Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

mitti ki gawahi

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • mitti ki gawahi


    مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کر
    آئی ہے عجب گھڑی وفا پر
    کس خاک کی کوکھ سے جنم لیں
    آئے ہیں جو اپنے بیج کھو کر
    کانٹا بھی یہاں کا برگِ تر ہے
    باہر کی کلی ببول ، تھوہر
    قلموں سے لگے ہُوئے شجر ہم
    پل بھر میں ہوں کِس طرح ثمر ور
    کچھ پیڑ زمین چاہتے ہیں
    بیلیں تو نہیں اُگیں ہوا پر
    اس نسل کا ذہن کٹ رہا ہے
    اگلوں نے کٹائے تھے فقط سر
    پتّھر بھی بہت حسیں ہیں لیکن
    مٹّی سے ہی بن سکیں گے کچھ گھر
    ہر عشق گواہ ڈھونڈتا ہے
    جیسے کہ نہیں یقیں خود پر
    بس اُن کے لیے نہیں جزیرہ
    پَیر آئے جو کھولتے سمندر

    parveen shakir
    Hacked by M4mad_turk
    my instalgram id: m4mad_turk
Working...
X