تمام شب یونہی دیکھیں گی سُوئے در آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوعِ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں!
یہ دشتِ شب میں ستاروں کی ہمسفر آنکھیں
ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لیے!
میں شہر بھر میں اکیلا� اِدھر اُدھر آنکھیں
شمار اُس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں
وہ پاس تھا تو زمانے کو دیکھتی ہی نہ تھیں
بچھڑ گیا تو ہُوئیں پھر سے دربدر آنکھیں
ابھی کہاں تجھے پہچاننے کی ضد کیجے!
ابھی تو خود سے بھی ٹھہری ہیں بے خبر آنکھیں
میں اپنے اشک بچاؤں گا کس طرح محسن ؟
زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں
تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
طلوعِ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں!
یہ دشتِ شب میں ستاروں کی ہمسفر آنکھیں
ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لیے!
میں شہر بھر میں اکیلا� اِدھر اُدھر آنکھیں
شمار اُس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں
وہ پاس تھا تو زمانے کو دیکھتی ہی نہ تھیں
بچھڑ گیا تو ہُوئیں پھر سے دربدر آنکھیں
ابھی کہاں تجھے پہچاننے کی ضد کیجے!
ابھی تو خود سے بھی ٹھہری ہیں بے خبر آنکھیں
میں اپنے اشک بچاؤں گا کس طرح محسن ؟
زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں
Comment