Above Post

Collapse

مارچ کا مہینہ کیسے گزاریں؟ ...... تحریر : اعجاز حسین

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • مارچ کا مہینہ کیسے گزاریں؟ ...... تحریر : اعجاز حسین

    مارچ کا مہینہ کیسے گزاریں؟ ...... تحریر : اعجاز حسین

    مارچ میں بہار کی رت جواں ہوتی ہے۔ مارچ کے مہینے میں جاڑے رخصت اور گرمیاں شروع ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ تداخل کا مہینہ بھی کہلاتا ہے۔
    اس مہینے کا موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے، نہ ٹھٹھرا دینے والی سردی ہوتی ہے اور نہ پسینے سے شرابور کر دینے و الی گرمی، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حفاظتِ صحت کے لیے یہ مہینہ زبردست اہمیت رکھتا ہے۔ آپ کی ذرا سی بے احتیاطی آپ کی صحت پر اثرانداز ہو سکتی ہے اور اس کے نتائج بہت دور رس ہو سکتے ہیں۔
    سیروتفریح اور ورزش
    ہو سکتا ہے سرما صبح سویرے اٹھنے کی عادت پر اثرانداز ہوا ہو۔ مارچ میں آپ کو علی الصبح بیدار ہو جانا چاہیے اور حوائج ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد سیرو تفریح کے لیے سرسبز جگہ پر جانا چاہیے۔ معتدل موسم کی وجہ سے آپ یہ بآسانی کر سکتے ہیں۔ آپ گھر سے نکل کر کھلی فضا میں سانس لیں گے تو آپ کے جسم میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہوئی محسوس ہو گی جس سے آنکھوں کو نور اور دل کو سرور حاصل ہو گا۔ اگر آپ باہر نہ جا سکیں تو مکان کے صحن یا چھت پر کوئی ہلکی ورزش کر لیجیے، اگر طلوع آفتاب کے بعد دھوپ میں بیٹھ کر جسم کی مالش کریں تو بہت مناسب ہے۔
    نہانا
    سردیوں میں نہانا کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بدن کی جِلد پر میل کی تہ جم جاتی ہے۔ جب نیم گرم پانی سے نہایا جاتا ہے تو وہ میل آسانی سے پھول جاتا ہے، اس کو مل کر اتارا جائے اور صابن مل مل کر صاف کیا جائے۔ مارچ کے مہینے میں نہانے کے لیے نیم گرم پانی کا استعمال ہی مناسب ہے، خصوصاً کمزوروں، بوڑھوں اور بچوں کو نیم گرم پانی ہی سے نہانا چاہیے۔ لیکن نوجوان اشخاص تازہ پانی سے غسل کریں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
    لباس
    اس مہینے میں دفعتاً لباس میں بھی تبدیلی نہیں کرنی چاہیے کہ اگر کسی وقت درجہ حرارت گھٹا ہوا ہو تو وہ لباس جسم کو سردی سے محفوظ نہ رکھ سکے۔
    کھانا پینا
    اس مہینے میں کھانے پینے کی چیزوں میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔ اب موسم میں گرمی پیدا ہو رہی ہوتی ہے اور گرمی روز بروز بڑھتی ہی جائے گی۔ لہٰذا حلووں اور مٹھائیوں وغیرہ کے استعمال میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس قسم کی غذاؤں کے استعمال سے اس مہینے میں نظام انہضام پر بھی مضر اثرات پڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
    ناشتہ
    اس مہینے میں ناشتے میں کچھ ترمیم کر لیجیے۔ دہی کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور لسی کی بھی ابتدا کی جا سکتی ہے۔ البتہ جن لوگوں کو نزلہ زکام زیادہ ہوتا ہے یا ہو چکا ہے، وہ لسی سے پرہیز کریں۔
    دوپہر کا کھانا
    اس مہینے میں دوپہر کا کھانا کھانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ کھانے میں لوکی، ٹنڈے، توری، مٹر اور پالک کا ساگ تنہا یا گوشت کے ساتھ پکا کر کھائیں۔ آلو بھی سستا ہو چکا ہوتا ہے، اسے بھی کھائیں۔ مونگ کی دھلی دال، ارہر اور ماش کی دھلی دال بھی مناسب رہے گی۔ کھانے کے ساتھ دہی بھی استعمال کریں۔ کھانے کے بعد کوئی موسمی پھل کھائیں۔
    رات کا کھانا
    رات کے وقت سبزی گوشت کھایا جا سکتا ہے۔ صرف موسمی ترکاری بھی خوب رہتی ہے۔ رات کا کھانا ثقیل نہیں ہونا چاہیے۔ رات کے وقت سلاد بھی استعمال کریں۔ سونے سے پہلے اگر دودھ پینے کے عادی ہیں تو ضرور پئیں۔
    نیند
    رات کے ابتدائی حصے میں کوئی چادر اوڑھ کر سوئیے اور جب سردی معلوم ہو تو رضائی یا لحاف اوڑھ لیجیے۔ ایسا نہ کیا جائے تو صحت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
    پھل اور ترکاری
    بعض پھل موسم بہار میں دستیاب ہوتے ہیں۔ ذیل میں ان میں سے چند کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
    بیر: یہ اس مہینے کا خاص پھل ہے۔ یہ عموماً دو قسم کا ہوا ہے۔ بیروں میں مفید غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ ان سے اچھا خون پیدا ہوتا ہے اور یہ خون کو صاف رکھنے میں بھی مدد پہنچاتے ہیں۔ میٹھا اور تازہ بیر قبض دور کرنے میں امداد دیتا ہے۔ مگر کھٹے اور کھٹے میٹھے بیر قابض ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال صفراوی مزاج والوں کے لیے مناسب ہے۔ بیر کھانا کھانے کے بعد یا سہ پہر کو کھانے مناسب ہیں۔ بیر کھا کر پانی نہیں پینا چاہیے۔
    شہتوت: سفید شہتوت کا مزاج گرم و تر ہوتا ہے۔ یہ کافی غذائیت رکھتا ہے۔ خون پیدا کرتا ہے اور بدن کی پرورش میں کام آتا ہے۔ ملین ہے، حلق اور سینے کو طاقت بخشتا ہے۔ سیاہ شہتوت کا مزاج سرد خشک ہے۔ یہ صفراوی اور خونی مزاج لوگوں کے لیے مفید ہے۔ یہ پیاس میں بھی تسکین دیتاہے، خون اور صفرا کی حدت کو کم کرتا ہے۔
    ہرا گھیا: گھیا سرد و تر ہے اور گرم مزاج اشخاص کے لیے اور گرم بیماریوں میں خاص طور پر مفید ہے۔ یہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ خونی اور صفراوی امراض، سل و دق، جنون، مالیخولیا میں اس کا استعمال مناسب ہے۔
    گول کدو: اس کا مزاج اور اس کے فائدے گھیا کے مانند ہیں۔
    ٹنڈا: ٹنڈوں کا مزاج سرد و تر ہے۔ گرم مزاج اشخاص اور گرم بیماریوں میں اس کا استعمال خصوصیت سے مفید ہے۔ اس میں پیشاب لانے کی تاثیر ہے۔ اس لیے گردے اور مثانے کی پتھری کے مریضوں کے لیے اس کا استعمال مناسب ہے۔
    کچنال کی کلیاں: ان کا مزاج سرد ہے۔ معدے اور آنتوں کو طاقت دیتی ہیں اور معدے اور آنتوں کے ضعف سے جو دست آنے لگتے ہیں ان کو روک دیتی ہیں۔






  • #2
    Maria Noor

    Comment

    Below Post Add

    Collapse
    Working...
    X