Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

ub tuk khul na saka kay mery rubaro hai koon

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • ub tuk khul na saka kay mery rubaro hai koon



    اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون!
    کس سے مکالمہ ہے ! پسِ گفتگو ہے کون!

    سایہ اگر ہے وہ تو ہے اُس کا بدن کہاں؟
    مرکز اگر ہوں میں تو مرے چار سو ہے کون!

    ہر شے کی ماہیت پہ جو کرتا ہے تو سوال
    تجھ سے اگر یہ پوچھ لے کوئی کہ تو ہے کون!

    اشکوں میں جھلملاتا ہوا کس کا عکس ہے
    تاروں کی رہگزر میں یہ ماہ رو ہے کون!

    باہر کبھی تو جھانک کے کھڑکی سے دیکھتے،
    کس کو پکارتا ہوا یہ کو بہ کو ہے کون!

    آنکھوں میں رات آ گئی لیکن نہیں کھلا
    میں کس کا مدعا ہوں؟ مری جستجو ہے کون!

    کس کی نگاہِ لُطف نے موسم بدل دئیے
    فصلِ خزاں کی راہ میں یہ مُشکبو ہے کون!

    بادل کی اوٹ سے کبھی تاروں کی آڑ سے
    چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہوا یہ حیلہ جُو ہے کون!

    تارے ہیں آسماں میں جیسے زمیں پہ لوگ
    ہر چند ایک سے ہیں مگر ہو بہو ہے کون!

    ہونا تو چاہیے کہ یہ میرا ہی عکس ہو!
    لیکن یہ آئینے میں مرے روبرو ہے کون!

    اس بے کنار پھیلی ہوئی کائنات میں
    کس کو خبر ہے کون ہوں میں! اور تُو ہے کون

    سارا فساد بڑھتی ہوئی خواہشوں کا ہے
    دل سے بڑا جہان میں امجدؔ عدُو ہے کون!
    Hacked by M4mad_turk
    my instalgram id: m4mad_turk
Working...
X