Above Post

Collapse

میری محبّت تو اک گوھر ہے، تیری وفا بےکراں سمندر...

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • میری محبّت تو اک گوھر ہے، تیری وفا بےکراں سمندر...

    میری محبّت تو اک گوھر ہے، تیری وفا بےکراں سمندر...
    تُو پھر بھی مُجھ سے عظیم تر ہے کہاں گوھر ہے کہاں سمندر...

    یقین ہے دھوکے میں آ کے اُترا ہے چاند پانی کی سلطنت میں....
    بُلندیوں سے دکھائی دیتا ہے ہو بہ ہو آسمان سمندر....

    ازل سے بے سمت جُستجو کا سفر ہے درپیش پانیوں کو...
    کسے خبر کس کو ڈھونڈتا ہے میری طرح رائیگاں سمندر...

    میں تشنہ لب دور سے جو دیکھوں تو ہر طرف سیلِ آب پائوں...
    قریب جائوں تو ریت شعلہ، غبار ساحل، دھواں سمندر...

    ہمارے دل میں چُھپے ہوئے درد کی خبر چشمِ تر کو ہو گی...
    سنا ہے زیرِ زمیں خزانوں کا ہے فقط رازداں سمندر......

    میں استعاروں کی سرزمین پر اتر کے دیکھوں تو بھید پاؤں...
    بشر مسافر، حیات صحرا، یقین ساحل، گمان سمندر...

    جہاں جہاں شامِ غم کی افسردگی کا ماتم برپا ہوا ہے...
    اُفق سے آ کے گلے ملا ہے وہاں وہاں مہرباں سمندر.......

    وفا کی بستی میں رہنے والوں سے ہم نے محسن یہ طور سیکھا...
    لبوں پہ صحرا کی تشنگی ہو مگر دلوں میں نہاں سمندر...

Below Post Add

Collapse
Working...
X