Above Post

Collapse

جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

    شاعر حبیب جالب
    --------------------
    یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
    لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم
    مدّت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے ...
    آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم
    شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے
    تم داستانِ شوق سنو اور سنائیں ہم
    بے نور ہوچکی ہے بہت شہر کی فضا
    تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم
    اُس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
    جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

  • #2
    Re: جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

    Very Nice poetry
    ہم نغمہ سرا کچُھ غزلوں کے، ہم صُورت گر کچُھ خوابوں کے
    بے جذبۂ شوق سُنائیں کیا، کوئی خواب نہ ہو، تو بتائیں کیا

    Comment


    • #3
      Re: جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم

      khoob
      :(

      Comment

      Below Post Add

      Collapse
      Working...
      X