھیرے رکھا۔ 1948 میں جناح صاحب کی وفات ہو گئی۔ ان کے بعد حکومت لیاقت علی خان کے ہاتھ میں آ گئ۔ 1951 میں لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ 1951 سے 1958 تک کئ حکومتیں آئیں اور ختم ہو گئیں۔ 1956 میں پاکستان میں پہلا آئین نافذ ہوا۔ اس کے با وجود سیاسی بحران کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1958 میں پاکستان میں مارشل لاء لگ گیا۔
    پاکستان میں موجود تمام بڑے ڈیم جنرل ایوب کے دور آمریت میں بنائے گئے۔ ایوب دور میں پاکستان میں ترقی تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان دور ہوتا گیا۔ 1963 میں پاکستان کے دوسرے آئین کا نفاذ ہوا۔ مگر مشرقی پاکستان کے حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گۓ،عوامی لیگ کی انتخابات میں واضع کامیابی کے باوجود فوجی حکمران یحیی خان نے اقتدار کی منتقلی کی بجائے مشرقی پاکستان میں فوجی اپریشن کو ترجیع دی

    تہذیب

    پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن، ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبون نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايک اسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔

    پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک سب ہی کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز ہے۔
    پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امراء اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئ تحريک ہے جو کہ مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جکہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکا‏ؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔
    پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا، کنيڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہپ سرمايہ کاری بھی کی ہے۔
    پاکستان کا سب سے پسندينہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميں ہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ہاکی جو كہ پاكستان كا قومى كھيل بھى ہےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كھيل ہے اور اس كھيل كى پيدايش بھى يہيں ہوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔
    Last edited by musaddaq; 6 April 2009, 06:43.

  • #2
    Re: Pakistan ki Tareekh or Haqaiq

    مسلم لیگ

    آل انڈیا مسلم لیگ برطانوی انڈیا میں ایک سیاسی جماعت تھی اور برصغیر میں مسلم ریاست کی تشکیل میں سب سے زیادہ کارفرما قوت تھی۔ انڈیا کی تقسیم کے بعد بھی آل انڈیا مسلم لیگ انڈیا میں ایک اھم جماعت کے طور پر قائم رہی۔ خصوصاً کیرلہ میں دوسری پارٹیوں کے ساتھ شامل ہو کر حکومت سازی کی۔ پاکستان کی تشکیل کے بعد مسلم لیگ اکثر موقعوں پر حکومت میں شامل رہی۔

    بنیاد
    بر صغیر میں مسلمانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور تقدیر کی ستم ظریفی کی وجہ سے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی بھی مسلمان ہار چکے تھے انگریزوں نے چونکہ حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور غدر میں بھی مسلمان ہی پیش پیس تھے اس لیے انگریزوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی نظر مذکور کر لی لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی سے پھانسی دے کر موت کی گھاٹ اتار ویا گیا ان کی جاءیدایں صبط کر لی گءیں حکومتی پالیسیاں کچھ اس طرح طے کیں کہ مسلمانوں کا کاروبار تباہ ہونے لگا وہ مسلمان جو بڑے بڑے علیشان محلوں میں عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے تھے ا ب وہی مسلمان ٹوٹے پھوٹے چھوٹے چھوٹے مکانون میں افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگءے انگریز نے ملک میں انگریزی تعلیم راءج کردی مسلمان اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم نہیں دلوانا چاہتے تھے کیونکہ وہ غیر مسلم استازہ سے اپنے بچوں کی تربیت نہیں کروانا چاہتے تھے دوسرے یہ کہ انگریز نے اپنی مکارانہ سوچ کو بروءے کار لاتے ہوءے سکولوں سے عربی اور فارسی کو ختم کر کے انگریزی کو راءج کیا اور ساتھ ہی جمعہ کی نماز کے لیے چٹھی دینے سے بھی انکار کردیا چنانچہ مسلمانوں نے انگریزی تعلیم کا باءیکاٹ کیا جس کی وجہ سے ان کو کوءی سرکاری نوکری نہیں ملتی تھی قصہ مختصر یہ کہ اس وقت ہندوستان کے مسلمان تعلیمی،معاشرتی،سیاسی اور معاشی طور پر زوال پذیر تھے دوسری طرف ہندو انگریز کی چاپلوسی کر کے اور راجا موہن راءے جیسے ہمدرد اور مخلص رہنما کی بدولت انگریزی تعلیم حاصل کر کے انگریزوں کا نور نظر بن گءے تھے انگریز کی تمام مہر بانیاں ان پر تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ کٹھی پتلی حزب اختلاف اور ہندو مفاد پرست جماعت کی تشکیل کے لیے انگریز قانوں دان ہیوم نے آل انڈیا نیشنل کانگرس بناءی جو بظاہر تو ہندو مسلم دونوں کی جماعت ہونے کا دعوی کرتی تھی مگر اصل میں وہ صرف ہندو مت کی نماءندہ جماعت تھی جو خود کو انگریز کا پسر مانتی تھی اور انگریز کے بعد ہندوستان مین ہندو راج قاءم کر کے مسلمانان ہند کو اپنا غلام بنانا چا ہتی تھی پس مسلمانوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ۱۹۰۶میں ڈھاکہ کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ قاءم کی اس کے پہلے صدر جناب آغا خان تھے اور اسکا مرکزی دفتر علی گڑھ میں تھا

    مسلم لیگ کے قیام کے اسباب
    ہندو تعصب:۔ ہندو زہنیت ہمیشہ تعصب سے پر رہی ہے ہندو مسلمانوں کو خود سے کم تر جانتے تھے مسلمانوں نے ان پر چونکہ کءی سو سال حکومت کی تھی اس لیے وہ مسلمانوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے وہ ہندوستاں کو اپنے باپ کی جاگیر اور ہندوستان کی راج گدی کو اپنی ماں کا منگل سوتر خیال کرتے تھے وہ مسلمانوں کو وجود بر داشت نہیں کر سکتے تھے ان کا دعویٰ تھا کہ یا تو مسلمان یہ ملک چھوڑ کر ادھر ہی چلے جاءیں جہاں سے ان کے آباءو اجدا آءے تھے یا پھر ہندو مذہب قبول کر لیں بعد میں ہندووں نے زبر دستی مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لیے شگھٹن اور شدھی جیسی تھریکیں بھی چلاءیں جو کہ متعصب ہندو زہنیت کا منہ بولتا ثبوت تھیں چنانچہ ہندووں کے اس ناروا رویے کو دیکھتے ہوءے مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ سیاسی جماعت مسلم لیگ بناءی۔
    نمبر ۲۔آریا سماج تحریک اور بنگالی ادب:۔ ہندو نا صرف مسلمانوں کا جسمانی وجود مٹتا دیکھنا چاہتے تھے بلکہ ان کی روح کو بھی فنا کر دینا چاہتے تھے اس مقصد کے تحت انھوں نے اسلامی تہذیب و ثقافت پر بھی وار کیا بنگالی ادب میں اسلامی کلچر پر کیچڑ اچھالا گیا اور آریا سماج جیسی تحریکیں چلاءیں گءیں جن کا مقصد تھا اردو زبان اور رسم الخط کو ختم کر کے اس کی جگہ ہندی زبان راءج کی جاءے چنانچہ مسلم تہذیب پر حملہ بھی مسلم سیاسی شعور کی بیداری اور مسلم لیگ کے قیام کا محرک ثابت ہوا۔

    Comment


    • #3
      Re: Pakistan ki Tareekh or Haqaiq

      Thx 4 Sharing :)

      Comment


      • #4
        Re: Pakistan ki Tareekh or Haqaiq

        bohot khoob :)

        Comment

        Working...
        X