Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

چراغ شب کو جیسے آندھیاں اچھی نہیں لگتیں

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • چراغ شب کو جیسے آندھیاں اچھی نہیں لگتیں

    چراغ شب کو جیسے آندھیاں اچھی نہیں لگتیں
    کچھ ایسے ہی ہمیں خوش فہمیاں اچھی نہیں لگتیں

    جنہیں سونے کے پنجرے میں غذا مل جاے چاندی کی
    انہیں پھر آزادیاں اچھی نہیں لگتیں

    بلندی پر کبھی پہنچاے گا میرا ہنر مجھ کو
    مجھے قدموں کے نیچے سیڑھیاں اچھی نہیں لگتیں

    وہ جن کے دل میں فصل غم نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں
    انہیں پھولوں پہ بیٹھی تتلیاں اچھی نہیں لگتیں

    وہ حسن و دلکشی کو جانتے پہچانتے کب ہیں
    کہ جن کو کھلکھلاتی لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں

    میرا جی چاہتا ہے ان کو میں آئینہ دکھلاؤں
    وہ جن کو دوسروں کی خوبیاں اچھی نہیں لگتیں

    مجھے کانٹوں بھرے رستے پر چلنے کو کہتا ہے
    دلٍ ناداں کو مجبوریاں اچھی نہیں لگتیں

    فرحت عباس شاہ
    اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
    اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

Working...
X