Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

اداس شام کی ایک نظم

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • اداس شام کی ایک نظم

    اداس شام کی ایک نظم

    وصال ُرت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش تھی
    کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کیا
    تمہارے ہاتھوں کا لمس جب میری وفا کی ہتھیلوں پر حنا بنے گا
    تو سوچ لوں گی
    رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں
    ہمارے باغوں سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو نہ گزر پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں
    اگر کوئی شام یوں بھی آئے کے ہم تم لگے پرائے
    تو جان لینا
    کہ شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں
    تمہاری خواہش کی مٹھیاں بے دھانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا
    کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے
    تمھارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خوہشوں میں
    بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے
    مگر یہ خدشے ، یہ وسوسے تو تکلفاًَ ہیں

    ہم اپنے جذبوں کو منجمدرائیگانیوں کے سپرد کر کے
    یہ سوچ لے گے
    کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی
    سفر کا آغاز کر چکا تھا

    نوشی گیلانی



Working...
X