Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Nasri Adab Compititin for the month of April 2014

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • #16
    Re: Nasri Adab Compititin for the month of April 2014

    hamein bhi chocolate pasand nhin :)

    Comment


    • #17
      Re: Nasri Adab Compititin for the month of April 2014

      بسم اللہ الرحمان الرحیم


      35 ۔ پنکچر






      جب بات پنکچر لگانے کی تو، کسی پیٹرول پمپ کے پاس شدید گرمی میں بیٹھے ہوئے۔ پسینے سے شرابور، گندے کپڑوں میں ملبوس ایک ایسے انسان کا خیال آتا ہے۔ جوملکی حالات سے بے خبر، گاڑیوں اور موٹر سائیکلون کے ٹائیر کھولتا اور پنکچر لگا نظر آتا ہے۔ ہمارے گھر کے قریب بھی ایک ایسا ہی پنکچر لگانے والا اپنی تادوکان کھولے بیٹھا عزت کی روزی کماتا نظر آتا ہے۔
      چند دن قبل مجھے بھی پنکچر لگوانے کا اتفاق ہوا، میری موٹر سائیکل پنکچر ہوگئی تھی۔ہم بھی پہنچے، اپنی موٹر سائیکل گھسیٹتے ہوئے ، تو حیرت کی انتہا ء نہ رہی، کہ دوکان کا نقشہ ہی بدلہ ہوا تھا، جب دوکان کے قریب پہنچے توہمیں دیکھتے ہی ایک صاحب نے جو سفید کاٹن کے سوٹ میں ملبوس تھے۔ ایک بچے کو آواز دی ۔۔۔ اوے نوازے باؤجی توں گڈی چاء۔۔۔ اور ایک نیلے رنگ کی ڈانگری پہنے لڑکا میری طرف لپکا۔۔۔۔۔ اور میرے ہاتھ سے موٹر سائیکل پکڑ لی۔۔۔۔۔ اتنئ دیر میں ایک آواز اور آئی۔۔۔۔۔ باؤ جی ایئدر آجاؤ،، چھائں وچ۔۔۔۔۔ میں اس کی طرف بڑھ گیا، جہان پانچ ، چھ بڑی آرام دہ کرسیان پڑی تھیں، اور دو آدمی پہلے ہی سے بیٹھے تھے، اور سامنے وہ بیٹھا تھا۔ جب قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ سفید کاٹن کے سوٹ میں جو شخص ہے، دراصل وہی پنکچر والا ہے۔ میں نے اس سے ہاتھ ملایا اور بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ نوازے فٹافٹ جا، باؤ جی واسطے ٹھنڈا پانی تے چاء لے کے آ۔۔۔ شاوا میرا پتر۔۔
      میں نے بیٹھتے ہوئے۔۔ پوچھا بھائی اسحاق خیر تو ہے۔۔۔ ماشاء اللہ بڑی ترقی کر لی ہے۔
      وہ قہقہ مار کے ہنساء ۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہان جی باؤجی۔۔۔بس جی ۔۔۔ ترقی ہم نے کیا کرنی ہے، ترقی تو ہمارے بڑوں نے کی ہے۔۔۔
      میں سمجھا نہیں۔۔۔۔ کیا مطلب ہے ۔ تمھارا۔۔؟
      ارے باؤ جی۔۔۔جب ہمارے لیڈروں نے پنکچر لگانے شروع کردئیے ہیں۔ ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ 35 پنکچر۔۔۔۔۔ والے بڑے ۔ اللہ بھلا کرے۔۔۔ ہماری بھی ٹور ہوگئی ہے۔ ہمارے کاروبار کو بھی ترقی اور عزت مل گئی ہے۔
      اتنی دیر میں چائے آگئی۔ اور میں چائے پینے لگا۔۔۔ اور سوچنے لگا ۔۔۔ اس سے اسکو کا کیا فائیدہ ہوا۔۔۔۔
      باؤ جی ۔۔ کی سوچی پئے گئے اؤ۔۔۔۔ جدون حکومت پنکچر ان والی چل سکدی ائے۔۔۔ تے ساڈا تے کم ائی پنکچر لانائے۔۔۔۔
      تو پھر اس سے تمھارا کیا تعلق ہے۔ وہ تو ایک دھاندلی ہوئی تھی بڑے پیمانے پر۔۔ لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی تھی۔مگر اس سے تمہارا کیا تعلق۔۔۔۔
      وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ آپ کی گاڑی کی ٹیوب میں کتنے پنکچر ہیں، پہلے کے،
      میں نے جواب دیا۔۔۔ چار یا پانچ۔۔۔ آج کا ایک اور لگا لو۔۔۔۔۔ کل چھ۔۔۔ ہوجائینگے۔
      اس نے میری بات کا جواب دئے بغیر ہی ۔۔۔ آواز لگائی۔۔۔اوئے نثار پتر باؤ جی ۔۔ کی ٹیوب میں کتنے پنکچر ہیں ۔۔۔
      استا د جی۔۔۔ کوئی نہیں ۔۔۔ ایک پنکچر لیک ہوگیا ہے۔۔۔ وہی دوبارہ لگا رہا ہوں۔۔ بس پانچ منٹ ۔۔۔ استاد جی۔۔۔۔
      لؤ جی ۔۔ باؤ جی۔۔۔ پچھلا ہی ایک پنکچر لیک نکلا ہے۔۔۔ گرمی کی وجہ سے لیک ہوا ۔۔۔ اور ہوا نکل گئی۔۔۔ نیا نہیں ہے ۔ میرا خیال ہے ۔ کسی اناڑی سے لگوایا تھا آپ نے۔۔۔ لیک ہوگیا۔۔ اور کھل گیا۔۔ اور آپکو دوبارہ لگوانا پڑا۔۔۔۔ اک بات بتاؤ باؤجی آپکی ٹیوب پانچ پنکچر برداشت نہیں کر پائی۔۔۔ اور ایک کھل گیا۔۔۔ اب کچھ دن بعد کوئی دوسر ا کھلے گا۔۔۔ پھر آپ آو گے۔ اور پھر ایک دن نئی ٹیوب ڈلواؤ گے۔ ہیں نا جی۔۔۔۔۔۔ تو آپ مجھے بتائیں کہ یہ 35 پنکچر والی حکومت میں بار بار پنکچر لیک نہیں ہونگے۔۔۔ اور ہوا نہیں نکلے گی۔۔ تو کیا یہ پنکچر والی حکومت ۔۔۔ بار بار پنکچر نہیں لگوانے گی۔۔۔ اور جب بار بار لگوائے گی۔۔ تو کیا ہمارا کاروبار نہیں چمکے گا۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ پنکچر ایناں نے لوانے ائی لوانے ۔۔۔ نے۔۔۔۔ ہوا انینا دی لیک ہونی ائی ہونی جے۔تے پنچ سال تیکر پنکچران والی ٹیوب ائی چلے گی۔۔۔۔ کدی اک لیک ہووے گا۔۔۔۔کدی دوجا۔۔۔۔ فیر نئے پنکچر وی نکلن گے۔۔۔۔۔ لواندے جاؤ ۔۔۔۔۔۔ چلاندے جاؤ۔۔۔۔۔ ہوا بھرواندے جاؤ ۔۔۔۔۔۔ چلاندے جاؤ۔۔۔۔۔۔
      میں اسکی مدلل تقریر سن کر بہت متاثر ہوا۔۔۔ واقعی 35 پنکچر والی ٹیوب کب تک چلے گی۔۔ سوری حکومت کب تک چلے گی۔ کیونکہ بات اس کی ہو بہو سہی ثابت ہورہی ہے۔۔۔ حکومت کی پھوک بھی بار بار نکل رہی ہے، پھر بھر تےہیں چلتے ہیں ۔۔۔ پھر لیک ہو جاتا ہے کوئی نہ کوئی پنکچر۔۔۔۔ کبھی خواجہ سعد رفیق۔۔۔ لیک ہونے لگتے ہیں۔۔۔ تو کبھی خواجہ آصف والا پنکچر لیک ہوجاتا ہے۔ ایک ٹھیک کرواتے ہیں پھوک بھرواتے ہیں۔۔۔ تو دوسرا۔۔۔۔پھر تیسرا۔۔۔۔ آجکل چودھریون کے پنکچر بھی لیک ہورہے ہیں۔
      اوئے ۔۔۔ باؤ جی ۔۔ پنکچر ٹھیک ہوگیا ائے۔۔۔ پھوک وی پا دیتی ائے۔۔۔ میرے والے پنکچر دی گارنٹی جے۔۔ دوجے دی گل۔۔۔۔ میں نئیں کردا ۔۔۔۔۔۔۔ساڈا پنکچر پکا جے۔۔۔ ائے لؤ چابی۔۔۔۔ اس نے چابی میرے سامنے رکھ دی۔۔ میں نے خاموشی سے جیب سے بٹوا نکالا۔۔۔ اور اسکی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔ میں نے پچاس روپے کا نوٹ دیا۔۔۔۔ اس نے خاموشی سے جیب میں رکھ لیا۔۔۔ اور بڑی سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔ باؤ جی۔۔۔۔اس ٹیوب پر زیادہ پیسے نہ لگائیں ۔۔۔ پہلی فرصت میں تبدیل کروا لیں۔۔۔۔۔
      میں نے چابی آٹھائی۔۔۔۔ موٹر سائیکل اسٹارٹ کی۔۔۔۔ اور چل دیا۔۔۔ اسکی ایک ایک بات میرئے دماغ میں گردش کر رہی تھی۔۔ واقعی ۔۔۔۔ 35 پنکچرون ۔۔۔ والی ٹیوب کی حکومت کیسے چل پائے گی۔۔۔ اور کیا اسی طرح پرانی ٹیوب والی حکومت میں ہم بار بار ہوا بھر تے رہینگے۔۔۔۔۔ یا پھر حکومت کی گاڑی چلانے کے لئے نئی ٹیوب ضروری ہے۔۔۔ اسے تبدیل ہونا چائیے۔۔۔ کب تک ایسے چلے گا۔۔۔۔
      میں نے اپنی موٹر سائیکل کا رخ بازار کی طرف کردیا۔۔۔ اور ایک نئی ٹیوب لیکر کر بیگ میں رکھ لی، شام کو پہلا کام واپسی پر یہی کرونگا۔۔۔۔۔ گاڑی میں نئی ٹیوب ڈلوا دونگا۔۔۔۔ بار بار کی جھک جھک سے جان چھٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔
      اب آپ سوچین کہ کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔ 35 پنکچر والی ٹیوب پر ہی گزارا کرنا ہے۔۔۔ یا پھر اس بار نئی ٹیوب ڈلوائینگے۔۔۔ اس بارے میں سوچین۔۔۔۔ ابھی کافی وقت ہے۔۔۔۔ یا وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔ اور میں بھی سوچتا ہوں۔

      Comment


      • #18
        Re: Nasri Adab Compititin for the month of April 2014

        بسم اللہ الرحمان الرحیم




        بخدمت جناب عرفان سعید صاحب۔
        اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکات َ ہو۔
        امید ہے ، کہ آپ اللہ کے فضل و کرم سے خریت سے ہونگے، اور بچے بھی ٹھیک ہونگے، بہت دن سے سوچ رہا تھا کہ آپ کی خدمت اقدس میں خط ارسال کروں۔ الحمدو للہ آج وقت ملا اور میں آپکو خط لکھنے میں کامیاب ہوگیا۔ پہلے تو ارادہ نہ تھا، لیکن پھر خیال آیا، کہ آپ مصروف آدمی ہیں۔ ملک سے باہر ہیںاور زندگی کا ایک ہی اصل مقصد ہے، اپنی محرومیوںکو دور کرنا، اور دنیا کی خوشیاں سمیٹنا، کیونکہ آج کل تو دنیا میں کامیاب انسان وہی ہے، جو دولت کماتا ہو، اور اپنی خوشیون کو خریدتا ہو۔اور ابتو شاید اللہ میاں بھی سمجھ گئے ہیں، کہ اسی سے راضئ ہوجاؤ جس کے پاس دولت ہو۔ کیونکہ نام تو میرا ہی ہوگا۔
        اسی بات پر ایک واقعہ یاد آگیا، کہ امریکہ سے ایک سروے ٹیم پاکستان آئی، یہ پتہ لگانے کہ عام آدمی کی آمدنی کیا ہے۔ اور وہ کس طرح گزارا کرتا ہے ۔ اور مختلف لوگون سے ملی۔ ایک اسکول ٹیچر سے انٹرویو کیا۔آپ کی ماہانہ آمدنی کتنی ہے۔
        استاد نے جواب دیا۔ پندرہ ہزار
        آپ کے کتنے بچے ہیں۔
        استاد نے جواب دیا۔ جی پانچ بچے ہیں، ایک عدد بیوی ہے ۔ اور بچے اسکول میں پڑھتے ہیں۔
        کیا مکان آپ کا اپنا ہے۔
        استاد ۔ جی نہیں کرائے کا ہے۔ تین ہزار روپے کرایہ ہے۔ بجلی اور گیس کے اخراجات ملا کر پانچ ہزار پڑ جاتا ہے۔
        آس آدمی نے پوچھا۔ کیا باقی دس ہزار روپے میں آپ کا گزارا ہوجاتا ہے۔
        استاد نے جواب دیا۔ جی پہلے تین ہفتے تو گزارا ہوجاتا ہے۔ مہینے کا آخری ہفتہ میں مشکل ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ پاک کے کرم سے اور مہربانی سے وہ ہفتہ بھی گزر جاتا ہے، شکر ہے اسکا۔ وہ مدد کردیتا ہے۔
        اسی طرح اس آدمی نے ، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے انٹر ویو کئے۔ اور سب نے یہی کہا کہ اللہ پاک کا شکر ہے، اسکی کرم نوازی ہے، مہربانی سے ہوجاتا ہے۔
        مختصرا"اس نے تقریبا پانچ سو لوگوں سے ملاقات کی اور سب نے یہی جواب دیا۔ کہ اللہ کے کرم اور مدد سے گزارا ہوجاتا ہے۔اسنے ایک رپورٹ تیار کی اسمیں اس نے لکھا ، کہ پاکستان کے سروے سے پتہ چلا ہے ۔ کہ وہاں پہلے تین ہفتے تو انکا گزارا تنخواہ پر ہوجاتا ہے۔ لیکن آخری ہفتہ میں کوئی اللہ نامی ادارہ یا این جی اوز ہے ۔ یا کوئی آدمی ہے جو سب کی مدد کرتا ہے۔ اور ہر آدمی نے یہی بات کہی ہے۔ اب اس بات کا پتہ لگایا جائے ۔ کہ یہ ادارہ ہیے کہاں، انکا دفتر کہاں ہے ، انکو فنڈنگ کہاں سے ہوتی ہے۔ تاکہ ہماری حکومتیں جو پاکستانکی حکومت کو ایڈ دیتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو دینے کی بجائے، اللہ پاک نامی ادارے کو دی جائے۔
        میرے کہنے کا مقصد ۔ ہم اللہ پاک کا شکر ادا کرنے والے لوگ ہیں۔ اسی لئے اللہ پاک کی مدد اور نصرت سے ہمارا کام چل رہا ہے۔ اور یہ ہمارئے ایمان کا حصہ بھی ہے۔ کہ اس پاک ذات کا شکر ادا کرتے رہیں۔ ہر حال میں۔ مجھ جیسا نکما آدمی بھی یہی کہتا ہے۔ اللہ پاک کا بڑا فضل اور شکر ہے ، گزارا ہو رہا ہئے۔ اور جو صدر پاکستان ہے ۔ اور یہ گنجا بھی یہی کہتا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے امریکہ سے اتنا قرضہ ملک اور قوم کی بھلائی کے لئے لیا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے پانچ بجلی گھر کی تعمیر شروع کردی ہے۔ آئیندہ چار سالوں میں ہم اللہ کے فضل و کرم سے بجلی کا بحران دور کردینگے۔ جب لوٹ کھسوٹ کرنے والے ، محنت کرنے والے ، سیلابوںمیں تباہ ہونے والے، بھوک سے مرنے والے سب یہی کہتےہیں۔ جی بس اللہ کا کرم ہے۔ اس ذات پاک کا بڑا کرم ہے۔ پھر تو جھگڑا ہی ختم ہوگیا۔ ہر ایک اللہ پاک کا شکرادا کر رہا ہے۔ تو پھر اللہ پاک بھی مطمعن ہیں۔ سب ٹھیک تو ہے۔ کسی کو میری مدد کی ضرورت نہیں۔۔شکر سے کام چل رہا ہے۔ تو چلنے دو۔ میرے بندے میرا ہر حال میں شکر ادا کر رہے ہیں۔۔ اور اسبات پر تو اب فرشتے بھی حیران ہیں۔
        یار یہ پاکستانی مسلمان کیسے عجب لوگ ہیں۔ ایڈ امریکہ سے لیتے ہیں، مدد اس سے مانگتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ گالیاں بھی اسے ہی دیتے ہیں۔ لیکن شکر پھر بھی اللہ پاک کا ہی ادا کرتے ہیں ۔
        اللہ پاک کہتاہے۔ میرے خزانے بھرے پڑے ہیں مجھ سے مانگو میں دونگا۔ میرا شکر ادا کرو۔ کسی کے آگے دست سوال نہ پھیلاؤ۔
        سیاست دان کہتا ہے۔ اللہ کا فضل و کرم ہے۔ ہم نے حاکمیت اللہ ہی کی قائم رکھی ہے۔ آئین پاکستان میں لکھدیا ہے۔ اور اسی پر عمل کررہے ہیں۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہا الاللہ۔ اسلامی فلاحی ریاست ، حکم اللہ کا ، یہ سب تو ہم نے آئیں پاکستان میں لکھ دیا ہے۔ یہ دیکھو یہ میرے ہاتھ میں آئین پاکستان موجود ہے۔ اور میں آئین پاکستان کا علمبردار بھی ہوں۔ اگر ہم علمبردار نہیں ہوتے تو اللہ میان ہمیں پاکستان پر حکومت کرنے کا موقعہ ہی فراہم نہ کرتا ۔ ہماری جگہ کسی اور گدھے کو پاکستان کی حکمرانی دے دیتا۔ رہا امدادکا سوال ، تو بھائی۔ زمیں اللہ کی، بارشیں اللہ کی، پہاڑ دریا ، سب کچھ اللہ کا ہے۔ جو وہ ہمیں دے رہا ہے۔ لیکن، ہمیں تو ڈالر کی ضرورت ہے، جس سے ہم مشینری خریدیں، پاور پلانٹ لگائیں، بولٹ پروف گاڑیان خریدیں، بڑے بڑے بنگلے بنائیں، اندسٹری لگائیں۔ وہ تو اللہ میاں کے پاس نہیں وہ تو امریکہ کے پاس ہیں، اس لئے اس سے بار بار مانگنا پڑتا ہے۔ لیکن شکر تو ہم اللہ ہی کا ادا کرتئے ہیں۔ کبھی ہم نے کہا امریکہ تیرا شکر ہے۔ نہیں نا، بلکہ اسے ہم گالیان ہی دیتے ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ کبھی کبھی ہمیں اسکی کوئی کوئی فرمائش پوری کرنی پڑتی ہے۔ لیکن وہ بھی ہم اسوقت کرتے ہیں، جب ہمیں ڈالر دیتا ہے۔ اب اسی ریمنڈیوس کو ہی لے لو۔ تین بندے مارے تھے۔ ہم نے اسلامی احکامات کے تحت اس سے خون بہا لاکھوں ڈالر کی صورت میں وصول کیا۔ مرنے والون کو بھی دئے، خود بھی رکھے۔ اور اسلامی قوانین کے تحت قصاس لیکر چھوڑ دیا۔اب انکے گھر والے عیش کر رہے ہیں۔ دو خاندان کو امریکہ ہی جاکر آباد ہوگئے۔ ساری زندگی بھی کوشش کرتے نا توامریکہ کا ویزا نہیں ملنا تھا۔
        اس میں بھی عوام کا فائیدہ دیکھا۔ لیکں فیصلہ کرنا پڑا ۔ اور ضرورت پڑی کو ملک کے وسیع تر مفاد میں اور ڈالرز کے حصول کے لئے کریں گے۔
        ہان اگر اللہ پاک ڈالر دینا شروع کردیں ، تو پھر کسی سے کیون مانگنے جائینگے، اور بھئی ہم نے قرض لیا ہے ملک سنوارنے کے لئے، پاکستان کے مستقبل کی خاطر، بچون کی تعلیم کی خاطر، بجلی کی خاطر، عوام کی معیار زندگی بلند کرنے کی خاطر۔ جو ہم اتار دینگے۔ اگر نہ رہے تو آنے والے اتارینگے۔ قرضہ لینا گناہ نہیں ۔ یہ تو بڑی بڑی حکومتین بھی لیتی ہیں۔
        رہی عوام کی بات ۔ وہ بھی تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہے۔ کبھی کسی اور قوم میں آپ نے دیکھا ہے، کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، دن رات۔ جس طرح ہماری قوم ادا کرتی ہے۔ رہی حالت زار کی بات تو ، اسکے لئے عرض ہے۔ یہی تو راستہ ہے مانگنے کا ۔ آپ نے کبھی ایسے ہٹے کٹے بھکاریون کو نہیں دیکھا۔ جو ایک ریڑھی میں اپنی مان یا بیوی کو لیٹا کر ہاتھ پاؤن موڑ کر بٹھا کر گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ لوگ انکی حالت دیکھ کر ترس کھاتے ہیں، اور خیرات دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ ہماری عوام کی موجودہ حالت زار دیکھا کر بڑے ملکون سے امداد کی درخواست نہ کریں۔ تو ڈالر کہان سے آئینگے۔ اور جب ڈالر نہیں آئینگے تو معیشت کا پہیہ کیسے چلے گا۔ہمارے غیر ملکی دورے، اور شاپنگیں، فائیو اسٹار ہوٹلز کے اخراجات کہان سے پورے ہونگے۔ ہماری غیر ملکی جائیدادیں کیسے وجود میں آئینگی۔ اور ہم اللہ کے فضل و کرم کی گردان کیسے لگائیں گے۔تم ہی بتاؤ
        پاکستان واحد ملک ہے۔ جو اللہ کے نام پر اور اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ اور اللہ پاک کا برا کرم ہے۔ اس ملک کا ہر فرد اللہ پاک کی ذات ہر مکمل یقین رکھتا ہے۔ ہمارا مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے۔ دس بجے کام پر چوک پر جاکر بیٹھ جاتا ہے۔ اگر مزدوری مل گئی تو ٹھیک، ورنہ سامنے ہی ہر چوک پر ہم نے سیلانی ویلفئیر والون کو جگہ مہیا ء کردی ہے۔ جہان انکے کھانے پینے کا مکمل انتظار ہے۔ ہفتہ میں ایک دن بھی دال نہیں ملتی بلکہ آٹھ سو روپے کلو والا گوشت بمعہ دو روٹی فی کس مہے،ساتھ ٹھنڈا پا نی دیا جاتاہے۔ بچون کے لئے گھر لیجانے کا الگ انتظام ہے۔ جو وہ جاتے ہوئے ساتھ لیجاتا ہے۔ کھانا کھاتا ہے، ٹی وی دیکھتا ہے، موبائیل پرگپ شپ کرتا ہے۔ اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔
        عرفان بھائی۔ ہمارے یہان سب سے اچھا کاروبار پاکستان کو خوشحال بھکاری کرتا ہے۔ صبح اللہ کا نام لیکر کر موٹر سائیکل نئی، کپڑا لگا کر چمکاتا ہے، نیسلے پانی کی بوتل تھلے میں ڈالتا ہے۔ اپنے ٹھکانے پر جاکر ایک طرف موٹر سائیکل اسٹینڈ کرتا ہے۔ گدڑی بچھاتا ہے، اور بیٹھ جاتا ہے۔ ہینڈ فری کان میں لگاتا ہے۔ اور جیب سے موبائیل نکال کر ایف ایم بینڈ لگاتا ہے ۔ اور آنے جانے والوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے ۔ اور اللہ کے حمد و ثنا کرتا ہے۔ سامنے کوئیٹہ ہوٹل سے دودھ پتی اور انڈا پراٹھا کا ناشتہ کرتا ہے۔ شام چھ بجے بوریا اٹھاتا ہے، موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتا ہے۔ راستے سے بچون کے لئے فروٹ لیتا ہے۔ اور اللہ کا شکر اوا کرتا ہے۔


        پاکستان وہ پاک سر زمین ہے، جہاںکا کاروباری اپنی مرضی سے اپنی دوکان میں فروخت ہونے والی چیزوں کی قیمتون کا تعین کرتا ہے۔ اور منافع کی شرح مقرر کرتا ہے۔ جہاں مارکیٹ میں فروخت ہونے والا گھی اور کوکنگ آئیل، مردہ جانورون کی ہڈیون، چربی، اور فضلات وے تیار کرنے کے کارخانے دن رات گھی اور آئل تیار کر رہے ہیں۔ اور مارکیٹ میں کھلے عام فروخت ہورہا ہے۔ اور اللہ کا شکر ادا کرتا نظر آرہا ہے۔
        آپ کا سموسے کھانے کا دل کرے، آپکو بہترین سموسے بازار میں دستیاب ہونگے، جو چوہون کے قیمہ سے تیار کئے جاتے ہیں۔ آپ کوتازہ گدھے کا گوشت ماکیٹون میں ملے گا۔ یہ سب اللہ پاک کے کرم اور فضل نہیں تو اور کیاہے۔ کہ ہر انسان مسلمان ہے، کلمہ گو ہے۔ پانچ وقت کا نمازی ہے۔ پوک گوشت نہیں کھاتا " حرام " ہے۔ لیکن "ام لاخبائث" شراب بڑے دھڑلے سے بیچ بھی رہا ہے ، اور پی بھی رہا ہے ۔ اگر آپ کا دل کرے تو کراچی شہر کے قلب میں واقع مزار قائد چلے جائیں، پانچ روپے کا ٹکٹ لیکر آپ محفوظ ہیں۔ اندر موجود، ٹک شاپس، آئیسکریم پارلر، سے آپ کولڈ کولڈ ٹھنڈے مشروبات سے لیکر ایمپورٹیڈ شراب سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اور اگر آپ کو باپردہ برقعہ پوش ساتھی کی ضرورت ہے ، تو آپ کو دستیاب ہوگا۔ اگر آپ کے پاس جگہ نہیں تو قائد کا مزار حاضر ہے۔ ایک ہزار تا پانچ سو روپے میں آپ مزار قائد کے تہ خانہ میں ( جہان قائد اعظم کی قبرہے) میں ایک گھنٹہ کے لئے جگہ بھی مہیا ء کر دی جائے گی۔ اگر ان سے بھی سوال کریں گے۔ کیا حال ہے بھائی۔ تو وہ بھی بڑی انکساری سے سر جھکا کر کہے گا ۔ بڑا اللہ کا کرم ہے۔ اس پاک ذات کاشکر ہے۔ عزت سے دو وقت کی روٹی مل جاتی ہے۔۔
        بس بھائی، اللہ پاک کے کرم و فضل کی اور کیا کیا مثال پیش کروں۔ جب یہاں اس حد تک شکر اور صبر کرنے والے موجود ہون، وہاں کس چیز کی کمہ ہوسکتی ہے۔
        مسجد کا مولوی ، کنڈے کی لائیٹ پر آذان بھی دے رہا ہے، تماز بھی پڑھا رہا ہے، اور آپ کے لئے وضو کا احتمام بھی کر رہا ہے۔ فطرے، صدقے، چندے، زکواۃ ، بھی جمع کر رہا ہے۔ اور یہ قتویٰ بھی صادر کر رہا ہے۔ کہ مساجد میں بجلی وہ بھی کنڈے کی حرام نہیں ہے۔ جائز ہے۔ اور اس مسجد کے نمازی بھی کہتے ہیں۔ جی کیا کر سکتے ہیں۔ ہم تو نماز پڑھنے آتے ہیں۔ ہاتھ اٹھا کر مولوی کے پیچھے لمبی لمبی آمین کہتے ہیں ۔ اور گھر چلے جاتے ہیں۔
        اسکو چھوڑین۔ ہمارے شکر کا یہ عالم ہے، کہ اگر کوئی بد دعا بھی دے تو وہ اللہ میان قبول نہیں فرماتے۔ اب اس بات کو لے لیں، پاکستان کی اٹھارہ کروڑ عوام روزانہ دس گالیان فی کس کے حساب سے دن میں چھ مرتبہ لوڈ شیڈنگ( یا بجلی جانے ) ہر واپڈا، اور بجلی پیدا کرنے والے ادارون کو دیتے ہیں۔ اسکا مطلب۔ ایک پاکستانی ساٹھ گالیان بجلی کے ادارون اور وزاراء کو دیتا ہے۔ اگر ان ساٹھ کو اٹھارہ کروڑسے ضرب کرین تو اندازے کے مطابق دس ارب اسی لاکھ گالیان ۔ اور بد دعائیں بنتی ہیں۔ لیکن دیکھنے میں آیا ہے۔ نہ تو کوئی وزیر مرا اور نہ ہی کو اعلیٰ ٰ افسر پھڑکا ہے۔ تو اسکا مطلب اللہ پاک کا خاص کرم اور فضل ہے۔ ھکمرانوں پر بھی۔ اب غریب آدمی کرے بھی تو کیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ سوائے اسکے کہ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اب تک اسبات کا اندازہ ہو ہی نہیں سکا ۔۔۔۔۔۔ کہ اللہ پاک پاکستان کی عوام الناس سے ناراض ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر حکمران اعلیٰ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ سوائے اسکے۔۔۔ کہ ایک مرتبہ پھر نبی کریم ﷺ کی ارشاد کردہ احادیث کا مطالعہ کریں ۔۔ اور کوئی نئی تدبیر سوچیں۔
        ایک حدیث تو مجھے یاد ہے۔۔۔۔ نبی کریم، ﷺ نے فرمایا۔ کہ جب میری قوم جھوٹ بولنے لگے گی، کم تولنے لگے گی، گالم گلوچ کرنے لگے گی، اور امربلمعروف اور نہیٰ المنکر سے منہ موڑ لے گی، تو اللہ کی نگاہ سے گر جائے گی۔ اسوقت اللہ پاک انپر ایسے حکمران مسلط کردینگے۔ جو نہ بوڑھوں پر رحم کھائیں گے۔ اور نہ بچون پر رحم کھائیں گے۔ ۔۔۔۔ میرا خیال ہے ۔۔۔۔ اسی دور کی اللہ کے رسول ﷺ نے بیشگوئی کی تھی۔
        میرا یہ یقیں ہے آپ دبئی میں رہتے ہیں۔ جہان کم از کم ، غذائیں، اور دیگر اشیاء تو پاک صاف ملتی ہیں۔ اور بجلی بھی چوری نہیں ہوتی ہوگی، مساجد میں، اسلئے آپ سے درخواست ہے۔ کہ ہم پاکستانیون کے لئے خصوسی دعاؤن کا اہتمام فرمائین۔ ۔۔۔ کیونکہ اب ہماری دعاؤن میں اثر نہیں رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
        بھائی عرفان، آپ نے ہمیں ہمیشہ تشنہ ہی رکھا۔ ہمالرے شوق کی کبھی بھی پیاس بجھانے کو کوشش نہیں کی۔۔۔۔ ہم بھی صبر و شکر کر کے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ
        اب آئینہ ہے، دیکھ کے حیرت زدہ مجھے، اب آئینے کو دیکھ کے، حیران نہیں ہوں میں ۔
        :amm::amm:دعاؤن کی درخواست ۔۔ فاروق سعید قریشی۔

        Comment


        • #19
          Re: Nasri Adab Compititin for the month of April 2014 فضیلتِ اسلام



          فضیلت اسلام


          حضور سرورِ کائینات ﷺ کی تعلیمات کے مجموعے کا نام اسلام ہے۔ اسلام کا مطالعہ ہی نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ ہے۔ کہ اسلام کیا ہے :۔
          اسلام ۔ وہ سیدھا سادھا دین ہے۔ جس کی عام فہم تعلیم ہر ایک کی سمجھ میں باآسانی آجاتی ہے۔
          اسلام۔ وہ صحیح اور فطرت کے مطابق پاکیزہ دین ہے۔ جس کی تصدیق ِ صحت جملہ علوم سے ہوتی ہے۔
          اسلام ۔ وہ دین ہے جو انسان کی سرشت کو بیان کرتا ہے۔ اور ایسے اصول بتاتا ہے۔ جن میں تبدیلی ناممکن ہے۔
          اسلام ۔ اللہ تعالیٰ کا وہ آخری پیغام ہے۔ جو ترقی یافتہ دنیا کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔
          اسلام ۔ وہ دین ہے۔ جو چین، سیام، انام، سیلون، ہندوستان، پاکستان، خراسان، سیستان، چینی تاتار ، ترکستان، ایران، سائیبیریا، روس ، ترکی، یمن، حجاز، نجد، شام، فلسطین، عمان، مصر، افریقہ، سوڈان، ناٹال، بوسینیا ہرزیگونیا، کریٹ، مالٹا، فرانس، سپین، ماکو، الجزائر، ٹیونس، وغیرہ میں بغیر کسی جدوجہد و جنگ و جدال کے ازخود پہنچا اور دین فطرت ہونے کی وجہ سے ہر ایک ملک کے باشندون کے موافق آیا۔ ہر ایک جگہ کے تمدن پر اس نے غلبہ پایا۔ ہر ایک ملک کے علوم و فنون کی سرپرستی فرمائی ۔
          اسلام۔ وہ دین ہے۔ جو انسان کو تہذیب نفس بھی سکھاتا ہے۔ اور تدبیر عمل کا بھی ماہر بنادیتا ہے۔ سیاسیات مدن کا استاد ہے۔
          اسلام ہی وہ دین ہے۔ جس میں تعصب کا نشان نہیں، پرانے مسلمان اور نومسلم سب برابر ہیں۔
          اسلام ۔ ہی وہ دین ہے۔ جس کے اصول عیسائیوں، یہودیوں، سابیون، برت پرستون، منکرون، ملحدون، وہم پرستون اور فسطائیون کےاصولون پر غالب آئے۔
          اسلام ۔ ہی وہ دین ہے۔ جس نے دنیا میں کسی قوم یا کسی بشر کو اچھوت نہیں بتایا۔
          اسلام۔ ہی وہ دین ہے۔ جہان حسب و نسب کا عالی ہونا کسی انسان کے عالی ہونے کا سبب نہیں اور جہان ذات گوت کا کمتر ہونا کسی شخص کے کمتر قرار دیئے جانے کا ذریعہ نہیں۔
          اسلام۔ ہی وہ دین ہے۔ جو کالی ، گوری، زرد، اور گندمی رنگون کی تفریق سے بہت بلند ہے۔
          اسلام۔ ہی وہ دین ہے۔ جو کسی زبان، لہجہ یا لغت کی تخصیص سے بہت عالی ہے۔
          اسلام ۔ ہی وہ دین ہے۔ جو انسان کو ساری کائینات کا سردار بناتا ہے۔
          اسلام ۔ ہی وہ دین ہے۔ جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایک ذلیل و عاجز بندہ بننے کی تعلیم دیتا اور لاز"ما پنجگانہ عبادت روزانہ کو اہم ترین فریضہ ٹھہراتا ہے۔ جس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔
          اسلام۔ ہی وہ دین ہے۔ جو کسی مذہب کے بزرگ کی توہین کو ایک قبیح جرم قرار دیتا ہے۔
          اسلام ۔ہی وہ دین ہے۔ جس نے تسلیم کیا ہے۔ کہ ہر ایک ملک اور پر ایک قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہادی اور رہنماء آتے رہے ہیں۔
          اسلام۔ ہی وہ دین ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ تمام قوموں، ملکوں، کی جدائی کو دور کرکے سب کو متحد و متفق بناکر ان میں مساوات قائیم کی جائے۔
          اسلام۔ ہی وہ دین ہے۔ جس کے سواء آج تک کسی مذہب، نے ساری قوموں اور ملکوں کو متحد بنانے کا کام اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔اسلام۔ کے پانچ ارکان ہیں، ان پر غور و فکر کی نظر ڈالو، ان ارکان میں بندے کا تعلق اللہ تعالی سے اور بندے کا تعلق اپنے برادرانِ جنس کے ساتھ مضبوط اور مستحکم کردیاگیا ہے۔

          اقتباسات ۔مخزن اخلاق/ صفحہ 455

          Comment

          Working...
          X