Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

    قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
    کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں


    کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی
    کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں


    شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول
    اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں


    پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل میں خوف کی
    ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قید ہیں


    یہ زمیں یوں ہی سکڑتی جائے گی اور ایک دن
    پھیل جائیں گے جو طوفاں ساحلوں میں قید ہیں


    اس جزیرے پر ازل سے خاک اڑتی ہے ہوا
    منزلوں کے بھید پھر بھی راستوں میں قید ہیں


    کون یہ پاتال سے ابھرا کنارے پر سلیمؔ
    سرپھری موجیں ابھی تک دائروں میں قید ہیں
    Last edited by Dr Fausts; 16th June 2018, 09:55.
    :(
Working...
X