Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

خزاں کی شاعری

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • خزاں کی شاعری

    السلام وعليكم ورحمة الله وبركاته

    خزاں کی شاعری


    خزاں رسیدہ چمن ہوں کہ ریت کے ٹیلے
    قدم قدم پہ شگوفے کھلا کے دم لے گی
    ازل سے سینۂ ویراں ہے منتظر جس کا
    نفس نفس وہی خوشبو رچا کے دم لے گی

    **************************

    خزاں کی رُت میں یہ مشغلہ تھا
    میں بکھرے پتے سمیٹتا تھا

    عجیب تر تھیں تمہاری یادیں
    میں زندہ رہ کر نہ جی سکا تھا

    چلی تھی مجھ میں وہ کیسی آندھی
    کہ دل کا خیمہ اکھڑ گیا تھا

    برس رہی تھی وہ کیسی بارش
    کہ درد مجھ میں ٹپک رہا تھا

    بہتا تھا آنکھوں سے میری آنسو
    کہ کوئی منظر پگھل گیا تھا

    میں اپنی ہستی کے بتکدے میں
    وفا کی مورت بنا رہا تھا

    رکا ہوں میں جس کی خاطر
    وہ میری خاطر نہ رُک سکا تھا

  • #2
    Re: خزاں کی شاعری

    ہوا کی آواز
    خشک پتّوں کی سرسراہٹ سے بھر گئی ہے
    روش روش پر فتادہ پھولوں نے
    لاکھوں نوحے جگا دیے ہیں
    سلیٹی شامیں بلند پیڑوں پہ غل مچاتے
    سیاہ کوّوں کے قافلوں سے اٹی ہوئی ہیں
    ہر ایک جانب خزاں کے قاصد لپک رہے ہیں
    ہر ایک جانب خزاں کی آواز گونجتی ہے
    ہر ایک بستی کشاکشِ مرگ و زندگی سے نڈھال ہو جر
    مسافروں کو پکارتی ہے کہ
    آؤ
    مجھ کو خزاں کے بے مہر تلخ احساس سے بچاؤ

    Comment


    • #3
      Re: خزاں کی شاعری

      خزاں کے رنگوں میں ایک رنگ اداسی کا

      تمہیں دیکھا ہے بارہا میں نے
      اور دیکھ کر ہر بار یہی سوچا ہے
      تیرے چہرے کی مسکراہٹ کا
      تیری آنکھٰیں ساتھ نہیں دیتیں

      تیرے ہنستے ہوئے ہونٹوں
      کے قہقہوں پر مجھے
      جانے کیوں
      کراہوں کا گماں گزرتا ہے

      کونسا دکھ ہے جس کی شدت نے
      تیرے جوبن کو گھیر رکھا ہے
      وہ کیا آگ ہے جس کے نرغے میں
      تیرا کومل وجود جھلسا ہے

      ایسی حالت میں کیا دلاسا ہو
      کوئی صورت ترے دل کو بہلانے کی
      لو میں تمہاری آنکھوں کو
      اک حسین شام دیتا ہوں
      تیرے دکھ میں کمی کیلیے
      اپنا جیون تمام دیتا ہوں

      Comment


      • #4
        Re: خزاں کی شاعری

        اندازِ خزاں رنگِ بہاراں نہیں دیکھا
        دل ایسا اٹھا سوئے گلستاں نہیں دیکھا

        کیا سوچ کے ہنستے ہو مرے حال پہ لوگو
        صحرا نہیں دیکھا کہ بیاباں نہیں دیکھا

        اک ہم ہیں کہ دیکھا کئے ہر حال میں تم کو
        اک تم ہو کہ ہم کو کسی عنواں نہیں دیکھا



        آئی بھی اگر یاد تو ڈرتی ہوئی آئی
        ایسا تو کبھی موسمِ ہجراں نہیں دیکھا

        دنیا میں کہاں قدر بھلا اشکِ وفا کی
        کچھ تو نے بھی اے دیدہء گریاں نہیں دیکھا

        Comment


        • #5
          Re: خزاں کی شاعری


          پچھلی خزاں کے پتے
          ******************
          جیسے ہوں پچھلی خزاں کے پتے
          یوں بھی ہیں کبھی خواب بکھرتے

          مگر تم خواب بکھرنے نہ دینا
          کسی کو خود پر ہنسنے نہ دینا

          پھول سے دام ہیں بَچتے رہنا
          فریب بے نام ہیں تکتے رہنا

          یوں نہ ہو تُو تھک جائے
          آبلہ پا ہوں یا بھٹک جائے

          رستے میں پتھر کے بت دیکھنا
          مگر پیچھے مڑ کے مت دیکھنا

          جو راہ سے کھو جاتے ہیں
          وہ پتھر کے ہو جاتے ہیں

          Comment


          • #6
            Re: خزاں کی شاعری

            خزاں کے موسم سے گلاب مانگ رہا ہے

            پھر اپنے ليے کوئي عذاب مانگ رہا ہے

            جان مانگتا تو ميں ذرا تغافل نا کرتا
            مگر وہ مجھ سے ميرے خواب مانگ رہا ہے

            عطا کر کے ميرے ذيست کو ہجر کي اذيتيں
            اور مجھ سے وصال رت کے حساب مانگ رہا ہے

            خطائيں کرنا ہي رہا مشغلہ اس کا
            ميں کيا دوں صلہ اسے وہ ثواب مانگ رہا ہے

            اپني سمجھ ميں اس کي گفتگو بھي نہيں آتي
            اور وہ ان کہے سوالوں کے جواب مانگ رہا ہے

            مجھ کو اپنے وجود پے بھي دسترس نہيں حاصل
            اور دل نادان ہے مہتاب مانگ رہا ہے

            کوئي زندگي سے گھبرا گيا اس قدر
            کشتي کا مسافر ہے اور گرداب مانگ رہا ہے
            Last edited by Nadia khan; 27 September 2011, 00:14.

            Comment


            • #7
              Re: خزاں کی شاعری


              جب خزاں نے سب درختوں کو اکیلا کر دیا
              ایک پنچھی دکھ میں ڈوبا ٹہنیاں گنتا رہا

              ریت پر لکھے ہوئے وہ نام کب کے مٹ گئے
              وہ مگر ساحل پہ بیٹھا سیپیاں گنتا رہا

              جب تلاشِ رزق نے چلنے کی طاقت چھین لی
              بیٹھ کر فٹ پاتھ پر وہ گاڑیاں گنتا رہا

              Comment


              • #8
                Re: خزاں کی شاعری


                آنے والی تھی خزاں ، میدان خالی کر دیا
                کل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیا

                ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آگئے
                دیکھ ، تیرا قصرِ عالی شان خالی کر دیا

                دشمنوں نے شست باندھی خیمہِ امید پر
                دوستوں نے درۂ امکان خالی کر دیا

                بانٹنے نکلا ہے وہ پھولوں کے تحفے شہر میں
                اس خبر پر ہم نے بھی گلدان خالی کر دیا

                لے گیا وہ ساتھ اپنے دل کی ساری رونقیں
                کس قدر یہ شہر تھا گنجان خالی کردیا

                ساری چڑیاں اڑ گئیں مجھ کو اکیلا چھوڑ کر
                میرے گھر کا صحن اور دالان خالی کر دیا

                Comment


                • #9
                  Re: خزاں کی شاعری


                  رہِ خزاں میں تلاشِ بہار کرتے رہے
                  شبِ سیہ سے طلب حسنِ یار کرتے رہے

                  خیالِ یار، کبھی ذکرِ یار کرتے رہے
                  اسی متاع پہ ہم روزگار کرتے رہے

                  نہیں شکایتِ ہجراں کہ اس وسیلے سے
                  ہم اُن سے رشتۂ دل استوار کرتے رہے

                  وہ دن کہ کوئی بھی جب وجہِ انتظار نہ تھی
                  ہم اُن میں تیرا سوا انتظار کرتے رہے

                  ہم اپنے راز پہ نازاں تھے ، شرمسار نہ تھے
                  ہر ایک سے سخنِ* راز دار کرتے رہے

                  ضیائے بزمِ جہاں بار بار ماند ہوئی
                  حدیثِ شعلہ رخاں بار بار کرتے رہے

                  انھیں کے فیض سے بازارِ عقل روشن ہے
                  جو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
                  Last edited by Nadia khan; 27 September 2011, 00:17.

                  Comment


                  • #10
                    Re: خزاں کی شاعری

                    درد یہ کتنے جگا دیتے ہیں سوکھے پتے

                    خواب کیسے دکھا دیتے ہیں سوکھے پتے

                    جو کبھی بچھڑا اپنوں سے یوں برباد ہوا
                    پاوں کے نیچے صدا دیتے ہیں سوکھے پتے

                    چلتے چلتے یہ کبھی رات کے سناٹے میں
                    دل میں ہلچل سی مچا دیتے ہیں سوکھے پتے

                    کوئی حالات کی گردش سے نہ یوں برباد ہو
                    غور سے سن یہ دعا دیتے ہیں سوکھے پتے

                    کتنے بچھڑے ہوئے یاد آتے ہیں اس دم ائے دوست

                    جب بھی طوفان گرا دیتے ہیں سوکھے پتے
                    Last edited by Nadia khan; 27 September 2011, 00:19.

                    Comment


                    • #11
                      Re: خزاں کی شاعری

                      ہم ميں اور تم ميں
                      کب يہ طے ہوا تھا
                      کے پھر مليں زندگي کے کسي موڑ پر
                      کب يہ کہا تھا کے بن تمھارے
                      نا جي سکيں گے ہم
                      بہت تڑپائے گا يہ ہجر کا موسم
                      يہ ساون اور پت جھڑ کا موسم
                      کب يہ تہہ ہوا تھا
                      کے سر شام ہي
                      تمہاري ياد اُتَر آئے گي
                      اس دل کے آنگن ميں
                      اگر يہ سب طے نہيں ہوا تھا تو
                      برسوں گزر جانے کے بعد بھي
                      ميري وحشتوں ، ميري يادوں ، ميري تنہائيوں
                      ميں
                      صرف تم ہي تم کيوں ہو

                      Comment


                      • #12
                        Re: خزاں کی شاعری

                        wahhh. kiya baat hai g. very nice sharing but bohat sad :(
                        anywayz.. thnx for really nice sharing

                        Comment


                        • #13
                          Re: خزاں کی شاعری

                          Originally posted by Nareem View Post
                          wahhh. kiya baat hai g. very nice sharing but bohat sad :(
                          anywayz.. thnx for really nice sharing
                          sad tu hai na aaj dil cha raha tha share karne ko
                          kafi din pele pari thi
                          thanxxxx

                          Comment


                          • #14
                            Re: خزاں کی شاعری

                            nice thread Nadi...me ko apna thread yaad aagya.......khizaN poetry collection wala pata nae bichara kahan parra hai
                            شاہ حسین جیہناں سچ پچھاتا' کامل عِشق تیہناں دا جاتا

                            Comment


                            • #15
                              Re: خزاں کی شاعری

                              Originally posted by saraah View Post
                              nice thread Nadi...me ko apna thread yaad aagya.......khizaN poetry collection wala pata nae bichara kahan parra hai
                              bahut shukria sister
                              aap bi apna thread dhoondh ke lahein na
                              aur aap bi is thread main poetry share kar sakti hai

                              Comment

                              Working...
                              X