مُجھے جان لینا چاہیے تھا
وہ مُجھے اس وقت ملا
جب پہاڑوں پر برف پگھل رہی تھی
...چیری کے درختوں پر اوّلین شگوفے پُھوٹ رہے تھے
نوخیز خوشبو سے سارا باغ روشن
تھبلبل نے بس ابھی چہکنا شروع کیا تھا
اپنے بازوؤں میں لئے
وہ مُجھے پھولوں بھری وادی میں
گھومتا رہا
ہم تتلیاں اور جگنو پکڑتے رہے
بارش ایک پیاری دوست کی طرح
ہمارا ہاتھ بٹاتی رہی
جس دن درخت سے پہلا پتّہ گرا
میں اُسے اُٹھانے کے لئے جُھکی
پلٹ کر دیکھا
تو وہ جا چکا تھا
اب میں ٹوٹے ہوئے پتّوں میں
اپنے آنسو جمع کر رہی ہوں
مُجھے جان لینا چاہیے تھا
کہ اُس کا اور میرا ساتھ
موسمِ بہار تک ہے
Comment