Above Post

Collapse

غزل

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • غزل

    یقین سے دور تھا یہ حادثہ گمان سے بھی۔
    نکل رہا ہے دھوان اُف مرے مکان سے بھی

    میں کیا علاضِ تمازت بتاؤن ہم نفسو
    رُکی نہ دھوپ مرے گھر کے سائیبان سے بھی

    ثبوت رفعتِ انساں کا اور کیا ہوگا
    گزر گیا ہے ستاروں کے درمیان سے بھی

    ہر ایک شہر کا بازار دیکھ آیا ہوں
    ملی نہ مجھ کو دیانت کسی دکان سے بھی

    یہکس دیار مین لائی ہے زندگی مجھ کو
    نہیں ہے ربط مرا میرے خاندان سے بھی

    تضاد ظاہر و باطن مجھے پسند نہیں
    جو دل میں ہے وہ بیاں کیجئے زبان سے بھی

    تھکن کا روز نہ ٹوٹا سعید حیرت ہے
    کھلی نہ آنکھ مری صبح کی اذآن سے بھی۔

  • #2
    خوب است... خاص طور پر سیکنڈ لاسٹ
    میں نعرہ مستانہ، میں شوخی رندانہ

    Comment

Below Post Add

Collapse
Working...
X