Above Post

Collapse

"کبھی ہم بھی خوبصورت تھے"

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • "کبھی ہم بھی خوبصورت تھے"



    "کبھی ہم بھی خوبصورت تھے"
    کتابوں میں بسی خوشبو کی صورت
    سانس ساکن تھی!
    بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھے
    پرندوں کے پروں پر نظم لکھ کر
    دور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھے
    جو ہم سے دور تھے
    لیکن ہمارے پاس رہتے تھے !
    نئے دن کی مسافت
    جب کرن کے ساتھ آنگن میں اترتی تھی
    تو ہم کہتے تھے۔۔۔۔۔امی!
    تتلیوں کے پر بہت ہی خوبصورت ہیں
    ہمیں ماتھے پہ بوسا دو
    کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے
    ہمیں رنگوں کے جگنو‘ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں
    نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ
    کھڑکی سے بلاتی ہے
    ہمیں ماتھے پہ بوسا دو

    (شاعر: احمد شمیم)
    اللھم صلی علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صلیت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔
    اللھم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی ابراھیم وعلٰی آل ابراھیم انک حمید مجید۔

Below Post Add

Collapse
Working...
X