Announcement

Collapse
No announcement yet.

Unconfigured Ad Widget

Collapse

Amrikyon ko nakon chanay chabwanay walay Shaikh ki mukhtasir seerat zindagi

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Amrikyon ko nakon chanay chabwanay walay Shaikh ki mukhtasir seerat zindagi

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    امریکیوں کو ناکوں چنے چبانے والے شیخ مجاہد انورالعولقی کی مختصرسیرت زندگی

    بقلم: ابو عبدالقدیر القمری

    ترجمہ: انصاراللہ اردو ٹیم




    آپ انورالعولقی بن ناصر بن عبداللہ العولقی ،العوالق قبیلے سے تعلق رکھتےہیں جویمن کے صوبے شبوہ کے قبائل میں سے ایک قبیلہ ہے۔ انورالعولقی ۲۲ اپریل۱۹۷۰ء کو ریاست ہائے متحدہ امریکا کی ریاست "نیو میکسیکو" میں پیداہوئے۔ آپ کے والدین یمنی تھے اور ان دنوں امریکا میں قیام پذیر تھے۔ آپ کے والد یونیورسٹی کے طالبعلم تھے جو زراعت کی تعلیم حاصل کررہے تھے۔

    آپ کے والد اُستاد ڈاکٹر ناصر بن عبداللہ العولقی نے وزیر زراعت کے عہدے اور"صنعا" یونیورسٹی کے سربراہ کے طورپر کام کیا ۔ اُنہوں نے ۱۹۷۱ء میں ریاست"نیومیکسیکو" کی یونیورسٹی سے زرعی اقتصاد میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۴ ء میں "نبراسکا" یونیورسٹی سے ڈاکٹر یٹ حاصل کی اور "مینیسوٹا" یونیورسٹی میں کام کیا۔

    شیخ انورالعولقی اورآپ کا خاندان اُس وقت یمن واپس لوٹا، جب آپ کی عمر سات برس تھی اوراُس عرصے میں آپ عربی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ نہ لکھنے میں اور نہ بولنے میں۔ لیکن چھوٹی عمر کے سبب استاد القدیر سعید الاغبری رحمہ اللہآزالمسلم طلبہ انجمن" کے سربراہ تھے۔

    ۱۹۹۴ء میں آپ سرکاری یونیورسٹی "کولوراڈو" سےفارغ التحصیل ہوئے جوکہ سول انجئیرنگ میں امریکا کی مشہور ترین یونیورسٹی ہے ۔ اس کے چار سال بعد آپ نے ماسٹر کی تعلیم شروع کی اور۲۰۰۰ء میں "کیلیفورنیا" ریاست کی سرکاری یونیورسٹی "سان ویگو" سے تعلیمی ٹیکنالوجی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ پھر ڈاکٹریٹ کی سطح پر یونیورسٹی کی تعلیم جاری رکھنے کےلئے آپ امریکی دارالحکومت واشنگٹن منتقل ہوگئے اور"جارج واشنگٹن" یونیورسٹی میں داخلہ لیا ، لیکن آپ ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ اس کا سبب وہ منفی سوچ تھی، جو مسلمانوں کے خلاف اور دین پر چلنے والے نوجوانوں کیخلاف بالخصوص تھی۔ یہ سب ستمبر۲۰۰۱ء کے بعد ہوا جس کی بناء پر آپ نے امریکا چھوڑا اور برطانیہ اوریمن واپس لوٹ گئے۔

    لیکن آپ اکتوبر۲۰۰۲ء میں دوبارہ امریکا واپس گئے اورپھرچند ماہ بعدہی آپ نے امریکا کوچھوڑدیا۔ آپ کو برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم کےلئے داخلہ مل گیا،مگر آپ کو کچھ مشکلات پیش آئیں، جوآپ کے ڈاکٹریٹ کرنے کی راہ میں حائل ہوگئیں۔ سوآپ نے برطانیہ سے۲۰۰۳ء میں سفر کرکے جزیرہٴ عرب آگئے اورآپ یمن میں مستقل رہنے لگے۔ آپ نے اس عرصے میں دعوتی کام کو جاری رکھتے ہوئے انگریزی زبان میں درس دینے اورتقاریر کرنا شروع کردی ،جنہیں انٹرنیٹ کے ذریعے سے پھیلایا جانے لگا اور جن کا امریکا اورمغرب میں اسلامی دعوت پھیلانے میں بڑا کردار تھا ۔

    اسلامی تعلیمات کی طرف آپ کی توجہ:

    شیخ انورالعولقی نے تعلیمی شعبے کی پُرآسائش زندگی کوچھوڑا اور اسلامی تعلیم کے حصول اور دیگر اسلامی سرگرمیوں کے لئے فارغ ہوئے، جیسے دعوت، مساجد میں امامت، دروس کا اہتمام اور انگریزی زبان بولنے والوں کے لئے دعوتی کیسٹیں تیار کرنا۔ جو چیز انورالعولقی کی زندگی کا رخ تبدیل کرنے کا باعث بنی اورآپکی توجہ اسلامی دعوت کی جانب کرنے کی وجہ بنی وہ عراق،افغانستان،فلسطین اورصومالیہ وغیرہ میں مسلمانوں کے خلاف صلیبی بربریت کے حملے تھے۔

    اسی طرح اس کا سبب وہ غیر اسلامی حرکات بھی تھیں، جو مغربی ممالک میں آپ مسلمان نوجوانوں کو کرتا دیکھتے تھے۔

    ان اسباب وعوامل نےا نور العولقی کو اس بات پر مجبورکیا کہ آپ اسلامی علوم کی تعلیم کےحصول کو اورپھراسلامی دعوت کواہمیت دیں۔ آپ نے امریکا،یمن اورسعودیہ میں بہت سے مسلم علماء سے تعلیم حاصل کی اورخاص طورپر "الحدیدہ" اور"صنعاء" کے علماء سے اوریمن کے بڑے علماء اورخاص طورپر"تہامہ" کے علماء سے (احادیث کی روایت کی) اجازتیں حاصل کی۔

    امریکا میں انورالعولقی نے "کولوراڈو" ، "کیلیفورنیا"اور "ورجینیا " کی معروف مساجد میں امام کے طور پر ۲۰۰۰ء سے ۲۰۰۲ءکے عرصے کہ دوران کام کیا جب آپ کی عمر چھتیش (۳۶ ) سال تھی۔ آپ امریکا کی دوسری بڑی مسجد کے امام بن گئے اوریہ مسجد "دارالھجرۃ" ہے، جوواشنگٹن کے قریب ہے۔ آپ کے پیچھے وہاں ہزاروں مسلمان نماز پڑھتے تھے،جن میں سفارتکار ،انجینئرز ،ڈاکٹرز، تاجر اورطالبعلم وغیرہ بھی ہوتے تھے۔ آپ نے مختلف دینی موضوعات پرمشتمل دروس کی بہت بڑی تعداد میں کیسٹیں تیارکی۔ ان میں کئی کیسٹوں پر مشتمل ایک ایسا سیٹ ہے جس میں انگریزی زبان میں انبیاء علیھم الصلاۃ والسلام کی سیرت آدم سے لیکر عیسی تک بیان کی گئی ۔ اسی طرح دو سیٹ ایسے ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نبوی کو بیان کیا گیا ہے۔ خلفاء راشدین کے بارے میں کئی سیٹ اورآخرت کے گھر کے بارےمیں ایک سیٹ ہے۔ آپ نے اپنے دروس میں قرآن وسنت پر اعتماد کیاہے آپ نے تشریح کرتے ہوئے کبھی بھی سلف صالحین نے جوکچھ ذکر کیاہے، اُس کے علاوہ کچھ ذکر نہیں کیا۔

    یاد رہے کہ آپ کےاس دعوتی منشورات کو امریکا اورعرب خلیجی ممالک میں باقاعدہ رجسٹرڈ شدہ ایک پروفیشنل میڈیا کمپنی تیارکرکے امریکا میں نشر کرتی تھی۔ اس لئے یہ کیسٹیں امریکا ، برطانیہ،خلیجی ممالک اورخاص طورپربلاد حرمین میں فروخت کی جاتیں ہیں۔ ایشیائی، افریقی اورحتی کہ امریکی اوربرطانوی ،حاجی اورعمرہ کرنے والے لوگ شیخ انورالعولقی کی یہ کیسٹیں مکہ المکرمہ ،مدینہ منورہ اورجدہ وغیرہ کی لائبریریوں سےخریدتے تھے۔

    ساری دنیا میں گزشتہ سال کے دوران آپکی لاکھوں کیسٹیں تقسیم کی گئیں۔بالخصوص ان ملکوں میں جہاں انگریزی زبان بولی جاتی ہے اور انہوں نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔ مگرالشیخ انورالعولقی نےکیسٹوں کی فروخت سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا، ماسوائے۱ فیصد سے بھی کم اورآپ کا مقصد مادی نہیں تھا بلکہ صرف اللہ جل وعلا کے دین کو پھیلانا، اسلام اورمسلمانوں کی خدمت کرنا اورمسلمان نوجوانوں کواپنے دین کی پہچان کتاب وسنت محمدیہ مطہرہ پراعتمادکرتے ہوئے کرانا جیساکہ ہم ذکرکرچکے ہیں۔

    ان كى(کیسٹوں کا) آخری سیٹ،کچھ عرصہ قبل امریکا میں تیارہوا ہے۔

    سال۲۰۰۶ء کے وسط میں الشیخ انورالعولقی کویمن میں گرفتار کیا گیااورآپ جیل میں ڈیڑھ سال تک رہے ۔ اس کا سبب امریکی مطالبےپر مقامی الزام تھا۔آ پ کو جیل میں موجودگی کے دوران فیڈرلی(امریکی) سی آئی ڈی کے لوگوں کی متعدد تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا،جن میں ۱۱ستمبر کے حملوں میں ملوث لوگوں سے آپکے تعلقات کے بارےمیں سوالات شامل ہوتے۔ لیکن امریکی حکومت کے پاس العولقی کےخلاف کوئی مقدمہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ یمنی حکومت پر آپکو جیل میں رکھنے کادباؤ ڈالنے کے سلسلے میں بے بس تھی۔ دوسری طرف آپ کے قبیلے کے دباؤ کے نتیجے میں آپ باہر آگئے حالانکہ اس پرامریکی حکومت کو تشویش تھی۔

    صلیبیوں کے آپ پرالزامات

    صلیبیوں نے شیخ انورالعولقی پر امریکا ،کینیڈا اوربرطانیہ کے۱۴ معاملات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ ان میں سے ایک یہ کہ آپ کا "نواف الحازمی" اور "خالد المحضاراسے مؤرخ اوراسلامی اسکالر: ابوعبدللہ القمری نے لکھا

    نقل کرتے وقت مصدر: ویب سائٹ"شموخ الاسلام کا ذکر کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔


    پی ڈی ایف،یونی کوڈ
    http://www.mediafire.com/?7vg22d204xs68bn


Working...
X