Above Post

Collapse

پہلی جنگِ افیون: کب کیا ہوا؟

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • پہلی جنگِ افیون: کب کیا ہوا؟

    پہلی جنگِ افیون: کب کیا ہوا؟
    ایڈم آگسٹائن
    چین میں ہونے والی پہلی جنگِ افیون کا مختصر احوال کچھ یوں ہے۔ اٹھارہویں صدی: سلطنتِ برطانیہ چین سے بڑی مقدار میں چائے درآمد کرتی تھی اور اسے بہت بڑے تجارتی عدم توازن کا سامنا تھا، اور وہ ایسی پیداوار کی تلاش میں تھا جو چینی خریدیں۔ اٹھارہویں صدی کا وسط اور آخر: برطانیہ کی تجارتی ایسٹ انڈیا کمپنی نے برطانوی تاجروں کو افیون فروخت کرنا شروع کر دی جو اسے چین بھیجنے لگے۔ 1729ء میں چین نے اس نشے پر پابندی لگا دی تھی، اس کے باوجود ایسا کیا گیا۔ 1820 ء: چین میں افیون کی کم درآمد میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ اس سے چین کے لیے تجارتی عدم توازن پیدا ہو گیا، نشہ کرنے والے شہریوں کی تعداد چین میں بڑھ گئی اور سماجی مسائل پیدا ہونے لگے۔ چین نے افیون کی تجارت پر پابندی لگانے کی کوشش کی، لیکن اسے بہت کم کامیابی حاصل ہوئی۔ 1833ء: برطانوی حکومت کے ایک ایکٹ کے باعث ایسٹ انڈیا کمپنی کی چین میں اجارہ داری ختم ہو گئی، تاہم اس کا تمام سٹاف 1834ء تک وہاں رہا۔ 1833ء کے ایکٹ سے مزید تجار کو افیون چین لانے کی آزادی مل گئی۔ اس سے نشہ کرنے والے چینی شہریوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا اور وہ سماجی اور معاشی مسائل بڑھ گئے جن کی ابتدا چین میں افیون کی تجارت اور لت سے ہوئی تھی۔ بہار 1839ء: چینی حکومت نے افیون کی اچھی خاصی مقدار… تقریباً 1400 ٹن ضبط کرنے کے بعد تلف کر دی جسے برطانوی تاجروں نے کینٹون (گوانگ ژو) کے گودام میں رکھا تھا۔ جولائی 1839ء: نشے میں چُور برطانوی ملاحوں نے ایک چینی دیہاتی کو قتل کر دیا۔ برطانوی حکومت چینی نظامِ عدل کے تحت فیصلہ نہیں چاہتی تھی اور اس نے ملزمان کو چینی عدالتوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نومبر 1839ء: برطانویوں اور چینیوں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب برطانوی جنگی بحری جہاز نے ہانگ کانگ میں دریائے پرل (یوجیانگ) کے راستے پر چینی ناکہ بندی کو تباہ کر دیا۔ جون 1840ء: برطانوی عسکری مہم پر علاقے میں آئے۔ وہ بعد ازاں دریائے پرل کے بحری راستے سے کینٹون کی طرف بڑھے، ایک بندرگاہ پر حملہ کیا اور قبضہ کر لیا، باقیوں کی ناکہ بندی کر دی۔ جنوری 1841ء: چینی اور برطانوی نمائندوں کے مابین ایک ابتدائی معاہدے نے بحران ختم کردیا مگر دونوں ممالک کی سرکار نے اسے تسلیم نہ کیا۔ مئی 1841ء: کینٹون میں کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد برطانوی فوجوں نے شہر پر حملہ کر دیا اور قبضہ کر لیا۔ دوسرے علاقوں میں ایک سال تک لڑائی چلتی رہی۔ اواخر اگست 1842ء: برطانیہ نے نن جِنگ (نن کنگ) پر قبضہ کر لیا جس کے بعد لڑائی ختم ہو گئی۔ 29 اگست 1842ء: سلطنت برطانیہ اور چین کے مابین معاہدہ نن جِنگ پر دستخط ہوئے جس کے بعد پہلی جنگِ افیون کا خاتمہ ہوا۔ اس کی شقوں میں یہ شامل تھا کہ چین ایسی بندرگاہیں بڑھائے جہاں تجارت کے لیے برطانوی آ سکیں اور ایک سے پانچ دن رہ سکیں۔ اس معاہدے سے ہانگ کانگ کا علاقہ بھی سلطنتِ برطانیہ کے ہاتھ آیا۔ اس معاہدے نے چین اور دوسرے ممالک کے ساتھ غیرمساوی معاہدوں کی راہ ہموار کی جن میں چین کو اپنے علاقوں اور خودمختاری سے ہاتھ دھونے پڑے۔ 8 اکتوبر 1843ء: سلطنتِ برطانیہ اور چین کے مابین معاہدہ بوگو (ہومن) پر دستخط ہوئے۔ یہ معاہدہ نن جِنگ کی توسیع تھا جس سے سلطنتِ برطانیہ کو ’’پسندیدہ ترین ملک‘‘ کا درجہ مل گیا؛ اس کا مطلب تھا کہ چین میں کسی بھی دوسرے ملک کو دیے جانے والے حقوق سلطنتِ برطانیہ کو دینا بھی لازم تھے۔ اس سے برطانوی شہری مقامی قانون سے بالا ہو گئے۔ اس کے بعد دوسرے ممالک نے بھی ان رعایتوں کا مطالبہ کیا اور انہیں حاصل کیا۔ (ترجمہ: رضوان عطا)

Below Post Add

Collapse
Working...
X