Above Post

Collapse

زہر کب تک کھائیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔ رسول بخش رئیس

Collapse
X
 
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • زہر کب تک کھائیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔ رسول بخش رئیس

    زہر کب تک کھائیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔ رسول بخش رئیس

    میری نسل سے تعلق رکھنے والا ہر شخص گواہی دے سکتا ہے کہ اس زمانے میں دیہات میں ہر گھرانہ اپنی زمین پر موسم کے مطابق سبزیاں اور پھل کاشت کرتا تھا۔ بہت کم لوگ بازار میں فروخت کرنے کے لئے سبزی کی کاشت کاری میں مشغول ہوتے۔ ان کی زیادہ تر کاوشیں اور وقت بڑی فصلیں اگانے میں صرف ہوتے تھے۔ کتنے مزے ہوا کرتے تھے اس زمانے میں۔ سب اپنے کنویں کی آبپاشی اور اپنے ہاتھوں کی کاشت کاری سے کیمیائی کھادوں اور کرم کش زہریلی دوائیوں سے پاک ٹماٹر‘ پیاز‘ کدو‘ بینگن‘ مولیاں‘ ککڑیاں‘ کھیرے اور دیگر کئی طرح کی سبزیاں اپنے دستر خوانوں پر سجاتے تھے۔ حتیٰ کہ تربوز اور خربوزوں جیسے پھل بھی اگائے جاتے تھے۔ رشتے دار‘ ہمسائے اور دور کی بستیوں کے مکین بھی ان خالص نعمتوں سے مستفید ہوتے اور اگانے والوں کو دعائیں دیتے تھے۔ لوگ بانٹ کر کھانے میں اور ایک دوسرے کی مدد کرنے میں مسرور رہتے‘ فرحت محسوس کرتے تھے۔ آج ہمارے دیہات میں لوگوں کے پاس زمین ہے‘ پانی کے بہترین وسائل نہری نظام اور جدید برقی پمپوں کی صورت میں ہر علاقے میں ایک جال کی طرح پھیلے ہوئے ہیں‘ لیکن ویسی صحت بخش سبزیاں اور پھل نہیں ملتے۔ ہمارے زمانے میں ان سہولتوں کے برعکس کنویں اور رہٹ تھے۔ دو بیل جوتے جاتے اور مسلسل کئی گھنٹے تک گھر کا ایک فرد انہیں ہانکنے پر مامور رہتا تھا۔ اس وقت سبزیاں کاشت کرنا‘ اپنی سبزیاں پیدا کر کے کھانا ہماری دیہی زندگی کی روایت اور ثقافتی رنگ کا حصہ تھا۔ کچھ لوگ سبزی کی معیاری پیداوار کے لئے دور دراز کے علاقوں تک نام رکھتے تھے۔ ان کے تجربے سے سیکھنے کے لئے دیگر علاقوں سے پُر جوش کاشت کار سفر کی مشکلات کے باوجود مشاہدے اور مشورے کے لیے جاتے۔ دکھ اور افسوس سے کہتا ہوں کہ اب خود کفالت کے لیے سبزی اگانے کی روایت دم توڑ چکی ہے۔ دیہات میں رہنے والے بجائے اس کے کہ سبزی کے لیے کچھ جگہ وقف کر کے اس پہ خود محنت کریں‘ اس مقصد کے لیے قریبی شہروں اور منڈیوں کا رخ کرتے ہیں۔ سبزیوں کی زیادہ تر پیداوار اب تجارتی غرض سے ہوتی ہے۔ سرمایہ دارانہ زراعت زیادہ سے زیادہ پیداوار اور منافع حاصل کرنا ہے۔ صفائی‘ حفظان صحت کے اصولوں کی پاس داری اور قدرتی طریقہ کاشت‘ سب قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں۔
    دیہات اور قصبات‘ خصوصاً شہروں میں سبزیاں ایسے علاقوں سے لائی جاتی ہیں‘ جہاں ان کی آبپاشی کے لیے گندا پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ بڑے بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے قصبوں کے مضافات میں بھی سبزیوں کے کھیت دیکھے جا سکتے ہیں۔ کہیں رک کر مشاہدہ کریں کہ ان کو سیراب کرنے کے ذرائع کیا ہیں۔ اکثر گھروں‘ نالیوں اور صنعتی علاقوں سے نکلنے والا آلودہ کالا پانی آج کے کاشت کار‘ اس کی مفت فراہمی اور اس نظریے سے کہ اس میں کھاد ہوتی ہے‘ استعمال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ آج کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات مں کئی قسم کے نئے جراثیم‘ کیڑے اور بیماریاں ہر قسم کی سبزیوں پر اس آلودہ پانی کے ذریعے حملہ آور ہوتی ہیں۔ ان کے انسداد کے لیے زرعی دوائیوں کا بے دریغ‘ بے جا اور مضر صحت استعمال عام ہے۔ اس حوالے سے حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ یقین جانیں بازار میں سبزی خریدنے کو کبھی جی نہیں چاہتا۔ ہماری حکومتوں کی استعداد‘ فرض شناسی اور کارکردگی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلا روک ٹوک ہماری اور ہمارے بچوں کی صحت سے کھیلنے کا گھنائونا کاروبار ہماری خوراک کی فراہمی کے عمل میں جڑ پکڑ چکا ہے۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ مضر صحت زرعی دوائیوں کا استعمال ساری دنیا میں پھیل چکا ہے اور اس کا پھیلائو تسلسل سے جاری ہے۔ آبادی کا دبائو اور کھانے پینے کے نئے رجحانات خوراک کی طلب میں مسلسل اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہاں تنگ دستی کی بات تو بہت کی جاتی ہے لیکن عام طور پر لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ غربت کا رونا رونے والے بھی ضرورت سے زیادہ اسراف کرتے ہیں۔ عالمی طور پر تو یہ ایک مظہر ہے ہی‘ لیکن ہمارے ملک میں بھی خوراک اکثر ضائع ہوتی ہے۔ خصوصاً سبزی اور پھل منڈیوں کے باہر اور کھیتوں کے کنارے پڑے گلتے سڑتے رہتے ہیں۔ خوراک میں ملاوٹ‘ بازاری پھل اور سبزیوں کے مضر اثرات سے بچنے کا حل موجود ہے۔ ان سطور کو آپ کی نذر کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ اس مسئلے کا حل آپ کے ساتھ شیئر کر سکوں۔ مغربی دنیا میں تو بہت پہلے سے محفوظ خوراک کے ذرائع اور رسد کے بارے میں ادراک پیدا ہو چکا ہے۔ دعا اور خواہش ہے کہ ہمارے لوگ بھی اپنے ابائواجداد کے پُرانے نقوش اور روایات کو پا سکیں۔ ان پر عمل کر سکیں۔ یہ ناچیز پھلوں اور سبزیوں کی فطری اور قدرتی پیداوار میں تقریباً چار دہائیوں سے حسب مقدور حصہ ڈال رہا ہے۔ بزرگوں کو بچپن میں ہی 'خود اگائو اور خود کھائو‘ کی حکمت عملی اپناتے دیکھا تھا۔ مگر ذاتی طور پر سبزی اگانے کا فن امریکہ میں دوران تعلیم حاصل کیا۔ ہماری یونیورسٹی نے شادی شدہ طالب علموں کی اداراتی رہائش گاہوں کے ساتھ سبزیاں کاشت کرنے کے لیے زمین فراہم کر رکھی تھی؛ چنانچہ ہم میں سے اکثر فراغت کے اوقات اپنی چند کیاریوں میں گوڈی کرنے‘ پودوں کو پانی دینے اور نئی پنیریاں لگانے میں گزارتے۔ جو وہاں سیکھا‘ پاکستان میں جہاں بھی رہے‘ کسی نہ کسی صورت یہ مشغلہ جاری رکھا۔
    دو دہائیاں پہلے امریکہ میں اپنے قیام کے دوران فطری باغبانی سے متعلق ایک امریکی رسالہ تین سال میں اپنے گھر پر منگواتا رہا۔ فطری باغبانی کے اصول‘ روایات اور گوبر سے کھاد کی تیاری انہوں نے ہمارے پنجاب کے کسان سے سیکھی تھی۔ اس روایت کی زیادہ تر مثالیں جنوبی ایشیا سے ہی متعلق تھیں۔ یہ ساری باتیں کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ فطری باغبانی ہمارے ہی سب علاقوں کی زراعت کی شناخت ہے۔ کیمیائی کھادوں اور بوتل بند اصلی اور جعلی زرعی دوائیوں کا استعمال اب ہم کئی نسلوں سے کر رہے ہیں اور باقی سب کچھ بھول چکے ہیں۔ مغربی دنیا اور جاپان نے ہمارے جیسے پُرانے طریقے پھر سے زندہ کرنے شروع کر دئیے ہیں۔ مغرب میں عام لوگوں کی آبادی کا کثیر حصہ اپنی سبزیاں خود ہی پیدا کرتا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں‘ جہاں مجھے جانے کا موقعہ ملتا رہتا ہے اور امریکہ میں تو میں نے تقریباً دس سال مختلف اوقات میں زندگی کے دن بسر کیے‘ لوگ باغبانی سے بہت شغف رکھتے ہیں۔ وہاں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جو پھولوں کے علاوہ سبزیاں خود کاشت نہ کرتا ہو۔ وہاں بھی جدید زراعت کے طور طریقوں کے خلاف صارفین نے بغاوت کا طریقہ 'خود اگائو اور خود کھائو‘ کے تاریخی راز میں پا لیا ہے۔ پاکستان میں بھی با شعور اور خود مرتب گھرانے دیہات میں ہوں یا شہروں میں سبزیاں خود اگانے لگے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فطری باغبانی کے ذریعے پاک صاف خوراک حاصل کرنے کی منصوبہ بندی ہو۔ آپ اپنے گھر کے اندر‘ چھت پہ‘ کھڑیوں کے کنارے اور جہاں بھی جگہ ملے سبزیاں آسانی سے کاشت کر سکتے ہیں۔ تازہ‘ صاف ستھری اور خود اگائی سبزیوں اور پھلوں کا ذائقہ‘ افادیت اور ذہنی آسودگی کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔
    اخوت کے ہمارے دوست اور مہربان ڈاکٹر امجد ثاقب نے کئی عمدہ کاموں کی شروعات کی ہیں۔ ان میں سے ایک سبزیوں کے بیج کی غریب گھرانوں کو مفت فراہمی اور گملوں میں یا جہاں بھی جگہ میسر ہو ان کی کاشت کے طریقوں سے انہیں روشناس کرانا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پنجاب حکومت کے محکمہ زراعت کی جانب سے بھی دیہات میں لوگوں کو مفت بیج تقسیم کرتے دیکھا گیا تھا۔ یہ ایسا کام ہے جو مخیر حضرات بھی کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس تو بہت کچھ ہے۔ موسم‘ زمین اور کاشت کاری کی روایات اور تجربہ۔ زندگی میں ترتیب‘ کچھ ہاتھ ہلانے کی سکت اور کچھ اپنی اور بچوں کی صحت کے بارے میں پاک اور صاف خوراک کا شعور‘ بس انہیں چیزوں کی ضرورت ہے!



  • #2
    Maria Noor

    Comment

    Below Post Add

    Collapse
    Working...
    X