Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

کس کا دل۔۔کسی دل داری۔۔۔۔ اپنے حسابوں کے تھے ہم

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • کس کا دل۔۔کسی دل داری۔۔۔۔ اپنے حسابوں کے تھے ہم




    کتنے سوال اٹھتے رہتے تھے ان کے جوابوں کے تھے ہم
    کس کا دل۔۔کسی دل داری۔۔۔۔ اپنے حسابوں کے تھے ہم


    تھا وہ گماں کی رشنیوں میں رشنیوں کا اک گماں
    خواب کی اک روداد تھی ساری،،، خواب تھے خوابوں کے تھے ہم


    جانے کون زمانے تھے وہ جن میں تھی دل کی گزارن
    لکھتے ہیں یوں اپنے کتبے جیسے کتابوں کے تھے ہم


    ہے یہ باد زرد کے چلنے سے کچھ پہلے کا مذکور
    تھے اپنے رخسار گلابی۔۔اپنے گلابوں کے تھے ہم


    تھی اک بے بنیاد تمنا۔۔ایک بربادی بے شکوا
    جب تک تھے ہم۔۔بس یوں سمجھو سخت عذابوں کے تھے ہم


    اک دوپہر کا قصہ ہے جب شہر وہ ہمنے چھوڑا تھا
    اس کے بعد کچھ ایسی بیتی۔۔شام شرابوں کے تھے ہم


    کاش کوئی روداد ہماری آن کے سن جائے ہم سے
    رنگ میں اس کے تیر رہے تھے اور سرابوں کے تھے ہم
    :(

  • #2
    Re: کس کا دل۔۔کسی دل داری۔۔۔۔ اپنے حسابوں کے تھے ہم

    umda intekhab
    میں نعرہ مستانہ، میں شوخی رندانہ

    Comment


    • #3
      Re: کس کا دل۔۔کسی دل داری۔۔۔۔ اپنے حسابوں کے تھے ہم

      v nice..........

      Comment

      Working...
      X