Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

مذاہب کی میتھالوجی

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • مذاہب کی میتھالوجی

    اگر آج کے مذاہب کا آپس میں موازنہ کیا جائے تو معلوم پڑے گا کہ ان کی بہت ساری صفات باہم مشترک اور ایک جیسی ہیں، اور کچھ نہیں تو اس سے انسان کے مزاج کا ایک معمولی سا تکوینی نقص ضرور ابھر کر سامنے آتا ہے جسے ارتقاء اور علوم کی طاقت ابھی تک ختم نہ کر سکی اور وہ ہے اطمینان اور یقین کی شدید خواہش.

    تاریخ ایسے مذاہب سے بھری پڑی ہے جو مر کر ناپید ہوگئے کیونکہ ان کے ماننے والوں کا ان پر سے اعتقاد اٹھ گیا، جب مذہب مر کر ختم ہوتا ہے اور اسے کوئی ماننے والا نہیں رہتا تب یہ جدید مفہوم میں “میتھالوجی” بن جاتا ہے جیسے مشہور ومعروف یونانی میتھالوجی جو اب صرف قصے کہانیوں اور قدیم خرافات کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے جنہیں بچوں کو سلانے کی غرض سے نیند سے پہلے سنایا جاتا ہے.

    ایسے ہی مذاہب میں جو اب محض افسانوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں قدیم مصری مذہب ہے جو فوت ہوکر ختم ہوچکا ہے، اسی قدیم مصری مذہب سے ملتا جلتا ایک قرطاجی مذہب بھی ہے جو تمام ہوچکا ہے، روم کا قدیم مذہب بھی قصہء پارینہ بن چکا ہے جبکہ قدیم طاوی مذہب تیزی سے ناپیدگی کی طرف گامژن ہے تاہم جو بات زیادہ تر عام لوگ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ آج بھی لوگوں کے درمیان رائج بیشتر خرافات جنہیں وہ خدا کی طرف سے بھیجی گئی مطلق حقیقت سمجھتے ہیں دراصل ناپید ہونے والے انہی پرانے مذاہب کی باقیات ہیں جن پر زمانے کے حساب سے کچھ ٹوٹے لگا انہیں خوشنما بنا دیا گیا ہے.

    کوئی پوچھ سکتا ہے کہ آخر یہ پرانے مذاہب ناپید ہوکر خرافات میں کیسے تبدیل ہوگئے؟ کیا اس لیے کہ یہ غیر حقیقی مذاہب تھے اور اب خدا نے حقیقی مذاہب نازل کردیے ہیں؟ جواب یقیناً نفی میں ہے، یہ مذاہب اس لیے ناپید ہوگئے کیونکہ ان سے زیادہ طاقتور لوگوں کے مذہب نے ان پر قبضہ کر کے ان پر اپنی نئی فکر تھوپ دی مثال کے طور پر فرعونی مصر پر بازنطینی سلطنت نے قبضہ کر کے اپنا آرتھوڈکس عیسائی مذہب تھوپ دیا یا پھر اس لیے کہ پرانا مذہب تقلباتِ زمانہ کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوسکا جس کی وجہ سے اس کے ماننے والے اپنے آپ کو اپڈیٹ کرنے پر مجبور ہوگئے اور پھر وقت کے ساتھ وہ مذہب ناپید ہوگیا یا پھر اس لیے کہ نیا مذہب پرانے سے زیادہ طاقتور تھا، اس کی قریبی مثال ہسپانویوں کی ہے جب وہ اسلحے اور گھوڑوں سمیت جنوبی امریکہ پہنچے تو وہاں کے اصل شہریوں پر واضح ہوگیا کہ ہسپانویوں کا نیا خدا ان کے پرانے خداوؤں سے زیادہ طاقتور ہے چنانچہ انہوں نے اپنا پرانا دین چھوڑ کر عیسائیت کو اپنا لیا.

    انسانی دماغ کے پاس یقین کرنے، اعتقاد رکھنے اور ایمان کی بڑی صلاحیت ہے چاہے یہ عقیدے ہمارے آج کے زمانے کے حساب سے کتنے ہی بوسیدہ کیوں نہ ہوں کیونکہ وہ حقیقت میں کسی ایسی چیز کی تلاش میں ہوتا ہے جو اسے بعد از مرگ بھی زندگی دے سکے اور اس مراد کے لیے چاہے اسے اپنے آپ کو کسی فریب سے ہی کیوں نہ قائل کرنا پڑے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں آج بھی ایسے ہزاروں عقیدے موجود ہیں جو ایک دوسرے سے نہ صرف متصادم ہیں بلکہ ایک دوسرے کا اعتراف تک نہیں کرتے… غور طلب بات یہ ہے ماضی کے ہزاروں مذاہب کا زندگی کے آغاز کے حوالے سے اپنے اپنے الگ نظریات تھے اور ہر فریق کو اپنے نظریے کی درستگی کا ایمان کی حد تک یقین تھا چنانچہ کسی کا خیال تھا کہ ہم کینگرو کی نسل سے ہیں جیسا کہ اسٹریلیا کے قدیم باشندوں کا عقیدہ تھا یا ہم روحوں کی
    *Reincarnation
    کا نتیجہ ہیں کہ آج کی بلی مر کر ہاتھی کی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے جبکہ کچھ
    کا خیال ہے کہ آدم اور حواء ہی اصل ہیں جبکہ اصل میں ان میں سے کسی بھی تاویل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، کچھ عرصہ قبل میں اپنے ایک ذرا آزاد خیال دوست سے گفتگو کر رہا تھا، اس نے بتایا کہ اصل میں نظریہ ارتقاء قرآن سے متصادم نہیں ہے!!! یہ یقیناً ایک مذہب کی ناپیدگی کی علامت ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے یعنی زمانے سے ہم آہنگی کی کوشش میں مذہب میں تبدیلی کرنا.

    جب انسان کی عقل یہ سمجھنے لگے کہ صرف اسی کے پاس ہی مطلق حقیقت ہے تو یقیناً اسے باقی لوگ غلطی پر نظر آئیں گے یہی وجہ ہے کہ سنی اور شیعہ کی بحث کبھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ ہر کوئی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے جبکہ عیسائی ان دونوں پر ہنس رہا ہوتا ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ دونوں غلطی پر اور وہ حق پر ہے جبکہ بہائی ان تینوں کو دیکھ کر ان کی بے وقوفی پر دل ہی دل میں ہنستا ہوگا اور پتہ نہیں ہندو کیا سوچتا ہوگا..؟!

    مذاہب اندھیری جگہوں پر ہی پنپتے ہیں جہاں جہالت ناچ رہی ہو تاہم انٹرنیٹ اور جدید میڈیا کی آمد سے ان کا پھیلاؤ کسی حد تک رک گیا ہے اور جلد ہی مذہب کے پیڑ کا آخری پتہ بھی گر جائے گا جس نے مذہبی فکر کی شرمگاہ کو چھپا رکھا ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حالیہ مذاہب کی زیادہ سے زیادہ بقیہ عمر دو سو سال سے زیادہ نہیں تب آج کے بڑے مذاہب کا انجام بھی اپنے سابقہ مذاہب سے مختلف نہیں ہوگا کہ تاریخ کسی افسانے پر رحم نہیں کرتی…
    ہے الف و لیلہ سی زندگی درپیش
    سو جاگتی ہوئی ، اک شہر زاد ہے دل میں

  • #2
    Re: مذاہب کی میتھالوجی

    :think:
    :star1:

    Comment

    Working...
    X