Above Post

Collapse

خراٹوں کا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔ تحریر : اعجاز حسین

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • خراٹوں کا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔ تحریر : اعجاز حسین

    خراٹوں کا مسئلہ ۔۔۔۔۔۔ تحریر : اعجاز حسین

    Click image for larger version

Name:	kharatay.jpg
Views:	2
Size:	21.5 KB
ID:	4291111
    خراٹے لینے والا خود تو آرام سے سوتا رہتا ہے، خراٹوں سے خود اس کی نیند میں خلل نہیں پڑتا، لیکن اس کی بیوی اور دوسرے لوگ جو اس کے قریب سو رہے ہوتے ہیں، ان کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔
    اگر آپ خراٹے لینے والوں میں سے ہیں تو اس بات کو غنیمت سمجھیں کہ آپ کے پاس سونے والے احتجاج نہیں کرتے۔ خراٹے لینے کا تعلق عہدے اور دولت سے نہیں۔ غریب اور امیر دونوں اس میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ بادشاہ بھی اس سے مبرا نہ تھے۔ مثال کے طور پر پلوٹارک لکھتا ہے کہ رومن شہنشاہوں میں اوتھو اور کیٹو خراٹے لینے والوں میں سے تھے۔ ونسٹن چرچل کے لیے مشہور تھا کہ وہ 35 ڈیسائبل (آواز کا ایک پیمانہ) کی صدا کے خراٹے لیتا تھا۔ امریکی ریاستوں کے 20 صدور سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خراٹے لینے والے تھے۔
    خراٹوں کا کوئی ایسا علاج نہیں جو خطا نہ کرے اور تیر کی طرح ٹھیک نشانے پر لگے۔ بچوں کے خراٹوں کے علاج میں نسبتاً زیادہ کامیابی ہوتی ہے، جن کا سبب لوزتین اور نسیج کا ورم یا ان کا بڑھ جانا ہوتا ہے۔ نیز بچوں میں وہ جوف تنگ ہوتا ہے، جو گلے اور نرم تالو کی پشت پر ہوتا ہے۔ اس سے ہوا کا راستہ زیادہ تنگ ہو جاتا ہے اور یہ صورت حال خراٹوں کی محرک ہو سکتی ہے۔ اس چیز کو معمولی جراحی سے درست کیا جا سکتا ہے۔
    خراٹے کی آواز منہ سے سانس لینے سے پیدا ہوتی ہے۔ ہوا منہ کے راستے نکلتے وقت منہ کی پشت پر واقع نرم تالو میں تھرتھراہٹ (ارتعاش) پیدا کر دیتی ہے اور اس ارتعاش سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ نرم تالو کے ارتعاش سے لبوں، رخساروں، نتھنوں اور منہ کی دوسری نسیج میں بھی تھرتھراہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ تیزی سے نکلنے والی ہوا نرم تالو کی نسیج کو خشک اور اس کے ارتعاش کو تیز کر دیتی ہے اور اس طرح کی تحریک آواز کو بلند کرتی ہے۔
    اگر انسان گہری نیند یا بے ہوشی کی حالت میں پشت کے بل اس طرح لیٹا ہوا ہو کہ زبان نے ہوا کے راستے کو جزوی طور پر بند کر دیا ہو تو منہ سے خراٹے کی آواز نکلنے لگتی ہے۔ اگر بلغم، خراش یا ناک اور گلے میں تناؤ اور بھراؤ کی سی کیفیت ہو تو خراٹوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
    بعض شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ موٹاپا، الرجی (حساسیت) اور کثرتِ تمباکو و مے نوشی سے بھی خراٹوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
    خراٹے لینے والوں کی صدا کا دائرہ یا اس کی لہر خراٹے سے بڑھ کر سیٹی کی آواز یا ہانپنے کی تند صدا اور گڑگڑاہٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ارتعاشات متاثرہ نسیج کی لچک، طول و عرض اور عمق کے اختلاف و فرق سے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں ہوا کی روانی کی قوت اور ارتعاش کی رفتار کی تیزی کا دخل بھی ہوتا ہے۔ یہ صدائیں خراٹے لینے والوں کو ذرا بھی دکھ نہیں دیتیں، لیکن ہر اس شخص کے طبلِ گوش پر ضرب لگاتی ہیں جو ان کی زد میں ہوتا ہے۔
    خواب کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ آنکھ کی سریع حرکات کے دوران میں انسان شاذ و نادر ہی خراٹے لیتا ہے۔ آنکھ کی پتلی کی یہ حرکات نیند میں خواب کے دکھائی دینے اور نیند کی گہرائی اور اس کی سطحیت کی غماز ہوتی ہے۔ پہلا خراٹا عموماً آنکھ لگ جانے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد بلند ہوتا ہے۔ یہ گہری یا درمیانی درجے کی نیند کا دور ہوتا ہے۔
    خراٹوں سے جان چھڑانے کے لیے کچھ ٹوٹکے بھی آزمائے جاتے ہیں۔ مثلاًسونے کے وقت سے پہلے کھانے سے پرہیز کرنا، کیونکہ بھرا ہوا پیٹ سانسوں کی روانی پر اثر ڈالتا ہے۔ چونکہ خراٹے منہ سے سانس لینے کی وجہ سے ہوتے ہیں اس لیے ناک کو کھلا رکھنا چاہیے، اور اگر کسی بیماری سے ناک بند رہتا ہے تو اس کا علاج کرائیں۔ وٹامن سی نظام تنفس کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ پیٹھ کے بل سیدھا سونے سے خراٹوں کی آمد کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایک جانب سونا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں سر کو دھڑ سے قدرے اونچا کر کے سونا چاہیے۔
    ایک تحقیق کے مطابق خراٹوں کے شکار افراد اگر اپنے وزن میں 10 فیصد تک کمی کر لیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
    اگر خراٹوں کا مسئلہ آپ کے ساتھ رہنے والوں کو پریشان اور بے آرام کرتا ہے تو اس کے تدارک کی کوشش ضرور کریں اور اگر آپ کے ساتھ رہنے والا آپ کو پریشان اور بے آرام کر رہا ہے تو اسے اس کے تدارک کے طریقے برتنے کی جانب راغب کریں۔

  • #2
    Maria Noor

    Comment

    Below Post Add

    Collapse
    Working...
    X