Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

چھُونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • چھُونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے


    چھُونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
    مُٹھی میں آ نہ پائے کہ جگنوں نِکل گئے
    پھیلے ہُوئے تھے جاگتی نیندوں کے سِلسلے
    آنکھیں کھلیں تو رات کے منظر بدل گئے
    کب حدّتِ گلاب پہ حرف آنے پائے گا
    تِتلی کے پَر اُڑان کی گرمی سے جل گئے
    آگے تو صرف ریت کے دریا دکھائی دیں
    کن بستیوں کی سمت مسافر نکل گئے
    پھر چاندنی کے دام میں آنے کو تھے گلاب
    صد شکر نیند کھونے سے پہلے سنبھل گئے

    parveen shakir
    Hacked by M4mad_turk
    my instalgram id: m4mad_turk
Working...
X