Above Post

Collapse

یہ محبتوں کا قصور ہے

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • یہ محبتوں کا قصور ہے


    یہ جو آنسوؤں میں غرور ہے
    یہ محبتوں کا قصور ہے
    تیرا آسمان قریب تھا
    میرا آسمان تو دور ہے
    مجھے کہہ رہی وہ عزم سے
    مجھے تم کو پانا ضرور ہے
    یہ میری شبیہہ نہیں ، سنو
    یہ تو میری آنکھوں کا نور ہے
    تیرے عشق کا تیری روح کا
    میری وحشتوں میں ظہور ہے
    میری شاعری کی رگوں میں سب
    تیری چاہتوں کا سرور ہے
    مجھے اپنے رتبے کا علم ہے
    مجھے اپنے غم کا شعور ہے
    میری روح غم سے نڈھال ہے
    میری ذات ہجر سے چور ہے
    ( فرحت عباس شاہ )

  • #2
    Re: یہ محبتوں کا قصور ہے

    very nice lines





    Comment


    • #3
      Re: یہ محبتوں کا قصور ہے

      Very Nice

      Comment


      • #4
        عمدہ اور خوب صورت انتخاب
        شیئر کرنے کا شکریہ


        Comment

        Below Post Add

        Collapse
        Working...
        X