Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

جو خیال تھے نہ قیاس تھے، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • جو خیال تھے نہ قیاس تھے، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے



    جو خیال تھے نہ قیاس تھے، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    جو محبتوں کی اساس تھے، وہی لوگ مجھ س بچھڑ گئے

    جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل، وہی لوگ میرے ہمسفر
    مجھے ہر طرح سے جو راس تھے، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے
    میری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    یہ خیال سارے عارضی، یہ گلاب سارے عارضی
    گلِ آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    جنہیں کر سکا نہ قبول میں، وہ شریکِ راہ سفر ہوئے
    جو میری طلب میری آس تھے، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    مری دھڑکنوں کے قریب تھے، مری چاہ میرا خواب تھے
    وہ جو روزو شب میرے ساتھ تھے، وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

    احمد فراز
    Last edited by .; 22 May 2013, 09:33.
    اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
    اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

Working...
X