شہر آشوب
سانحہ جوزف ٹاون کے ذمہ داروں کے نام
گزر گئے پس در کی اشارتوں کے دن
کہ رقص کرتے تھے مے خوار رنگ کھیلتے تھے
مہ محتسب کی تھی پروا نہ شہر دار کی تھی
ہم اہل دل سر بازار رنگ کھیلتے تھے
غرور جبہ و دستار کا زمانہ ہے
نشاط فکر و بساط ہنر ہوئی برباد
فقیہ و مفتی و واعظ پہ حرف گیر ہو کون
یہ ہیں ملائکہ اور شہر جنت شداد
ملازمان حرم نے وہ تنگیاں کی ہیں
فضائیں ہی نہ رہیں رقص رنگو بو کے لیے
یہ انتظام تو دیکھو خزاں پرستوں کا
بچھائی جاتی ہیں سنگینیاں نمو ک لیے
اس ہوس میں ہیں ہر دم یہ دشمنان جمال
جو سوئے رنگ اٹھے اس نظر کو گل کر دیں
جو بس چلے کہیں ان کا تو یہ فضا بیزار
شفق کا رنگ بجھا دیں سحر کو گل کر دیں
ہوئی ہے جانب محراب سے وہ بارش سنگ
کہ عافیت خم ابرو کی ہے بہت دشوار
ستم کیا ہے عجب منجیق منبر نے
حریم دل کی سلامت نہیں رہی دیوار
یہ عہد وہ ہے کہ دانشوران عہد پہ بھی
منافقت کی شبییہوں کا خوف طاری ہے
نماز خوف کے دن ہیں کہ ان دنوں
قلندروں پہ فقیہوں کا خوف طاری ہے
یہ ہیں وہ تیرہ دلان قلمرو تاریخ
جو روشنائی دانش کا خون کرتے ہیں
یہی تو ہیں جو حکیموں کی حکمتوں کے خلاف
ہر اک دور مں حاکم کے کان بھرتے ہیں
ہیں ظلمتوں کی مربی طبعیتیں ان کی
کبھی یہ روشنی طبع کو نہیں مانے
ہے روشنی کا انہیں ایک ہی نظارا پسند
کہ جشن فتح منے اور جلیں کتاب خانے
دیا ہے کام انہیں شب کے سر پرستوں نے
سپیدہ سحری کا سیاہ کرنے کا
ملا ہے عہد کلیسائے غرب سے ان کو
شعور مشرق نو کو تباہ کرنے کا
گزشتہ عہد گزرنے ہی میں نہیں اتا
یہ ھادثہ بھی لکھو معجزوں کے خانے میں
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اسی زمانے میں
Comment