Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • #31
    Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

    Originally posted by saraah View Post
    hahahaha hath hola rakho
    shukriya aap ki anayat ka mekhanay ki bunyad rakh di
    tum ne halkay halkay ibtida ki thi, mene pi pi k inteha kar di





    Comment


    • #32
      Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

      اس کے پینے سے طبیعت میں روانی آئے
      اس کو بوڑھا بھی جو پی لے تو جوانی آئے

      پینے والے تجھے آجائے گا پینے کا مزہ
      اس کے ہر گھونٹ میں پوشیدہ ہے جینے کا مزہ

      جام اُٹھالے


      منہ سے لگالے

      جام اُٹھالے منہ سے لگالے
      منہ سے لگا کے جھوم جھوم جھوم

      جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم





      Comment


      • #33
        Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

        shauq peeney ka mujhey ko ziyada na tha
        tark-e-tauba ka koi irada na tha
        mujh peh tohmat na rakh main sharabi nahin
        woh nazar sey pilaein to main kya karoon

        Fasl-e-gul hai sharab pii lijiyey
        sharam kaisi janab pii lijiyey
        jo piyey chhup key woh munafiq hai
        be'takaluf sharab pii lijiyey
        aagey chal key hisaab hona hai
        isi liyey be'hisaab pii lijiyey
        Last edited by Masood; 2 October 2011, 02:14.
        tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
        tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

        Comment


        • #34
          Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

          ابھی تو میں جواں ہوں!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          ہوا بھی خوشگوار ہے
          گلوں پہ بھی نکھار ہے
          ترنمِ ہزار ہے
          بہار پُر بہار ہے
          کہاں چلا ہے ساقیا؟
          اِدھر تو لوٹ اِدھر تو آ!
          ارے یہ دیکھتا ہے کیا؟
          اُٹھا سبُو! سبُو اُٹھا!
          سبُو اُٹھا ، پیالہ بھر!
          پیالہ بھر کے دے اِدھر
          چمن کی سمت کر نظر
          سماں تو دیکھ بے خبر!
          وہ کالی کالی بدلیاں
          اُفق پہ ہو گئیں عیاں
          وہ اِک ہجومِ مے کشاں
          ہے سُوۓ میکدہ رواں
          یہ کیا گماں ہے بد گماں!
          سمجھ نہ مجھ کو ناتواں!
          خیالِ زُہد ابھی کہاں!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          عبادتوں کا ذکر ہے
          نجات کی بھی فکر ہے
          جنون ہے ثواب کا
          خیال ہے عذاب کا
          مگر سُنو تو شیخ جی!
          عجیب شے ہیں آپ بھی!
          بھلا شباب و عاشقی
          الگ ہوۓ بھی ہیں کبھی؟
          حسین جلوہ ریز ہوں
          ادائیں فتنہ خیز ہوں
          ہوائیں عطر بیز ہوں
          تو شوق کیوں نہ تیز ہوں؟
          نگار ہاۓ فتنہ گر
          کوئی اِدھر کوئی اُدھر
          اُبھارتے ہوں عیش پر
          تو کیا کرے کوئی بشر؟
          چلو جی قصۂ مختصر
          تمہارا نکتۂ نظر
          درست ہے، تو ہو، مگر!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          نہ غم کشود و بست کا
          بلند کا، نہ پست کا
          نہ بُود کا، نہ ہست کا
          نہ وعدۂِ الَست کا
          امید اور یاس گم
          حواس گم، قیاس گم
          نظر سے آس پاس گم
          ہمہ، بجز گلاس گم
          نہ مے میں کچھ کمی رہے
          قدح سے ہمدمی رہے
          نشست یہ جمی رہے
          یہی ہما ہمی رہے
          وہ راگ چھیڑ مُطربا
          طرب فضا، الم رُبا
          جگر میں آگ دے لگا
          ہر ایک لب پہ ہو صدا
          پلاۓ جا! پلاۓ جا!
          پلاۓ جا! پلاۓ جا!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          یہ گشت کوہسار کی
          یہ سیر جوۓ بار کی
          یہ بلبلوں کے چہچہے
          یہ گلرخوں کے قہقہے
          کسی سے میل ہو گیا
          تو رنج و فکر کھو گیا
          کبھی جو بخت سو گیا
          یہ ہنس گیا، وہ رَو گیا
          یہ عشق کی کہانیاں
          یہ رس بھری جوانیاں
          ادُھر سے مہربانیاں
          اِدھر سے لن ترانیاں
          یہ آسمان، یہ زمیں
          نظارہ ہاۓ دلنشیں
          اُنہیں حیات آفریں
          بھلا میں چھوڑ دُوں یہیں؟
          ہے موت اِسقدر قریں
          مجھے نہ آۓ گا یقیں
          نہیں! نہیں! ابھی نہیں!
          نہیں! نہیں! ابھی نہیں!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          ابھی تو میں جوان ہوں!
          tumharey bas mein agar ho to bhool jao mujhey
          tumhein bhulaney mein shayid mujhey zamana lagey

          Comment


          • #35
            Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ



            یہ شراب عادت ہے میرا شوق نہیں
            ہ جذبات جگاتی ہے تب ہی پیتا ہوں

            آدھی رات کے وقت میں پاگل تو نہیں
            تیری یاد ستاتی ہے تب ہی پیتا ہوں

            اس شراب میں کوئی فضیلت تو نہیں
            یہ فکر مٹاتی ہے تب ہی پیتا ہوں

            میں جانتا ہوں مجھے کچھ نہیں ملنا اس سے
            یہ میری عمر گھٹاتی ہے تب ہی پیتا ہوں








            Comment


            • #36
              Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

              very nice

              Comment


              • #37
                Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

                پلا دے مجھے وہ مے پردہ سوز
                کہ آتی نہیں فصل گل روز روز
                وہ مے جس سے روشن ضمیر حیات
                وہ مے جس سے ہے مستئی کائنات۔
                :star1:

                Comment


                • #38
                  Re: فصل گُل ہے کھُلا ہے میخانہ

                  میں شرابی شرابی
                  میں شرابی شرابی





                  Comment

                  Working...
                  X