کُھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کُچھ کُچھ جاگتا ہے
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن، مور بن کے ناچتا ہے
مُجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اُس کی دسترس میں ہوں، مگر وہ
مُجھے میری رضا سے مانگتا ہے
وہ سویا ہے کہ کُچھ کُچھ جاگتا ہے
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن، مور بن کے ناچتا ہے
مُجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اُس کی دسترس میں ہوں، مگر وہ
مُجھے میری رضا سے مانگتا ہے
Comment